تازہ تر ین

احتیاط بہت ضروری ہے

ڈاکٹر نبیل چودھری
کرونا کی تباہ کاریاں اپنی جگہ پر لیکن پی آئی اے کے جہاز گرنے نے پوری قوم کو اداس کر دیا ہے۔حادثے کی وجوہات بھی سامنے آ جائیں گی لیکن جو قیمتی جانیں اس سانحے کی نذر ہوئیں وہ کبھی واپس نہ آ سکیں گی۔عید تو ویسے ہی اداس تھی شہادتوں نے مزید اداس کر دیا۔قارئین اللہ سے دعا ہے کہ وطن عزیز کو ان جانکاہ صدمات سے بچائے۔
آج جی چاہتا تھا قوم کی کرونا کے بارے میں بد احتیاطی کا رونا روﺅں۔ میں ایک ڈاکٹر ہوں گرچہ ڈینٹسٹ ہوں لیکن اپنی روز و شب کی زندگی میں قوم کی لاپرواہی کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، میرے شہر کی ایک ایم پی اے بھی اللہ کو پیاری ہو گئی ہیں انہیں بھی کرونا نے اپنے شکنجے میں لے لیا تھا۔ ہمارے قومی اسمبلی کے سپیکر بھی کرونا میں مبتلا ہو گئے تھے مگر اللہ نے انہیں صحت عطا فرما دی ہے ، گورنر سندھ کو بھی اللہ نے بچایا ہے اور شنید ہے کہ راولپنڈی سے منتخب رکن صوبائی اسمبلی لطاسب ستی اپنے بیٹے سمیت کرونا میں مبتلاءہوئے ہیں اللہ سب کو تندرستی دے۔ لیکن جو طریقہ کار قوم نے اختیار کر رکھا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے۔ایک نئی تھیوری بھی سامنے آ رہی ہے کہ کچھ نہیں ہوتا،بعض لوگوں کی اس سوچ پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے جو کہہ رہے ہوتے ہیں جو رات قبر میں ہے وہ باہر نہیں۔اب کیا کہا جائے۔ جس وقت یہ سطور لکھ رہا تھا تو کرونا کی تازہ ترین صورت حال کے مطابق پاکستان میں کل مریضوں کی تعداد 50694ان میں کنفرم کیسز کی تعداد 34426جو لوگ اس موذی وباءکی وجہ سے اس دنیا سے گئے ہیں ان کی تعداد1067ہے یہ تعداد کوئی معمولی تعداد نہیں ہے گرچہ جو متوقع تعداد تھی اس سے کم ہے۔ یہ میرے اللہ کا کرم ہے البتہ اس میں بغلیں بجانے کی بجائے مزید احتیاط کی جانب بڑھنا چاہئے۔
بد قسمتی سے بہت سے اہل دانش بھی لوگوں کی سوچ کو متزلزل کر رہے ہیںاسے کہتے ہیں غیرسنجیدہ رویہ۔میں ہاتھ باندھ کر پاکستانی بھائیوں سے درخواست کرتا ہوں خدارا اسے خطرناک سمجھیں یہ موذی وباءہے اور علماءکا کام بھی ہے کہ لوگوں کو بتائیں کہ ہمارے نبی نے اس قسم کی وباﺅں کے لئے واضح حکم دیا ہے کہ اپنے آپ کو بچائیں جہاں جس شہر میں وباءہو وہاں سے باہر نہ نکلیں اور اس شہر میں جائیں بھی نہیں ۔
قارئین میں میڈیکل کے شعبے سے تعلق رکھتا ہوں میں آپ کو ڈرانا تو نہیں چاہوں گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ اس وباءسے ڈریں۔ انسان جب ڈرتا ہے تو اس کا سد باب بھی کرتا ہے۔کیا آپ چاہتے ہیں کہ کرونا پاکستانیوں پر چڑھ دوڑے اموات ہزاروں میں چلی جائیں تو پھر میری یہ بات لکھ لیں کہ آپ منہ سے نہ بھی کہیں دوسرے معنوں میں آپ نے اس کھلے دشمن کو للکارا ہے۔بازاروں کی حالت دیکھ کر لگتا ہے کہ لوگ گھروں سے کرونا کو کچلنے کے لئے نکل پڑے ہیں۔میری فیملی میں ایک محترمہ کو کرونا ہوا ہے دو ہفتے وینٹیلیٹر پر رہی ہیں اوراللہ کا کرم ہے کہ اس نے انہیں نئی زندگی دی ہے لیکن جو قیامت پوری فیملی پر گزری ہے اس کی تو بات نہ کریں۔میں سمجھتا ہوں کرونا پر اس سے زیادہ میں آپ کو ڈرا نہیں سکتا ۔
میں” خبریں“ جیسے مو قر اخبار کی وساطت سے کہوں گا کہ ہم مانتے ہیں ہیں کہ نہ تو یہ قوم ڈرنے والی ہے نہ جھکنے والی ‘اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ قوم وباءسے ڈرنے والی اور اس کے آگے جھکنے والی نہیں ہے آپ اللہ کے آگے جھکیں اور کرونا سے ڈریں، جھک کر رب باری تعالی سے معافی مانگیں۔قارئین رمضان المبارک کے آخری عشرے میں قوم کی بڑی خوشی نصیب ہوئی بلکہ فخر حاصل ہوا کہ امریکہ کے سیکرٹری پیومپیو نے ایک ٹویٹ کے ذریعے پاکستان کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے کرونا سے لڑنے کے لئے حفاظتی کٹیں امریکہ کو دی ہیں۔ پاکستان کا ایک طیارہ امریکی ایئر پورٹ پر کھڑا ہے اور اس امریکہ کی مدد کے لئے سامان لے کر گیا ہے جس سے ہم مدد مانگتے تھکتے نہیں ۔یہ سچ پوچھیں مقام فخر ہے۔آپ سوچ نہیں سکتے کہ ہم نوجوان کتنے مسرور ہیں کہ اللہ نے کیا کہ پاکستان بھی دینے والوں کی صف میں شامل ہوا ہے۔پاکستان اپنی کھوئی ہوئی عزت اور وقار کو حاصل کر رہا ہے۔ایک وقت تھا پاکستان کی عزت تھی لیکن اس پاکستان نے گارڈ آف آنرسے پتلون اتروائی تک کا سفر بڑی تیزی سے طے کیا۔جس کی وجوہات بیان کرنے کے لئے اس کالم میں جگہ نہیں ہے لیکن اب محسوس ہو رہا ہے کہ سبز پاسپورٹ عزت پا رہا ہے۔قوم کو اس اداسی کے دنوں میں مبارک ہو۔فواد چودھری نے وزارت سائنس میں بھی نام کمالیا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ خبروں میں زندہ رہنے کا فن جانتے ہیں ۔وہ بڑے کامیاب سیاست دان ہیں لیکن کبھی کبھار مذہبی حوالے سے ان کی باتیں ہمیں شرمندہ کر دیتی ہیں ۔انہیں ہر حال میں خیال رکھنا چاہئے کہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے اس میں سیاست کرنے کے اور تقاضے ہیں ۔آزاد لبرل اور دیسی گماشتے جتنا مرضی کر لیں وہ پاکستان کے روشن چہرے پر کالک نہیں مل سکتے۔یہ ملک دس لاکھ شہداءکی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا تھا اسے شعبہ صحافت کے چند لوگوں کی بونگیاں اس کے راستے سے نہیں ہٹا سکتیں۔
قارئین کرام‘ آج کل انڈین چینیلز پر گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے حوالے سے بڑی دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔انڈیا کو آنے والے دنوں میں انتخابات اور وہاں ڈیم بنانے پر بڑی تکلیف ہو رہی ہے جس کے لئے ان کا شور سننے میں آ رہا ہے ۔بھارت نے اپنے کشمیری علاقے میں کشن گنگا بنایا ہم نے اس سے پہلے نیلم منصوبہ مکمل کیا اس وقت اس کی زبان بند رہی لیکن جب پاکستان نے بھاشا ڈیم کی تعمیر شروع کی تو اس کے پیٹ میں کیوں مروڑ پڑ رہا ہے، گلگت بلتستان میں پہلی بار الیکشن تو نہیں ہوئے ۔لگتا ہے مودی سرکار بڑھکیں مارنے پر تلی ہوئی ہے۔پاکستانی دانشوروں کو اس پر لکھنا چاہئے اور عوام کی ذہنی تربیت کرنی چاہئے ۔میں جناب ضیاشاہد سے درخواست کروں گا کہ آپ اس سلسلے میں اپنے چینل پر پروگرام شروع کریں، لوگوں کو بھارت کی چال سے آگاہ کریں ۔اس سلسلے میں پاکستانی سیاست دانوں میں پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے جانفشانی سے کام کرنے والوں کو بھی چاہئے کہ وہ قومی پریس میں بھارت کی پاکستان دشمنی کو واضح کریں ۔
ایک اور اہم بات کی جانب میں آپ کی توجہ چاہوں گا مہمند بھاشا ڈیم پر ماضی میں جب بھی کوشش ہوئی بھارت نے واویلا کیا اور ماضی کی حکومتوں نے چپ سادھ لی اور اسے مو خر کر دیا۔ سلام عمران خان کو جس نے اس منصوبے پر تیزی سے عمل درآمد کرایا ہے اور انشاءاللہ4500میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والے اس منصوبے کی تکمیل آئندہ چند سالوں میں ہو جائے گی۔میں قوم سے اپیل کروں گا کہ وہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی اس ملک دشمنی کو ذہن میں رکھےں کہ ہماری رگوں میں دوڑتے خون کو کس طرح دبایا گیا ۔آج چودھری رحمت علی بڑے یاد آئے جنہوں نے دریاﺅں کے سوتوں کو لینے کی بات کی تھی پورے کشمیر کوپاکستان کا حصہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا ۔ایک پاکستان ہے ہزار دکھ لیکن ایک بات حوصلہ دیتی ہے کہ پاکستان کی نئی نسل بھارت کی ریشہ دوانیوں کو سمجھ چکی ہے۔احتیاط صرف کرونا سے نہیں چانکیہ کی سیاست کرنے والے بھارت سے بھی کرنی ہے۔میرا اللہ پاکستان کو سلامت رکھے ۔آپ کو خوش رکھے۔ عید مبارک ہو لیکن احتیاط کا دامن نہ چھوڑیں۔
(مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات تحریک انصاف ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved