تازہ تر ین

ماں

سلمیٰ اعوان
چنبےلی کے پھولوں جےسی رنگت والی مےری اماں جن کے تےکھے خدوخال انہےں بہت دلکش بنائے ہوئے تھے، بےاہ کر جس کے لڑ لگےں وہ نہاےت اکھڑ مزاج شخص تھا۔ اُسکی موٹی موٹی باہر کو اُبلتی ہوئی آنکھوں مےں شاےد کبھی نرمی اور حلاوت گھُلی ہوئی نظر آئی ہو۔ سدا غصہ اور تناﺅ ہی موجےں مارتا رہتا۔ کنوار پنے مےں جب وہ ابھی اپنے مےکے گھر مےں قاری صاحب سے گلستان و بوستان پڑھ رہی ہوتےں، مےرے ابا اپنے گھر کی چھت کی منڈےر پر بےٹھے کبوتروں کے غول اُڑانے مےں مصروف ہوتے۔ جونہی گلی مےں سک سُرمے والے پا گامے کی آواز گونجتی، ابا منڈےر سے آدھا دھڑ گلی مےں لڑھکا دےتے اور آواز لگانا نہ بھولتے ۔
”پا گامےاں ! مےری ووہٹی نوں سک (دنداسہ) دےندا جائےں۔“
اور پا گاما زور سے ہنستے ہوئے کہتا۔
” پےسے توں دےوےں گا ےا تےرا پےو۔“
اور وہ سےنے پر زور سے اپنا ہاتھ مارتے ہوئے کہتا۔
”مےں دےواں گا ، مےں !“
ارد گرد کے گھروں مےںبسنے والےاں شرےکے کی چچےاں تائےاں ےہ مکالمے سنتےں، ہنستےں اور اماں تک سب کچھ پہنچا دےتےں۔ بےچاری اماں شرم سے سر نہ اُٹھا پاتےں۔
مزاج کے تند، ہنر سے عاری اور تعلےم سے بے بہرہ انسان کے ساتھ اماں نے کےسے گزارہ کےا مےرے مشاہدوں کی تلخ ےادےں ہمےشہ مےرے ذہن مےں ہلچل مچائے رکھتی ہےں ۔ بڑی صابر عورت تھےں ۔ قدرت نے جب ماں کا شرف بخشا اور بےٹا بےٹی سے نوازا۔ دونوں بچے گہری سانولی رنگت لے کر دنےا مےں آئے تھے۔ شرےکے کی کم وبےش سبھی عورتوں نے طنزاً کہا۔ ”ارے سارے خانوادے مےں اےسا کوئی نہےں۔ ےہ کالے مےراثی کس پر گئے ہےں۔“
تقسےم کے بعد لٹ لٹا کر پاکستان آئے تو اماں کے مےکے والوں نے اےک کمرہ جس کے ساتھ اےک چھوٹا سا باورچی خانہ تھا، اماں کو سر چھپانے کو دے دےا ۔ چھوٹے موٹے کام پر ابا کو بھی لگا دےا۔ اب لاکھ اماں، ابا کے حُلیے کو اچھا رکھنے پر زور دےتےں، وہاں وہی خستہ حال لنڈے کی پےنٹ اور بے ڈھنگی سی قمےض، کندھے پر چار خانی لےنن کا انگوچھا اور پاﺅں مےں پھٹا پرانا جوتا۔ پتہ نہےں انہےں ابا کو اچھے کپڑے پہنانے کا شوق تھا ےا وہ اپنے مےکے والوں سے شرمندہ رہتی تھےں۔ ان کے بھائی افسر آدمی تھے۔ کلےدی ملازمتوں پر بےٹھے تھے، محل نما گھر مےں رہتے تھے۔ اےسے مےں شاےد وہ نہےں چاہتی تھےں کہ ابا ان کے لیے شرمندگی اور خفت کا باعث بنے۔ وہ ابا کے کپڑوں کو سوڈے کے کھارے پانےوں مےں غوطے دے دے کر ان پر ڈنڈوں کی بارش کر کے صاف کرتےں، نےل لگاتےں اور جب وہ کپڑے ہاتھوں مےں پکڑ کر پہنانے کے لیے شوہر کے آگے کھڑی ہوتےں وہ انہےں ہاتھ مار کر جھٹک دےتا۔ اماں مسکےنی سے کہتےں: ”اے ہے لوگ کےا کہےں گے ان کا داماد کےسا فجا سودائی ہے۔“
بس اماں کی اتنی بات کہنے کی دےر ہوتی کہ ابا کی لال لال آنکھےں ےوں لگتا جےسے ابھی فرش پر گر پڑےں گی۔ ہونہہ کا ہنکارا ا ےسا طنزےہ اور زور دار ہوتا کہ بے چاری اماں سہم کر پےچھے ہٹ جاتےں۔ مےرا باپ کےسا آتش مزاج تھا۔ ہنڈےا مےں نمک تےز ہوجاتا وہ ہنڈےا اُٹھا کر زمےن پر مارتا۔ ذرا بات مزاج کے خلاف ہوئی اُس نے گھونسوں سے اماں کا منہ سُجا دےا۔ کہےں اماں سے جواب دےنے کی غلطی ہوگئی اُس نے روئی کی طرح دھنک کر رکھ دےا۔جب بھی اےسی صورت حال ہوئی اماں بہت ضبط سے اسے برداشت کرتےں اور ہونٹوں کو سی لےتےں۔ نہےں چاہتی تھےں کہ اس لڑائی جھگڑے کی بھنک اس کے مےکے والوں کے کانوں مےں پڑے۔ اپنے آپ کو کمرے مےں قےد کر لےتےں ۔ کمرے سے باہر نکلتےں تو ےوں ظاہر کرتےں جےسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
چالےس برس کی ازدواجی زندگی مےں اےک بار اےسا نہےں ہوا کہ ابا نے اماں کی ہتھےلی پر تنخواہ رکھی ہو۔ ہفتے کا خرچ ملتا اسی مےں وہ تھوڑی سی بچت کر لےتےں۔ کبھی کبھی ابا کے اچھے موڈ کا فائدہ اُٹھا کر اس سے کچھ پےسے بٹور لےتےں۔ عجےب بات تھی کہ اماں کی کنواری بہنےں جب ابا کے لیے ناپسندےدہ الفاظ استعمال کرتےں تو اماں بہت برا مناتےں۔ باقاعدہ ان کے مقابلے پر جی داری سے صف آرا ہوتےں۔ پر اماں کی پسپائی ہمےشہ راجہ پورس کے ہاتھےوں جےسی ہوتی کہ جو اپنی ہی فوجوں کو روندتے ہوئے بھاگ جاتے۔ تب اماں اپنے کمرے مےں آنسوﺅں کے کھارے پانیوں مےں غوطے کھاتے ہوئے گلستان، بوستان کی حکاےتےں ےاد کرتےں۔ مولانا غلام رسول کی ےوسف زلےخا پڑھتےں اور اپنی بہنوں کو جی بھر کر کوستےں جو پڑھ لکھ کر بہت تےز طرار بن گئی تھےں۔
عمر بھر وہ بہنوں کے مقابلے مےں نندوں سے زےادہ قرےب رہےں۔ وہ نندوں کے بچوں کے لیے بہت محبت کرنے والی ممانی تھےں۔ اپنا پےٹ کاٹ کر نندوں کو عےد شبراتےں بھےجتےں۔ ان کے بچوں کی شادےوں پر دھوم دھڑکے سے جاتےں۔ بڑی پرےت سے نانکی شک تےار کرتےں۔
ابا چھ سال بےمار رہے۔ اےک کرےلا دوسرے نےم چڑھا والی بات ہو گئی تھی۔ اماں ان کا کمرہ صاف کرتےں، اُلٹےوں اور بخار کے پسےنے سے تر کپڑے دھوتےں، جسم کو اسفنج سے صاف کرتےں، دھلے کپڑے پہناتےں، سوپ بنا کر پلاتےں اور سارا دن بھاگی بھاگی پھرتےں اور اس کے ساتھ ساتھ ابا کی گھرکےاں اور گالےاں بھی سُنتےں اور سہتےں۔
ابا کو فالج کا اٹےک ہوا ۔ ہسپتال مےں داخل ہوئے دس دن تک وہ مسلسل بے ہوش رہے۔ ڈاکٹروں نے غذا کے لیے نالی لگانی چاہی، اماں نہےں مانےں۔ اصرار ہوا تو بولےں۔ ”مےں غذا خود کھلاﺅں گی۔“ اور پھر پتہ نہےں کہ وہ کن کن جتنوں سے انہےں غذا کھلاتی رہےں۔ ڈاکٹر رےاض قدےر مرحوم ابا کے ہوش آنے پر حےران تھے۔ ان کی ےہ خدمت صرف ابا تک محدود نہےں تھی، وہ وارڈ کے ہر اس مرےض کے لیے دل وجان سے حاضر رہتےں جس کا کوئی تےمار دار نہ ہوتا۔ کسی کے کپڑے دھو رہی ہےں۔ کسی عورت کے بالوں مےں کنگھی کر رہی ہےں۔ اورجب ابا اپنے پاﺅں پر چل کر ہسپتال سے گھر آئے، پتہ نہےں اماں کتنے لوگوں کی دعائےں اپنے ساتھ لائی تھےں۔
کےسی محبت بھری تھےں کہ سارے بوجھ خود ہی اُٹھاتےں اور کبھی بےٹے بےٹی سے ےہ نہ چاہتےں کہ وہ کسی دن ہسپتال رہ جائےں اور وہ گھر جا کر آرام کر لےں۔ خدا گواہ ہے کہ ہمےں اےک ڈےڑھ گھنٹے سے زےادہ ہسپتال مےں رُکنے نہ دےتےں۔
”بس اب جاﺅ۔ بچے چھوٹے ہےں تم لوگوں کے مےں جو ہوں۔“
اماں جب ساس بنےں تو بہت اچھی ساس نہےں تھےں۔ شاےد انہےں اپنی اکلوتی بےٹی سے بہت پےار تھا۔ مگر گزرتے وقت مےں جب انہےں احساس ہوا تو سب کچھ بہو کے حوالے کر
کے خود اپنے شوہر کو لے کر اےک چھوٹے سے گھر مےں منتقل ہو گئےں۔ کسی نے کہا۔
”تم ابھی سے کنارہ کش ہو گئی ہو۔ اپنی گدی نہےں چھوڑتے۔“
تو بڑی طمانےت سے بولےں۔
”مےں نے بہتےرا راج کر لےا۔ اب جن کے کام ہےں وہ سنبھالےں۔“
بچےوں کو قرآن پاک پڑھانے سے انہےں عشق رہا۔ گھر مےں جونہی شام کے سائے ڈھلنے لگتے ”ماسی جی سلاماں علےکم“ کی صدائےں گونجنے لگتےں۔ انگنائی لڑکےوں سے بھر جاتی۔ ہر اےک کو سبق خود دےتےں۔ پتہ نہےں کتنے سےنکڑوں لڑکےوں لڑکوں کو پڑھاےا۔
ہم ماں بےٹی مےں بہت دوستانہ تھا۔ ہر بات اےک دوسرے سے کرتے۔ شادی کے اوائل مےں سسرال کی سختی کی باتےں مجھ سے سنتےں تو کہتےں۔
” گھبراتے نہےں صبر کرو، اﷲ اچھے دن لے آئےگا۔“
مجھے ہمےشہ دو ملال رہے ۔ پہلا ےہ کہ مےری خوبصورت ماں کو مےرے باپ کی بےماری نے ادھ موا کر دےا۔ کبھی کبھی جی چاہنے لگتا کاش! وہ اس بوجھ سے نجات حاصل کر لےں، مگر وہ تو ان خوش نصےب عورتوں مےں شامل ہونا چاہتی تھےں جو شوہروں کی زندگی مےں ہی وداع ہو جاتی ہےں۔
اور مےرے دوسرے ملال نے بھی مجھے ہمےشہ مضطرب رکھا۔ وقت اور حالات نے مجھے جس قدر عزت اور دولت دی اپنی بےٹی کا ےہ عروج وہ نہ دےکھ سکےں۔
پتہ بھی نہےں چلا کہ کب انہےں موت آگئی دوڑتے بھاگتے وہ چلی گئےں۔ ان کی چارپائی آنگن مےں پڑی تھی اور عورتوں کے غول اندر آ رہے تھے۔ مےں نے اےسے اےسے چہرے دےکھے جو مےں نے اس سے پہلے کبھی نہےں دےکھے تھے۔ ہر عورت جو دہلےز سے اندر آتی ، ضرور کہتی تھی۔
”بڑی اخلاق والی عورت تھی۔“
ہمارے محلے مےں ےو پی کی طرف کا اےک بہت معزز گھرانہ تھا۔ جن کا بےٹا ڈاکٹر تھا۔ نماز جنازہ مےں شرکت کے بعد جب وہ گھر گےا اُس نے اپنی ماں سے کہا۔
”آپ کو پتہ ہے آج کون فوت ہوا ہے؟ “
ماں نے حےرت سے اُسے دےکھا۔
”اس محلے کی بہت نےک اور با اخلاق عورت آج خدا کی مہمان ہوئی ہے۔“
وہ لوگ تعزےت کے لیے جب آئےں تو آنسوﺅں بھری آنکھوں سے ےہ واقعہ مجھے سُناےا۔
اپنے صدر علاقے کے بازار مےں مےں جب بھی خرےداری کے لیے نکلتی تو اےک مدت تک رےڑھےوں والوں اور دوکانداروں نے مجھ سے اس انداز مےں تعزےت کی ۔
آپ کی والدہ جےسی اخلاق اور محبت والی عورتےں بہت کم ہوں گی۔
اگر شوہر کی وفاداری اور خدمت پر جنت مل سکتی ہے تو ےقےناً مےری ماں جنت کی سب سے زےادہ حقدار ہے۔
(کالم نگار معروف سفرنگار اورناول نگار ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved