تازہ تر ین

”ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات“

ثاقب رحیم
کرونا کا مطلب ہے آواز دینا، یعنی یہودیوں کا آخری رہنما،موشیا مسیحا ہوگا جو یہودیوں کےلئے مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمانی بنائیگا، مسیحا کو آواز دی جائیگی کہ موشیا آجاو¿۔ Covit-19نام بھی یہودیوں نے دیا ہے ، اسکا مطلب ہے کسی شخص کو اسوقت یقینا نماز کیلئے نہیں اٹھنا چاہیے کہ عاجزی کے بغیر نماز جائز نہیں۔ کووٹ کا مطلب عاجزی ہے اور ہاشم مسیحا کے بغیر ان کی کوئی اہمیت نہیں اور 19کا مطلب ہے یہ انکا 19کلمہ ہے، یعنی مسیحا کے آنے تک یہ 19واں کلمہ دہراتے رہنے سے ہی یہودیوں کا مسیحا آئیگا اور مسجد اقصیٰ گرا کر ہیکل سلیمانی بنائیگا۔ اسرائیلی وزراءکہتے ہیں کہ انہیں کرونا وائرس سے کوئی پریشانی نہیں کہ انکی اپنی پکار یا منصوبہ کا حصہ ہے، اسرائیل کے ربی بھی کہتے ہیں کہ انکا مسیحا بہت جلد یعنی اس سال یااگلے سال آئیگا، اسکا اظہار پاکستان میں قادیانی بھی کرچکے ہیں، جو دراصل یہودیوں کی سوچ رکھتے ہیں اور اس پر انہوں نے بہت محنت کی ہے۔
اس سلسلے میں دنیا بھر میں بہت افواہیں یا حقیقت پر مبنی جھوٹ کو توڑ مروڑ کر پھیلایاگیا۔ کرونا وائرس قدرتی ہے یا انسانی تحقیق کا نتیجہ ہے، یہ بات ابھی تک پایہ ثبوت تک نہیں پہنچی، لیکن یہودی اور عیسائی سائنسدان جو جرثوموں اور وائرس پر مدت سے کام کررہے ہیں انکے مطابق یہ وائرس انسانی ہاتھوں کی تخلیق ہے اور اسکے بنانے کی وجہ پوری دنیا پر خوف اور دہشت پھیلا کر اپنا تسلط جمانا ہے، اس سلسلے میں ہم سب نے سن رکھا ہے کہ اس وائرس کو پھیلا کر پوری دنیا کو مفلوج کیا جائیگا، موت کے گھاٹ اتار کر آبادی کم کی جائیگی اور کم آبادی پر اپنی مرضی کی حکومت قائم کی جائیگی جس میں ایک حکومت ،ایک معاشی پالیسی، ایک کرنسی، ایک مذہب یعنی یہودیت ، ایک تعلیم ایک طرح کا انصاف اور سب کے ساتھ ایک سا سلوک ہوگا اور وہ بھی حکمرانی کے طے شدہ منصوبے کے تحت۔ پروگرام کے مطابق پوری انسانیت پر یہ وائرس پھیلا کر ایک ویکسین ایجاد کی جائیگی (جوہوچکی ہے) اور جب اس وائرس کے مطلوبہ نتائج حاصل ہو جائیں گے یعنی کروڑوں افراد بیمار ہو جائیں گے یا مر جائیں گے تو انکے حساب کتاب کے مطابق وہ اس ویکسین کو انجکشن کے ذریعے بیمار افراد کو دیکر صحت یاب کیا جائے گا، لیکن یہ صرف انجکشن نہیں ہوگا بلکہ اس ویکسین کو جسم میں داخل کرتے وقت اس میں مائیکرو چپ انسان کے جسم میں داخل کی جائیگی اور اس سے وہ شخص مکمل طور پر کمپیوٹر کے جدید آلات کا غلام بن جائیگا، جس سے اسکی زندگی بھر کی حرکات و سکنات اسکا آناجانا اسکے موجود ہونے کی جگہ اسکا کاروبار کا طریقہ، یعنی اسکی تمام معلومات زندگی مونیٹر کی جاسکیں گی، اس کام کو مکمل کرنے کیلئے ٹیلیویژن کے بڑے بڑے اینٹینا دنیا بھر میں لگائے جائیں گے یا جو اب تک لاکھوں کی تعداد میں نسب کئے جاچکے ہیں، انہیں پرٹرانسمیٹ اور ریسو کرنے کیلئے بڑی بڑی جدید ڈیوائسز اور آلات لگادیئے جائیںگے، جس کی مدد سے انسانی زندگی میں ہونیوالی تما م کارروائیاں اور حرکات و سکنات پر نظر رکھی جائیگی اور کنٹرول بھی کیا جائیگا، اس کیلئے جس آلے کا نام عام ہوچکا ہے وہ ہے 5.Gاینٹینا، جسے آجکل 4.Gکی مدد سے سمارٹ ٹیلیویژن اور دیگر آلات کو زیادہ طاقتور اور پراثر بنادیاگیاہے، اسی طرح 5.Gسے تمام انسانی معلومات کو یکجا کیا جاسکے گااور اسکے کمرشل استعمال سے دولت بھی کمائی جاسکے گی، یعنی اس ڈیوائس سے دنیا کو عجیب و غریب نوعیت کی چیزیں دکھائی جائیںگی، یعنی چلتے پھرتے جاندار انسانوں کو ایک طرح سے روبوٹ بنادیا جائیگا، جن کا کنٹرول مختلف جگہوں پر بنائے گئے کنٹرول سینٹر کے ذریعے منسلک کردیا جائیگا اور یوں پوری انسانیت پر یہودیوں اور ان کے مسیحا کا اختیار ہو جائیگا ۔ پوری دنیا میں ایک طرح کی سوچ رکھنے والے افراد ہونگے جو روبوٹ کی طرح سینئرز کی ہدایات پر عمل پیرا ہوکر انکی مرضی کے مطابق دنیا پر اس وقت تک قائم رہیں گے جب تک اس مسیحا اور اسکے حواریوں کی مرضی ہوگی۔
اسی طرح کے حالات ایک بار یونان میں بھی رونما ہوچکے تھے، جب انہوں نے زندگی گزارنے کیلئے صحت اور تندرستی کا ایک معیار مقرر کردیا تھا کہ جو بھی اس معیار سے نیچے ہوگا اسے یا تو ملک بدر کردیا جاتا تھا یا مرنے کیلئے ویران علاقوں میں تہذیب و تمدن سے دور بھجوادیاجاتا تھا کہ وہ کمزور افراد یونان کی تعمیر اور ترقی میں رکاوٹ نہ بنیں، اور ایسے افراد جو انتہائی صحت مند، خوبصورت اور اپنے اپنے فن میں ماہر ہوں وہ یونان پر حکمران ہوا کرتے تھے اور انکا مرکز ایتھنز تھا ، یونان نے اس دور میں اتنی ترقی کی کہ ان کی ایجادات ،فلسفے ،ادویات ،بت تراشی ،آرٹ، اولمپک ،کھیل تماشے اور دیگر بےشمار ترقی کے مظاہر سامنے آئے اور آج تک پوری دنیا میں مانے جاتے ہیں، خاص طور پر برصغیر میں طب یونانی، آج بھی مستعمل ہے اور بیمار افراد اس طریقہ علاج سے فیض یاب ہورہے ہیں۔
آج دنیا میں ہرطرف کرونا کرونا ہورہاہے۔ آخر کرونا کو بناکر دنیا بھر کو مفلوج کرنے ،اتنی آفت لانے کی ضرورت کیا تھی، اگر اقتدار ہی مقصد تھا تو کوئی اور راستہ بھی اختیار کیا جاسکتا تھا، لیکن نہیں، طاقت یا طاقتور اپنے آپ کو منوانے کیلئے نت نئے طریقے یا حربے استعمال کرتا ہے، طاقتور انسان جسے اللہ نے اتنی بڑی کائنات میں اتنے چھوٹے سیارے دنیا کو اپنی قدرت کا مظہر بنایا اوراس میں مائیکرو چپس سے بھی چھوٹی اشیا اور انسان جانور چرند پرند بنائے اور اس سے چھوٹے جانور جو نظر نہیں آتے اور اس پر طرہ یہ کہ جرثومے اور وائرس بنائے، اور انسان کو عقل دی کہ وہ یہ سب دیکھے اور عقل کے دنگ رہنے پر اسے پہچانے اور اپنا سر اسکی طاقت اور عظمت کے سامنے جھکا دے، یہی حال طاقتور افراد کا ہے کہ وہ بیکار رہنا پسند نہیں کرتے اور کچھ نہ کچھ تعمیر یا بربادی کی صورت میں کرتے رہتے ہیں۔ اس کرونا کی تخلیق اور پورے منصوبے کے پیچھے بھی دنیا کے طاقت ور ترین اور دولت مند ترین افراد کا ایک خدائی گروپ عمل پیرا ہے۔
یہ تو سب جانتے ہیں کہ زندہ رہنے کیلئے مکمل طور پر مستعد اور طاقتور ہونا پہلی شرط ہے ، اسے انگریزوں میں ایک کہاوت میں یوں کہا گیا ہے ! ”Survival of the fittest “یعنی جو سب سے زیادہ طاقت ور ہوگا اسے ہی جینے کا حق ہے۔ چاہے وہ انسان ہو یا جانور یا کوئی بھی مخلوق، سیارے ہوں چاند ستارے ہوں وہ سب بلیک ہول کی نظر ہو جاتے ہیں، اس طرح اس وائرس کی تخلیق اور پھیلاو¿ کے بعد اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے بھی طاقت کارفرما ہے، یعنی ان افراد کا نام برملا لیا جارہاہے جو اس منصوبے کے کرتا دھرتا ہیں، بل گیٹس، ایلن سک، جیف بیزوس، جورج سوروس، وارن لبنے، بارک اوباما، جیکب روتھس چالڈ، ہنری کیسچر، روک فیلر، بل اور ہیلری کلنٹن اور نونی بلیر، انہیں افراد کے عہدسے مصنوعی ذہانت پر کام ہوا اور اب یہ اسقدر ترقی کرگیا ہے، کہ ایک مخصوص مائیکرو چپ جو کرونا کے علاج کے بہانے دنیا بھر کے افراد میں منتقل کی جائیگی اور دنیا بھر کے انسانی ذہنوں کو کنٹرول کیا جائیگا، اس طرح پوری دنیا کے کاروبار اور اکانومی پر اختیار حاصل کرلیا جائیگا۔ تجرباتی طور پر یہ چپ اور ویکسین افریقی اقوام پر آزمایا جائیگا، اسکی کامیابی تک پوری دنیا پر 5.Gکے اینٹینا کے پول لگا دیئے جائیں گے اور گھر گھر میں موبائل فونز اور ٹیلیویژن کی طرح انسانی جسم اور اذہان کو استعمال کیا جائیگا، یہ تصور ہے یہودی مسیحا کے آنے سے پہلے اسکے لئے حکومت کرنے کیلئے آسانیاں پیدا کرنے حالات پیدا کرنے کی کوششیں، یہودیوں میںعلم و ہدایات کی بھرمار تو اللہ پاک نے صدیوں کئے رکھیں جس کے نتیجے میں وہ اپنی ذہانت محنت اور شیطانیت کو بروئے کار لاتے رہے ہیں۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر باقی دنیا جو اس گروپ سے باہر ہے وہ انکے اور اس منصوبے کیخلاف متحد ہوکر کچھ کیوں نہیں کر پارہیں، تو اسکا جواب ہٹلر نے دیا ہے، ہٹلر کے مطابق جمہوریت انسانوں کو غلا م بناکر ان پر حکومت کرنے کا نام ہے، اس کے بارے میں ایک کہانی مشہور ہے۔ ہٹلر نے اپنی پوری کابینہ کے سامنے ایک مرغا لیا اور ایک ایک کرکے اسکے پر نوچ کر پھینکتا رہا اور وہ مرغ بیچارہ تکلیف سے بلبلاتا رہا، حتیٰ کہ اس نے مرغے کے تمام پر نوچ کر پھینک دیئے اور اپنی کابینہ کے ارکان سے کہا ”آپ سب جمہوریت کے حامی نظر آتے ہیں لیکن جمہوریت اسے کہتے ہیں جومیں نے آپ کے سامنے کیا“ اسکے بعد ہٹلر نے اس مرغے کو جس کے تمام پر ادھیڑ دیئے تھے چارہ ڈالنا شروع کیا تو وہ مرغا ہٹلر کے پیچھے پیچھے بھاگنے لگا اور چارہ چگنے لگا، ہٹلر نے پھر اپنی کابینہ کو مخاطب کیا اور کہا اس طرح حکمران جمہوریت میں اپنی عوام کی کھال ادھیڑتے ہیں اور پھر انکے سامنے زندہ رہنے کیلئے روٹی کے چند ٹکڑے ڈال کر اپنی حمایت میں لے آتے ہیں اور ان پر حکومت کرتے رہتے ہیں۔
کیا اس دنیا نے ماضی قریب میں اپنی طاقت منوانے کیلئے طاقتور ممالک کی کارستانی نہیں دیکھی، کویت کی بربادی ،عراق ایران جنگ کے پیچھے چھپی منصوبہ بندی، صدام حسین کی ہلاکت، عرب یمن جنگ، انڈیا پاکستان کی جنگیں، ٹون ٹاورز خود مسمار کرکے افغانستان پر حملے کا بہانہ، پاکستان اور افغانستان کو بیوقوف بناکر روس کی بربادی ، کیا ان سب کارروائیوں کے پیچھے اپنی طاقت کو منوانا اور دنیا میں اپنی چوہدراہٹ قائم رکھ کر اپنی معاشی اور اقتصادی حالت کو مضبوط کرنا نہیں تھا، تو یہ کرونا ان واقعات کا مجموعہ دکھائی دے رہاہے کہ اس منصوبے کی کامیابی سے وہ پوری دنیا پر بغیرکسی رکاوٹ کے حکمرانی کرسکیں گے، حتیٰ کہ انکا مسیحا آئیگا اور غریب و لاچار انسانوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح تباہ کردیا جائیگا اور اپنی مطلب کی دنیا بناکر اس پر قائم و دائم رہیں گے، لیکن وہ شاید یہ بھول چکے ہیں کہ ان کے اوپر بھی ایک سب سے بڑی طاقت ہے جو خود کو منوانے کے ان سے زیادہ بہتر منصوبے بناتا ہے اور آخری طاقت وہی استعمال کریگا۔
(کالم نگارسیاسی وسماجی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved