تازہ تر ین

”خبرےں“.. ہمارے بھی ہےں مہرباں کےسے کےسے (8)

میاںغفاراحمد
اکثر اوقات سنگل یا دوکالم خبر اتنی بڑی کہانی لئے ہوتی ہے کہ خبر بناتے ہوئے تصور ہی نہیں ہوتا۔ خبر میں بعض اوقات وہ کچھ نہیں ہوتا جو خبر کے پس منظر میں ہوتا ہے۔لاہورکے علاقے سعدی پارک مزنگ میں ایک حفیظ نامی شخص رہا کرتا تھا جوحفیظ ”کن کٹے“ کے نام سے مشہور تھا۔ اس نے کرشن نگر کے علاقے میں ایک کمرہ کرائے پر لے کر ایک کیمرہ نصب کررکھا تھا اور ایک خاتون کو رہائش دے رکھی تھی۔ طریقہ واردات اس کا یہ تھا کہ اپنے جاننے والوں کو کہیں بھی روک کرکہتا کہ مجھے ذرا کرشن نگر تک چھوڑ دینا، وہاں جا کر اسے بہانے سے چائے پلانے کیلئے کمرے میں بلوا لیتا اور کمرے میں جاتے ہی وہ اور اس کا پہلے سے وہاں موجود ساتھی مہمان پر تھپڑوں کی بارش کردیتے پھراس کے کپڑے اتارتے اور اسی عورت کے ساتھ زبردستی قابل اعتراض فلم اور تصاویر بنا کر اسے کہا جاتاکہ آج کے بعد تو 5ہزار روپے مہینہ دے گا۔ یاد رہے کہ آج سے 26سال قبل 5ہزار معمولی رقم نہ تھی۔ اس نے اس طرح 30، 35 افراد کی فلمیں بنا رکھی تھیں اور گھر بیٹھے وہ ڈیڑھ ،دو لاکھ روپے اس بے غیرتی سے کما رہا تھا۔ خبر شائع ہوئی تو پتہ چلا کہ اس کی جھجک اتنی اترچکی ہے کہ ہائی کورٹ کے اس وقت کے ایک جج کے بیٹے سے بھی چار ہزار مہینہ لے رہا تھا اور پھر اس کے ہاتھوں لٹنے والوں میں اس کی برادری اور محلے کے لوگ ہی زیادہ تر شامل تھے یا پھر ان لوگوں کے دوست جنہیں وہ ان کے ذریعے اپنے جال میں پھنساتا تھا۔ خبر چھپی تو ایک سیاسی شخصیت جناب ضیاشاہد سے ملنے آئی، انہوں نے اس خبر کے حوالے سے حیران کن انکشافات کئے اور بتایا کہ میں بھی ڈھلتی عمر میںحفیظ ”کن کٹے“ کے ہاتھوں بلیک میل ہو کر پچھلے تین سال سے اسے 7ہزار مہینہ دے رہا ہوں اور آپ جانتے ہیں کہ میں نے بھٹو کے ساتھ سیاست کرکے صرف عزت کمائی ہے۔
جناب ضیاشاہد نے یہ معاملہ میرے سپردکیا۔ میں نے کچھ دن اس خبر کا فالو اَپ دے کر ایک خبر کو ایشو بنادیا تو پولیس نے اس کو گرفتار کرلیا۔ نظام شاہددرانی اس وقت ڈی ایس پی گلبرگ سرکل تھے اوران کا شمار ذہین پولیس افسران میں ہوتا تھا۔ مجھے کہنے لگے کیس کمزور ہے کیونکہ کوشش کے باوجود کوئی گواہ بننے کو تیار نہیں، اسکا کوئی اور حل نکالتے ہیں۔ یہ جن لوگوں کو برہنہ کرکے انکی فلمیںبناتا تھا اُن کے سامنے اس ”کن کٹے“ کو برہنہ کرتے ہیں۔ آپ ایک کام کریںکہ سعدی پارک سے سو ڈیڑھ سوبندہ تھانے بلوا لیں، اگلے روز سعدی پارک میں منادی کرائی گئی تب آج کی طرح ہربندے کے ہاتھ میں موبائل فون اور کیمرہ نہیں ہوتا تھا بلکہ عام آدمی کے لئے تو موبائل فون کا تصور بھی نہیں تھا۔ اگلے روز 100سے زائد افراد تھانہ گلبرگ کے باہر لان میں پہنچ گئے۔ حفیظ ”کن کٹے“ کے کپڑے اتارے گئے، ایک ہتھکڑی اسکے دائیں پاﺅں میں اور دوسری بائیں ہاتھ میں لگائی گئی تو اس کی کمر ٹیڑھی ہوکر جُھک گئی، اسے باہر نکال کر کہا گیا کہ بندر کی چال چل، جونہی اس نے سعدی پارک کے لوگوں کو دیکھا توگالیاں بکتے ہوئے کہنے لگا کہ مجھے گولی ماردیں، میرا برہنہ جسم سارے سارے سعدی پارک نے دیکھ لیا ہے۔ اب وہ بندر کی طرح ایک کونے سے دوسرے کونے میں جھک کر انتہائی تکلیف سے چل رہاتھا، سنگلی ایک سپاہی کے ہاتھ میں تھی اور دوسرا پیچھے سے چابک مار رہا تھا۔ سعدی پارک کے لوگ اسے دیکھ کر تالیاں بجانے لگے۔ حفیظ ”کن کٹے“ کی بار بار کی اس اپیل پر کہ مجھے گولی مار دو، بے عزت نہ کرو کا منظراپنی آنکھوں سے دیکھ کر مجھے اسلامی سزاﺅں کی عظمت کا اس روز اندازہ ہوا کہ اسلام کی سزا کا اصل مطلب کیا ہے، ادلے کا بدلہ کیا ہے اور فوری انصاف کسے کہتے ہیں۔ نہ کسی وکیل کا جھنجٹ، نہ طویل عدالتی رسوائی، نہ مدعی کا سینکڑوں گھنٹوں پر مشتمل وقت کا ضیاع اور نہ کوئی خرچہ، ”شو“ ختم ہوا، لوگ تالیاں بجاتے ہوئے گھروں کو چلے گئے،جن کی ویڈیوز حفیظ ”کن کٹے“ کے پاس تھی وہ بھی ہجوم میں شامل تھے مگر سب کا پردہ برقراررہا۔
تقریباً اڑھائی سال سزا کاٹ کر حفیظ ”کن کٹا“ سعدی پارک سے چند فرلانگ کے فاصلے پر واقع کیمپ جیل سے رہا ہوا تو گھر جانے کے بجائے کیمپ جیل سے ملحقہ شادمان والے گندے نالے کے پل کے نیچے جا کر بیٹھ گیا اور رات 2بجے تک وہیں بیٹھا رہا۔ رات 2بجے وہاں سے ایک چادر لپیٹ کر نکلا اورخاموشی سے گھرچلاگیا۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ پھر اس نے گھر سے باہر نکلنا مکمل طور پر بند کردیا تھا۔ سعدی پارک کے لوگوں کی اکثریت نے اس کا چہرہ اس وقت دیکھا جب دل کے دورے سے اسکا انتقال ہوا تو جنازے کے وقت لوگوں نے اس کا چہرہ دیکھا۔ ہاتھ کے بدلے ہاتھ، کان کے بدلے کان، خون کے بدلے خون اور بروقت انصاف کے حوالے سے دینی تعلیمات ہی سے معاشرے کی حقیقی اصلاح ہوسکتی ہے۔
خانیوال کے علاقے غالباً مخدوم پور پہوڑاں کے رہائشی ایک شخص کے سنٹرل جیل ملتان سے ڈیتھ وارنٹ جاری ہوگئے۔ اس قیدی نے جس کا نام کوشش کے باوجود یاد نہیںرہا، جناب ضیاشاہد کو خط لکھا کہ خدارا مجھے سزائے موت سے بچائیں اور مقتولہ بچی کی والدہ سے مجھے معافی لے دیں۔ جناب ضیاشاہد نے فوری طور پر یہ خط ملتان آفس بذریعہ فیکس بھجوایا کیونکہ اس دور میں تیزترین ذریعہ یہی تھا، اب تو لوگ یہ بھی بھول چکے ہونگے کہ فیکس کس بلا کا نام ہے۔ اللہ غریق رحمت کرے چودھری مجید سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل ملتان تھے اچھی فطرت کے انسان تھے۔ اوکاڑہ کے قریب ایک ایکسیڈنٹ میں ان کی وفات ہوگئی۔ان سے مل کر قیدی کے بارے میں ساری تفصیلات لی گئیںپھر خانیوال کے علاقے غالباً مخدوم پور میں جب مدعیہ سے رابطہ کیا گیا تو تفصیلات یوں سامنے آئیں کہ مدعیہ کی چھوٹی بہن سزائے موت کے اس مجرم سے بیاہی ہوئی تھی جو کسی وجہ سے جھگڑ کر چلی گئی تھی، مجرم نے اپنی بیوی کی بڑی بہن اوراس کیس کی مدعیہ سے کہا کہ تم نے میرا گھر برباد کیا ہے، میں تمہارا گھر برباد کردوںگا۔ پھر ایک رات چارپائی پر اپنی والدہ کے ہمراہ سوئی ہوئی دوبچیوں پر تیزاب پھینک دیا، ایک بچی جو کہ شیرخوار تھی وہ تیزاب سے حملے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلی گئی اوردوسری بچی کا چہرہ اس قدر مسخ ہوگیا کہ ہونٹ اور ناک سرے سے ختم ہوگئے اوراسکا چہرہ اس قدربھیانک ہوگیا کہ اس کی جانب دیکھا ہی نہیں جاسکتا تھا جبکہ ان بچیوں کی ماں اور مدعیہ کاچہرہ بچ گیا البتہ جسم جھلسا۔ مقدمہ چلا ملزم کو سزائے موت ہوگئی۔ جس بچی کا چہرہ جھلس کر بھیانک ہوچکا تھا صلح کے فیصلے کے مطابق اس بچی کے نام ملزم کی اڑھائی ایکڑزمین ٹرانسفر کروائی گئی کہ اس بچی سے کون شادی کرے گا، چلو کوئی تو اس کا آسرا بن جائے۔ ”خبریں“ ٹیم جب سرکاری گرلز پرائمری سکول میں اس طالبہ سے ملنے پہنچی توساتھی طالبات خوفزدہ نہ ہوجائیں اس ڈر سے وہ ہروقت چہرے پر نقاب چڑھائے رکھتی تھی۔ بچی کے نام زمین ٹرانسفر ہوئی تو بچی کی والدہ نے اپنے دیور اور سزائے موت کے مجرم کو معاف کردیا اور اس معافی کی بناءپر سزائے موت ٹل کر رہائی میں بدل گئی۔
اس قسم کا ایک واقعہ مظفرگڑھ کے علاقے روہیلانوالی میں ہوا۔ اس سزائے موت کے مجرم جس کے بلیک وارنٹ جاری ہو چکے تھے، نے چیف ایڈیٹر جناب ضیاشاہد کے نام خط لکھا۔ خط ”خبریں“ ملتان کو مارک ہوا، پوری کوشش کی اس کیس کا مدعی فوت ہوچکا تھا جبکہ اس کی اولاد مدعی تھی اور معافی وارثوں نے دینی تھی۔ سب کے معافی نامے پہنچ گئے مگر ایک معافی نامہ نہ پہنچ سکا، باوجود کوشش وہ شخص پھانسی چڑھ گیا، جب معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لئے کسی شعور رکھنے والے سے رہنمائی لی گئی تو انہوں نے بتایا کہ پہلا شخص اس لئے بچ گیا کہ اس کا ارادہ قتل کرنے کا نہیں، نقصان پہنچانے کا تھا اور اس نے نقصان پہنچانے کےلئے تیزاب پھینکا جس میں شیرخوار بچی جھلس کر جاںبحق ہوگئی۔ وہ قتل خطا تھا قتل عمد نہیں اور جو روہیلانوالی والا معاملہ تھا وہ شخص رمضان کے مہینے میں منصوبہ بندی کے تحت کلہاڑی لیکر مسجد کے باہر بیٹھ گیا اور مسجد سے عصر کی نماز پڑھ کر نکلتے ہوئے شخص پر کلہاڑی سے وار کرکے اسے قتل کردیا تھا، وہ قتل عمد تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اکثریتی معافی کے باوجود ایک خاتون سے رابطہ نہ ہونے پر وہ پھانسی چڑھ گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جو نظام ہستی چلا رہا ہے وہی خدا ہے، باقی سب مہرے جن کی حیثیت شطرنج کے بے جان بادشاہ ، وزیر یا پیادے سے زیادہ نہیں۔ قرآن مجید ایسے واقعات سے بھرا پڑا ہے، کاش کوئی سمجھ سکے۔…. (جاری ہے)
(کالم نگار سیاسی و سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved