تازہ تر ین

بھکاریوں کے مختلف روپ

خدا یار خان چنڑ
وقت کے ساتھ ساتھ جس طرح ہرطبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ترقی کی ہے اسی طرح بھکاریوں نے بھی ترقی کی ہے ۔ بھکاریوں میں بھی دوطرح کے طبقے پائے جاتے ہیں ایک بھکاری تووہ ہیں جومستقل طورپرنسل درنسل کسی علاقہ کے رہائشی ہوتے ہیںاوران کواس علاقہ کے لوگ اچھی طرح سے جانتے ہیںکیونکہ ان کے باپ دادابھی اسی علاقہ میں بھیک مانگتے تھے اور ان کے کردارکابھی سب کوپتہ ہوتاہے اورعلاقہ کے لوگ بھی جب فصل اترتی ہے توان کاباقاعدہ حصہ نکالاجاتاہے۔ یہ لوگ ہردروازہ پرجاکرگداگری کرکے اپنے بچوں کاپیٹ پالتے ہیں۔ ان مستقل رہائش پزیربھکاریوں میں چوری یاکوئی بھی کرائم کاعنصرنہیں پایاجاتابلکہ ان کے اوپرکوئی الزام لگ بھی جائے توعلاقہ کے لوگ ان کی گواہی دیتے ہیں یہ لوگ غلط نہیں ہےں۔ اسی طرح ہرشخص ان کاخیال رکھتاہے کہ یہ ہمارے علاقے کے فقیرہیں اوریہ گداگرروزانہ کی بنیادپربھی بھیک نہیں مانگتے جب علاقہ میں کوئی شادی یاخوشی ہویاپھرجب زمینداروں کی فصلیں اترتی ہیں تب جاکرگداگری کرکے اپناپورے سال کاراشن اکٹھاکرلیتے ہیں لوگ بھی ان کاخیال رکھتے ہیں کہ یہ نسل درنسل چلے آرہے ہوتے ہیں علاقہ کاہرشخص ان کوذاتی طورپرجانتا ہے ۔یہ بھکاری بڑے نیازمنداوردعاگوگداگرہوتے ہیں ان کے مانگنے کاطریقہ اندازبھی کمال ہوتاہے یہ صبح تمہیدکے وقت نکلتے ہیں مختلف گلی کوچوں میں صدالگاتے جاتے ہیں دعادیتے جاتے ہیں چلتے چلتے جس جگہ پرسورج طلوع ہوجائے پھرواپسی انہیں گلیوں میں آجاتے ہیں جہاں سے وہ پہلے گزرگئے تھے۔ پھریہ ہردروازہ پرجاکرصدالگاتے ہیں لوگ بڑی عزت کے ساتھ ان کوخیرات دیتے ہیں لوگوں کوپتہ ہوتاہے کہ یہ وہی فقیرہے جوصبح صبح اذان کے وقت دعائیں دے کرچلاگیاتھا۔
ان بھکاریوںکادوسراطبقہ وہ ہے جس کی مستقل کہیں رہائش نہیں ہوتی یہ خانہ بدوش لوگ ہوتے ہیں انہوں نے پوراپاکستان گھومناہوتاہے اب یہ خانہ بدوش پہلے والے خانہ بدوش نہیں رہے اب ان کے اندربھی تبدیلی آگئی ہے پہلے والے خانہ بدوش جرائم نہیں کرتے تھے اب ان خانہ بدوشوں کی تعدادپاکستان میں بہت زیادہ ہوگئی ہے لاکھوں میں چلی گئی ہے اب انہوں نے بھی بڑی ترقی کرلی ہے پہلے یہ لوگ ساراسفرایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کے لیے گدھاگاڑیوں پرکرتے تھے اب ان کی جگہ ہرخانہ بدوش کے پاس موٹرسائیکل رکشے آگئے ہیں اب ہرخانہ بدوش کے پاس اپناذاتی موٹرسائیکل ہے ان تمام مرد،عورتوں اوربچوں کے پاس قیمتی موبائل ہے پہلے یہ چھوٹی چھوٹی جگہوں میں رہتے تھے اب یہ پوراخیمہ لگاتے ہیں اورہرخیمہ میں کولرپنکھاچل رہا ہوتاہے ہرجھگی والے نے سولرپلیٹوں کاانتظام کیاہواہے بڑی ٹھاٹھ کی زندگی گزاررہے ہوتے ہیں ظاہری طورپرتوان لوگوں نے بھکاریوں کاروپ دھاراہواہے ۔پورے پاکستان میں اسلحہ سپلائی یہی خانہ بدوش کرتے ہیں پورے پاکستان کے اندران کااتنا نیٹ ورک مضبوط ہے بڑے لیول کی منشیات کی سپلائی بھی خانہ بدوش کرتے ہیں ان کی عورتیں آئے دن گھروں میں وارداتیں کرلیتی ہیں بھیگ مانگنے کے بہانے گھرکوئی عورت اکیلی بیٹھی ہوتواس کوباندھ کریاکوئی نشہ آورچیزدے کرپوراگھرلوٹ لیتی ہیں باہران کے مردحضرات موٹرسائیکلوں پرگھوم رہے ہوتے ہیں واردات کے فوراً بعدان عورتوں کوکولے بھاگ جاتے ہیں ۔یہ اب جرائم کے لحاظ سے معافیا بن چکاہے ،یہ آپس میں شہرتبدیل کرتے رہتے ہیں ایک گروہ جوجگہ چھوڑکرچلاجاتاہے اسی جگہ پردوسراگروہ آکربیٹھ جاتاہے ان کی خواتین سارادن بھیک مانگتی ہیں اورواردات کےلئے ریکی کرتی ہیں اوران کے مردوارداتیں کرتے ہیں دس پندرہ دن میں اپناٹارگٹ پوراکرکے فوراً اگلے شہرمنتقل ہوجاتے ہیں مجھے ان کے بھکاریوں کے ٹھیکیدارنے یہ ساری باتیں بتائیں کہ بھکاریوں کے مختلف روپ ہوتے ہیںاس نے کہاکہ ہماری عورتیں ایک بازارمیں ایک دن میں تین بارچکرلگاتی ہیں پہلی بارکالے برقعہ میں جاتی ہیں دوسری بار ٹوپی والابرقعہ یاکسی اورروپ میں تیسری بارکسی معذوری والے روپ میں اسی طرح مردحضرات بھی معذوربن کرجاتے ہیں مگرہوتے نہیں،اس نے مزیدانکشاف کیاکہ ہم بچوں کومعذورخودبناتے ہیں کسی بچے کی ٹانگ کومعذورکردیاکسی بچے کابازو معذورکردیااس نے کہاکہ پاکستان میں جتنے بھی چھوٹے سروالے دولت شاہ کے چوہے بازاروں میںمانگ رہے ہوتے ہیں یہ مادرذات نہیں ہوتے ان کے سروں کے اوپرلوہے کی کوئی چیزچڑھاکرچھوٹے چھوٹے بچوں کے سروں کوچھوٹاکیاجاتاہے ان بچوں کوٹھیکیداروں کودے کرپوراسال بھیک منگوائی جاتی ہے۔
حکومت پاکستان کوچاہیے کہ پورے پاکستان کے جوخانہ بدوش ہیں ان کورجسٹرڈ کیاجائے ان کے شناختی کارڈ بنائے جائیں اوران کومستقل طورپرکچی آبادیوں میں رہائش پذیرکیاجائے ان کے بچے جولاکھوں کی تعدادمیں پھررہے ہیں ان کوفوراً سکولوں میں داخل کروایاجائے یاکوئی سرکاری طورپرہنرسکھایاجائے تاکہ ان کاضمیرجگاکربھکاری بننے سے بچایاجائے ورنہ یہ بچے ماں باپ کودیکھ کرنسل درنسل بھکاری بنتے آئیں گے اگران کی طرف حکومت پاکستان نے توجہ نہ کی توایک دن ان کوکنٹرول کرنابہت مشکل ہوجائے گاان بھکاریوں کی نئی نسل بہت خطرناک ثابت ہوگی یہ نسل بھیک مانگ کرنہیں دن دہاڑے بازاروں میں سرعام چھین کرروٹی روزی کھائیں گے اگران کی نسل کوتعلیم یاہنردلواکرمہذب شہری نہ بنایاگیاتویہ آنے والے وقت میں نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔
(کالم نگارسیاسی وسماجی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved