تازہ تر ین

قاتل وائرس یاسودی نظام!

مختار عاقل
دنیا کی سوا سات ارب آبادی کواس وقت جس شے کی سب سے زیادہ تلاش ہے‘وہ ہے ”تسلی“۔ کوئی شخص یا ادارہ کھڑا ہوکریہ کہہ دے کہ قاتل جرثومے ”کرونا“ کاعلاج دریافت ہوگیاہے۔ نگاہوں سے نظرنہ آنے والے اس جرثومے نے پوری دنیا کاسکون غارت کردیاہے‘ ہر شخص کے سرپرموت کاخوف سوار ہے جس نے پوری دنیا کو لاک ڈاﺅن کردیاہے‘ عالمی ادارہ صحت سے یہ امید تھی کہ وہ انسانوں کو اس بلائے ناگہانی سے نجات دلائے گا لیکن اس کے عہدیداران نے بھی مایوسی اوربے بسی کااظہار کرتے ہوئے کہہ دیاہے کہ کرونا شاید کبھی ختم نہ ہو۔ انسانوں کو اب اس کے ساتھ رہنا سیکھنا ہوگا۔
اقوام متحدہ نے کرونا سے عالمی معیشت کو ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگاتے ہوئے کہاہے کہ دو سال میں8½کھرب ڈالر ضائع ہوجائیں گے۔ صرف جرمنی کواس سال100ارب یورو کا نقصان ہوگا‘یہ وہی ملک ہے جہاں کمپیوٹر کمپنیاں مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس پر کچھ عرصہ قبل ان کی آمد پر گندے انڈے پھینکے گئے تھے اورایک انڈے نے تو بیقرار ہوکر ان کاچہرہ چوم لیاتھا۔ کرونا بحران میں بل گیٹس فاﺅنڈیشن کاہاتھ بھی بتایا جاتاہے جو5جی جیسی ٹیکنالوجی کے ذریعے پوری دنیا کے کاروبار کو آن لائن کرنے کیلئے بے چین ہے۔پاکستان میں سندھ حکومت نے بھی کراچی کے تاجروں کو ”آن لائن“ کاروبار کرنے کی ترغیب دی تھی جس پر وہ آمادہ نہیں ہوئے۔ تاہم آن لائن کاروبار کارجحان فروغ پا رہاہے۔وفاقی حکومت نے پاکستان ٹیلی ویژن پر ٹیلی سکول شروع کیاہے جس پر صبح8سے شام 6بجے کلاس پہلی تا12ویں جماعت تعلیم دی جارہی ہے جس کی تفصیلات8228پر موجود ہیں بعض مذہبی حلقے ”کرونا“ کو ”خدائی عذاب“ بھی قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہناہے کہ اس سے قبل بھی اللہ تعالیٰ کے احکامات کی نافرمانی پر دنیا کی مختلف اقوام پر وبائی بیماریوں اور آندھی‘ طوفان‘ سیلابوں کی شکل میں ایسے عذاب نازل ہوتے رہے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کے پیغمبر حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پرآنے والا سمندری طوفان بھی شامل ہے جس نے اس قوم کانام ونشان مٹادیاتھا اوردنیا میں صرف حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی میں سوار افراداورجانور باقی رہ گئے تھے۔
آج کی دنیا کے حالات بھی اللہ تعالیٰ کے احکامات سے روگردانی اوربغاوت پر منتج ہیں۔ دنیا میں سب سے بڑی خرابی سودی نظام ہے جس نے ملکوں اور اقوام کواپنے جال میں جکڑ رکھاہے۔ سود کو اسلام میں اللہ تعالیٰ سے جنگ اورحرام قرار دیاگیاہے۔ ترقی یافتہ ملکوں اورعالمی مالیاتی ادارں نے اس حرام نظام کے ذریعے ترقی پذیر ملکوں اور ان کی کروڑوں کی آبادیوں کو غلام بنارکھاہے۔ انہیں غربت وافلاس‘ بیروزگاری‘ جہالت اورمحرومیوں نے جہنم میں دھکیل دیاہے۔ اگر آج یہ تمام قرضے معاف کردئیے جائیں تو پوری دنیا جہنم سے جنت بن جائے گی‘ گل وگلزار ہوجائے گی۔ پاکستانی میں دودھ اورشہد کی نہریں بہیں گی۔ زکوٰة دینے والے ہونگے لیکن کوئی زکوٰة لینے والا نہیں ملے گا۔ دنیا کا ہرباشندہ خوشحال ہو جائے گا۔پوری دنیا سمیت ڈیڑھ ارب مسلمانوں کوبھی دین سے دوری اوراللہ تعالیٰ کے احکامات پرعمل نہ کرنے کی سزا مل رہی ہے۔ کعبہ شریف اورمسجد نبوی کے دروازے ان پربند کردئیے گئے ہیں۔ رمضان المبارک میں لاک ڈاﺅن کے ذریعے عبادات میں خلل پیدا ہواہے۔ خشوع وخضوع اورمکمل تربیت کے ساتھ نماز تراویح میں رکاوٹ ڈالی گئی ہے۔رمضا ن المبارک کے دو عشروں میں کثرت سے توبہ واستغفار اوراذانوں کا یہ نتیجہ ضرور نکلاہے کہ آخری عشرے میں اورجمعتہ الوداع‘ عیدالفطر کے لئے سندھ حکومت نے بھی اجتماعات کی اجازت دے دی ہے۔ کرونا سے حالیہ جنگ کوشراورخیرکے درمیان ازل سے آج تک ہونے والی لڑائی کے تناظر کی بائیولوجسٹ سائنسدان جون المیڈا نے لندن کے ہسپتال سینٹ تھامس کی لیبارٹری میں دیکھا اور شناخت کیاتھا۔ بعد ازاں تجربات کے دوران اس کے خواص دریافت ہوئے اور دیگر سائنسدانوں‘ڈاکٹروں اورپروفیسرٹونی واٹرسن کی مشاورت سے اسے کرونا وائرس کانام دیاتھا۔ ڈاکٹرالمیڈا2007ءمیں انتقال کرگئی تھیں لیکن ان کی ایجاد نے13سال بعد پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ اس عذاب سے نجات کا راستہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی ہے۔ اس کی ویکسین بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہی وجود میں آسکتی ہے۔ انسان بیمارہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی شفاملتی ہے۔ ڈاکٹر اوردوا تو ذریعہ بنتے ہیں۔ جمعتہ الوداع کے مبارک دن کثرت سے استغفار اور قرآن واحادیث کے احکامات پرعملدرآمد کا عہد ہربلا اوروبا کوختم کرسکتاہے۔
انسانوں کے سب سے بری وبا مروجہ وسودی نظام ہے جس نے انسانوں کی اجتماعیت کو پاش پاش کردیاہے۔ آج 6فٹ کاسماجی فاصلہ‘ ہاتھ نہ ملانا‘گلے نہ لگانا اورناکوں پر چڑھا ہوا حفاظتی ماسک معاشرتی ضرورت بن گئے ہیں۔ آمدورفت محدود یا بالکل ختم ہوگئی ہے۔ نفع بخش کاروبار خطرے کی علامت بن گئے ہیں۔ امریکہ بھی اس نظام کی خرابیوں کاشکار ہے۔1993ءمیں556ارب ڈالر غیر ملکی قرضوں کا مقروض ملک امریکہ آج کھربوں ڈالرکامقروض ہو چکاہے۔ ان قرضوں نے امریکی قیادت کی نیندیں حرام کررکھی ہیں۔ کہا جاتاہے کہ کرونا وائرس کاخوف پھیلانے کی ایک بڑی وجہ سپرپاور کے زعم میں مبتلا اس ملک پر چڑھنے والا بھاری قرضہ اور اس کا سود بھی ہے تاکہ دنیا کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیاجائے۔ حقیقت یہ ہے کہ سود کے ظالمانہ نظام نے انسانوں سے ان کی تخلیقی صلاحیتیں بھی چھین لی ہیں اوراب تک کرونا کاعلاج دریافت نہیں ہوسکاہے۔56 سال قبل بیکٹیریا کی ماہر جون المیڈا کو اس وائرس کادیدار کرا کے قدرت نے انسانوں کو یہ پیغام دیاتھا کہ وہ اپنے اعمال درست کرلیں لیکن انسانوں نے اپنی روش بدلنے کی بجائے سیاسی وسماجی اورمعاشی استحصال کے ظالمانہ ہتھکنڈوں کا استعمال جاری رکھااب کرونا وائرس نے اس کی ساری مستی کا فور کردی ہے اور وہ موت کے خوف سے قرنطینہ میں چھپتا پھر رہاہے۔
( کالم نگار سینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved