تازہ تر ین

احتیاط

ثوبیہ خان نیازی
تحریک انصاف میں وزیر اعظم عمران خان کے بعد جس شخص کو سب سے زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدارہیں۔ اگر یہ تنقید تعمیری ہوتی تو بجا تھا مگر یہ تنقید زیادہ تر ان کی سادگی، معصومیت، کم گوئی، پسماندہ علاقے سے تعلق ہونا اور کوئی بڑا سیاسی پس منظر نہ ہونے کی بنا پر تھی۔ ان کی شخصیت میں دھیما پن رعب اور دبدبے کا نہ ہونا بھی انہیں تنقید کا نشانہ بناتا ہے ۔ بھولے لوگ اللہ تعالی کی ذات کو پسند ہیں وہ انہیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا بڑے بڑے شاطر اپنے عقل وفہم پہ اترانے والے پیچھے رہ جاتے ہیں اور عام نظر آنے والا انسان آگے نکل جاتا ہے نوازا جاتا ہے۔ کہتے ہیں دوست وہ ہے جو مصیبت میں کام آئے۔ وہ وزیراعلی جو دھیمے انداز سے چل رہے تھے اور بڑی ثابت قدمی سے اپنے اوپر ہونے والے لفظوں کے واروں کی پرواہ کیے بغیر استقامت کا مظاہرہ کر رہے تھے، اچانک یہ ہوا کہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے والے وائرس کی بیماری میں بہت متحرک اور فعال ہوگئے، جس زندہ دلی اور بہادری سے انہوں نے مختلف مصیبت زدہ علاقوں کے دورے کیے، قرنطینہ مراکز میں مریضوں کو سہولتیں فراہم کرنے کی کوششیں کیں تمام کی تمام کاوشیں قابلِ تحسین اور حوصلہ افزا ہیں۔ اپنی ٹیم کو اپنے اپنے علاقے میں متحرک رہنے بے سہارا لوگوں کو مالی امداد اور راشن فراہم کرنے کی کاوشیں بھی سراہنے کے قابل ہیں۔ ملک پاکستان میں صرف بیماری سے لڑنا ہی بڑی بات نہیں ہے دم توڑتی معیشت کی بحالی اور اسے مستحکم رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ حکومت اور عوام کو دو دو محاذوں پر لڑنا پڑ رہا ہے۔ پنچاب میں وزیر اعلی کے احکامات کے مطابق درجہ بدرجہ لاک ڈاﺅن میں نرمی کا فیصلہ بھی اپنے اندر بہت حکمت عملی رکھتا ہے ۔غربت و افلاس سے ستائے لوگ آخر کب تک گھروں میں محصور رہ سکتے ہیں، بیماری سے لڑنے کے لیے بھی جیب میں پیسے چاہئیں ایک دیہاڑی دار بندے کے لیے زندگی جتنی مشکل سے گزرتی ہے اس کا کرب کوئی دوسرا محسوس نہیں کر سکتا۔ ہاں یہ دکھ مشکل کی گھڑی میں انفرادی اور اجتماعی طور پر بانٹا جا سکتا ہے، احساس پروگرام کے ذریعے مستحق گھرانوں کی امداد کا سلسلہ درد مندی کی اعلیٰ مثال ہے۔ وزیراعلیٰ سے گزارش ہے کہ مکمل چانج پڑتال کے بعد امداد لوگوں تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیں کیونکہ مختلف جگہوں میں یہ دیکھنے کو آیا ہے کہ کچھ بے ضمیر لوگ اچھے خاصے ہو کے بھی یہ امداد لے رہے ہیں صرف واقفیت اور جان پہچان کی بنا پر لوگ اپنا ایمان بیچ دیتے ہیں انسان نما یہ لوگ غریبوں کی زکوة تک ہڑپ کر جاتے ہیں مگر پیٹ کا دوزخ نہیں بھرتا۔
ملک پاکستان جن حالات سے گزر رہا تھا معیشت جن بنیادوں پر تباہی کے دھانے پر کھڑی تھی ان حالات میں اس وبا کے پھوٹ پڑنے سے جو حالات ابتر ہوئے ہیں یہ موجودہ حکومت کی بہترین حکمت عملی ہے کہ اس ساری صورتحال کو قابو میں رکھا ہے۔ تمام صوبوں میں سب نے دردمندی سے تعاون کیا ہے کہیں کہیں سیاست بھی سامنے آئی مگر کام نہیں آسکی ،بڑے سے بڑے دشمن بھی دکھ کی گھڑی میں اکھٹے ہو جاتے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان جب سے اقتدار میں آئے ہیں انہیں بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے خوشحال پاکستان کا خواب ابھی آنکھوں میں سجا ہوا ہے اور تعبیر کے کسی لمحے کے انتظار میں زندہ ہے ۔ اب وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اب اسی بیماری کے ساتھ اس سال جینا ہو گا۔ وفاقی حکومت ہو یا صوبائی حکومتیں یہ اس وقت تک کچھ نہیں کر سکتیں جب تک ہم عوام ساتھ نہیں دیں گے۔ حکومتوں کا کام بیان بازیاں کرنا ہے عوام کا کام عملی طور پر اپنی حفاظت کا بندوبست کرنا ہے ۔صحت سہولت کارڈ احساس پروگرام اور راشن کی فراہمی سب کچھ عوام کے لیے ہے مگر یہ تب ہی ہوگا جب ہم سب اپنی اپنی حفاظت کریں گے اپنی صحت کا خیال خود رکھیں گے ،بے جا گھروں سے نہیں نکلیں گے ۔ لاک ڈاﺅن میں نرمی ہوئی ہے مگر بیماری ابھی ختم نہیں ہوئی۔ بازاروں میں خواتین کا رش یہ بتاتا ہے انہیں کوئی پروا نہیں اور بعض جگہوں پر تو عورتوں کے ساتھ بچے بھی بازاروں میں گھوم پھر رہے ہیں۔ خدارا اپنی اور دوسروں کی حفاظت کیجئے ،اپنے اردگرد اپنوں کا خیال کریں، یہ سب کچھ تب تک دلچسپی کا سامان ہے جب تک آپ کی صحت اچھی ہے آپ ٹھیک ہیں ۔حکومتی کاوشیں اپنی جگہ قابل تحسین ہیں محدود بجٹ کے اندر رہتے ہوئے ان کے اقدامات حوصلہ افزا ہیں۔ وزیر اعلی پنجاب کو ان کی تمام تر کوششوں پر سلام پیش کرتے ہیں، بہت بڑے بڑے بیانات دینے سے وہ گریز کرتے رہیں اور انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں اور خاموشی سے اپنے فرائض انجام دیتے رہیں صلہ اور اجر اللہ کے پاس ہے۔ ایک پسماندہ علاقے سے آکے یہاں تک پہنچنا اللہ کا کرم خاص ہے۔
اس کے علاوہ میں ان تمام فاﺅنڈیشنز کو بھی سلام پیش کرتی ہوں جو دکھی انسانیت کی خدمت میں پیش پیش ہیں جو خالص اللہ کی رضا کے لیے اپنے اپنے دائرہ کار میں کارہائے نمایاں انجام دے رہے ہیں۔ اخوت فانڈیشن ڈاکٹر امجد ثاقب کی سربراہی میں کئی سالوں سے خدمت انسانیت میں سرگرداں ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے لیے درازی عمر کی دعا ہے۔ عدنان شاہد فاﺅنڈیشن کے زیر اثر بے سہارا اور مستحق لوگوں کی مالی امداد کی جاتی ہے۔ چیف ایڈیٹر خبریں اور منفرد اور بے مثال صحافی اور ادیب جناب ضیا شاہد نے اپنے بیٹے کے نام پر یہ ادارہ بنایا ہے جو جوانی میں اس دنیا سے چلا گیا تھا‘ اس کا نام زندہ ہے اس کی تعریف اس سے نہ ملنے والے بھی آج تک کرتے ہیں ۔ کیپٹن ضماد گریوال کارگل کے غازی ہیں اور ادبی حلقوں میں اپنی ایک خاص پہچان رکھتے ہیں، پورا ماہ رمضان انہوں نے سحری اور افطاری کا جو شاندار انتظام کیا اس سے سینکڑوں بے آسرا لوگوں نے اپنے سحر و افطار کا انتظام کیا ہے۔ میو ہسپتال قرنطینہ مرکز میں انہوں نے پورا رمضان لوگوں کے سحر و افطار کا انتظام کیا اللہ تعالی انہیں اور ان کے ساتھیوں کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
(کالم نگارشاعرہ وادیبہ‘ادبی امورپرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved