تازہ تر ین

نہ شرم نہ حیا، بس دیدہ دلیری چاہیے!

آغا امیر حسین
کورونا وائرس ہو یا ٹڈی دل کا حملہ، آٹے اور چینی کا مسئلہ ہو یا سبزی، ترکاری، پھلوں کی قیمتیں، سیاسی، سماجی اور زیرِ تفتیش مقدمات ہوں یا کوئی اور مسئلہ پاکستان کی اپوزیشن یہ کہتے نہیں تھکتی کہ وہ پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتیں ہیں اور اس میں کوئی شک بھی نہیںکہ زرداری اور نواز شریف نے پوری کوشش کی کہ ملک میں دوجماعتی نظام کی جگہ دو خاندانوں کی حکومت قائم ہو جائے۔ لندن میں سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے ”میثاقِ جمہوریت“ کے نام پر جو معاہدہ نواز شریف کے ساتھ کیا وہ دراصل دو خاندانوں کے درمیان بندر بانٹ کی ایک تحریری شکل تھی۔ سندھ اگر زرداری خاندان کے پاس ہوگا تو پنجاب نواز شریف خاندان کے پاس۔ مرکز میں دونوں پارٹیاں باری باری حکمرانی کریں گی ان کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ اسٹیبلشمنٹ تھی جن کو کنٹرول کرنے کے لیے دونوں پارٹیوں نے مل کر آئین میں 18ویں ترامیم کیں جس کے تحت بتدریج مرکز کے سارے اختیارات، فنڈز صوبوں کو منتقل ہو جائیں گے، اگر ایک دو ٹرم دونوں کو مزید مل جاتیں تو وہ مرکز کو 24 کلومیٹر کے دائرے میں مقید کرکے رکھ دیتے۔ اہم ریاستی ادارے کو نکیل ڈالنے کے لئے وفاق کے پاس وسائل کا نا ہونا کافی تھا۔مجیب الرحمن کے 6 نکات مشرقی پاکستان کے حالات اور بین الاقوامی اینٹی پاکستان ماحول کانتیجہ تھے۔ مغربی پاکستان میں شیخ مجیب کے حامی یہ جانتے تھے کہ اگر 6 نکات کے مطابق آئین بن گیا تو پاکستان پانچ ملکوں کی ایک ڈھیلی ڈھالی کنفیڈریشن بن کر رہ جائے گا۔ ہندوستان کے لئے ان پانچ ریاستوںکو باج گزار ریاستیں بناناآسان ہو جائے گا اس طرح اس کی کشمیر کے مسئلہ سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔ یہ گہری سازش تھی جس کے تانے بانے سامنے آچکے ہیں۔ عمران کو اس پر غور کرنا چاہیے۔!
سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس نے یہ بات کہی بھی تھی کہ مرکز کا دائرہ اختیار 24 کلومیٹر کے اندر ہے۔ ٹیکس اور دیگر ذرائع سے جمع ہونے والی رقوم کی تقسیم کے لیے NFC ایوارڈ کے تحت آبادی کی بنیاد پر رقم تقسیم کرنے کا فارمولا طے کر لیا گیا۔ اس فارمولے کے تحت اب تک اربوں روپے صوبوں کو فراہم کئے جاچکے ہیں۔ خطے کی صورت حال کے پیش نظر دفاع کے لیے جتنے پیسوں کی مرکز کو ضرورت ہے اس سلسلے میں مشکلات سامنے آگئی ہیں۔ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جو پیسہ صوبوں کو دیا گیا کہ وہ بلدیاتی نظام کے ذریعے اپنے اپنے صوبوں میں ترقیاتی منصوبوں کو پایہ¿ تکمیل تک پہنچائےں۔ صحت، تعلیم اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بجائے بلدیاتی نظام کو تہس نہس کرکے تمام حاصل کردہ رقوم کو ہڑپ کر لیا گیا جس کی تفصیل سامنے آ رہی ہے۔ صحت زراعت اور تعلیم کے شعبوں کی جو حالت ہے وہ بھی سامنے آچکی ہے۔ ڈاکٹروں کے پاس حفاظتی لباس اور علاج معالجے کے آلات و ادویات نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ زراعت کے شعبہ میں ٹڈی دل کے حملے کے بعد پتہ چلا کہ ادویات اور سپرے کرنے کے لیے کسی قسم کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ تعلیم کے شعبوں میں گھوسٹ سکولوں کے نام پر رقوم ہڑپ کر لی جاتی ہیں۔ سندھ میں سکولوں کو گائے بھینسوں کے باڑے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ کراچی جیسے شہر میں منتخب میئر تو ہے لیکن اس کے پاس کسی قسم کا مالیاتی اختیار نہیں ہے وہ بیچارہ عملے کی تنخواہیں پوری کرنے میں لگا رہتا ہے۔ شہر میں کچرا اٹھانے اور ٹوٹی پھوٹی گلیوں سڑکوں کی مرمت کے لیے پیسہ کہاں سے لائے؟ 18 ویں ترمیم کے نتیجے میں سندھ حکومت کراچی میں بدامنی کو روکنے کے لیے رینجرز کو اختیار دینے میں لیت و لعل کرتی رہی ہے۔ وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ گورنر، چیف سیکرٹری اور آئی جی یہ تین ہم پوسٹیں ہیں جو وفاق کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں لیکن اس سلسلے میں بھی جو کچھ پچھلے دنوں ہوا وہ سب کے علم میں ہے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ 18 ویں ترمیم کے ذریعے رضا ربانی، زرداری اور نواز شریف نے جو کوشش کی اس کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کو کمزور کرکے پہلے مرحلے میں فیڈریشن کو کنفیڈریشن میں تبدیل کرنا مقصود تھا۔ اگر یہ سازش کامیاب ہو جاتی تو آنے والے چند سالوں میں پاکستان 4 صوبوں پر مشتمل ایک ایسا ملک ہوتا جسے باآسانی دشمن زیر کرسکتا تھا۔ایک اور دلچسپ نقطہ یہ ہے کہ وہ تمام قرضے جو مرکز نے لے کر صوبوں کو دیئے تھے ان کی ادائیگیاں مرکز کی ذمہ داری قرار دی گئی ہیں جو 24 کلومیٹر کے ایک دائرے پر مشتمل ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے پاس وسائل ہی کہاں رہ جاتے ہیں؟ ایئر پورٹس، سڑکیں اور دیگر اہم ادارے جن میں پی آئی اے، سٹیل ملز وغیرہ کو قرض لے لے کر گروی رکھ دیا گیا ہے۔ IMF کا 32 ہزار ارب روپیہ کیسے ادا ہوگا یہ مرکز جانے صوبوں کا ان سے کوئی تعلق نہیں ۔اگر غور کیا جائے تو اگرتلہ سازش کیس سے لے کر اب تک پاکستان دشمن سیاست دانوں نے پاکستان کے عوام کا جو استحصال کیا ہے وہ دشمن بھی نہیں کرسکتا تھا۔ غفار خان، اچکزئی ،جمعیت العلماءاسلام کے فضل الرحمن اور صنعت کاروں نے نواز شریف کو اپنا لیڈر بنا کر ہر شعبے میں سبسڈی کے نام پر مملکت کے خزانے کو جس طرح لوٹا ہے اس کی داستانیں آہستہ آہستہ سامنے آ رہی ہیں۔ اچکزئی ہوں یا اسفندر یار ولی اور فضل الرحمن، ان کا کام صرف یہ ہے کہ پاکستان میں کوئی ڈیم نہ بنے کوئی ایسا منصوبہ جس سے عوام خوشحال ہوں ملک طاقت ور ہو ،نہ بن سکے ۔ 72 سال میں پاکستان اگر قائم و دائم ہے تو اس کی وجہ ہمارے سیاست دان یا وہ لوگ نہیں ہیں جو مختلف اداروں میں سربراہ بن کر بیٹھے ہیں۔ نواز شریف کو اگر 5 سال مزید مل جاتے تو وہ اپنے عزائم یقینا پورا کرنے میں کامیاب ہو جاتے۔ اس کے دور میں ایک کتاب چھپوائی گئی تھی جس کا عنوان تھا ”نواز شریف قائداعظم ثانی“ اس کتاب میں مصنف نے یہ کہنے کی کوشش کی تھی کہ قائداعظم محمد علی جناح نے جو پاکستان بنایا تھا خدانخواستہ خدانخواستہ نواز شریف تقسیم ہند کو ختم کرکے، فارسی کا یہ مقولہ سچ ثابت کر دیتا کہ ”قومیں فروختند چہ ارزاں فروختند“۔ ایک بات جس پر تمام درد مند پاکستانی متفق ہیں کہ موجودہ کرپٹ اور عوام دشمن نظام پاکستان کو نقصان تو پہنچا سکتا ہے فائدہ نہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ نظام کی تبدیلی پر غور کیا جائے اور ایک موثر اور فعال نظام بنا کر پاکستان کو محفوظ اور فلاحی ریاست بنا دیا جائے ویسے بھی وزیراعظم عمران خان مدینہ کی ریاست کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔جس ملک میں کھانے پینے سے لے کر استعمال کی کوئی ایک چیز بھی اصلی نمبر 1 نہیں مل سکتی اس ملک میں 72 سال کیسے گزار لئے یہ بہت بڑی بات ہے۔ یہ پاکستان کی عوام کا ملک سے محبت کا ثبوت ہے کہ اتنا طویل عرصہ سے پاکستانی عوام استحصال برداشت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ حالات نے ہمیں وہاں پہنچا دیا جہاں سے خونی انقلاب شروع ہوتا ہے۔ ذمہ دار بااثر اور محب وطن طاقتوں کو اس کا ادراک ہوتا چاہیے ایسا نہ ہو وقت نکل جائے ۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔جہاں تک اپوزیشن جماعتیں کی دیدہ دلیری سے جھوٹ پر جھوٹ اورپھر اس سے بھی بڑا جھوٹ تواتر سے بولنے کا تعلق ہے اس حوالے سے یہ کہہ دینا ہی کافی ہے کہ ہٹلر کے ایک وزیر گوئبلز کا نام تاریخ میں محفوظ ہے۔ ہماری اپوزیشن کے بیانات سن کر تو اس کی روح بھی تڑپ جاتی ہوگی۔ مسلم لیگ ن کے ایک ایم این اے خواجہ آصف کا یہ جملہ بہت مشہور ہوا تھا کہ ”کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے۔“ ہماری اپوزیشن نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ نا کوئی شرم ہوتی نا کوئی حیا ہوتی ہے۔ بس دیدہ دلیری ہوتی ہے۔!
(کالم نگارمعروف دانشور اورصحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved