تازہ تر ین

مسئلہ کشمیر پر ایک پاکستانی کی سفارتکاری

محمد فاروق عزمی
پاکستان اور بھارت کے موجودہ حالات کے پیش نظر تنازعہ کشمیر اس وقت سب سے زیادہ حساس مسئلہ ہے۔ جو بالخصوص اس خطے کے اور بالعموم پوری دنیا کے امن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔اسی لیے اس حساس مسئلے کا پر امن حل انسانیت کی سلامتی، بقا اور امن کے لیے ازبس ضروری ہے۔ ستر سالوں سے ہماری خارجہ پالیسی میں ترجیحی بنیادوں پر شامل ہونے کے باوجود ہم اس مسئلے کو موثر طور پر دنیا کے سامنے رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔ سفارتی سطح پر اس سنگین اور حساس مسئلے کا کوئی حل ہماری حکومتیں تلاش نہیں کر سکیں اور نہ ہی اس سلسلے میں دنیا کو کشمیر کے بارے میں اصل حقائق سے درست طور پر آگاہ کر سکی ہیں۔ جبکہ بحیثیت محب وطن پاکستانی کے ہر دل کی خواہش اور آواز ہے کہ مسئلہ کشمیر جلد حل کیا جانا چاہیے۔
تقریباً چھ ماہ سے زائد عرصہ قبل بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق سلب کر لیے اور کشمیر میں کرفیو لگا دیا۔ جس سے جنت نظیر وادی معصوم کشمیریوں کے لیے دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہو گئی۔ جہاں بھارتی فوج کی شکل میں 8لاکھ درندے معصوم کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں۔
جہاں بچے دودھ اور خوراک سے محروم ہیں۔ جہاں برسوں سے کاروبار حیات معطل ہے۔جہاں بے گناہ کشمیری نوجوانوں کو بلا وجہ گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ جہاں بوڑھے باپ جوان لاشے دفناتے دفناتے تھک گئے ہیں۔جہاں کنٹرول لائن پر روزانہ کی جھڑپوں میں لاکھوں فوجی اور شہری لقمہ اجل بن چکے ہیں۔بھارتی فوج ستر بہتر سالوں میں لاکھوں نہتے کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اتار چکے ہیں۔جہاں ہزاروں کشمیری خواتین کی عصمت دری ہو چکی ہے۔ جہاں لاتعداد املاک بلاوجہ نذر آتش کی جا چکی ہیں۔ جہاں ہزاروں معصوم اوربے گناہ کشمیریوں کو جیلوں میں ڈال کر بھلا دیا جاتا ہے۔ اور ان کے پیارے ان کی راہ تکتے رہ جاتے ہیں۔ 70سالوں میں مسئلہ کشمیر پر دونوں ممالک میں بارہا مذاکرات ہو چکے لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ دونوں ممالک کے مندوبین کئی لا حاصل ملاقاتیں کر چکے لیکن حالات کشیدہ در کشیدہ ہوتے رہے ہیں۔ کئی بار دونوں ممالک جنگ کے دھانے پر پہنچ جاتے رہے ہیں اور ان ستر برسوں میں بھارت اور پاکستان اس مسئلے پر تین جنگیں بھی لڑ چکے ہیں۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ اپنے چارٹر کے مطابق رکن ممالک میں کسی بھی جارحیت کو کچلنے اور امن قائم رکھنے کی ذمہ دار ہے اور اس کے لیے ہر ممکن حکمت عملی، بشمول متنازعہ علاقے میں امن فوج کی تعیناتی کی مجاز ہے۔ لیکن وہ کشمیر میں ایسا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
مردم خیز دھرتی بہاولپور کے سپوت ”محفوظ ، مضبوط اور پر امن پاکستان کمیٹی“ کے چیئر مین ڈاکٹر ذوالفقار علی رحمانی سیاسی بصیرت اور بصارت والے ایک دانشور اور محب وطن پاکستانی ہیںآپ ایک طویل عرصہ لندن میں مقیم رہے ہیں۔ لیکن آج کل پاکستان میں ہیں۔ آپ پاکستان سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔جس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ان کی ذاتی لائبریری میں پاکستان اور کشمیر کے موضوع پر ہزاروں کی تعداد میں کتب اور دستاویزات موجود ہیں۔آپ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں۔ علاج معالجہ کے ساتھ کتب بینی آپ کا شوق ہے۔ سماجی کارکن کے طور پر آپ چولستان کے پس ماندہ انسانوں کی آواز ہیں۔ ڈاکٹر ذوالفقار علی رحمانی ”محفوظ ، مضبوط اور پر امن پاکستان کمیٹی“ کے بانی اور چیئرمین ہیں۔ جس کے اغراض و مقاصد میں پاکستان کی ترقی، مضبوطی، اہل وطن کی فلاح و بہبود اور امن کا قیام سر فہرست ہے ۔لندن میں اپنے قیام کے دوران فروری 2018میں اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری مسٹر انتونیو گوتریس اور یو این جنرل اسمبلی کے صدر اس وقت مسٹر جوزف ٹائس سے مسئلہ کشمیر کے حل میں ستر سالوں کی تاخیر، اقوام متحدہ کے مجرمانہ کردار اور بہیمانہ خاموشی پر آپ نے پانچ سوال پوچھے تھے۔ یہ سوال بنیادی طور پر دنیا کے ہر امن پسند انسان، پاکستانیوں اور کشمیریوں کے دل کی آواز ہیں۔ ڈاکٹر ذوالفقار علی رحمانی نے یہ سوالات ڈاکٹر مدیحہ لودھی، جو اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب تھیں کو بھی بھیجے۔ مزید برآں ڈاکٹر ذوالفقار رحمانی نے دو تین سال قبل ”مودی“ کو دنیا میں پہلی بار ”ہٹلر“ اور خونی جنونی مودی کہا۔ یہ سوالات آج بھی ”اقوام متحدہ“ پر قرض ہیں۔ کشمیر کے موجودہ حالات کے تناظر میں ان سوالات کو نظر انداز کرنا پاکستان اور لاکھوں کشمیریوں کے ساتھ زبردست نا انصافی ہو گی۔ ہمارے میڈیا چینل، اخبارات اور دانشور، ان سوالات کو زیر بحث لا کر دنیا بھر میں کشمیریوں کے لیے مزید حمایت اور ہمدردی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ سوالات ہر امن پسند فرد کو سوچنے پر مجبور کر دیں گے۔ دیکھنا ہے کہ اقوام متحدہ ان سوالات کا قرض کب چکاتی ہے؟
سوال نمبر 1:پاکستان اور بھارت کے درمیان بد امنی اور تعلقات کی کشیدگی کی سب سے بڑی وجہ مسئلہ کشمیر ہے۔ جو حالات کو مزید بگاڑ کر امن مذاکرات کو سبوتاژ کر رہا ہے۔ لہٰذا اقوام متحدہ کے اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا نہ کرنے کی کیا وجوہات ہیں؟
سوال نمبر 2:اقوام متحدہ کو کشمیر میں ہلاکتوں کو روکنے کے لیے اپنی امن فوج کو بھیجنے کے لیے معصوم کشمیریوں کی کتنی اور لاشیں چاہیےں؟
سوال نمبر 3:متعدد دانشوروں کا خیال ہے کہ پاکستان اور انڈیا میں دہشت گردی کی ایک وجہ مسئلہ کشمیر ہے تو اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل کر کے دہشت گردی کے خاتمے کویقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ کو کون سی قوتیں روکے ہوئے ہیں؟
سوال نمبر 4:کیا اقوام متحدہ کو ادراک ہے کہ پاکستان اور بھارت تباہ کن حالات (بشمول محدود سے لا محدود جنگ)کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ خدانخواستہ اگر ایسا ہے تو اقوام متحدہ اس ممکنہ تباہی کو قبل از وقت روکنے کے لیے کب اپنا کردار ادا کریگی؟
سوال نمبر 5:بھارت اور پاکستان اقوام متحدہ کی 1948ءکی قراردادوں کے مطابق ستر سالوں میں مسئلہ کشمیر حل نہیں کر سکے۔ جب فریقین خود مسئلہ حل نہ کر سکیں تو اقوام متحدہ کو ”ثالث“ بن کر مسئلہ حل کروانے کے لیے کتنا اور وقت درکار ہے؟
یہ بہت اہم سوال ہیں۔ جنہیں کسی طور نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کا موقف ہمیشہ سے ہی یہ رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا صرف ایک ہی حل ہے کہ اقوام متحدہ اپنی امن فوج کی نگرانی میں 1948ءکی قراردادوں کے مطابق رائے دہی یا ریفرنڈم کروائے۔ اقوام متحدہ اگر ایسا نہیں کرتی تو یہ جان بوجھ کر معصوم کشمیریوں کو بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں مروانے میں شامل ہو گی۔ دنیا کے ہر امن پسند ملک کو جو اقوام متحدہ کا رکن ہے چاہیے کہ وہ پوری توجہ اور شدو مد سے یہ سوالات دہرائے اور بار بار ان کے جواب کے لیے تقاضا کرے۔
(کالم نگار مختلف موضوعات پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved