تازہ تر ین

جمعتہ الوداع۔ عظمت و رحمت کا دن

علامہ تبسم بشیر اویسی
اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے جہاں بہت سی نعمتیں پیدا فرمائیں وہاں اپنے اس نائب و خلیفہ کےلئے اعداد و شمار اور کام کاج کےلئے دن رات تخلیق فرمائے۔ بعض دنوں کو دنوں پر اور بعض راتوں کو راتوں پر فضیلت بخشی۔ راتوں میں سے نزول قرآن کی رات کو فضیلت و بزرگی عطا فرمائی اور دنوں میں سے جمعہ کو سرداری و شرف عنایت فرمایا۔ اسلام میں جمعہ کے دن کا بڑا مقام اور درجہ ہے۔ یہ ہفتے کے تمام دنوں کا سردار ہے۔ جمعہ کا دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں خاص مقام اور فضیلت رکھتا ہے۔ رسول اللہ نے فرمایا: ” جب جمعہ کا دن ہو تو آدمی کو چاہیے کہ غسل کرے اور پھر اس کے پاس جو سب سے اچھے کپڑے ہوں وہ کپڑے زیب تن کرے۔ پھر نماز کےلئے جائے اور یہ آداب ملحوظ رکھے کہ وہ آدمیوں کو ہٹا کر ان کے درمیان نہ بیٹھے، پھر امام کو غور سے سنے تو اس کی مغفرت کردی جاتی ہے اس جمعہ سے آئندہ جمعہ تک ۔“
یہ تو عام جمعة المبارک کی فضیلتیں ہیں تو رمضان المبارک کے جمعة المبارک کی کیا شان ہوگی اور پھر رمضان المبارک کے جمعة الوداع تو سب پر فضیلت و برتری ہے۔ رمضان المبارک کا آخری جمعہ اس لحاظ سے بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ اب ان ایام کے الوداع ہونے کا وقت آگیا جن میں مسلمانوں کےلئے عبادات کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا گیا تھا۔ اس اعتبار سے رمضان المبارک کے جمعہ کا اجر و ثواب بھی بہت زیادہ ہے۔
آج دنیا کی ہر قوم اپنی پوری قوت اس مقصد کےلئے صرف کر رہی ہے کہ ان کے افراد میں اتحاد عمل پیدا ہو۔ ان کی سوچ میں یگانگت اور ان کی حرکات میں ہم آہنگی پیدا ہو۔ اندازہ کریں کہ جس قوم میں یہ سب باتیں ان کے دین کی برکت سے خود بہ خود موجود ہوں اور وہ ان سے خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ کرے۔ وقت آنے پر ان سے ملی فوائد حاصل نہ کرسکے تو اس قوم کو بے روح نہ کہیں تو اور کیا کہیں گے! مسلمانوں کے اندر ان کی حرکات و سکنات میں یہ ہم آہنگی اور اطاعت امیر کی خُو اسی لیے پیدا کی گئی ہے کہ ان کے قلوب و اذہان پاک ہوں، ان کی روح میں بالیدگی پیدا ہو، وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کے احکام اپنے سامنے رکھیں۔ ان کا جھکنا اسی کے لیے ہو۔ ان کا اٹھنا اسی کے لیے ہو۔ ان کی قوتیں کم زوروں کی حفاظت کے لیے ہوں اور ان کی توانائیاں ضعیفوں کے حقوق کی نگہداشت میں کام آئیں۔
جمعة الوداع کی نماز میں عامة المسلمین اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگیں گے کہ اے اللہ! ہم سے جو غلطیاں، کوتاہیاں اور تقصیریں سرزد ہوئی ہیں، بالخصوص نمازوں کے سلسلے میں جو سستی ہوئی ہے، وہ اپنی رحمت خاص سے معاف فرما دے۔ ان توبہ کرنے والوں میں کئی ایسے ہوتے ہیں جو اس عفو طلبی اور اظہار پشیمانی کے بعد آئندہ سچے اور پکے نمازی بن جاتے ہیں۔
آج جمعة الوداع ہے جو انتہائی عظمت و رحمت کا دن ہے۔ اسی طرح جمعة الوداع کے دن پوری دنیا کے مسلمان اس عظیم و بابرکت سال کے سب سے افضل ترین دن قبلہ اول کی آزادی کے لیے جمعة الوداع کو یوم القدس کے طور پر مناتے ہیں اور تجدید عہد کرتے ہیں کہ وہ قبلہ اول بیت المقدس یعنی مسجد اقصیٰ کی آزادی کے لیے ہر ممکن جدوجہد کریں گے۔ مسجد اقصیٰ کو مسلمانوں کا قبلہ اول ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمان اسی جانب رخ کر کے نماز ادا کرتے تھے۔ مسجد اقصیٰ کے ارد گرد اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اسی سر زمین پر ہوئی۔ قبل ازیں بنی اسرائیل کے بہت سے انبیائے کرام یہاں تشریف لائے۔ اسی وجہ سے اس کو انبیاءکی سر زمین کہا جاتا ہے۔
آئیے! بیت المقدس کی آزادی کےلئے پوری دنیا کے مسلمان اپنے تمام تر اختلافات یک سر بھلا کر پوری طرح متحد ہوجائیں اور بیت المقدس کی آزادی ہر مسلمان کے دل کی آواز اور نعرہ بن جانا چاہیے۔
(کالم نگار دینی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved