تازہ تر ین

کرونا مارتا کم ڈراتا زیادہ ہے

ثاقب رحیم
کرونا کرونا کرونا۔ ہر طرف صرف ایک ہی موضوع گفتگو ہے۔ عوام دنیا بھر میں منہ لپیٹے پھر رہی ہے، موت کا خوف اتنا نہیں ہے جتنا اس بیماری سے اپنوں سے جدا کر کے الگ کر دیئے جانے اور اس کے بعد اگر موت واقع ہو گئی تو بے یارومددگار زمین میں اتار دینے کا ہے۔ لوگ مرتے اور پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ اور اپنوں میں مرنا پسند کرتے ہیں اور بیماری کی صورت میں اپنوں کی تیمار داری اور تعلق کے محتاج ہوتے ہیں۔ یہ اطمینان ہوتا ہے کہ شفا ہو گی اور اگر موت بھی واقع ہو گئی تو تب بھی کندھا دینے والے تو ہوں گے۔ حالانکہ مرنے کے بعد کسی رونے والے اور کندھا دینے والے کا پتہ نہیں چلتا بس زندہ رہتے ہوئے ایک موہوم امید اور خواہش ہوتی ہے، لیکن اپنے عزیز کا بے یارومددگار مر جانا اور پھر اسے دیکھنے بھی نہ دینا اور باہر باہر ہی مٹی میں اتار دینا پیچھے رہ جانے والوں کےلئے بہت تکلیف دہ ہوتا ہے جو مریض اور عزیز و اقرباءکے احساسات کو کچوکے لگاتا رہتا ہے۔
دنیا ایک مخمصے میں پھنسی ہوئی ہے کہ آیا کووڈ19- قدرتی بیماری ہے یا خود ساختہ ہے۔ امریکہ، اسرائیل، برطانیہ اور چین میں آج کل یہ کشمکش جاری ہے کہ کس طرح اس حقیقت کو دوسرے کے سر پر منڈھ دیا جائے۔ خاص طور پر امریکہ اور چین میں یہ جنگ شدت اختیار کر چکی ہے، حقیقت سامنے آنے میں کچھ عوامل مانع ہیں لیکن کسی بھی مشکل میں اس راز سے سیاسی پردہ اٹھے گا لیکن وہ شائد سچائی سے عاری ہو۔ حال ہی میں ایک جاپانی نوبل انعام یافتہ پروفیسر آف سائیکالوجی اور میڈیسن نے واضح طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کرونا وائرس قدرتی نہیں بلکہ خود ساختہ ہے۔ جو طاقتور ممالک کے کرتا دھرتا افراد کے ایک گروپ نے دنیا پر حکمرانی قائم کرنے کےلئے تیار کیا ہے، اس پروفیسر کا نام ”ڈاکٹر طاسوکوہونجو“ ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر یہ وائرس قدرتی ہوتا تو وہ کسی خاص علاقے، موسم اور حالات کے تابع ہوتا اور پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں اس طرح اور اتنی جلدی نہ لے لیتا۔ اس کے کہنے کے مطابق قدرتی بیماری کا تعلق فطرت، درجہ حرارت کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر یہ چین میں قدرتی طور پر پھیلا تو اسے اس ماحول میں ہی رہنا چاہئے تھا، نا کہ پوری دنیا میں ہر ماحول اور درجہ حرارت اور حالات کو بالائے طاق رکھ کر تمام انسانیت کو یکساں متاثر کرے ،ایسا نہیں ہوتا۔ ایسا صرف اس وقت ممکن ہے جب وہ خود ساختہ ہو اور کسی بھی قسم کے حالات اور ماحول اور درجہ حرارت کے اثرات کے بغیر جانداروں کو یکساں متاثر کرے اور چونکہ یہ وائرس پوری انسانیت کو یکساں نقصان پہنچا رہا ہے اور جغرافیائی حالات کا اثر اس پر نہیں ہے۔ اس لئے اس بات کو حتمی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ انسانی ہاتھوں اور سائنسی طور پر بنایا گیا ہے۔ انہوں نے چار سال ووہان جہاں اس وائرس کی ابتدا ہوئی کی سائنسی لیبارٹری میں کام کیا اور وہاں کے تمام کارکنان کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ انہوں نے کرونا وائرس کے بعد تمام کارکنان جو وہاں کام کرتے تھے۔ کو فون یا کسی اور ذریعے سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ان سب کے فون بند یا ختم ہو چکے تھے۔ جو بہت حیرت انگیز بات ہے اور تین ماہ تک بند رہے جو شکوک کو جنم دیتے ہیں کہ وہ سب کہاں ہےں اور ان سے رابطہ کیوں منقطع کر دیا گیا ہے۔ لیکن اب یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس لیبارٹری میں کام کرنے والے سب کے سب ملازمین مر چکے ہیں۔ کیسے اور کیوں یہ راز ہے۔ ان شواہد کی بنیاد پر وہ یہ سو فیصد یقین سے کہتے ہیں کہ یہ وائرس مصنوعی ہے۔ قدرتی نہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اگر جو انہوں نے کہا ہے وہ ان کی زندگی یا مرنے کے بعد بھی غلط ثابت ہوا تو گورنمنٹ ان کو دیئے گئے اعزازات، اسناد اور نوبل پرائز واپس لے لے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ سچ ایک تاریک دن عیاں ہوگا۔
یہ وائرس صرف ایک یا دو ماہ کے قلیل عرصے میں پوری دنیا میں وبا بنا کر پھیلا دیا گیا۔ اس کو پھیلانے میں سب سے اہم کردار ہوائی سفر نے ادا کیا۔ چین کا انتخاب اس وائرس کو پھیلانے میں اس لئے کیا گیا کہ وہاں سے دنیا بھر میں تجارتی اشیا کی ترسیل کے بہانے اس وائرس کو پوری انسانیت تک بہت جلد پھیلایا جا سکتا ہے۔ اس طرح یہ بیماری جلد پھیلا دی گئی ہے، اور یہ کسی منصوبے کی تکمیل کےلئے بہت سوچ سمجھ کر بنایا گیا ہے اوراس وائرس کا خوف دنیا بھر میں پھیلا دیا جائے بہت چالاکی، ہنر مندی اور منصوبے کے تحت کامیابی سے کیا گیا۔
اس کریہہ منصوبے سے پوری دنیا کو متاثریا برباد کرنے کے پیچھے کیا حاصل کرنے کی چال تھی۔ کہا جاتا ہے کہ سب سے زیادہ افراد مافیا اور ممالک کے حکمران ایک بات پر متفق ہوئے کہ اس دنیا کی آبادی کم کر کے اتنی کر دی جائے جس پر کنٹرول کرنا آسان ہو۔ تورات اور زبور کے مطابق یہودیت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ آخرت کے قریب پوری دنیا پر ان کی حکمرانی ہو گی اور دجال جو ان کا آخری حکمران ہو گا وہ آئے گا اور ہر طرف اس کی حکمرانی ہو گی اور اس کےلئے جتنی بھی انسانی جانوں کو ختم کرنا ہو وہ قدرتی عمل ہے۔ لہٰذا ان کا مرنا لازمی ہو گا، یہ یقین اسی طرح ہے جیسے عیسائیت اور اسلام میں حضرت عیسیٰ کے آنے کی نوید ہے اور مسلمانوں میں حضرت امام مہدی کے ظہور کو مانا جاتا ہے اور ان کے بعد کہا جاتا ہے کہ پوری دنیا میں صرف اور صرف اللہ کے خالص اور وہ ہدایات جن کو اقوام قدیمہ نے جھٹلایا وہ نافذ ہوں گی اور ہر طرف سکھ چین کی بانسری بجے گی۔ یہود نے اپنے احکامات کے پیش نظر پوری تیاری کی اور اس کی طرف گامزن بھی ہیں اور کرونا وائرس سے دنیا میں اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی ابتدا کر دی ہے اور ایک ہی ڈر سے پوری دنیا کی شکل اور عمل ہی بدل کر رکھ دیا۔
ذرا سوچیں۔ اختصار سے بھی بیان کریں تو منصوبہ سازوں کو کن فوائد کی اُمید ہے۔
میڈیا کے استعمال سے چین اور امریکہ کے درمیان معاشی اور تجارتی جنگ کو منطقی انجام تک لانا، تا کہ امریکہ کی حاکمیت قائم ہو اور دشمن کی معاشی طاقت ختم ہو۔ دنیا میں پھیلی ہوئی بے شمار منڈیاں کم کی جائیں اور صرف اپنے مطلب کی مارکیٹوں کو بڑھا کر طاقتور بنایا جائے۔ طاقتور ملک اپنے بانڈز کو دنیا بھر میں اپنی دھونس اور طاقت کے بل پر بیچ کر استحکام حاصل کیا جائے۔ کرونا وائرس کا علاج دریافت کر کے (جو پہلے سے ہی موجود ہے) کو دنیا بھر میں فروخت کر کے۔ نقصان جو لاک ڈاﺅن کی وجہ سے ہوا پورا کیا جائے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ افراتفری۔ دنیا بھر کی ادویات ساز کمپنیوں نے اپنی پراڈکٹس کو بیچنے کے لئے اربوں ڈالر کی انڈسٹری کو بچانے اور بڑھانے کیلئے پھیلائی ہے۔
دیگر وجوہات کی بنا پر اموات کے مقابلے میں کرونا وائرس سے اموات بہت معمولی ہیں۔ اس نے بہت زیادہ افراتفری پھیلانے یا خوف زدہ کرنے کی بجائے اس پر احتیاط کرنے کے طریقوں کو اپنا کر اس سے خوش اسلوبی سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔
(کالم نگارسیاسی وسماجی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved