تازہ تر ین

مسائل کا حل قومی یک جہتی

وزیر احمد جوگیزئی
ہم اس وقت بطور قوم ہر طرح کے اور ہر قسم کے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں ،سرحدی تنازعات ایک طرف کرونا وائرس دوسری طرف ،تیسری جانب معاشیات کے مسائل اور پھر دیگر معاملات ، ہر طرف سے ہی مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں اور صورتحال خراب دکھائی دیتی ہے ابھی ہم کرونا وائرس کی آفت سے ہی نہیں نکل سکے تھے تو ہمارے اوپر ٹڈی دل کی نئی آفت آ گئی ہے ،جس کے باعث فصلوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے ۔کرپشن کے معاملات اپنی جگہ پر موجود ہیں ،محسوس ایسا ہوتا ہے کہ کوئی محبوبہ غنڈوں میں پھنس چکی ہو ۔ہمیں اپنا ہر شہری ہی برابری کی سطح پر عزیز ہے لیکن ہم آج تک ریاستی سطح پر نہ کو ئی خا رجہ پالیسی بنا سکے نہ ہی کوئی داخلہ پا لیسی بنا سکے ۔ایران اور افغانستان ہمارے ہمسایہ ممالک ہیں افغانستان کے ساتھ ہماری طویل ترین سرحد ہے اور اس سرحد پر 50سال سے شورش برپا ہے اور ہمیں اس جانب سے ہر وقت نقصان کا اندیشہ رہتا ہے ۔اور دوسری طرف ہندوستان ہے جو کہ ہمارا بڑا ہمسایہ ہے ،ہندوستان ہمارے سے بڑا ہے آبادی کے لحاظ سے بھی اور علاقے کے اعتبار سے بھی اور اس بڑے ہمسائے کو ہم نے برابری کی سطح پر لانے کے لیے اپنے ملک کو اور دفاع کو ایٹمی طاقت بنایا تاکہ اس سے ہمارے درمیان ایک برابری کی سطح پر بات چیت ہو سکے ۔لیکن ہندوستان کی مو جودہ مودی سرکار نے پاکستان کو تنگ کرنے اور مختلف معاملات میں الجھانے میں کو ئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔
ہمیں ان تمام حالات کا احاطہ کرنا چاہیے تھا اپنے آپ کو مضبوط کرنے کی ضرورت تھی اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کی ضرورت تھی ،آبی ذخا ئر کو بہتر بنانے کی ضرورت تھی لیکن اگر یہ سب کچھ کیا جاتا تو آج ہم کشمیریوں کی بہتر انداز میں امداد کرنے کے قابل ہو تے ۔ہمیں اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک قومی پلان تشکیل دینا چاہیے تھا جس کو کہ تمام سیاسی جماعتوں اور سیاسی قیادت کی سر پرستی بھی حاصل ہو تی ۔اس قومی پلا ن میں فوڈ سیکورٹی ،زرمبادلہ کے ذخا ئر ،تجارت کا فروغ ،آبی ذخائر کی تعمیر ،سستی توانا ئی کی فراہمی ،زراعت اور صنعت کا فروغ اور صحت اور تعلیم کے شعبوں کی بہتری شامل ہو نی چاہیے تھی ،کیونکہ آ ج کے دور میں کسی بھی ملک کی سلامتی صرف جنگی ہتھیاروں پر منحصر نہیں ہو تی بلکہ ان تمام چیزوں پر منحصر ہوتی ہے ۔اس پر بہت کام کرنے کی ضرورت ہے ۔اگر ہم ہندوستان سے کسی قسم کی سیاسی بصیریت یا خیر سگالی کی توقع کریں گے تو یہ صرف خام خیالی کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا ۔مودی کی سرشت میں ہی پاکستان کے لیے کو ئی اچھے جذبات یا خیالات نہیں ہیں ۔ہمیں خود ہندوستان کی جانب سے کی گئی کسی جا رحیت کا منہ توڑ جواب دینا ہو گا ۔یقینا آج کے دور میں ہم ایک بین الا اقوامی دنیا میں رہتے ہیں ۔آج کی دنیا مادہ پرست دنیا ہے جو کہ مورل فیکٹر سے اخلاقی جواز سے زیادہ اقتصادی معاملات کو ترجیح دیتے ہیں ۔ہمیں اپنی قوت بازو کے زور پر ہندوستان کو بھرپور جواب دینا ہو گا جیسا کہ ابھی چین نے حال ہی میں دیا ہے ۔
یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہمارے ملک کی قیادت ہماری قوم کو اور تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پیج پر لے کر آ ئے اور سب اتحاد اور اتفاق کا مظا ہرہ کریں ۔کرونا کی وبا نے حکمرانوں کو قدرتی طور پر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کا موقع دیا لیکن بد قسمتی سے ہم اس موقع کا فائدہ بھی نہیں اٹھا سکے ۔حکمران اپنی کم ظرفی کے باعث اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھا سکے ۔اگر یہ قوم کرونا وائرس کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد کھڑی ہو تی تو ہندوستان کی جا رحیت کا بھی زیادہ پختگی کے ساتھ مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہو تی ۔ہندوستان کو بھی پاکستان کے اندرونی حالات اور خلفشار کا اندازہ ہے اور اسی لیے وہ روزانہ پاکستان کو دھمکیاں دیتا ہے ۔اور ہم ان کی دھمکیوں کا موثر جواب نہیں دے پا رہے ۔ہم اپنے ملک کے دفاعی بجٹ میں مسلسل اضافہ کرتے آ ئے ہیں ۔لیکن جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ صرف دفاعی بجٹ کے زور پر آ جکل کے دور میں جنگیں نہیں لڑی جاتیں اور نہ ہی جیتی جا تی ہیں ۔یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہمارے اندرونی حالات وہ نہیں ہیں جو کہ ہونے چاہیے اور ہم اندرونی طور پر بہت خلفشار کا شکار ہیں ۔ہم نے ہمیشہ اپنے داخلی مسائل کو مٹی پا ﺅ کی پالیسی کے تحت حل کرنے کی کو شش ہی نہیں کی ہم ایک زندہ قوم کی طرح کا طرز عمل اختیار کرتے دکھائی نہیں دیتے ۔
ہمارے ملک میں حقیقی جمہوریت ابھی دور کی بات معلوم ہو تی ہے لیکن ہمارے ملک کے مسائل کا حل ایک حقیقی جمہوری حکمرانی میں ہی ہے ۔دھونس سے معاملات چلانے سے قوم ترقی نہیں کرسکتی ہمیں اپنے معاملات کے حل کے لیے ایک بہت ہی عمدہ جو ڈیشری کی بھی ضرورت ہے ۔جو کہ میڈیا کی طرف نہ دیکھتی ہو اور نہ ہی کسی حکومت کی پروا کیے بغیر صرف اور صرف میرٹ پر عدل کرتی ہو ۔یہ بات نہیں ہے کہ یہ مٹی زرخیز نہیں ہے یہ مٹی بہت ذرخیز ہے لیکن نم چاہیے ہم ایک آزاد جمہوری ملک ہیں اور ہمیں ایسی ہی آزاد اور غیر جانب دار عدلیہ کی ضرورت ہے ہمارے ملک کے بیشتر مسائل کاحل انصاف میں ہے ۔ملک کے اندر انصاف ہوگا تو ہی ہمسا ئیوں کا مقابلہ بھی ہو سکے گا اور سرحدی تنا زعات بھی حل ہو ں گے ۔
(کالم نگار سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved