تازہ تر ین

بھوک ، بے روزگاری،مہنگائی اور مذاکرات

عثمان احمد کسانہ
تسلیم کہ پوری دنیا ایک بحرانی کیفیت سے دوچار ہے ، یہ بھی تسلیم کہ بڑی بڑی طاقتور ترین اقتصادی طاقتیں معاشی تباہی کے دہانے پر ہیں ، یہ بھی تسلیم کہ اعدادوشمار کے گورکھ دھندے میں الجھنے سے یہ آفت ٹلنے والی نہیں ، یہ بھی تسلیم کہ بھوک اور بے روزگاری پوری دنیا میں اپنے پنجے گاڑ رہی ہے، ہم برملا یہ بھی تسلیم کرتے بلکہ اعلانیہ اظہار کرتے ہیں کہ پاکستان میں دیگر کئی ممالک سے بہتر صورتحال ہے۔ یہاں احساس ہے ، یہاں دردِدل کی درماندگی اور مداوا بھی ہے ، یہاں مخیر لوگوں کی بہتات ہے ، ہاں یہاں ایک عدد حکومت بھی ہے جس کے تحت مختلف نظام آزمائے جا رہے ہیں ۔ایک ہی چیلنج سے نبرد آزما ہونے کیلئے جدا جدا اور اپنے اپنے طریقے اختیار کئے جا رہے ہیں ، اس انتہائی اہم اور حساس معاملے پر بھی حزب اقتدار اور حزب اختلاف ایک صفحے پر نہیں ۔ سیاست ، ضد اور انتقام برابر اپنے جوبن پر ہے ۔لوگوں کو متنبہ اور خبردار کرنے کیلئے کب کہاں کیا حربہ آزمانا ہے ، لاک ڈاﺅن پر کیسے عملدرآمد کروانا ہے ، گھروں میں بیٹھ کر گھر کا چولہا کیسے چلانا ہے ، کرونا کو کیسے بھگانا ہے، اپنے آپ کو کیسے بچانا ہے دوسروں کو بچانے کیلئے کون کونسی احتیاطی تدابیر کو اپنانا ہے، ان سب باتوں کیلئے ہر صوبے کی اپنی الگ حکمت عملی ہے۔ ہر کوئی اپنی مرضی کی بولی بول رہا ہے من چاہے فیصلے کر رہا ہے جہاں تک مرکزی حکومت کا تعلق ہے تو وفاق سب کو دیکھنے کی اہم ذمہ دری بھرپورطریقے سے سرانجام دے رہا ہے ۔ نتیجہ کیا ہے فی الحال اس پر بات کرنے کی بجائے میں اپنے قارئین سے وضاحت کیساتھ یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ وطن عزیز پاکستان میںخط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے کروڑوںلوگ پہلے ہی جسم اور روح کا رشتہ بحال رکھنے کی کٹھن جدوجہد میں جُتے ہوئے تھے اب تو متوسط طبقہ بھی ان سے جا ملا ہے ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ معاشرتی درجہ بندی اور رہن سہن کے انداز کے اعتبار سے ہمارے ملک میں درمیانہ طبقہ ختم ہوگیا ، اب یا تو وہ چند گِنے چُنے لوگ ہیں جن کے پیٹ اور بینک اکاﺅنٹ دونوں ضرورت سے بہت زائد بھرے پڑے ہیں اور یا پھر شاہراہ حیات پر سسکتے ، دم توڑتے ،آخری ہچکیاں لیتے وہ ان گنت لوگ ہیں جو کرونا سے تو شائد نہ مرتے لیکن معاشی بھونچال نے انکو قریب المرگ کر دیا ہے ، اب انکا بچنا محال دکھائی دیتا ہے ۔بیماری اور وبا کے حملے سے مرنے والوں کا شمار تو مکمل ہے مگر اس غریب کا پرسان حال کوئی نہیں جس کی دیہاڑی اور روز مرہ مزدوری بھی مر گئی اور اب اس کے بچے بھی بھوک سے مرنے کوہیں ۔بھوک کا مقابلہ بے روزگاری کیساتھ کیسے کیا جاتا ہے خدا کرے اس کو سمجھنے کی نوبت کسی پہ نہ آئے ۔یقین کیجئے یہ پریشانی صرف لاک ڈاﺅن اور معاشی مجبوریوںکا شکار بے بس اور لاچار مزدور کی نہیں بلکہ یہ نوحہ ہے ہر اس پاکستانی کا ہے جو جیب میں روپے لیکر گھر سے نکلتا ہے تو اسے ہر طرف مہنگائی اور افراتفری نظر آتی ہے ۔ وہ بے رحم ذخیرہ اندوزوں کے سامنے گاہک کی بجائے ایک سوالی کی طرح پیش ہوتا ہے تو اسے بے یقینی نے گھیر رکھاہوتا ہے کہ معلوم نہیں پیسے دیکر بھی اسکو گھر کا راشن ملے گا یا نہیں ، اس کی حیرت نفرت میں بدل جاتی ہے جب اسے پتہ چلتا ہے کہ آٹا مزید مہنگا ہو گیا ۔فلور ملز مالکان اپنا جتھا بنا کر اپنی مرضی کے دام مقرر کرنے کی ضد کئے بیٹھے ہیں جبکہ وزیر خوراک صاحب اس کریڈٹ سے پیٹ بھرے بیٹھے ہیں کہ ہم نے گندم خریداری کا دس سالہ ریکارڈ توڑ دیا ہے ۔بھولے بادشاہو ! چالیس لاکھ میٹرک ٹن گندم گوداموں میں رکھ کر بھی اگر آٹا مافیا کی بلیک میلنگ کا ہی شکار ہونا ہے تو پھر عوام کو اجازت دیجئے کہ سرکاری گوداموں سے اپنا اپنا حصہ خود ہی وصول لیں۔
ٹیکس تو ہر چھوٹے بڑے سے وصول کیا جاتا ہے ، پینے کے پانی کی چند بُوندوں سے لیکر سانسوں کی ڈوری اور ہوا خوری تک ہم ہر شے کا ٹیکس دیتے ہیں ۔اب اگر ٹیکس کی بات ہوئی تو سُن لیجئے کہ ہم عوام چینی پر دوگنا ٹیکس دیکر منہ میٹھا کرتے ہیں اور شوگر مافیا کیا گُل کھلاتا رہا ہے اس کیلئے چند دن انتظار کیجئے سب کا کچا چٹھا کھلنے کو ہے ۔یہ حال ہے ایک زرعی ملک اور اس کے سب سے بڑے صوبے میں زرعی اجناس اور خوراک کا جہاں زمین اناج تو اُگل رہی ہے مگر نسل آدم و حّوا بلک رہی ہے ۔ جہاں ملیں ریشم کے ڈھیر تو بُن رہی ہیں مگر دختران وطن تار تار کو ترس رہی ہیں ۔ایک اور کرب سُن لیجئے اور وہ یہ کہ پولٹری ایسوسی ایشن نے اس عید پر غریب کے منہ سے جس طرح نوالہ چھینا وہ اپنی مثال آپ ہے ۔ مرغی مافیا نے ثابت کیا کہ سرکاری ریٹ جو بھی ہو وہ اپنی من مرضی کے نرخوں پر ہی فروخت کریں گے ۔پنجاب کے منجھے ہوئے صوبائی وزیر صنعت و تجارت بڑی آن بان شان کیساتھ ٹولنٹن مارکیٹ پہنچے اور بڑی تگ و دو کے بعد چکن کے بیوپاریوں اور تاجروں کو مذاکرات پر آمادہ کیا مگر سب دھرے کا دھرا ہی رہا ۔ نہ مرغی کا گوشت سستا ہوا اور نہ ہی دیگر پولٹری مصنوعات ۔ بات مذاکرات اور دھمکیوں کے درمیان گھومتی رہی اور وزیر موصوف کی تمام کوششیں ہنوز بے سُود ہیں ۔ غالبا ً ًپہلا موقع ہے کہ حکومت ان پریشر گروپس کے سامنے بے بس نظر آئی ہے اور اسے اپنی رٹ منوانے کیلئے ان ناجائز اقدامات کے سدباب کی خاطر انہی گروپس سے مذاکرات کرنے پڑرہے ہیں ۔ اب ظاہر ہے ان مذاکرات میں شرائط ہونگی ، مطالبات ہونگے کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر معاملات طے ہونگے ۔ اس طویل اور کٹھن مرحلے کے بعد عام آدمی کو سستی مرغی میسر آسکے گی۔کھانے پینے کی ضروری اشیا ءکی عام آدمی کو فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے مگر یہ ذمہ داری اس ریاست کیلئے دوچند ہوجاتی ہے جو ریاست مدینہ کے نقوش پر عمل کی دعویدار ہو ۔جس ریاست کے دارالحکومت میں بیٹھے ہوئے حکمران کو سینکڑوں میل دور دریائے فرات کے کناروں پر جانوروں کی بھوک و پیاس کی فکر ہو اس کی پیروی کی خواہش محض خواہش ہی رہے گی اگر باشندگان ریاست بنیادی ضروریات زندگی اور نان و نفقہ کو ترستے ہوں ۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved