تازہ تر ین

جوڈیشل سروس اور اقتدار اعلیٰ (2)

جاوید کاہلوں
محترم جج حضرات سے نئے حلف اٹھوانے کا فارمولہ کافی برس قبل ایک ممتاز قانون دان جناب شریف الدین پیرزادہ مرحوم نے ایجاد کیا تھا۔ اس کا آئینی پس منظر جو کچھ بھی تھا‘ دراصل یہ حکمرانوں کے ہاتھ میں ناپسندیدہ ججوں سے پیچھا چھڑوانے کا ایک براہ راست طریقہ تھا۔ اس سے سانپ بھی مر جاتا تھا اور لاٹھی بھی بچ جاتی تھی۔ دوسرا طریقہ گو کہ ”سپریم جوڈیشل کونسل“ میں ریفرنس کے راستے سے موجود تھا مگر یہ آئینی ہونے کے باوجود پیچیدہ ترین کارروائی تھی۔ لہٰذا وطن عزیز میں اس کا رواج لمحہ موجود تک بھی پنپ نہیں پایا۔ یہی وجہ تھی کہ جب جسٹس چودھری افتخار کے ضمن میں صدر مملکت پرویز مشرف نے ایک آئینی ریفرنس اس ”کونسل“ کو بھجوایا تو جو اس کی درگت بنی اور جان بوجھ کر بنائی گئی وہ ہم سب نے دیکھی۔ اس کے بعد پھر سے شریف الدین پیرزادہ روایتی فارمولہ کو ہی سرد خانے سے نکال کر بواسطہ ایمرجنسی لاءاور ”نیا حلف ڈرامہ“ لگا کر راہ نکالنے کی کوشش کی گئی۔ بہرحال! جنرل مشرف کی آمریت کے خلاف چونکہ معاشرے میں ایک لاوا تیار ہو چکا تھا۔ اس لیے جونہی اس چنگاری کو جسٹس افتخار کی صورت میں ایک مظلوم صورت نظر آئی‘ بار کونسلوں اور بالعموم تمام معاشرے میں ایک آگ سی لگ گئی۔ نتیجے میں ایک ایسی تحریک چلی کہ جس کی مثل دنیا کے کسی دوسرے ملک میں موجود نہیں۔ جسٹس افتخار چودھری مکمل پروٹوکول سے بحال ہوئے اور بالآخر انتخابات کے بعد جنرل پرویزمشرف‘ جو کہ تاحال ڈیفنس سروس کا ”آخری آمر“ تھا کو بھی ملک چھوڑ کر ہی جان بچانا پڑی۔ مگر گزرے ماہ و سال میں جوڈیشل سروس آف پاکستان کا چیف جسٹس کی بحالی کے بعد بھرپور عوامی پذیرائی میں وزن بہت بڑھ گیا تھا۔ سو موقع کو غنیمت جانتے ہوئے تب کے چیف جسٹس نے اس کا کماحقہ فائدہ بھی اٹھایا۔ آئین پاکستان میں موجود آرٹیکل نمبر 184 کو پہلے تو وہ کچھ جھجکتے ہوئے استعمال کرتے تھے مگر دوبارہ بحالی کے بعد یہ سوموٹو نوٹس کا آرٹیکل کچھ اس انداز میں استعمال ہوا کہ تمام صوبائی اور مرکزی حکومتوں کے نامی گرامی اہلکار اور وزیر امیر سارا سارا دن سپریم کورٹ کے احاطے میں ہاتھ باندھے کھڑے نظر آتے تھے۔ یوں لگتا تھا کہ تمام کارِ سرکار اور سیاست کا کنٹرول اب اور کہیں نہیں بلکہ احاطہ سپریم کورٹ میں موجود ہے۔ یہاں تک کے تمام کے تمام میڈیا کے نمائندے اورکیمرے بھی اب در بدر بھٹکنے کی بجائے سیدھا علی الصبح ہی عدالت عالیہ کی دیوار کے باہر اپنی منڈی سجا کر خبروں پر رواں تبصرہ چلاتے رہتے تھے۔ تقریباً تمام صوبائی اور مرکزی سیکرٹری حتیٰ کہ وزراءاور وزیراعظم تک بھی دست بستہ اور شارٹ نوٹسز پر بھاگے چلے آتے تھے کیونکہ اب کی بار اور تاریخ پاکستان میں شاید پہلی بار جوڈیشل سروس آف پاکستان بھی اپنے چیف کی سربراہی میں تھانے اور تحصیلوں کی نیچی ترین سطح تک بھی ڈانٹتے ڈپٹتے نظر آتے تھے اور کسی میں بھی چوں کرنے کی مجال نہیں تھی کیونکہ جوڈیشل چیف کو اُف تک کہنا بھی اب کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔ کیونکہ ”ہتک“ کی سیاہ چادر کسی کو بھی سیاہ رو کر سکتی تھی۔ چودھری افتخار کا چیف بنے رہنے کا عرصہ کافی طویل تھا۔ ان کے دور میں نہ صرف جوڈیشل سروس نے بھرپور ملکی اقتدار اعلیٰ میں شراکت داری کی بلکہ پچھلی چند دھائیوں پر اس سے محروم رہنے کی شاید ”لیٹ“ بھی نکال لی۔ دو ایک بنیادی کام یعنی کہ ججوں کی ریٹائرمنٹ عمر میں یکطرفہ توسیع‘ ملکی ہائی کورٹس کی تعیناتیوں پر مکمل اختیار کے علاوہ ایک اور طرح بھی ڈال دی۔ یعنی کہ ملکی پارلیمنٹ کو اعلیٰ عدلیہ کے بجٹ پر کوئی بھی عوامی چیک رکھنے سے بھی منع فرما دیا جو کہ مہذب جمہوری دنیا میں اپنی نوعیت کا شاید اکیلا ہی عجوبہ ہے۔ یعنی کہ عوامی خزانے سے بجٹ تو لیا جائے مگر اس پر کسی قسم کا عوامی اختیار نہ مانا جائے۔ شاید کسی زاویے سے ایسا فعل بھی عدل و انصاف کے پلڑے پر پورا اتر سکتا ہو؟ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے۔
بہرطور اقتدار اور پروٹوکول اور وہ بھی ”کن ‘ فیکون“ کے انداز میں ہو تو اس کے اپنے ہی چسکے ہوتے ہیں۔ جوڈیشل سروس آف پاکستان کو حادثاتی طور پر یہ ”ہلارہ“ (جھونکا) ایک ناپسندیدہ فوجی آمر کے ہاتھوں کافی دھائیوں کے انتظار کے بعد ملا تھا۔ اس ”ہلارے“ کو بے کس عوام پاکستان کو ”سستا اور فوری انصاف“ بہم پہنچانے کے ضمن میں بھی استعمال کیا جا سکتا تھا مگر ایسا نہ ہو سکا۔ ماسوائے چیف جسٹس کھوسہ کے ایک چھوٹے سے عرصے میں کہ آپ نے پوری کوشش کر کے پاکستانی عدالتوں اور بالخصوص اعلیٰ عدلیہ کو سالہاسال سے فریزر میں لگے کیسوں کو کافی حد تک ان کے منطقی انجام تک پہنچا کر سرانجام دیا۔ مگر یہاں مقصد شخصیات کی بجائے ایک اصولی بحث کو آگے کرنا ہے۔
دراصل انگریز کی چھوڑی ہوئی سول سروس خرابیوں کے باوجود نہایت پیشہ ور تھی‘ قابل تھی‘ اور معاشرے کے ذہین و فطین بچوں کو انتخاب کر کے تشکیل پاتی تھی۔ دوران ملازمت بھی وہ اپنی تعیناتیوں اور ترقیوں کے لیے ایک مربوط پیشہ وارانہ نظام سے منسلک رہتی تھی جس میں کہ بیرونی دخل اندازی کا کوئی خاص رواج نہیں تھا۔ یہی وجہ تھی کہ پہلے اور دوسرے فوجی آمروں نے سینکڑوں کی تعداد میں سینئر سول افسران کو ایک جھٹکے سے فارغ کرنے کی طرح ڈالی اور اس سروس پر اپنا رعب خوب اچھی طرح قائم کر لیا۔ ایسے ہی رعب تلے پھر آہستہ آہستہ پاکستان کی سول سروس کو حکمرانوں کی ذاتی خدمتگاری اور خوشامد کا راستہ نظر آ گیا اور یہ رویہ ہی اس سروس کی اعلیٰ روایات کی تنزلی کی ابتدا تھی۔ جہاں تک ڈیفنس سروس کا تعلق تو یہ پاکستان کی وہ واحد سروس ہے کہ جس نے ابھی تک گوروں کے چھوڑے ہوئے ضابطے اور روایات کو مسلسل اپنے نظام سے جوڑ رکھا ہے۔ اس میں آنے کے لیے مختلف کیڈٹ کالجز اور ملٹری سکولز وغیرہ کا ایک مکمل نیٹ ورک ہے جہاں سے یہ سروس سول سوسائٹی سے اپنی نرسری حاصل کرتی ہے۔ پھر ان اداروں سے حاصل کی گئی نرسریوں کو آئی ایس ایس بی کی باریک چھاننی میں مزید چھانٹا جاتا ہے۔ ادھر سے سلیکٹ ہونے والوں کو بعد میں پی ایم اے کاکول‘ پی اے ایف اکیڈیمی رسالپور اور نیول اکیڈیمی کراچی میں تربیت دے کر افسر کے رینک لگائے جاتے ہیں۔ یہی بنیادی نوجوان آفیسرز دوران ملازمت بھی مختلف تربیتی اداروں جیسے کہ سٹاف کالجز اور وار یونیورسٹیوں وغیرہ میں سے گزر کر مزید کندن بن جاتے ہیں۔ پھر ان میں سے ہی کوئی ایک قابل ترین آفیسر آنے والے دنوں میں اپنی سروس کی فور سٹار سربراہی بھی کرتا ہے۔ اس سارے تربیتی اور تعیناتی نظام میں ہماری ڈیفنس سروس نے آج تک کسی کو بھی تاک جھانک کا موقع نہیں دیا۔ لہٰذا وہ اپنے پاﺅں پر پوری قوت سے قائم دائم ہیں اور ان کی فیصلہ سازی‘ احتساب اور ترقیوں کا ایک اپنا ہی قابل رشک نظام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت آنے پر اندرونی اختلاف رائے رکھنے کے باوجود بھی یہ سروس بیرونی مداخلت کبھی گوارا نہیں کرتی اور بحیثیت ایک ادارے کے رواں دواں رہتی ہے۔
اب ان دو سروسز کے بعد آپ اپنی جوڈیشل سروس پر ایک نگاہ کریں۔ یہاں کے طریقہ انتخاب‘ طریقہ تربیت‘ طریقہ تعیناتی اور طریقہ ترقی کو ملاحظہ کریں کہ کیا ادھر کوئی ایک امر بھی قابل رشک ہے بلکہ ہماری چھوٹی عدلیہ میں سے کوئی سول جج ترقی پا کر شاید ہی اپنی اعلیٰ عدلیہ تک پہنچ پاتا ہے۔ نوے فیصد سے اوپر تو سیشن جج تک بھی قسمت سے ہی پہنچ پاتے ہیں۔ ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ تک جانا تو ان کا فقط ایک خواب ہی رہ جاتا ہے۔ دراصل وہ کھڑکی جس میں سے کوئی ایک آدھ وکیل اور وہ بھی کوئی ایسا ہیرا اور جینئس مائنڈ کہ جس سے عدلیہ کو فائدہ اٹھانا ہوتا تھا‘ اس کو اعلیٰ عدلیہ میں بٹھایا جاتا تھا اور یہ ایک مکمل حکومتی اختیار ہوتا تھا۔ تمام مہذب ممالک میں ایسی روایات ہیں۔ مگر ہمارے ہاں جس طور پر کھڑکی چوپٹ کھول کر سالہاسال سے اس سے جس قسم اور کوالٹی کے وکیلوں بلکہ کچھ مشکوک اور نام نہاد قسم کے لاءڈگری ہولڈرز کو ذاتی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر اعلیٰ عدلیہ میں گھسیڑا گیا ہے۔ اس سے معاشرے میں خیر کی توقع یا عدل و انصاف کی بہم رسانی کی امید کیونکر باندھی جا سکتی تھی؟ سو ہمارے ہاں یہی کچھ ہوا ہے۔ تھوک کے بھاﺅ‘ اعلیٰ جوڈیشری میں وکلاءکی اندھا دھند انڈکشن سے ہماری جوڈیشل سروس کا سٹرکچر ہی تباہ ہو چکا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر آج کے سول جج کو اپنی سروس کے اعلیٰ ترین منصب تک رسائی کی کوئی امید نہ ہوگی تو وہ ماتحت عدالتوں میں کیوں اپنی بہترین صلاحیتیں صرف کرے گا؟
اور یہی وہ مقام ہے کہ وطن عزیز میں اپنی جوڈیشل سروس کبھی اڑان نہیں بھر سکی۔ بلکہ یہ سروس کبھی کھڑی بھی نہیں ہو سکی۔ اب جبکہ اعلیٰ عدلیہ کے ضمن میں حکومتی اختیار تقریباً ختم ہو چکا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ بار کونسلوں میں وکلاءکی انڈکشن اور معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ میں ان کا نہایت ہی مختصر کوٹا مقرر کیا جائے بلکہ اس کوٹے میں دوسری سروسز کے بہترین دماغوں کو بھی ایک مناسب حصہ ملے۔ جبکہ کوئی نوے فیصد یا اس سے بھی اوپر ہماری اعلیٰ عدلیہ کے ممبران ہماری جونیئر جوڈیشل سروس سے ہی منتخب ہو کر ترقی پائیں اور ایسی ترقیوں کے لیے ڈیفنس سروسز کی طرز پر ایک مربوط‘ معیاری اور میرٹ کا نظام رائج کیا جائے تاکہ اہل افراد ہی فقط اوپر آ سکیں۔ اگر ایسا کچھ ہوا تو وطن عزیز کی جوڈیشل سروس بھی اقتدار اعلیٰ میں اپنا مناسب مقام ہمیشگی حاصل کر لے گی وگرنہ ہر کمال کو ایک دن زوال تو دیکھنا ہی پڑتا ہے۔(ختم شد)
(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے سابق ناظم ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved