تازہ تر ین

پہلے قرض لعنت، اب پیکیج اور خوشخبری

عظیم نذیر
تاریخ کے سب سے بڑے سٹیج پر تاریخ کا طویل ترین ڈرامہ ختم ہو گیا۔ اس ڈرامے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ سکرپٹ رائٹر بھی حیران ہے، ڈرامہ نگار پریشان ہے اور ڈرامہ بین پشیمان ہیں کہ انہوں نے یہ ڈرامہ کیوں دیکھا۔ دو ماہ سے زیادہ دورانئے کے اس ڈرامے کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ ہر اگلی قسط دیکھ کر پچھلی قسط کے جھوٹ کھل جاتے رہے اور ڈرامہ بین پچھلے جھوٹ کو نظر انداز کر کے نئی قسط میں مگن۔ حکمران سوچتے تھے کہ عوام کی جہالت کا ابھی تو مزہ آیا ہے۔
دوسری طرف اس ڈرامے میں دانشور کا کردارادا کرنے والے ایک ہی بولی بولتے رہے۔ بڑا خطرہ ہے اور پاکستانی عوام کے اندھا دھند سڑکوں پر نکلنے پر تنقید کرتے اور انہیں جاہل قرار دیتے رہے، یورپ اور امریکہ کے لوگوں کی مثالیں دیتے رہے جبکہ یورپ اور امریکہ میں اصل صورتحال یہ تھی کہ برطانیہ میں کرونا کے 70 ہزار مریض مفرور ہیں اور جگہ جگہ کرونا پھیلا رہے ہیں۔ امریکہ میں شہری ساحلوں پر رنگ رلیاں منا رہے ہیں۔ جرمن سڑکوں پر مظاہرے کرتے رہے۔ یورپی شہری جنگلوں میں پارٹیاں کرتے رہے ۔ہانگ کانگ والے پلازوں پر قابض ہیں اور جاہل صرف پاکستانی ہیں جو زندگی کی بنیادی ضروریات کے لئے باہر نکلتے رہے۔ پاکستانیوں نے سب سے زیادہ دلیری کا مظاہرہ کیا ورنہ کرونا کے خوف اور صحت کیلئے ایران میں 560 لوگ نیلا تھوتھا کھا کر مر گئے بھارت میں 160 افراد نیلا تھوتھا کھا کر مر گئے لیکن جاہل پاکستانی عوام ہے۔ کیا وہ جاہل نہیں جنہیں اپنے لوگوں کی مشکلات کا ادراک تک نہیں یہ دانشور محض ایک ڈرامے کے کردار ہیں وہ صرف رٹی رٹائی گئی لائنیں ہی بولتے ہیں ان کا دماغ اپنا ہے نہ قلم۔ یہی دانشور اب معیشت کے حوالے سے اپنی تجاویز دیں گے کیونکہ لاک ڈاﺅن کھلنے کے بعد معیشت ملک کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہو گا کیونکہ عالمی طاقتیں ہمیں مزید قرضوں میں پھنسانا چاہتی ہیں اور دیگر غریب ملکوں کی طرح ہم بھی قرضوں کے پیچھے بھاگیں گے جبکہ ضرورت مینوفیکچرنگ بڑھانے اور برآمدات بڑھانے کی ہے کیونکہ اگر پاکستان بیرونی منڈیوں میں اپنی پوزیشن نہ بڑھا سکا تو ملکی معیشت بالکل ڈوب سکتی ہے۔ دوسری طرف بنک عوام کو لبھانے اور کاروبار شروع کرنے کے لئے آسان قرضے دینے کا اعلان کر دیں گے اور پھر آبادی کا بڑا حصہ قرضوں میں جکڑا جا سکتا ہے۔
ایسے ہی ایک بینکار کی طرف سے ایسی تجاویز پیش کی گئیں کہ ماہرین معیشت حیران و پریشان ہو کر رہ گئے بہت سوچنے کے بعد بھی کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ اس بینکار کا کہنا تھا کہ سائیکل چلانے والے ملکی معیشت کے لئے تباہی ہیں کیونکہ وہ کار نہیں خریدتے اور پیسے نہ ہوں تو کار خریدنے کے لئے قرض بھی نہیں لیتے، ظاہر ہے جب کار نہیں خریدتے تو اس کی انشورنس بھی نہیں کراتے، پٹرول بھی نہیں خریدتے، ظاہر ہے گاڑی نہیں ہے تو سروس اور مرمت بھی نہیں کرائیں گے، پارکنگ کے پیسے بھی کہیں نہیں دے گا۔ سائیکل چلانے کی وجہ سے صحت مند رہتا ہے۔ مضبوط معیشت کے لئے صحت مند افراد کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ دوائیں نہیں خریدتے۔ ہسپتالوںاور ڈاکٹروں کے پاس نہیں جاتے ملک کی جی ڈی پی میں کچھ شامل نہیں کرتے، فاسٹ فوڈ نہیں کھاتے جبکہ دوسری طرف ہر نیا فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ اپنے ملازمین کے علاوہ تیس مزید نوکریاں پیدا کرتا ہے ان نوکریوں میں امراض قلب کے دس ڈاکٹروں، دس دندان سازوں اور کینسر کے دس ماہرین کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں۔ اب فیصلہ کرنا آپ کا کام ہے کہ معیشت کے لئے کون بہتر ہے ایک سائیکل سوار یا فاسٹ فوڈ آﺅٹ لیٹ جبکہ پیدل چلنے والے معیشت کیلئے مزید خطرناک ہیں کیونکہ وہ سائیکل بھی نہیں خریدتے۔
ہماری معیشت کے متعلق فیصلے بھی ایسے ہی ہوتے ہیں بلکہ یہاں معیشت کو مضبوط کرنے کے لئے ریٹائرڈ لوگوں کو زیادہ نوکریاں دی جاتی ہیں کیونکہ دوسرے لوگ سائیکل چلانے والے جانے جاتے ہیں جو معیشت میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ریٹائرڈ لوگ اپنی معیشت بہتر کر چکے ہوتے ہیں گاڑی بھی چلاتے ہیں فاسٹ فوڈ بھی استعمال کرتے ہیں اس لئے وہ معیشت کو زیادہ بہتر طریقے سے چلا سکتے ہیں۔ بہرکیف عالمی مالیاتی ادارے ہر کسی کو قرض دینے کو تیار ہیں ساتھ شرط صرف اتنی ہے کہ لوگوںکو سائیکل چلانے سے روکیں۔ سائیکل رکے گا تو سود کا پہیہ چلے گا اور قرض لینے والے ملک آئے روز مالیاتی اداروں کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہوں گے اور عوام کو مزید نچوڑنے کی نئی شرط کے ساتھ مزید قرض دے دیں گے۔ پہلے یہ قرض ، لعنت اور غلامی کہلاتے تھے اب یہ قرضے پیکیج اور خوشخبری کہلائیں گے ۔چین پاکستان کی مدد کرتا ہے لیکن اس کی مدد ایسی ہوتی ہے کہ ڈیم بنوا لو لیکن اس کے پاس گروی رکھ دی، گوادر بناﺅ لیکن اسے ہم چلائیں گے، سی پیک بناﺅ لیکن اس کی آمدنی ہماری ہو گی اور اب تو اس نے کراچی میں بھی نئی پورٹ بنانے کی پیش کش کر دی ہے ظاہر اس کے لئے بھی ایسی ہی شرائط ہوں گی۔ ہمیں نئے دور میں بھیک یا قرض لینے اور عوام کو بھیک دینے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے 12 ہزار دینے کا سلسلہ تین ماہ کیلئے ہے پھر کیا ہو گا۔ اس سے بہتر ہے کہ ہم عوام کو خیرات دینے کی بجائے انہیں کوئی ہنر دیں اور ان کا ہنر استعمال کرتے ہوئے اپنی پیداوار اور برآمدات بڑھائیں۔ انڈسٹری کو سہولتیں دیں ہنر مندوں کو وہاں کھپائیں ورنہ بیروزگاری کا دلدل سب کچھ نگل جائے۔ امن و امان بھی اور اخلاقی اقدار بھی۔
لاک ڈاﺅن اور کرونا ڈرامے کا سرمایہ داروں نے بہت فائدہ اٹھایا اور کئی نئی تجوریاں خرید کر وہ بھی بھر لیں۔ اس انتہائی کم عرصے میں امیروں اور غریبوں کے درمیان فرق انتہائی زیادہ ہو گیا۔ اب ان سرمایہ داروں کے لئے جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لئے وافر وسائل موجود ہوں گے اور وہ اپنے سرمائے کے بل پر آسانی سے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کر سکیں۔وہی ڈیڑھ سو کے قریب سیاستدان اور ان کے سپانسر سرمایہ دار مزید مضبوط ہو جائیں گے۔یہی لوگ پچھلے تیس سال سے پارٹیاں بدل بدل کر ہر حکومت میں اپنی جگہ بنالیتے ہیں اور تیس سال سے دن دگنی اوررات چوگنی ترقی کررہے ہیں۔ نظریاتی سیاست دم توڑ چکی ہے سیاست صرف پیسے لگانے اورپیسے کمانے کانام رہ گیاہے۔ اسی وجہ سے پیسے والا آزاد لڑے یا کسی بھی پارٹی کی طرف سے اس نے اپنے پیسے کے زور پر الیکشن جیتنا ہے۔ عوام جب مزید غریب ہوجائیں گے تو ایسے سیاستدانوں کوسب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ووٹ کا ریٹ بھی کم ہو جائے گا اوروہ دوروپے والا کام ایک روپے میں کرالیں گے۔ اس طرح جمہوریت مزید مضبوط ہوگی‘کاروبار مزید پھلے پھولےں گے‘ سرمایہ داروں کو سستے مزدور ملیں گے کیونکہ اسمبلیوں میں موجود سرمایہ داروں کا ٹولہ کبھی مزدوروں کو ان کا حق نہیں ملنے دے گا کیونکہ اس میں اس کانقصان ہے۔ جمہوریت زندہ باد۔
(کالم نگارسینئر صحافی اورتجزیہ کار ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved