تازہ تر ین

طیارہ حادثہ،سخت فیصلوں کی ضرورت

نصیر ڈاھا
کراچی میں عید سے ایک روز قبل ہونے والے طیارہ حادثہ کے شہداءکےلئے دعاہے کہ اللہ پاک ان کو جوارِ رحمت میںجگہ عطا فرمائے اور جو چند مسافر زخمی ہیں انہیں جلد صحت یابی عطا فرمائے۔ یہ حادثہ بلاشبہ ایک ایسے وقت پیش آیا جب لوگ عید کی تیاریوں میں مصروف تھے ۔ مسافر اور تباہ ہونے والے گھروں کے مکینوں کو معلوم نہیں تھا کہ عید کا یہ چاند ان کےلئے کس قسم کے افسوس ناک حالات کا پیغام لانے والا ہے۔ یہ ایک افسوس ناک واقعہ ہے لیکن اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ایسے واقعات سے ہم کبھی سبق نہیں سیکھتے۔ کسی بھی واقعہ کو ” اللہ کی مرضی“ کہہ کر خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں یہاں تک کہ ایک اور سانحہ رونما ہوکر ہمیں جھنجھوڑنے کی کوشش کرتا ہے ۔ ماہرین کاکہناہے کہ کراچی طیارہ حادثہ کے وقت طیارہ کی بلندی اور رفتارائیرپورٹ پر اترنے سے پہلے بہت زیادہ تھی اور پائلٹ کو اس بابت آگاہ بھی کیا گیا لیکن اس کا جواب تھا کہ میں اس کو کم کرلوں گا۔ بقول عینی شاہدین پہلی لینڈنگ کے وقت طیارے کے ٹائر نہیں کھلے، وہ رن وے سے ٹکرایا اور اس نے دائیں بائیں ہچکولے کھائے ، دونوں انجن زمین کے ساتھ رگڑکھانے کے بعد ان میں سے چنگاریاں نکلیں۔ فیول ٹینک میں اسی باعث خرابی پیداہوئی اور دونوں انجن بند ہوگئے جس کے بعد طیارہ دوسری کوشش کے دوران مکانوں پر گرکرتباہ ہوگیا۔ تحقیقات کے دوران یقیناً دو چیزوں کو ہی مدنظر رکھاجائے گا فنی خرابی اور انسانی کوتاہی۔ سی ای او پی آئی اے کہتے ہیں کہ طیارہ ٹھیک تھا۔ شاید ان کی بات کسی حد تک درست بھی ہو لیکن فنی خرابی خارج ازامکان بھی نہیں۔ تاہم دنیا بھر میں طیاروں کی دیکھ بھال نہایت اعلیٰ سطح پر کی جاتی ہے جس سے فنی خرابی کا امکان صفر سے بھی کم رہ جاتاہے ۔ موسم یا کسی بیرونی عنصر کی دخل اندازی سے ہی طیارے کی تباہی کا کوئی سبب پیدا ہوسکتاہے۔
کراچی طیارہ حادثے کے بعد بھی صاحبانِ اقتدار کی جانب سے اس نوعیت کے اعلانات کیے گئے جو ہمیشہ ماضی میں کیے جاتے رہے ہیں کہ اگر ہماری غلطی یا کوتاہی ثابت ہوئی تو ہم استعفیٰ دے دینگے لیکن پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں اس نوعیت کے حادثات کی ذمہ داری کبھی کسی پر عائد نہیں ہوئی۔ سینکڑوں جانوں کی بیک وقت موت کے باوجود کبھی معلوم نہیں ہوسکا کہ واقعہ یا سانحہ کس کی لاپرواہی یا نااہلی کی وجہ سے وقوع پذیر ہوا۔12اگست 1985ءکو جاپان کا طیارہ تباہ ہوا جس میں عملے سمیت 524افراد جاں بحق ہوئے۔ حادثے کے فوری بعد جاپانی ائیرلائن کے صدر نے استعفیٰ دے دیا،دو ٹیکنیکل انجینئروں نے جنہوںنے جہاز کی کلیئرنس دی تھی ، خودکشی کرلی جس کے بعد وہاں کبھی ایسا حادثہ پیش نہیں آیا۔گویا ان افراد نے خود ہی سے یہ تسلیم کرلیا کہ ان کی غلطی کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا لیکن ہمارے ہاں اس کی روایت بالکل بھی نہیں ہے۔ سارا ملبہ دوسروں پر ڈال دیا جاتاہے۔ اعلیٰ سے اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے لوگ یہاں تک کہتے سنے گئے ہیں کہ جہاز ہم تو نہیں چلا رہے تھے ، ٹرین ڈرائیور ہم تو نہیں تھے۔ حالانکہ جو جس قدر بڑے عہدے پر ہوتاہے ، اپنی ذمہ داری کے حساب سے وہ اسی قدر حصے دار بھی ہوتاہے۔ اگر یہی وجہ نہ ہو تو دنیا کے مہذب ممالک میں واقعہ کے فوری بعد استعفیٰ دینے کی کبھی نوبت ہی نہ آئے۔
کراچی طیارہ حادثہ کے ذمہ داران کا بھی شاید کبھی پتانہ چل سکے لیکن ایک چیز کا ہم سب کو اچھی طرح علم ہے کہ جب لوگوں کو ان کی اہلیت اور قابلیت کے برعکس عہدے اور ذمہ داریاں دے دی جائیں تو پھر نتائج بھی اسی کے مطابق مایوس کن نکلتے ہیں۔ اسلام آباد میں ائیربلیو حادثہ ، چترال سے آنے والے جہاز کاحادثہ اور دیگر حادثوں کی جو تحقیقات ہوئیں وہ کبھی منظرعام پر نہیں آسکیں ۔ اس کی کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں طیارہ تباہ ہونے کے واقعات دنیا بھرسے زیادہ ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ متعلقہ اداروں میں خلاف میرٹ تقرریاں، پوسٹنگ اور ترقیاں شامل ہیں۔ کئی رپورٹیں جو سامنے آئی ہیں ان سے معلوم پڑتا ہے کہ ان اداروں میں ہر شعبے کے ملازمین کی الگ سے یونینز قائم ہیں جو اپنی مرضی کے فیصلے کروانے کے لیے ہرطرح کے حربے جائز سمجھتی ہیں جس کی وجہ سے کئی معاملات میں خرابی در آئی ہے۔ ماہرین یہاں تک بتارہے ہیں کہ دنیا کے برعکس پاکستان میں پائلٹس کو ڈمی جہازچلانے کی تربیت ہی نہیں دی جاتی۔ اس تربیت میں ایک کمرے میں سکرینیں اس طرح نصب کی جاتی ہیں کہ وہ بالکل جہاز دکھائی دے اور پائلٹ کو بھی یوں معلوم پڑتاہے جیسے وہ اصل جہاز چلارہاہے۔ جس پائلٹ کو جو جہاز چلاناہوتاہے، اسی طرح کی تربیت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہمیں یقینا اپنا سرپیٹ لینا چاہیے کہ ہم لوگوں کی جانوں سے جان بوجھ کر کھیل رہے ہیں۔
گو کہ ابھی یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ کراچی طیارہ حادثہ کی اصل ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ جو غیر ملکی ماہرین اس حادثے کے بعد وجوہات کی کھوج لگارہے ہیں وہ بھی چند روز میں اپنی رپورٹ دے دیں گے۔ اصل بات اپنی اپنی ذمہ داریوں کاتعین کرنا ہے۔ اگر ہر شخص ہی یہ کہنے لگے کہ میں تو دودھ کا دھلا ہوں تو پھر ہمیں خدانخواستہ ایک کے بعد ایک حادثہ کاانتظار کرناچاہیے۔ ایک زمانے میں پی آئی اے دنیا کی بہترین ائیرلائن تھی۔ اگر ہم اس ادارے کی ترقی میں مخلص ہیں تو ہمیں سخت قسم کے فیصلے کرنا ہونگے۔ یونین بازی پرپابندی، ان یونینز کی آڑمیں غیرقانونی فیصلوں کی روک تھام، خلاف میرٹ تقرریوں اورترقیوں کاخاتمہ، بوگس ملازمین کی چھانٹی، جعلی ڈگریوں پر بھرتی ہونے والے افراد کے خلاف کارروائی جیسے اقدامات اولین فرصت میں کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح ادارہ نہ صرف اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے کے قابل ہوگا بلکہ حکومت کی آمدن میں اضافے کاذریعہ بھی بنے گا ۔ حادثات کی روک تھام بھی ممکن ہوگی اور ہم دنیا کے سامنے اپنا ایک اچھا، نیک نام اور شاندار قومی ادارہ کی مثال پیش کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ جناب وزیراعظم! ایک سخت فیصلہ آپ کا منتظر ہے۔ اسی فیصلے کی کوکھ سے ہی ترقی و خوشحالی کی نئی راہ نکلے گی جو باقی سب کے لیے لائق تقلید ہوگی۔ ہم اس فیصلے کے شدت سے منتظر ہیں۔
(دبئی میں مقیم‘ سیاسی وسماجی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved