تازہ تر ین

خوف کے سمندر میں ، ریت کے جزیرے پر!

علی سخن ور
جب سے عمان کی شاہزادی محترمہ ڈاکٹر مونا الفہد کی بھارت کے بارے میں کی جانے والی ایک ٹویٹ کو بھارتی Netizensنے متنازعہ بنایا ہمارا تو ٹویٹر سے اعتبار ہی اٹھ گیا۔Netizens دراصل ان شہریوں کو کہتے ہیں جو کثرت سے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ جو کسی ایک خاص نکتہ نظر کو پروموٹ کرتے ہوں Netizens کہلاتے ہیں۔ شہزادی محترمہ نے کسی ٹویٹ میں یہ کہہ دیا کہ بھارت میں اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ جو ظلم ہورہا ہے، بھارت کو اس پر شرمسار ہونا چاہیے۔ڈاکٹر مونا کی بڑائی صرف یہ نہیں کہ وہ شاہی خاندان کی فرد ہیں۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون ہونے کے سبب وہ آج کل سلطان قابوس یونیورسٹی عمان میں اسسٹنٹ وائس چانسلر کے عہدے پر فائز ہیں۔ عمان کی نئی نوجوان نسل میں اس لیے بے پناہ مقبول ہیں کہ وہ اس نسل کو جدید ترین تعلیم سے آراستہ کرنے کےلئے ہر لمحہ مصروف عمل رہتی ہیں۔انتہائی راسخ العقیدہ مسلمان ہونے کے ناطے دنیا بھر میں مسلمانوں کے ساتھ ہونےوالی کسی بھی زیادتی پر علم احتجاج بلند کرنا بھی ان کے معمول کا حصہ ہے۔ اپنی ٹویٹ کے ذریعے بھارت میں مسلمانوں پر کیے جانے والے ظلم کا ذکر کرتے ہوئے یقینا ان کے ذہن میں مقبوضہ کشمیر کے مجبور مسلمانوں کا حوالہ بھی موجود ہوگا۔ہندو انتہا پسندوں نے ان کے اس بیان پر ایسا شور مچایا کہ سب کچھ ملیامیٹ کردیا۔ شہزادی محترمہ کے کردار تک پہ رکیک حملے شروع کر دیے ۔ اس سارے معاملے کا اختتام یوں ہوا کہ یہاں تک الزام لگادیا گیا کہ مذکورہ ٹویٹر اکاﺅنٹ شہزادی صاحبہ کا ہے بھی تو کس پاکستانی انٹیلی ایجنسی نے یہ اکاﺅنٹ ہیک کر کے شہزادی صاحبہ کی طرف سے بھارت کے خلاف ٹویٹ کردی۔ممکن ہے کہ اس عرب شہزادی کی ٹویٹ پر یہ طوفان بدتمیزی کچھ عرصہ قبل بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ نوجوان برہان وانی کی شہادت پر عرب دنیا کے انتہائی سخت ردعمل کا جواب ہو۔اب دیکھنا یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گردی کا نشانہ بننے والے حریت پسند نوجوان ریاض نیکو کی شہادت پر شہزادی مونا الفہد یا عرب دنیا کے دیگر صاحبان اختیار کا کیا ردعمل سامنے آئے گا۔
پاکستانی انٹیلی جنس اداروں کو ہر معاملے میں مورد الزام ٹھہرانا کوئی نئی روش نہیں۔ خود پاکستان کے اندر بھی چند عناصر ایسے ہیں جو ان اداروں کی طرف ہر معاملے میں انگلی اٹھانے کو اپنے فرائض میں شمار کرتے ہیں۔ابھی دو چار روز پہلے، ایک خاتون کی کسی سکیورٹی ناکے پر زور آوری کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر بہت وائیرل ہوا۔ خاتون نے غیض و غضب کی حالت میں دعویٰ کیا کہ وہ کسی فوجی افسر کی بیوی ہے۔ یہ ویڈیو وائرل ہوتے ہی ہماری قوم سوشل میڈیا پرقوم دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔کچھ مہربانوں نے حسب مزاج ایک انفرادی اورشخصی واقعے پر پورے نظام پر لعن طعن کرنا شروع کردی جبکہ اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جو صرف اس خاتون کو ساری خرابی کا ذمے دار قرار دے رہے تھے۔تاہم تحقیقات جاری ہیں، بہت سے سوالوں کے جواب، شاید عوام کے سامنے آ بھی جائیںیا آ گئے ہوں۔ ایک اور اہم بات یہ کہ اس واقعے کے فوری بعد ایک اور ویڈیو بھی سامنے آگئی جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ مذکورہ خاتون کے شوہر کی ہے اور شاید دو برس پہلے کی ہے جس میں وہ صاحب کسی ٹریفک پولیس والے سے جھگڑا کرنے میں مصروف تھے۔اس سارے واقعے کا کوئی نہ کوئی پس منظر بھی ضرور ہوگا۔ ہم درمیان میں سے کہانی سن کر ولن کو ہیرو اور ہیرو کو ولن سمجھیں گے تو یہ ہماری غلطی ہوگی۔ آدھا دیکھا ہوامنظر قاتل کو مظلوم اور مقتول کو گناہ گار ثابت کردیتا ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ کسی ایک فرد یا گروہ کی انفرادی کوتاہی پر سارے ادارے کو بدنام کرنا کسی طور بھی انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہوسکتا۔ڈاکٹر ہوں ، وکیل ہوں، صحافی ہوں ، پولیس والے یا پھر اساتذہ، سب کے سب نہ تو برے ہوتے ہیں نہ ہی اچھے۔ ہوتا صرف یہ ہے کہ کسی بھی شعبہ زندگی میں اچھے لوگوں کی اکثریت یا پھر برے لوگوں کی بہتات، اس شعبے کے بارے میں ایک عمومی رائے قائم کرنے کا سبب بنتی ہے، یہ الگ بات کہ بعض دفعہ اکثریتی رائے حق پر مبنی نہیں ہوتی۔
میں ذاتی طور پر ایسے بہت سے وکیل صاحبان کو جانتا ہوں جو کسی بھی لالچ اور مالی منفعت کے بغیر، کمزوروں لاوارثوں کے لیے اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے انہیں نا انصافیوں کا شکار ہونے سے بچاتے ہیں، ایسے بہت سے ڈاکٹر بھی ہیں جو غریب مریض کےلئے لاکھوں روپے کی سرجری تک مفت کردیتے ہیں، ایسے بے شمار صحافی بھی ہیں جن کے پاس روزانہ کی دال روٹی کے وسائل بھی نہیں لیکن ان کے اثاثوں میں ستاروں جیسے جگ مگ کرتے بے شمار لفظ ہیں جنہوں نے اپنی سچائی کا کبھی سودا نہیں کیا، اور یقین کریں ایسے لاتعداد پولیس والے بھی ہیں جن کی شناخت ہی یہی ہوتی ہے کہ وہ کچھ بھی ہوجائے مظلوم کا ساتھ نہیں چھوڑتے۔ اساتذہ کرام کی بھی ایک بڑی تعداد ہے جو اپنے طلباءکو کتابیں بھی فراہم کرتے ہیں، یونیفارم بھی دیتے ہیں، ان کی فیسیں بھی ادا کرتے ہیں اور اگر انہیں اضافی وقت بھی دینا پڑے تو ہچکچاتے نہیں۔یقینا اس کے بالکل برعکس مثالیں بھی موجود ہوں گی لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اکثریت کیسی ہے۔کرونا کی حالیہ وباءکو ہی دیکھیں، بہت سے ڈاکٹر، کئی پولیس والے اور پیرامیڈکس سٹاف کے بہت سے لوگ دوسروں کی خدمت کرتے ہوئے قوم پر قربان ہوئے ۔فوجیوں کو دیکھیں تو محض دس بارہ دن میں ہمارے دس سے زائد افسر اور جوانوں نے زندگی جیسی سب سے قیمتی چیز قوم کو نذرانہ کردی، ہمارے چند سیاستدان بھی امدادی سامان کی تقسیم کے دوران اس وباءکا نشانہ بن گئے۔چٹکی بھر بے ضمیر لوگوں کی بد دیانتی کی بنیاد پر ان تمام شہیدوں کا خون کیسے رائیگاں قرار دیا جاسکتا ہے۔ہماری قوم کو مختلف قومی اداروں کے مقابل دشمنوں کی طرح صف بند دیکھنے کے خواہشمند اصل میں چاہتے یہ ہیں کہ ہم ان معاملات میں بھی انتشار اور افتراق کا شکار ہوجائیں جن معاملات میں ہماری قومی یکجہتی دشمنوں کےلئے ایک کڑکتی ہوئی تلوار کی مانند ہے۔ ہمارے بدخواہوں کی خواہش یہی ہے کہ ہم آپس میں لڑتے رہیں، ایک دوسرے کے خلاف بد اعتمادیوں کا شکار ہوتے رہیں، ہماری ہر گلی ہر کوچہ ایک خوفناک سول وار کا منظر پیش کرے اور ہماری ہر طرح کی ترقی کا پہیہ جام ہوجائے۔ہم متحد رہے تو جان لیجیے، دشمنوں کے خواب سمندر کنارے ریت کے محل ثابت ہوں گے۔
(کالم نگار اردو اور انگریزی اخبارات میں
قومی اور بین الاقوامی امور پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved