تازہ تر ین

حادثات اورتحقیقات

چوہدری ریاض مسعود
22مئی کو کراچی میں پی آئی اے کے طیارے کا جو المناک حادثہ ہوا ہے اس کی تحقیقات کیلئے حکومت نے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی تھی ،وہ اپنے کام کا آغاز کرچکی ہے، شہری ہوا بازی کے وفاقی وزیر غلام سرور خان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کمیٹی کی رپورٹ 22جون کو عوام کے سامنے پیش کردی جائیگی، اللہ کرے ایسا ہی ہوجائے کیونکہ رپورٹس جاری کرنے کے بارے میں ہمارا ٹریک ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے، پاکستان میں یہ بات زبان زد عام ہے کہ جس مسئلے ، سانحے، حادثے یا اندوہناک واقعے کو دبانا ہو یا وقتی طور پر عوام کی اشک شوئی کرنی ہو یا پھر اس پر مٹی ہی ڈالنی ہو تو فوراً کمیشن یا تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی جاتی ہے ، قیام پاکستان کے بعد سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے ، ان گزرے ہوئے 73سالوں میں تحقیقات کیلئے ہزاروں کمیشن، کمیٹیاں، ٹربیونل بنے لیکن چند ایک کے سوا سب مٹی پاو¿ کے مصداق نکلے۔
یہ بات خوش آئند ہے کہ اب چینی آٹا سکینڈل اور آئی پی پی سکینڈل کی تفصیلی رپورٹس بھی عوام کے سامنے آرہی ہیں، نیب بھی اس وقت کئی میگا کرپشن سکینڈلز کی انکوائری اور تفتیش کررہاہے، یقینا اس سے کرپشن کے خاتمے میں مدد ملے گی۔اور اب پی آئی اے کا ایئربس طیارہ 22مئی 2020کو کراچی ایئرپورٹ کے قریب رہائشی علاقے ماڈل کالونی میں کریش ہوگیا، اس المناک حادثے کی تحقیقات کیلئے حکومت نے ایئرکموڈور عثمان غنی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی ٹیم تشکیل دی ہے جس نے بڑے پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے ، ادھر فرانس سے آنیوالی ماہرین کی ٹیم بھی اس حادثے کی وجوہات جاننے کیلئے سرگرم عمل ہے، امید کی جانی چاہیے کہ تحقیقات احسن طریقے سے آگے بڑھے گی اور اس بارے میں جو بھی تحقیقاتی رپورٹ آئیگی اسے شفاف انداز میں عوام کے سامنے لایا جائیگا۔
عام طور پر ہماری عوام تحقیقات کے نتائج پر یقین نہ کرتی کیونکہ آج تک جن واقعات، حادثات، سانحات کی انکوائری رپورٹس سامنے آئی ہیں(جو سامنے نہیں آئیں وہ اللہ ہی جانے ) اس میں بھی اصل وجوہات کو چھپانے ، ذمہ داروں کو بچانے کی کوششیں کی جاتیں، یہ بھی حقیقت ہے کہ واقعہ یا حادثے کی ذمہ داری چھوٹے عملے پر ڈالنے کی دانستہ کوشش کی جاتی ہے ،مثلاً ریلوے کے حادثات کی صورت میں ذمہ داری کانٹا مین، گیٹ کیپر، اسٹیشن ماسٹر اور ڈرائیور وغیرہ پر ڈال کر انصاف کے تقاضے پورے کردیئے جاتے ہیں، یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں ہونیوالی انکوائری کو جان بوجھ کر طوالت دی جاتی ہے اور اس میں غیر ضروری تاخیر کی جاتی ہے ، یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ متاثرین اور متعلقہ چھوٹے عملے کو دبایاجاتا ہے ،ڈرایا دھمکایا جاتا ہے ، واقعے سانحے اور حادثے کے عینی شاہدین ،گواہوں کو ڈرانے دھمکانے کے ساتھ ذلیل و رسوا بھی کیا جاتا ہے ، ان کو روز طلب کرنے اور کافی انتظار کروانے کی شکایات عام ہیں، حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ کسی بھی واقعے حادثے سانحے یا کسی بھی معاملے کی انکوائری کیلئے کمیٹی یا کمیشن کے ارکان کا تقرر سوچ سمجھ کر کرے، غیر جانبدار اور اچھی شہرت والے افراد کا چناو¿ کرے، انکوائری کیلئے آزادانہ ماحول اور تمام تر ضروری سہولتیں فراہم کرے، انکوائری کیلئے طلب کیے جانیوالے افراد، عینی شاہدین اور گواہوں کی عزت افزائی کرے اور انہیں آزادنہ اور غیر جانبدارانہ ماحول فراہم کرے اور انہیں قانونی تحفظ دے، انکوائری کیلئے وقت مقررہ کا تعین کرے، غیر ضروری طوالت اور تاخیر کا سد باب کرے، انکوائری مکمل ہونے کے بعد اسے من و عن عوام کے سامنے لائے اور یہ بات ذہن نشین رہے کہ عوام زمانہ شناس ہوتے ہیں۔
(کالم نگارقومی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved