تازہ تر ین

سات رنگ

ڈاکٹر نبیل چودھری
سب سے پہلے تو میری گزارش ہے کہ ہمیں ایک ڈاکٹر کےلئے او پازیٹو خون کے پلازمہ کی ضرورت ہے۔ ’ خبریں‘ کے قارئین میں سے کوئی مریض جس کا گروپ او پازیٹو ہو وہ رابطہ کرے۔ایک نوجوان ڈاکٹر جو کرونا کے مریضوں کےلئے لڑ رہی تھی اسے خود کرونا ہو گیا ہے ،اس کا دو سال کا ایک بچہ ہے ۔ گجرانوالہ میں کرونا نے اپنے پر پھیلا دیے ہیں آئے روز اموات ہو رہی ہیں ، وینٹی لیٹر پر موت سے لڑتی اس بہن کی مدد کےلئے سامنے آئیے ۔میں چاہوں گا کہ وزارت صحت کرونا کے نام پر ایک ویب سائٹ بنا دے وہاں ان مریضوں کی تفصیلات موجود ہونی چاہئیں جو کرونا سے جنگ جیت چکے ہیں ۔اللہ رب العزت انکل ارشد ملک کو جنت میں جگہ دے جب ہم سیکٹر ۲ کی گلی نمبر ۷ ایئر پورٹ سوسائٹی راولپنڈی میں رہتے تھے ،انکل مرحوم کا گھر ہمارے گھر کے سامنے تھا۔مرنجاں مرنج ارشد ملک کو بھی کرونا لے گیا۔ وہ چند سال پہلے بطور ڈی ایس پی ریٹائرڈ ہوئے تھے۔اللہ پاک ان کا گھر جنت میں کرے اور ان کی فیملی کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔ ہماری ڈاکٹرز کمیونٹی میں ڈاکٹر نعیم کا بڑا نام تھا گجرانوالہ کے یہ معروف ڈاکٹر بھی گزشتہ دنوں کرونا کا شکار ہو گئے۔میرا تعلق اس شہر سے ہے جہاں کے بندوں کی اکثریت اس سوچ کی حامل ہے کہ جو رات قبر میں ہے وہ باہر کیسے ہو سکتی ہے۔ان بھائیوں کو کون سمجھائے کہ بے احتیاطی کرو گے تو اللہ پاک وہ رات جلد بھی لا سکتے ہیں ۔کرونا سے لڑیں نہیں اس سے ڈریں۔ راولپنڈی کے دو ایم پی اے جن میں ایک وزیر بھی ہیں وہ کرونا کا شکار ہیں۔ملک کے کئی نامور افراد اس موذی مرض میں مبتلا ہیں، پارلیمانی سیکرٹری وجیہہ اکرم بھی اس لسٹ میں شامل ہیں۔کرونا کا کوئی علاج نہیں کرونا کا علاج احتیاط ہے۔جب تک اس کی ویکیسین نہیں آتی لوگ گھروں میں بند رہیں۔
یقین کیجئے اس موذی پر بار بار لکھوں تو پھر بھی میری خواہش پوری نہیں ہوتی۔ یہ واحد عید ہے کہ بچوں نے اپنے دادا، دادی اور دیگر فیملی سے دور رہ کر عید منائی ہے ۔میڈیکل کے شعبے سے وابستہ ہم لوگ جانتے ہیں کہ یہ وائرس کیا ہے اور اس کے نقصانات کیا ہیں وہ لوگ جو زندگی کی ساٹھ بہاریں دیکھ چکے ہیں اور جنہیں شوگر یا کوئی اور بیماری بھی ہے تو میری بات نوٹ کر لیں خدا نخواستہ کرونا میں گئے تو جان سے گئے۔وینٹی لیٹر سے واپسی کسی کسی کی ہوتی ہے اور جس کی ہو جاتی ہے سمجھ لیں اللہ پاک نے اس پر کوئی خاص کرم کیا ہے۔
قارئین! ہم مسلمان ہیں مصدقہ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ملک شام میں حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی قبر کی بے حرمتی کی گئی ہے۔ یہ خبر میرے لئے قیامت سے کم نہیں ہے۔ آج امت مسلمہ کہاں آن پہنچی ہے اس سے بڑھ کر مقام ماتم اور کیا ہو گا کہ ان مبارک ہستیوں کی قبریں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ شام اور عراق میں جاری خانہ جنگی کے اور بہت سے نقصانات ہیں ایسے میں اس خبر نے ہلا کے رکھ دیا ہے۔
آج کل ہمارے معاشرے میں پھیلی بے حیائی کے شاخسانوں کا ذکر ہے۔ میں یہاں کسی کا نام نہیں لوں گا لیکن ایک بات ضرور بتاﺅں گا کہ ہم آدھا تیتر آدھا بٹیر قسم کی سوسائٹی ہیں۔ ہم آقائے نامدار حضرت محمد سے بھی پیار کرتے ہیں اور انکی خاطر جان دینے کےلئے تیار رہتے ہیں ۔ماضی میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ غازی علم دین شہید ہیں، حافظ ممتاز قادری کا واقعہ کل ہی کی بات لگتی ہے لیکن سچ پوچھیں ہم دین کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنے کےلئے تیار نہیں۔ اسی نبی کی ذات گرامی پر ماں باپ بھی فدا کر دیں گے لیکن ان کے بتائے گئے راستوں پر نہیں چلیں گے۔یہ فتنے فساد گھروں میں پھیلی تلخیوں کا شاخسانہ ہے۔ یاد رکھیں نکاح کی بجائے زنا پر کھڑی سوسائٹی میں یہی کچھ ہو گا ۔ اللہ معاف کرے کہ گرل فرینڈ رکھنا سٹیٹس سمبل بنتا جا رہا ہے۔ماضی کا ایک ادا کار ہوتا تھا جس کا نام لہری تھا اس کا ایک پرانا شودیکھا ،معین اختر ان سے سوال کرتا ہے لہری صاحب‘ آپ نے کبھی عشق کیا ۔انہوں نے جواب دیا کہ عشق حرام کی کمائی سے ہوتا ہے حلال کی کمائی سے نکاح ہوتا ہے۔
تھوڑا کھائیے حلال کا کھائیے ،اپنی خواہشات کو محدود کریں ۔نکاح کو عام کریں۔ایک بزرگ بتاتے ہیں ایک بار وہ آر جی اے کا ٹیلی ویژن ہال روڈ سے خرید کر باغبانپورہ گھر لائے جس کی قیمت 2200روپے تھی ۔دادی اماں نے پوچھا بیٹا تنخواہ تمہاری چھ سو ہے یہ کدھر سے آ گیا ہے جس کی انہیں وضاحت دینی پڑی اور مطمئن وضاحت کے بعد وہ ٹی وی گھر میں چلا۔ہم کوئی دنیا کے ایماندار ترین لوگوں میں سے نہیں ہیں لیکن یہ چیز کم از کم والدین سے سیکھی ہے کہ گھر میں حلال لقمہ لاﺅ تا کہ اس سے اولاد حلال پیدا ہو۔ کاش ہم سمجھ جاتے کہ ہماری بربادیوں کے پیچھے ہماری اسلامی معاشرت سے دوری ہے۔اختلاط خرابی کی بنیاد ہے ۔ آگ او رگھی کا ملاپ پگھلنے پر ہے۔ آپ کیا کہیں گے کہ میں کس طرف چل نکلا ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم یا تو مکمل مغربی ہو جائیں پھر خیر ہے غیرت حمیت نام کی کوئی چیز نہیں ہو گی یا دین کے بنیادی تقاضوں کو پورا کرنے والے بن جائیں۔گھر بن نہیں رہے ٹوٹ رہے ہیں اس لئے کہ ہم نے اپنے اسلاف کی اقدار کو طاق پر رکھ دیا ہے۔
سخت گرمی کے ان دنوں میں اچھا کام کیجئے پرندوں کو پانی پلانے کے لئے ایک برتن کا اہتمام کریں دانہ وغیرہ ڈالیں۔اللہ نے موسم تو گرم دیا ہے لیکن اس کے ساتھ فالسہ،آم،الیچی،خوبانی، آلو بخارا بھی آ رہا ہے۔چھوٹے تھے شکر والا ستو پیا کرتے تھے ۔گجرانوالہ کمال کا شہر ہے ،پہلوانوں کے اس دیس میں ہنر مندی بھی عروج پر ہے ۔ قارئین اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ عمران خان حکمران ہے سالہا سال بعد لوڈ شیڈنگ سے جان چھٹی ہے۔آج کا کالم ست رنگیا تھا ۔گزشتہ عید مبارک۔
(مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات تحریک انصاف ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved