تازہ تر ین

مٹی پاﺅ ‘ اگ لاﺅ تے روٹی شوٹی کھاﺅ

عظیم نذیر
ملک میں آج جیسے ”سنہری دور“ کی بنیاد 2003ءمیں پڑی جب رواداری کی سیاست کا چرچا اپنے عروج پر تھا۔ پرویزمشرف کو مس گائیڈ کر کے برسراقتدار افراد نے اپنے آپ کو خوب نوازا اور بدنامیاں ساری پرویزمشرف کے کھاتے میں ڈال کر یہ لوگ خود دودھ کے دھلے ہو گئے۔ یہی لوگ پرویزمشرف کو سوبار وردی میں صدر منتخب کرانے کی باتیں کرتے رہے‘ ان کے کندھوں پر چڑھ کر محکموں کے درختوں سے کچے پھل بھی توڑ لیے۔ انہوں نے ایسا بھی کیا کہ نیم کے درخت پر آم لگا کر اسے آم کا درخت ثابت کر دیا۔ ان کا خیال تھا کہ اقتدار اب ہمارے گھر کی لونڈی بن چکی ہے۔ اگلی باری پر بھی نیم پر آم لٹکا دیں گے‘ لیکن اگلی باری نہیں آئی اور نیم پر آم نہ لٹک سکے بات پھر کھل گئی۔ یہی وہ دور تھا جب رواداری کی سیاست کو مٹی پاﺅ سیاست بنا دیا گیا۔ پرویزمشرف سے کہا گیا کہ جو کچھ آج تک ہو چکا اس پر مٹی پاﺅ اور ایک نیا دور شروع کرو۔ مٹی پاﺅ ٹولے نے پرویزمشرف کو اس بات پر قائل کر لیا کہ اگر پچھلے ادوار کے تمام مقدمے ختم کر دیئے جائیں تو اک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ سب لوگ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر ملکی ترقی کیلئے اجتماعی کوشش کریں گے اور ملک دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرنے لگے گا۔ اس طرح ایک ایسا ماحول بنا دیا گیا جس میں یہی سب سے بڑا سچ لگنے لگا کہ اب نفرتیں‘ کدورتیں‘ منافقتیں اور انتقامی کارروائیاں ختم ہو جائیں گی اور راوی ہر طرف چین ہی چین اور خوشحالی لکھے گا جس کے باعث پرویزمشرف کا دور تاریخ میں سنہرے دور کے نام سے یاد کیا جائے گا۔ پرویزمشرف جیسا کائیاں آدمی اس ٹولے کی باتوں میں آ کر ایسا فیصلہ کر بیٹھا جس نے اس کے اپنے ہی دعوﺅں اور وعدوں کی نفی کر دی اور این آر او جاری کر بیٹھا۔ چور‘ ڈاکو‘ بددیانت‘ خائن‘ قاتل اور سارے بدکردار بھی سیاسی قیدیوں کے ساتھ ہی شفاف ہو گئے اور عوام میں گھل مل گئے۔ ہر جرم ہر کیس پر مٹی ڈال دی گئی اور یہیں سے مٹی پاﺅ کلچر ایسا پروان چڑھا جس نے دوبارہ ملک کی جان نہ چھوڑی۔
پرویزمشرف ہر طرف مٹی ڈال کر جب اقتدار سے باہر ہوئے تو انہیں احساس ہوا کہ انہیں کئی اہم معاملات میں مٹی پاﺅ پالیسی نہیں اپنانی چاہئے تھی۔ انہوں نے بعد میں بارہا یہ بات تسلیم کی کہ این آر او ان کی سنگین غلطی تھی کیونکہ وہ ایسا وقت تھا جب نتارہ ہو سکتا تھا‘ لیکن اس کی بجائے اگلے سالوں میں وہ مٹی جو کیسوں پر ڈالی گئی تھی عوام کی آنکھوں میں ڈال دی گئی۔ ان کے کانوں کو وہ نہیں سنایا گیا جو وہ سننا چاہتے تھے۔ انہیں صرف وہ سنوایا جو اشرافیہ سنوا کر اپنے مقاصد آسانی سے حاصل کر سکیں۔ اصل مسائل پر مٹی ڈال کر عوام کو کسی نئے جھوٹ کے پیچھے لگانے کا کام آئے روز ہونے لگا۔ ایک جھوٹ بول کر اس پر مٹی ڈال دی جاتی‘ پھر دوسرا جھوٹ پھر مٹی اور اسی طرح تیسرا اور پھر مسلسل جھوٹ اور مٹی پاﺅ کا کلچر چلتا رہا۔ جیسے لینن نے کہا تھا کہ لوگ سیاسی طور پر بے وقوف بنائے جاتے رہیں گے اور وہ تب تک بے وقوف بنتے رہیں گے جب تک وہ ہر سیاسی اور مذہبی تحریک کے پیچھے چھپے طبقاتی مفادات کو نہ سمجھ سکیں گے۔ سیاسی مفاداتیوں نے عوام کو اندھیرے میں رکھنے کیلئے ہر طریقہ آزمایا اور ہر فیصلے اور قانون سازی میں اپنے مفادات مقدم رکھے اور ان میں چھپے اعلیٰ طبقاتی مفادات کی عوام کو ہوا بھی نہ لگنے دی۔
لال مسجد کا واقعہ ہوا۔ مٹی پاﺅ
پی آئی اے کے حادثوں پر۔ مٹی پاﺅ
بولی والی کمیٹیوں کا فراڈ۔ مٹی پاﺅ
بینظیر قتل کیس۔ مٹی پاﺅ
مصحف علی میر طیارہ حادثہ۔ مٹی پاﺅ
کوآپریٹو فراڈ۔ مٹی پاﺅ
فاریکس سکینڈل۔ مٹی پاﺅ
بینکوں سے غیرقانونی قرضوں کی معافی۔ مٹی پاﺅ
میڈیا کے جھوٹ پر جھوٹ۔ مٹی پاﺅ
15 کلو ہیروئن برآمدگی کا کیس۔ مٹی پاﺅ
بڑے بڑوں کے مالیاتی سکینڈل۔ مٹی پاﺅ
لینڈ مافیا کی توسیع پسندی۔ مٹی پاﺅ
موجودہ حکومت کیلئے اتنی زیادہ مٹی پڑنے کے بعد کیس کھودنے مشکل ہو جائیں گے کیونکہ ابھی تک جو کیس سامنے آئے ہیں ان میں سے بھی کچھ نہیں نکلا اور سب کچھ مٹی پاﺅ کے تحت ہی چل رہا ہے۔ واقفان حال تو شوگر سکینڈل کی فرانزک رپورٹ کو بھی مٹی پاﺅ کے زمرے میں ہی لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں سارا ملبہ سسٹم اور ریگولیٹرز پر ڈال کر گھپلے کرنے والوں کو ذاتی حیثیت میں امان دی جا رہی ہے ورنہ فرانزک رپورٹ میں اگر کچھ سیاسی لوگوں کے نام آئے تھے ان پر فوری طور پر مقدمے بننے چاہئیں تھے‘ گرفتاری بھلے نہ ہوتی کوئی کیس تو رجسٹر کیا جاتا‘ لیکن ابھی تک یہ سلسلہ میڈیا پر پریس کانفرنسیں کر کے کردار کشی سے آگے نہیں بڑھا۔ حکومت کی جانب سے بڑے دھڑلے سے بتایا گیا کہ ایک کلو چینی 46 روپے کی بنتی ہے لیکن شوگر ملز والے اسے 66 روپے بتاتے ہیں۔ بلند بانگ دعوے کرنے والے اور کچھ نہ کرتے صرف چینی جس کی فی کلو لاگت 20 روپے زیادہ بتائی جاتی ہے وہ 20 روپے ہی چینی کی قیمت کم کرا دیتے۔ صرف پریس کانفرنسیں اور میڈیا ٹرائل ہو رہا ہے چینی کی قیمت اسی جگہ کھڑی ہے اور سب برائیوں کا ذمہ دار قرار دیئے جانے والے بھاری منافع اسی طرح سمیٹ رہے ہیں‘ شوگر ملوں والے کسانوں کے ساتھ وہی سلوک کر رہے ہیں‘چینی جہاں جاتی تھی ابھی تک وہاں جا رہی ہے۔ اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ طیاروں کے پہلے ہونے والے حادثوں کی رپورٹیں بھی منظرعام پر لائے گی جن پر مٹی جم چکی ہے جبکہ لگتا یہی ہے کہ تازہ حادثے کا ذمہ دار پائلٹ کو قرار دے کر خراب جہازوں‘ نااہلی اور سفارشی عملے اورجعلی ڈگریوں پر بھی مٹی ڈال دی جائے گی۔
مٹی پاﺅ کلچر کے بعد آگ لگاﺅ کلچر شروع ہو گیا اور ہر اہم ریکارڈ کو خود بخود آگ لگتی رہی۔ ملک نے اور ترقی کی اور مٹی پاﺅ اور آگ لگاﺅ کلچر دونوں اپنے پورے جوبن پر ہیں۔ نہ مٹی اکھڑے گی نہ آگ کی راکھ کریدی جائے گی کیونکہ ہمیں ایک بار پھر صرف آگے دیکھنے کیلئے کہا جائے گا۔
(کالم نگارسینئر صحافی اورتجزیہ کار ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved