تازہ تر ین

ارکا ن اسمبلی،2ایس پی،2 ڈپٹی سیکر ٹری ،9ڈاکٹر کرونا کاشکا ر،سندھ ،کے پی کے کے ہسپتا لو ں میں جگہ ختم

 

لاہور،اسلام آباد،کراچی(نمائندگان خبریں) ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 2076 نئے کیسزاور مزید 36 اموات رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ 8 ہزار 687 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے ہیں، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی تازہ ترین اپ ڈیٹ کے مطابق ملک بھر میں کورونا وائرس کے ایکٹو کیسز کی تعداد 39 ہزار 736، تصدیق شدہ کیسز کی تعداد بھی61 ہزار 227 تک پہنچ گئی، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2076 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، 36 مزید اموات کے ساتھ مجموعی اموات 1260 ہو گئی ہیں۔ این سی او سی کے مطابق سندھ میں سب سے زیادہ 24 ہزار 206 کورونا وائرس کیسز رپورٹ ہوئے۔ پنجاب میں کورونا وائرس کیسز کی تعداد 22 ہزار 37 تک پہنچ گئی ہے۔خیبرپختونخوا میں کیسز کی تعداد 8 ہزار 483 اور اسلام آباد میں 2015 ہو گئی۔ بلوچستان میں 3616، گلگت بلتستان میں 651 کیسز رپورٹ ہوئے۔ آزاد کشمیر میں کورونا وائرس کیسز کی تعداد 219 ہو گئی۔ ملک بھر میں اب تک 20 ہزار 231 مریض مکمل طور پر صحت یاب ہو گئے۔ این سی او سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 36 اموات ہوئی ہیں۔ کورونا وائرس سے موت کے منہ میں جانے والے افراد کی تعداد 1260 تک پہنچ گئی جن میں سندھ میں 380، پنجاب میں 381، کے پی کے میں 425، گلگت بلتستان 9، آزاد جموں و کشمیر میں 5، اسلام آباد میں 19 اور بلوچستان میں 42 شامل ہیں۔ اب تک 5 لاکھ 80 ہزار 96 افراد کے کورونا وائرس کیلئے ٹیسٹ کئے گئے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 8 ہزار 687 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے۔ ملک کے 726 ہسپتالوں میں 4700 مریض زیر علاج ہیں۔ 457 کورونا متاثرین کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔سرکاری دفاتر کے سرکاری ملازمین بھی کورونا سے متاثر ہونے لگے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مزید 12 ملازمین کورونا کا شکار ہوگئے۔ ایڈمن،فنانس،ڈرائیورز،سکیورٹی ونگ ملازمین کے ٹیسٹ مثبت آئے۔متاثرہ ملازمین کو قرنطینہ سنٹر منتقل کردیا گیا۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے دفاتر کو ڈس انفیکٹ کرنے کیلئے سپرے بھی کیا گیا۔دوسری جانب محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب پلاننگ ونگ کے 2 ڈپٹی سیکرٹریز میں بھی وائرس کی تصدیق ہوگئی۔ ذرائع کے مطابق ایل ڈی اے کے 2 ملازمین بھی کورونا وائرس میں مبتلا ہوگئے۔ اسسٹنٹ لیگل ایڈوائزر اور سینئر کلرک کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا۔کورونا وائرس نے محکمہ بلدیات میں بھی پنجے گاڑھ لیے۔محکمہ فنانس پنجاب بورڈ کے افسر رضوان شاہد کا ٹیسٹ پازیٹو آگیا،گھر پر ہی خود کوقرنطینہ کرلیا۔ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کے مطابق پنجاب میں 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 919 نئے کیس، تعداد22037 ہو گئی۔ لاہور میں 580،ننکانہ 3، قصور 2، شیخوپورہ 10،جہلم 17گوجرانوالہ 38سیالکوٹ میں 23نئے کیس سامنے آئے۔ ناروال میں 10، گجرات12، حافظ آباد 7، منڈی 6، ملتان 13، خانیوال 4، وہاڑی 4، فیصل آباد 95، جھنگ 6 اور رحیم یار کان میں 13 نئے کیس سامنے آئے۔سرگودھا 7، میانوالی 5، خوشاب 19، بہاولنگر 3، بہاولپور5، لودھراں 27، ڈی جی خان 3، لیہ 1، ساہیوال اور اوکاڑہ تین تین، پاکپتن میں 5 نئے کیس سامنے آئے۔کورونا وائرس سے 19مزید اموات، کل تعداد381 ہو چکی ہیں۔ اب تک217726 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ کورونا وائرس کو شکست دینے والوں کی تعداد6326 ہو چکی ہے۔ لاہور جنرل ہسپتال کے ہڈی وارڈ کے بعد پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیوروسائنسز کا شعبہ نیوروریڈیالوجی بھی کورونا کے باعث بند کردیا گیا ۔نیوروریڈیالوجی شعبہ کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر عمیر رشید سمیت 5 ڈاکٹرز اور چار پیرامیڈکس کورونا وائرس کا شکار ہوگئے ،چند روز پہلے سب اسٹینڈرڈ حفاظتی اقدامات کے باعث نیوروسرجری یونٹ 2 کے 7 سات ڈاکٹرز میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔دوسری جانب ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے رہنماﺅں نے دھمکی دی ہے کہ آج تک اگر پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیوروسائنسز انتظامیہ کی طرف سے ہیلتھ پروفیشنلز کی حفاظت، قرنطینہ سہولیات کیلئے خاطرخواہ اقدامات نہ کئے گئے تو کل طے شدہ پریس کانفرنس میں سخت لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے جاں بحق ہو نے والے صدر کی کوویڈ19رپورٹ مثبت آگئی تفصیل کے مطا بق پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے صد سید ناصر ناصر حسین شاہ سانس کی شدید تکلیف کی وجہ سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال فیصل آباد میں زیر علاج تھے 2دن پہلے انتقال کر گئے تھے بعد از مرگ انکی کوویڈ19رپورٹ مثبت آگئی وہ ایک عرصہ سے جماعت اسلامی سے منسلک تھے ۔شہر قائد میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد بڑھنے لگی اور مزید 2 اراکین سندھ اسمبلی میں وائرس تصدیق ہوئی ہے۔ذرائع کے مطابق سندھ اسمبلی کے دو اراکین سعدیہ جاوید اور ساجد جوکھیو میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس پر انہوں نے خود کو گھر میں آئیسولیٹ کرلیا ہے۔سندھ میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے ارکان صوبائی اسمبلی کی تعداد 8 ہو گئی ہے جب کہ دیگر ارکان میں پیپلز پارٹی کے رکن ڈاکٹر سہراب سرکی اور لیاقت آسکانی بھی کورونا وائرس سے متاثر ہیں۔صوبائی وزیر مرتضی بلوچ کرونا کی وجہ سے مقامی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔صوبے میں اب تک 8 میں سے 3 ارکان سندھ اسمبلی کرونا وائرس سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔محکمہ صحت کی ٹیموں نے گزشتہ روز ڈی آئی جی آپریشنز آفس کے پولیس ملازمین کے کورونا سکریننگ ٹیسٹ کے نمونے لئے۔اسٹیبلشمینٹ برانچ، ریڈرز برانچ،سکیورٹی برانچ،پی آر او برانچ،پولیس خدمت مرکز،اکاو¿نٹس برانچ، ایچ آر ایم سمیت مختلف شعبوں کے افسران و ملازمین کے کورونا ٹیسٹ کئے گئے۔ڈی آئی جی اور ایس ایس پی آپریشنز سٹاف کی بھی کورونا سکریننگ عمل میں لائی گئی۔محکمہ صحت کی ٹیموں نے ڈی آئی جی آپریشنز آفس کے 100 سے زائد پولیس افسران و جوانوں کے سکریننگ ٹیسٹ کئے۔ڈی آئی جی آپریشنز رائے بابر سعید کا کہنا تھا کی کورونا سکریننگ ٹیسٹ کا مقصد ملازمین میں کورونا وائرس کی تشخیص اور احتیاطی اقدام ہے۔ کورونا سکریننگ ٹیسٹ سے قبل ڈی آئی جی آپریشنز دفتر میں ڈس انفکشین سپرے بھی کیا گیا۔مسلم لیگ ن کے ایک اور رکن پنجاب اسمبلی کورونا وائرس کا شکارہو گئے، وزیرآباد کے ایم پی اے شوکت منظور چیمہ کو مزید حالت بگڑنے پر وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا گیا۔لاک ڈاو¿ن میں نرمی کے بعد سندھ بھرمیں کوروناوائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث کراچی کے نجی و سرکاری اسپتالوں میں بستروں اور وینٹی لیٹر کی گنجائش ختم ہوگئی، ڈاکٹرعمرسلطان کا کہنا تھا کہ پہلے ہی کہاتھا لاک ڈاو¿ن میں نرمی نہ کریں۔تفصیلات کے مطابق عید کے بعد سندھ میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا، نجی اور سرکاری اسپتالوں میں کورونا کے وارڈز بھرگئے، بیشتر نجی وسرکاری اسپتالوں نے مزید کورونا مریض لینے سے انکار کردیا۔جناح، سول، انڈس اسپتال، ڈا و¿اوجھا کیمپس اسپتال اور دیگر اسپتالوں میں مریضوں کا رش ہیں ،جناح اسپتال میں ایچ ڈی یوکے انیس بستروں اور آئی سی یو کے سترہ بستروں پر مریض موجود ہیں، سول اسپتال میں مختص بارہ وینٹی لیٹرز پر بھی مریض موجود ہیں جبکہ انڈس اسپتال کے تمام 28 بستر اور 15 وینٹی لیٹرز، اوجھا اسپتال کے تمام 50 بیڈزاور 16 وینٹی لیٹرز، ضیا الدین اسپتال کے مخصوص51 بیڈز اور چھ وینٹی لیٹرز بھر گئے ہیں۔محکمہ صحت کے حکام کے مطابق مریضوں کی تعداد میں ایکدم اضافہ عید کی چھٹیوں کے بعد سامنے آیا ہے تاہم سندھ حکومت اسپتالوں میں بستروں اور وینٹی لیٹرزکی تعدادمیں اضافہ نہ کرسکی۔چیئرمین وائی ڈی اے سندھ ڈاکٹر محمد عمر سلطان نے کہا ہے کہ سرکاری و نجی اسپتالوں میں وینٹی لیٹر،بیڈ کی گنجائش ختم ہوچکی ہے جبکہ اسپتالوں میں کوروناکے مختص آئسولیشن وارڈمیں بھی جگہ ختم ہوچکی ہے۔ڈاکٹرعمرسلطان کا کہنا تھا کہ پہلے ہی کہاتھا لاک ڈاو¿ن میں نرمی نہ کریں، لاک ڈاو¿ن میں نرمی کے اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ، وینٹی لیٹراور آئسولیشن بیڈ فراہم کرنا ڈاکٹرزکی ذمہ داری نہیں ہے۔انھوں نے کہا ڈاکٹرز پر تشدد کرنے سے گریز کیا جائے، حکومت ڈاکٹرز کو تحفظ فراہم نہ کرسکی تو شٹ ڈاو¿ن کی طرف بھی جاسکتے ہیں۔خیال رہے سندھ میں کورونا وائرس کے مریضوں کی بڑھتی تعدادکےساتھ طبی سہولیات کی کمی، شہری اپنے پیاروں کے علاج کے لئے اسپتالوں کے چکر لگا رہے ہیں جبکہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق جگہ کی کمی کےباعث نجی، سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے ورثا اور عملے میں تلخ کلامی کے واقعات پرتشویش ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved