تازہ تر ین

حضرت خواجہ محکم الدین سیرانی ؒ

نجیب الدین اویسی
بخشے دا گوٹھ ایک قدیم قصبہ تھا۔ ہمارے وسیب میں نام بگاڑنے کی بڑی مضبوط روایتیں ہیں۔اکثر والدین اپنے بچوں کا نکِ نام رکھ لیتی ہیں کبھی کبھار ےار دوست قریبی ہمسائے بھی مذاق مذاق میں نام بگاڑ دیتے ہیں۔ اچھے بھلے خوبصورت ناموں کا ایسے پوسٹمارٹم کرتے ہیں اصل نام کا قیاس کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ چند نکِ نیم سے تو آپ اصل ناموںکا اندازہ کر لیتے ہیںمگر کچھ ایسے نکِ نیم ہوتے ہیں جن کا اصل نام سے دور دور تک کوئی سلسلہ نہیں ملتا۔ میرے بیٹے کا نام بڑا خوبصورت ہے ،میں اسکا نام ابوبکر رکھنا چاہتا تھا مگر میری بیگم محمد عثمان پر بضد ہوگئی۔ میں اس پر بھی کیسے انکار کر سکتا تھا ۔ میرے لیے میرے آقا کے تمام صحا بہ کرامؓ ©قابل تعظیم ہیں مجھے اس پر جب زیادہ محبت یا غصہ ہو تو میں اسے مانی یا مانو کے نام سے پکارتا ہوں ۔ مگر جیسا میں نے کہا کچھ اصل ناموں سے کہیں دور دور سے بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ہمارے شہر کے مشہور فزیشن ڈاکٹر مظہر فیض عالم کو پورا شہر مانی بھائی کہتا ہے۔
بات ہورہی تھی بخشے دا گوٹھ کی، تحقیق سے معلوم ہوا اس شخص کا نام محمد بخش تھا وہ قوم کا داد پوترہ تھا۔ بہت تحقیق کی مگر معلوم نہیں ہو سکا اس شخص کا نام محمد بخش ، اللہ بخش یا کسی اور لاحقہ کماحقہ کیساتھ بخش تھاوہ ذات کا دادپوترہ تھا۔ یہ گوٹھ (گاﺅں) اسی کے نام سے منسوب تھا۔بخشے دا گوٹھ چند گھروں پر مشتمل ایک چھوٹا سا گاﺅں تھا جس میں ساندی، دادپوترے اقوام کے گھر تھے ممکن ہے دو تین دوسری اقوام کے بھی گھر ہوں۔ اس زمانے کی مسجد آج بھی موجود ہے ہمارے گاﺅں کے تمام بزرگ اسے بڑی مسجد کہتے ہیں۔روایت ہے یہ اس گاﺅں کی واحد مسجد تھی۔ حضرت خواجہ محکم الدین سیرانی ©اکثر و بیشتر اپنے سفر کے دوران اسی مسجد میں قیام فرماتے تھے چنانچہ کراچی کے میمن حضرات نے اس مسجد کو شہید کر کے اسے بڑا خوبصورت و وسیع بنوایا ہے۔ چونکہ کاٹھیا واڑی میمن حضرات کی کثیر تعداد حضرت خواجہ محکم الدین سیرانی کی عقیدت مند ہے اسی لیے انہوں نے مسجد کی تعمیر نوکے بعد اسکا نام سیرانی مسجد رکھ دیا ہے۔ حضرت خواجہ محکم الدین سیرانی کاتعلق پنجاب کی مشہور ذات کھرل سے تھا۔آپ کی جائے پیدائش گوگیرہ ضلع اوکاڑہ تھی اسے قصبے، اسی ذات سے احمد خاں کھرل شہید بھی پیدا ہوا ہے۔حضرت خواجہ محکم الدین سیرانی ؒنے دیوان چاولہ مشائخ (انکا مزار تحصیل بورے والا ضلع وہاڑی) کے دربار پر چلہ کیا۔چلہ کے اختتام پر انہیں حکم ملا ”سیر فی الارض“ اسی سبب آپ نے اپنی باقی ساری عمر سیر میں گزاری۔ کاٹھیا واڑی زبان میں سیرانی کو سیلانی لکھا اور بولا جاتا ہے اسی لیے انکے کراچی کے میمن عقیدت مند سیلانی ٹرسٹ، سیلانی مسجد، سیلانی چوک، سیلانی بیکری(یہ سب کراچی میں ہیں) پورے پاکستان میں سیلانی لنگر، کراچی میں غریب و نادار لوگوں کو روزگار کی امداد دینے والے (سیلانی فاﺅنڈیشن) کے سادہ لوح درویش منش صوفی بشیر فاروقی بھی حضرت خواجہ محکم الدین سیرانی ؒ کے عقیدت مندوں سے ہیں۔ جنکے سیلانی لنگرکا افتتاح وزیراعظم پاکستان عمران خان بڑے فخر سے کر رہے تھے۔
حضرت سیرانی بادشاہ کو زہر خورانی سے شہید کیا گیا۔ وہ بھی دھوراجی (ریاست کاٹھیاواڑ)کے ایک میمن نے انہیں ہمیشہ اپنے پاس رکھنے کیلئے کھانے میں زہر ملا کر دے دیا۔آپ کو دفن کر کے مزار بنوا دی۔گوگیرہ میں آپ نے خواب کے ذریعے اپنے بھائیوں کو آگاہ کیا۔ انہیں ہدایت کی وہ ان کی میت کو لے جائیں۔ جب انکے ورثاءدھوراجی پہنچے تو حافظ کوکی (جس نے زہر دیا) میت دینے پر راضی نہ ہوا۔ اس نے ورثاءکو پیشکش بھی کی آپ یہاں دربار کے متولی بن جائیں۔ میں نے تو یہ گناہ اسلیے کیا کہ میراشیخ ہمارے ساتھ رہے۔ ریاست کا ہندو مہاراجہ بھی اسکا ہمنوا ہو گیااسکی آرزو تھی ریاست میں ایک ولی اللہ کا دربار ہو۔ ورثاءپریشانی کے عالم میں سو گئے تو آپ نے انہیں خواب میں فرمایا آپ حافظ کو کہہ کر میری میت نکال کر ایک صندوق میں رکھیں ساتھ ہی خالی صندوق بھی رکھ دیں۔ حافظ کو صندوق چُننے کا کہہ دیں۔ آپ اپنے حصہ کا صندوق لے کر یہاں سے روانہ ہو جائیں۔ حافظ نے اس بات سے اتفاق کر لیا۔ چنانچہ حافظ نے اپنی صندوق سے میت نکال کر وہیں دفن کر دی۔ آج وہیں(دھوراجی انڈیا میں) بھی آپ کا مزار ہے جہاں ہر سال چار تا چھ ربیع الثانی عرس ہوتا ہے اس کے علاوہ وہاں دیوالی کی چھٹیوں میں سالانہ میلہ لگتا ہے۔اسی طرح خانقاہ شریف ضلع بہاولپور میں جو مزار ہے وہاں یکم تا پانچ ربیع الثانی عرس کی تقریبات ہوتی ہیں جس میں ہزاروں لوگ اندرون و بیرون ممالک سے شرکت کرتے ہیں۔ آپ کے ورثاءآپ کی میت کو چارپائی پر لیکر گوگیرہ کی طرف روانہ ہوئے اس دور میں لوگ پیدل ہی سفر کرتے تھے جسکی وجہ سے منزل بہ منزل آرام و قیام کرتے ہوئے سفر طے کرتے تھے۔ آج کی خانقاہ شریف، اس وقت کا بخشے دا گوٹھ میں اس قافلے نے رات بسر کی۔ جیساکہ میں نے پہلے ذکر کیا آپ دورانِ سفر بخشے دا گوٹھ میں قیام فرماتے تھے۔غالباََ بخشے کی ماں یا بہن حلیمہ مائی کو آپ نے اپنی بولی بہن بنایا ہوا تھا ۔ وہ آپ سے اکثر کہا کرتی آپ سیرانی بادشاہ ہیں کیا پتہ آخری وقت آپ کہاں ہوں؟ میں آپکو مل بھی سکوں یا نہیں؟ چنانچہ جب قافلے نے تیاری کی تو خاتون نے کہا آپ سب ایک طرف ہو جائیں میں نے اپنے بھائی سے آخری ایک بات کرتی ہوں۔اس خاتون نے کہا آپ نے وعدہ کیا تھا آپ آخری وقت میرے پاس رہیں گے مگر ناجانے یہ لوگ اب آپ کو کہاں لے جائیں گے ؟ یہ بات کر کے اس نے کہا بس اب آپ اپنا سفر جاری کر سکتے ہیں۔ ورثاءنے چارپائی اٹھا نے کی کوشش کی، چارپائی اٹھنے کا نام نہیں لیتی تھی اسی لیے آپ کی منشاءسمجھ کر آپ کو وہیں دفن کر دیا گیا۔ آپ کے بھتیجے امان اللہ کو جنہیں آپ نے اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا بخشے دی گوٹھ رہ گیا ۔ کیونکہ آپ نے شادی نہیں کی تھی اسلیے بھتیجے کو بیٹا بنایا ۔ ہم انکے اسی بھتیجے امان اللہ اویسی کی اولاد ہیں۔
خواجہ محکم الدین سیرانی کے مزار مبارک کے بعد اس قصبے کا نام بخشے دا گوٹھ سے خانقاہ شریف ہوگیا۔ یہ قصبہ تحصیل و ضلع بہا ولپور میں G.Tروڈ پر بہاولپور شہر سے صرف پندرہ کلومیٹر فاصلہ پر واقع ہے۔وہ گاﺅں جو چند گھروں پر مشتمل تھا دربار کے بعد اس میں آبادی کا اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔ جب میری عمر سکول جانے کی ہوئی تو میرے والد صاحب مرحوم نے سمہ سٹہ روڈ پر چار کنال زمین اور تین کمرے پرائمری سکول کو بنوا کر دیے۔ یوں میری الف ب سے ہی خانقاہ شریف کا سکول باقاعدہ ایک عمارت کی شکل میں وجود میں آیا۔ اس سے قبل سکول مختلف ڈیروں پر چلتا رہا۔جونہی میں نے پرائمری پاس کی سکول بھی مڈل ہو گیا۔ اس وقت مجھے بڑی ما یوسی ہوئی۔ ان دنوں ہمارا شوق تھا ہم شہر میں (بہاولپور) جا کر پڑھیں۔ اب سوچتے ہیں کاش ہمارے زمانہ طالب علمی میں خانقاہ شریف ہائی سکول ہوتا بلکہ سمہ سٹہ والا ڈگری کالج بھی ہوتا تو شاید ہم اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکتے۔ ہم نے اپنا سارا بچپن خانقاہ شریف کی گلی کو چوں میں گزارا۔ میرے سامنے دیکھتے ہی دیکھتے خانقاہ شریف نے ترقی کی بہت سی منازل طے کیں۔ میں چودہ سال چیئرمین یونین کونسل رہا۔ میں MPA بن گیا، تحصیل ناظم منتخب ہوا، دوسری بار MNAہوںمگر آج بھی میرے شہر کی اکثریت مجھے میاں چیئرمین کہتی ہے۔میں نے مقدور بھر اس شہر کی خدمت کی ۔ میرے بڑے بھائی میاں شہاب الدین اویسی مرحوم اور میں نے اکھٹے بلدیا تی سیاست سے آغاز کیا۔ ہم دونوں کی کاوشوں سے بوائز، گرلز مڈل سکولوں کو ہائی کا درجہ ملا۔ بلکہ ہماری سیاست کے آغاز سے قبل گرلز سکول کا درجہ تو پرائمری کا تھا۔ خانقاہ شریف سمہ سٹہ جڑواں شہر ہیں ان دونوں شہروںکے درمیان سڑک پر لوگ پیدل نہیں چل سکتے تھے۔ سوئی گیس 1991ءمیں لگوائی جبکہ ان دنوں ملک کے بڑے بڑے شہروں (ضلعی و تحصیل) میں سوئی گیس نہ تھی۔ اسی طرح ڈیجیٹل ایکسچینج 1998ءمیں سٹارٹ ہوا۔ ان دنوں مواصلات کا واحد ذریعہPTCLہی تھا۔ڈیجیٹل ایکسچینج بھی ملک کے گنتی کے چند بڑوں شہروں میں تھی۔ کئی مرتبہ گلیاں، سڑکوں کو پختہ کروادیا۔2003ءمیں پورے شہر کیلئے ایک سیوریج لائن، ڈسپوزل پینتیس لاکھ سے بنوایا۔ ہم 2013ءتک دس سال اقتدار سے علیحدہ رہے ۔ ہمارے مخالفین نے ایک اینٹ بھی خانقاہ شریف ، سمہ سٹہ لگانا گناہِ کبیرہ سمجھا، میرے نزدیک انہوں نے درست کیا۔ کیونکہ میرے اپنے دونوں شہر خانقاہ شریف ، سمہ سٹہ کے لوگوں نے ہمارے مخالفین کو ہمیشہ مایوس کیا۔بحیثیت ایم این اے میں نے ایک کروڑ چالیس لاکھ کی مدینہ کالونی، نظام آباد، پہاڑ شاہ کیلئے علیحدہ سیوریج لائن ڈالی۔ بہت سے میرے بہی خواہوں نے مجھے کہا اتنا پیسہ آپ زمین میں دفن کر رہے ہیں جس کی نمائش بھی نہیں ہوگی۔ میرا ان لوگوں کو ہمیشہ یہی جواب ہوتا ہے یہ میرا گھر ہے گھر میں خرچہ گھر کے لوگوں کی سہولت آسائش کیلئے کیا جاتا ہے نمائش کیلئے نہیں۔ایک کروڑ کی بجلی مختلف محلوں میں دی۔ درجنوں ٹرانسفارمرز اپ گریڈ کرائے۔پہاڑ شاہ، مدینہ کالونی، بستی آرائیاں کی سوئی گیس دی جو 2018ءمیں شروع ہوئی۔میرے مخالفین با ر بار اس منصوبے میں رکاوٹیں ڈالتے رہے۔میرے دیے ہوئے منصوبے جو دفتری کاروائیوں کے سبب تاخیر کا باعث بنے، آج یہ ان کے افتتاح کر کے سلفیاں بنواتے پھرتے ہیں۔ ہمارے PTIکے دوستوں کا وطیرہ ہے اتنا جھوٹ بولو، اتنا جھوٹ کہ لوگ اسے سچ سمجھنے لگیں۔ پنجاب حکومت نے اپنی پالیسی کے تحت بڑے قصبوں کو ٹاﺅن کمیٹی کا درجہ دے دیا۔ پورے پنجاب میں 139نئی ٹاﺅن کمیٹیوں کا نوٹیفیکیشن کیا۔ ہمارے اپنے ضلع بہاولپور میں خانقاہ شریف سمیت پانچ نئی ٹاﺅن کمیٹیاں (سمہ سٹہ، مبارک پور، چنی گوٹھ، قائم پور) ایک ساتھ فنکشنل ہوئیں۔ اسے بھی وہ اپنا کارنامہ کہتے ہیں۔ بارش میں سڑکوں پر پانی جمع ہو جائے ، ڈسپوزل کی موٹر خراب ہوجائے، یہ PTIوالے جو سوشل میڈیا پر اپنی پارٹی چلا رہے ہیںہم پر طنز کے نشتر چلاتے ہیں۔ کوئی ان سے پوچھے اب تو آپ کی پارٹی کی حکومت ہے ہم تو بغیر کسی پر احسان جتائے آپ کی حکومت کے کارندوں سے منت سماجت کے ذریعے اپنے شہر،حلقہ کیلئے جو کچھ کر سکتے ہیں اشتہاری مہم کے بغیر چپکے چپکے کام کرتے رہتے ہیں۔ میرے دونوں شہروں کی عوام جانتی ہے آپ فصلی بٹیرے ہیں آپ کو ان شہروں سے کیا انس ہو سکتا ہے۔ آپ کے اپنے گھر بھی اس حلقے میں نہیں ہیں۔ہمارا تو اپنا گھر ہے۔ ہمیں تو اس مٹی سے عشق کی حد تک پیار ہے۔ ہمارا دُکھ، سُکھ،خوشی غمی اپنے لوگوں کیساتھ ہے۔یاد رکھو! یہ محبت یکطرفہ نہیں، دونوں اطراف ایک جیسا جنوں کی حد تک پیار ہے۔
(کالم نگارمعروف پارلیمنٹیرین ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved