تازہ تر ین

واحد سچا اصول

عظیم نذیر
کرونا نے لوگوں کو بہت کچھ سکھا دیا۔ بھوک اور بیروزگاری کاٹنا سیکھی‘ حکومتی امداد لینے کیلئے کیسے کیسے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں عوام یہ بھی سیکھ گئے۔ ہر وقت گھر پر رہ کر بیویوں سے بچنا بھی سیکھ گئے لیکن ماسک پہننے‘ دستانے پہننے‘ ہاتھ دھونے اور سینی ٹائزر استعمال کرنے کا مطلب کیا ہے یہ نہ سیکھ سکے۔ جھوٹ سن سن کر جھوٹ کو سچ سمجھنا اور اس کے حق میں دلیلیں دینا بھی سیکھ گئے‘ لیکن معصوم عوام یہ نہ سمجھ سکے کہ احتیاطی تدابیر کی آڑ میں انہیں کیا سکھایا جا رہا ہے اور آنے والے وقت کیلئے کس طرح تیار کیا جا رہا ہے۔ ہر دور میں آنے والا حکمران منہ سے یہی کہتا ہے کہ اختلاف جمہوریت کا حسن ہے لیکن عمل الٹ کرتا ہے اورکوئی بھی اختلاف رائے پسند نہیں کرتا اور کسی بھی تنقید کرنے والے کو حکومت کا دشمن سمجھ لیا جاتا اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ طویل عرصے کیلئے سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔ جیل جا کر جو تو زبان بندی کا یقین دلا دے وہ باہر اور جو ڈٹا رہے وہ بلاوجہ ہی اندر۔ اس کے لیے کسی کیس یا ٹرائل کی ضرورت نہیں بس جو اندر ہے وہ اندر ہی رہے اور پھر جب وقت بدلتا ہے تو اندر والے باہر اور باہر والے اندر ہوتے ہیں، ایسا ہمارے ملک میں طویل عرصے سے ہو رہا ہے۔ عوام کو ان کے حقوق دلانے کیلئے دنیا کے بڑے بڑے لیڈر جیلیں کاٹتے رہے ہیں اور اب بھی کاٹ رہے ہیں۔ نیلسن منڈیلا نے سالہاسال جیل کاٹنے کے بعد عوام کو آزادی دلا دی۔ آن سان سوچی بھی طویل ترین قید کاٹنے کے بعد اقتدار میں آ گئیں‘ گاندھی جی تو اکثر ہی جیل میں نظر آتے۔ ان لیڈروں نے جیل کی صعوبتیں خود برداشت کیں‘ لیکن اپنے عوام کیلئے راحت کے دروازے کھولے‘ انہیں بولنے‘ لکھنے اور آزادانہ ہر جگہ جانے آنے کی آزادی دلائی‘ لیکن آمرانہ رویہ اور سوچ رکھنے والوں نے ان لیڈروں کی دائمی کامیابیوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور آج بھی دنیا بھر میں سیاسی مخالفین کو جیلوں میں بند رکھنے کا رواج عام ہے۔ آمرانہ رویہ رکھنے والے صرف ڈنگ ٹپاﺅ پالیسی اپناتے ہیں وہ اس بات پر بالکل دھیان نہیں دیتے کہ ان کے آمرانہ فیصلوں سے آئندہ نسلوں پر کیا اثر پڑے گا۔ آمرانہ ذہنیتیں ہمیشہ لیڈروں سے اس لیے خائف رہتی ہیں کیونکہ ان لیڈروں کی عوام کیلئے سوچ‘ عوام سے رابطے‘ عوام کی جانب سے ان لیڈروں کی پذیرائی آمرانہ ذہنیتوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی اور وہ انہیں اپنے لیے ایک مستقل خطرہ سمجھتے ہوئے عوام سے ان کا رابطہ کاٹ دیتی ہیں ۔ وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ان لیڈروں کا عوام سے دل کا رشتہ ہوتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔
دنیا بھر کی آمرانہ جمہوریتوں نے کرونا کے ایس او پیز کی آڑ میں عوام کو غلامی کا سبق پڑھا دیا ہے۔ حاکمانہ رویہ ہے کہ بس اندر رہو یہ آئندہ کیلئے بھی ہے کیونکہ پہلی بار میں کافی اچھا رزلٹ ملا ہے‘ ماسک لگانے کا مطلب ہے اپنا منہ بند رکھو‘ دستانوں کا مطلب ہے کہ ہم واردات کا نشان نہیں چھوڑتے۔ بار بار ہاتھ دھونے کا مطلب ہے مخالف کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ جاﺅ۔ سینی ٹائزر لگانے کا مطلب ہے ریکارڈ تلف کر دو۔ آنے والے وقت میں شاید ایسا ہی کچھ ہونے جا رہا ہے جس کی تیاری ہو رہی ہے۔ اپوزیشن کرنے والے کو کسی بھی کیس میں اٹھا لو‘ اس پر کیسوں کی خوب پبلسٹی کر کے اسے انتہائی انڈر پریشر کر دو اور اس کی زبان بند کر کے باہر نکال دو۔ کوئی نہیں پوچھتا کہ وہ بڑے بڑے کیس کدھر گئے‘ اتنی زیادہ بدنامی ہونے‘ جیلیں کاٹنے کے بعد وہ اگر چپ ہو جائیں تو سب کچھ جائز ہو جائے گا۔ گردن توڑ جمہوریتوں نے دنیا بھر میں ایسا ہی رویہ اپنا لیا ہے۔
پاکستان میں اندھا دھند کرپشن کے الزام پر لیڈرو ںکو اندھا دھند پکڑا گیا اور اپنی گارنٹیاں خود دے کر سب نے رہائی پا لی اور باہر آ کر سکون کی زندگی اپنا لی۔ اندر رہ گیا صرف حمزہ شہباز جس پر کیس تو نہیں بنا لیکن میڈیا ٹرائل مسلسل ہو رہا ہے۔ ایک سال سے جیل میں بند حمزہ شہباز نہ تو نیلسن منڈیلا ہے نہ آن سان سوچی‘ لیکن پاکستان میں بننے والے لیڈر شپ کے گیپ نے ان کیلئے گنجائش ضرور پیدا کر دی ہے کہ وہ مہنگائی کے پسے ہوئے عوام کے ساتھ کھڑے ہوں اور سارا میلہ لوٹ لیں۔ حکومت انہیں بڑا لیڈر بننے کا بھرپور موقع دے رہی ہے۔ واقفان حال کہتے ہیں کہ حمزہ شہباز میں پارٹی کو اکٹھا رکھنے اور سیاستدانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی بھرپور صلاحیت ہے۔ اگر حمزہ شہباز جیل سے باہر ہوں تو اس وقت بکھری نظر آنے والی پارٹی دوبارہ منظم ہو جائے۔ حمزہ شہباز کی اسی صلاحیت کو حکومت خطرے کی گھنٹی سمجھتی ہے‘ لیکن حکومت یہ نہیں سوچ رہی کہ کسی کو بغیر کسی کیس کے جیل میں رکھنا سراسر سیاسی انتقام ہے۔ ادھر جیل میں حمزہ شہباز کو ملنے والے فرصت کے لمحات ان کی سوچ کو مزید پختہ کریں گے۔ جیسا کہ سنا ہے وہ جیل میں بے شمار کتابیں بھی منگواتے ہیں۔ انہیں آنے والے وقت کے حوالے سے سیاسی پلاننگ کرنے کا بھی موقع مل رہا ہے۔ وہ یقینا جیل میں اپنے سیاسی پتے سیدھے کرنے کی منصوبہ سازی میںمصروف ہوں گے‘ لیکن اب مسئلہ ہے ان کے جیل سے باہر آنے کا کیونکہ پارٹی اور سیاست بچانے کے لیے ہاتھ پاﺅں مارنا ان کا بنیادی اور آئینی حق ہے اور یہی چیز انہیں بند کرنے والوں کو تنگ کرتی ہے ورنہ پنجاب میں ایسے سیاست دان بھی ہیں جو پچھلے پندرہ سال کے عرصے میں چند سیٹیں لے کر ہر حکومت میں گھس جاتے ہیں پھر چاہے کھاد میں ہیرا پھیری ہو یا چینی میں ان کے خلاف انکوائریاں بند ہو جاتی ہیں۔ نام بالکل سامنے آ جانے پر بھی کوئی مقدمہ درج نہیں ہوتا۔ حمزہ شہباز کوئی حکومتی عہدہ لینے کیلئے تیار نہیں ہو سکتا اس لیے اس کا اندر رہنا ہی بنتا ہے۔ یہ ہمارے جمہوری رویے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ یا تو حمزہ شہباز کا فوری ٹرائل شروع کرائے یا پھر انہیں رہا کرے کیونکہ 2020ءکی سیاست میں کسی سیاسی انتقام کا تاثر ملنا ہمارے جمہوری نظام کیلئے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ حمزہ شہباز کو رہا کر کے حکومت برداشت کی سیاست کو فروغ دے۔ دوسری صورت میں بلاوجہ جیل میں بند رہنے سے حمزہ شہباز کیلئے عوامی ہمدردیاں بڑھ سکتی ہیں اور نیلسن منڈیلا تو شاید نہ بن سکیں لیکن ان کا شمار ان بڑے لیڈروں میں ضرور ہونے لگے گا جنہوں نے سسٹم کیلئے قربانیاں دیں۔ وقت اور حالات بدلتے ہیں نہ سدا کوئی باہر رہتا ہے اور نہ سدا کوئی اندر‘ ہمارے ملک کی سیاست کا صرف یہی ایک سچا اصول ہے۔ اس اصول کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
(کالم نگارسینئر صحافی اورتجزیہ کار ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved