تازہ تر ین

”خبرےں“.. ہمارے بھی ہےں مہرباں کےسے کےسے (9)

میاںغفاراحمد
حسب معمول رپورٹنگ سیکشن کی صبح ساڑھے 10 بجے کی میٹنگ جاری تھی، ایک لڑکی نقاب اوڑھے رپورٹنگ سیکشن میں داخل ہوئی جسے دیکھتے ہی میں نے کہا کہ صبح صبح ہی دارالامان کا کیس آگیا ہے۔ لیڈی رپورٹر سے کہا کہ اس کی بات سنیں، خبر بنائیں۔ ابھی میں جملہ پورا نہیں کر پایا تھا کہ کورٹ رپورٹر مبشر حسن بول پڑا کہ آپ پہچان نہیں پائے یہ اپنی سلمیٰ ہے۔
سلمیٰ کا والد روزنامہ ”خبریں“ میں آرٹ ایڈیٹر تھا اور کسی زمانے میں اس کا شمار اچھے ٹرانسپورٹروں میں ہوتا تھا۔ وقت بدلا، کاروبار ختم ہوا تو اس نے آرٹ ایڈیٹر کی نوکری کرلی۔ سلمیٰ اس کی بیٹی تھی جس کی منگنی ہو چکی تھی اور چند ماہ بعد اس کی شادی تھی۔ اس کے والد نے جناب ضیاشاہد سے درخواست کی کہ میری بچی کو چند ماہ کیلئے نوکری دے دیں، چند پیسے جمع ہو جائیں گے تو اس کی شادی میں کام آئیں گے۔ سلمیٰ کو رپورٹنگ سیکشن میں بطور اسسٹنٹ بھجوا دیا گیا۔ پانچ، چھ ماہ بعد اس نے استعفیٰ دے دیا کیونکہ اس کا منگیتر دبئی سے آچکا تھا۔ شادی کی تیاریاں شروع تھیں۔ وہ اتنی معصوم اور نیک بچی تھی کہ اسے جاتے ہوئے تنخواہ کے علاوہ رپورٹنگ کے سارے سٹاف نے شادی کی ایڈوانس سلامی دے کر رخصت کیا تھا اور محض چار دن بعد ہی وہ رپورٹنگ سیکشن میں نقاب اوڑھے دھاڑیں مار مار کر روہی تھی۔ لیڈی رپورٹر نے اس کا نقاب ہٹایا تو اس کی ٹھوڑی، دونوں گال اور پیشانی یوں تھیں جیسے کسی نے جلا دی ہوں۔ اسے فوری طور پر روزنامہ ”خبریں“ کے پنج محل روڈ پر واقع سابق دفتر کے عقب میں سرگنگارام ہسپتال ڈاکٹر کی رائے حاصل کرنے کےلئے سٹاف رپورٹر افضال طالب کے ساتھ بھجوادیا گیا۔ گنگارام ہسپتال کی خاتون پروفیسر نے اس کا چہرہ دیکھتے ہی اپنی میز کا دراز کھولا اور ”پلاسٹوسین“ فیس کریم کی دس بارہ شیشیاں نکالتے ہوئے سلمیٰ سے کہا کہ تم نے یہ تو نہیں چہرے پر لگائی۔ سلمیٰ نے اثبات میں سر ہلایا تو ڈاکٹر نے بتایا کہ میرے پاس روزانہ اس کریم سے متاثرہ خواتین آرہی ہیں۔ کسی بدبخت نے یہ جعلی کریم بنائی ہے اور اس میں بال صفا پاﺅڈر اور نجانے کون کونسے کیمیکلز مکس کر رکھے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ نے مزید بتایا کہ جس جلد کے نیچے ہڈی ہو اور مسلز نہ ہوں تو یہ کریم شدید نقصان دیتی ہے لیکن فکر نہ کریں مہینے ڈیڑھ مہینے کے علاج میں یہ صحت یاب اور چھ ماہ میں چہرے پر سے داغ بھی ختم ہو جائیں گے۔ پروفیسر ڈاکٹر یہ کہتے ہوئے ”خبریں“ کے رپورٹر افضال طالب پر برس پڑیں کہ آپ اس کو ڈھونڈیں یہ کون ظالم ہے جو خواتین کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے۔
سلمیٰ کو گاڑی میں بٹھایا اور جہاں سے اس نے ”پلاسٹوسین“ کریم خریدی تھی اس جنرل سٹور کی طرف روانہ ہوئے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ ٹوکے والا چوک شادباغ لاہور میں ایک جنرل سٹور تھا جہاں سے کریم خریدی گئی اس کے پاس اس طرح کی بڑی تعداد میں کریمیں پڑی تھیں جن پر قیمت گیارہ ڈالر اور پاکستان روپوں میں چار سو25 روپے درج تھی مگر کریم بنانے والے کا کوئی ایڈریس درج نہ تھا۔ روایتی حربہ استعمال کیا تو دو منٹ میں اس دکاندار نے چار سو25روپے نکال کر میز پر رکھے اور ہمیں بتایا کہ موڑ سمن آباد لاہور سے گلشن راوی کی طرف جائیں تو دائیں ہاتھ پر ایک نیا پلازہ بنا ہوا ہے جس میں واب مارکیٹنگ نامی ایک ڈسٹری بیوشن کمپنی ہے وہی یہ کریمیں سپلائی کرتے ہےں۔ شاد باغ سے گاڑی دوڑائی اور واب مارکیٹنگ کے دفتر پہنچ گئے۔ سلمیٰ ہمارے ساتھ ہی تھی، واب مارکیٹنگ کے مالک جن کا نام مجھے پوری طرح یاد نہیں تاہم غالباً ان کا نام عبدالوہاب تھا وہی پورے ملک میں اس جعلی کریم کی ڈسٹری بیوشن کرتے تھے۔ ان سے پوچھا کہ آپ یہ جعلی کریم ملک بھر میں ڈسٹری بیوٹ کر رہے ہیں آپ کو ہم کچھ نہیں کہتے آپ ہمیں کریم بنانے والی فیکٹری کا نام اور ایڈریس بتا دیں، کافی دیر جھگڑا نما بحث جاری رہی تاہم وہ نام بتانے کو تیار نہ تھے وہاں دھکم پیل بھی ہوئی اس دوران ایک چھوٹے قد کا35، 40 سالہ شخص دوکلاشنکوف بردار گن مینوں کے ہمراہ واب مارکیٹنگ کے دفتر میں داخل ہوا اور انتہائی ڈھٹائی، سپاٹ چہرے سے سلمیٰ سے کہنے لگا ”پہلے مینو بلیک میل کیتا ہن خبریں والے نوں لے کے آگئی ایں“ (پہلے مجھے بلیک میل کرتی رہی ہو اب خبریں والوں کو لیکر آگئی ہو) اس کی ڈھٹائی اور سفید جھوٹ پر میں اس کا چہرہ ہی دیکھتا رہ گیا کہ میں نے اس سے پہلے اتنا جھوٹا، مکار اور بے رحم آدمی نہیں دیکھا تھا سامنے نوجوان لڑکی کا چہرہ جلا پڑا ہے اور وہ کس ڈھٹائی سے الزام تراشی کر رہا ہے۔ میں نے سوال کیا کہ جناب آپ اس لڑکی کو جانتے ہیں تو موصوف نے اپنا نام بتاتے ہوئے کہا کہ میں ملک کا فلاں مشہور حکیم تحسین ہوں اور یہ لڑکی میرے پاس 6ماہ تک زیر علاج رہی ہے، آج آپ کو لیکر آگئی ہے۔ موصوف کا تعلق گوجرانوالہ سے تھا اور موصوف کے لاہور، ملتان، فیصل آباد، راولپنڈی سمیت مختلف شہروں میں مطب تھے اور موصوف کا نام حکیم تحسین تھا جو اس دور میں اخبارات کو لاکھوں روپے کے اشتہارات دیا کرتا تھا۔ سفید جھوٹ اور ڈھٹائی کا منظر دیکھ کر میں بھی خود پر قابو نہ رکھ سکا اور عارف حسین نے اس پر تھپڑوں کی بارش کردی۔ گن مین کو بھی تھپڑ پڑ گیا اور انہیں دھکے دے کر باہر نکال دیا۔ جھگڑے کی وجہ سے یہاں سینکڑوں لوگ جمع ہوگئے۔ اللہ غریق رحمت کرے جھنگ کے رہنے والے انسپکٹر عاشق مارتھ اس وقت ایس ایچ او گلشن راوی تھے۔ انہیں فوری طور پر بلایا گیا، لڑائی جھگڑے میں عارف حسین کو بھی چوٹیں لگیں مگر عارف حسین نے ان میں سے کسی کو بھی میری طرف نہ آنے دیا۔ پولیس آئی، حکیم تحسین گرفتار ہوا تب تھانہ گلشن راوی کے بجائے اسے تھانہ سبزہ زار کی حوالات میں رکھا گیا۔ ایف آئی آر عارف حسین نے درج کرائی اور میں سلمیٰ کو لیکر دفتر آگیا۔ تمام صورتحال سے اپنے چیف ایڈیٹر جناب ضیاشاہد کو آگاہ کیا تو وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ اپنے پی اے کو پریس کی طرف دوڑایا جہاں حکیم تحسین کی ادویات کے اشتہار کا پورا صفحہ چھپ رہا تھا اور اخبار کی تقریباً 20ہزار کاپیاں چھپ بھی چکی تھیں۔ پریس روکا گیا، اشتہار منسوخ کردیا گیا، 20ہزار اخبار کی کاپیاں براہ راست ردی میں چلی گئیں اور مجھے حکم ہوا کہ خبر بناﺅ، میں خبر بنا کر رات گیارہ بجے کے قریب تھانہ سبزہ زار لاہور پہنچا کیونکہ حوالات میں کھڑے حکیم تحسین کی تصویر بنانا مقصود تھی وہ مسلسل منہ چھپا رہا تھا تاہم اسے پولیس کے کہنے پر چہرے سے ہاتھ ہٹانا پڑا اور ہم نے اس کی تصویر بنالی۔ اس کی ڈھٹائی کا یہ عالم تھا کہ اس نے حوالات میں کھڑے کھڑے مجھے کہا کہ باہر جو سلور کلر کی ان رجسٹرڈ کرولا کھڑی ہے وہ لے جاﺅ، مجھے حوالات سے جانے دو، میں اپنی شکل کا ملتا جلتا حکیم تحسین پیش کر دیتا ہوں، پولیس والوں سے بات ہوگئی ہے، آپ دونوں نے صرف اتنا کہنا ہے کہ آپ کی لڑائی مجھ سے نہیں بلکہ دوسرے حکیم تحسین سے ہوئی ہے، تب انکشاف ہوا کہ اس نے ٹھگنے قد کے داڑھی والے اپنے چہرے سے مشابہت رکھنے والے دو اور بندے ٹرینڈ کر رکھے ہیں جو ملتان اور راولپنڈی میں حکیم تحسین بنا کرتے تھے۔
سچ یہ ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں اتنا شاطر آدمی نہیں دیکھا تھا، وہ گرفتار ہوا اس کے خلاف خبریں چلیں، کئی دن اس کی بہت سی پروڈکٹس بے نقاب کی گئیں، جعلی کریم بنانے والی لاہور کے مختلف علاقوں میں اس کی تین فیکٹریاں بند کرائی گئیں۔ اس دوران موصوف نے شوگر کا علاج ”دریافت“ کرلیا تھا اور جب شوگر کا کیپسول کھولا گیا تو اس میں ”گلوکوفیج“ کی پسی ہوئی گولیاں، چورن، سونف کی پھکی، کلونجی پاﺅڈر اور اس قسم کی دوسری اشیاءتھیں۔ پھر حکیم تحسین کی جعلسازیوں کی تفصیل قسط دار چھپی اور وہ حکیم تحسین جو کہا کرتے تھے کہ میں ایک چھوٹا جہاز نہ لے لوں مختلف سٹیشنوں کے سفر کے دوران تھک جاتا ہوں پھر موصوف یہ بھی کہا کرتے تھے گوجرانوالہ اور لاہور کے درمیان ہیلی کاپٹر سروس ہونی چاہیے۔ الحمدللہ روزنامہ ”خبریں“ کی کوششوں سے حکیم تحسین کی جعلی کریموں اور جعلی ادویات کا بنانے کا سلسلہ مکمل طور پر بند ہوگیا اور وہ ایلوپیتھک گولیاں پیس کر بغیر کسی مقدار میں کیپسول میں بھر کر دینے کا سلسلہ بھی بند ہوگیا۔ جہاں حکیم تحسین کی شکل دیکھنے کیلئے لمبی لائنیں اس کے دواخانہ پر لگی ہوئی تھیں وہاں وہ وقت بھی آیا کہ حکیم تحسین کلینک کھول کر گاہکوں کا انتظار کیا کرتا تھا۔
اب چلتے ہیں سلمیٰ کی طرف، شادباغ کے کسی جاہل ڈاکٹر نے سلمیٰ کا چہرہ دیکھ کر اس کی روتی ہوئی والدہ سے کہا کہ آپ کہہ رہی ہیں کہ اس کی شادی ہونے والی ہے اس نے تو اپنے چہرے پر روئی کے ساتھ خود تیزاب لگایا ہے یہ شادی نہیں کرنا چاہتی ہوگی اور ایک نیا مسئلہ پیدا ہوگیا بمشکل اس کے منگیتر کے گھر والوں کو سمجھایا گیا، انہیں ہونے والی بہو کے ہمراہ سرگنگا رام کی اس سکن سپیشلسٹ پروفیسر ڈاکٹر کے پاس بھجوایا گیا جس نے ”پلاسٹوسین“ کی تباہ کاریوں سے ”خبریں“ کو آگاہ کیا تھا۔ الحمدللہ دو ہفتے تاخیر ہوئی، دن رات سلمیٰ کا علاج ہوا اور پھر 15دن بعدا سی سلمیٰ کی رخصتی ہوگئی جو 15روز قبل پیلا جوڑا پہن کر مایوں بیٹھ چکی تھی اور اس نے کمرے میں جا کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے اپنے چہرے کے بال صاف کرنے کی خاطر ”پلاسٹوسین“ کا لیپ کرلیا تھا۔ نجانے کتنے چہرے حکیم تحسین کی وجہ سے برباد ہوئے ہونگے تاہم اب حکیم تحسین کا انتقال ہو چکا ہے اور اس کا معاملہ گزشتہ تین چار سال سے اللہ کے سپرد ہے۔ اب ان کا کلینک ان کا بھانجا جس کا نام بھی شائید حکیم تحسین ہی ہے چلا رہا ہے تاہم اس نے حکمت کا کورس کر رکھا ہے وہ دواخانہ چلا رہا ہے مگر جعلی کریمیں بنانے کا سلسلہ رکے ہوئے 25سال ہو چکے ہیں اور ”پلاسٹوسین“ کا ”سین“ بھی اپنی موت آپ مر چکا ہے۔ (جاری ہے)
(کالم نگار سیاسی و سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved