تازہ تر ین

نوازشریف کی ایک جھلک

کامران گورائیہ
پاکستانی سیاست میں ایک عام تصور یہ پایا جاتا ہے کہ جب تک سابق وزیراعظم میاں نوازشریف ملک سے باہر رہیں گے عمران خان کی وزارت عظمی کا دورانیہ برقرار رہے گا۔ یہ تاثر بہت حد تک درست بھی ہے کہ جب سے نوازشریف بیرون ملک گئے ہیں وزیراعظم عمران خان گراﺅنڈ کے چاروں طرف من پسند سٹروک لگا رہے ہیں۔ بہت سے اہم اور بڑے فیصلے اپنے طور پر کر رہے ہیں جس کی ایک مثال یہ ہے کہ عمران خان کو اقتدار میں لانے والی قوتیں وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کے خلاف ہیں لیکن عثمان بزدار وزیراعظم کی آنکھوں کا تارا اور فرمانبردار بچے ہیں اس لئے مقتدر حلقوں کی مخالفت کے باوجود وہ صوبہ پنجاب کے سیاہ سفید کے مالک و مختار بنے بیٹھے ہیں بلکہ عمران خان نے انہیں ان گنت معاملات میں با اختیار بنا رکھا ہے اور وہ کسی سے مشاورت کے بغیر ہی صوبہ کے انتظامی امور چلانے میں اپنی خواہشات کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں۔ بہر کیف ذکر ہو رہا تھا کہ نوازشریف کی پاکستان میں عدم موجودگی عمران خان کے اقتدار کے طوالت کا سبب ہے کیونکہ نوازشریف جب پاکستان میں تھے اور جیل میں ہوتے ہوئے بھی اپنے مخالفین اور عمران خان حکومت کےلئے ایک بڑا چیلنج تھے۔ ان کی جیل میں موجودگی سے ان کے بیانیہ کی حرارت مقتدر حلقوں اور حکومت وقت کو جھلسائے دے رہی تھی۔ نوازشریف کا بیانیہ عوام میں بے حد مقبول ہو رہا تھا کہ ووٹ کو عزت دو، یہ ایک ایسا گونج دار نعرہ بن چکا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اور ان کی کچن کیبنٹ بے حد پریشان تھی۔ وزیراعظم عمران خان اوردوسری طرف ایک ایسا شخص جس نے تین بار وزیراعظم منتخب ہو کر عوام کے بہت سے دیرینہ مسائل حل کیے، پاکستان میں ترقیاتی منصوبوں کے انبار کھڑے کروا دیئے، مہنگائی کو قابو میں رکھا گیا، غیر ملکی سرمایہ کاری میں بتدریج اضافہ دیکھنے کو ملا۔ دوست ملک چین کے تعاون سے سی پیک جیسے عظیم الشان منصوبہ کے آغاز سے عوام کو خوشحال زندگی کی نوید مل چکی تھی۔ عوام ترقی اور خوشحالی سے صرف چند قدم پیچھے تھے لیکن بدقسمتی سے پانامہ لیکس کی آڑ میں اقامہ کیس میں پھنسا کر ایک منتخب وزیراعظم کو گھر بھیج دیا گیا۔
میاں نوازشریف کو نہ صرف نا اہل کیا گیا بلکہ انہیں پارٹی قیادت سے بھی محروم کر دیا گیا۔ عملًا وہ سیاست سے مکمل طور پر آﺅٹ ہیں لیکن آج بھی میاں نوازشریف ، عمران خان کے اقتدار کےلئے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب لندن میں ان کی چائے پینے یا کسی ریسٹورنٹ میں کھانا کھاتے تصویر منظر عام پر آتی ہے تو پاکستانی سیاست بالخصوص اقتدار کے ایوانوں میں طوفان آ جاتا ہے۔ ہر کوئی میاں نوازشریف کی تصاویر پر تبصرے کرتا دکھائی دیتا ہے۔ چند روز قبل بھی جب نوازشریف کی ایک اور نئی جھلک ایک تصویر کی صورت میں قوم کے سامنے آئی تو مقتدر حلقوں میں بھونچال آگیا۔ حکومت کی جانب سے کڑی تنقید کی گئی کہ اس تصویر میں نوازشریف تو بالکل بیمار نہیں لگتے بلکہ وہ اچھے خاصے صحت مند دکھائی دے رہے ہیں تبھی تو گھر سے باہر آ کر چائے نوشی کر رہے ہیں ۔ لیکن اس تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے نوازشریف کی کوئی تصویری جھلک ان کے چاہنے والوں ان کے ووٹرز کا حوصلہ بلند کرنے کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چند روز قبل اہل خانہ کے ہمراہ چائے پیتے ہوئے جو تصویر سامنے آئی اس پر مسلم لیگ ن کے حلقوں میں ایک نئی جان پڑ گئی اور انہوں نے اپنے قائد کے حق میں مختلف نعرے بلند کیے اور نوازشریف کی واپسی کا مطالبہ بھی کیا۔ نوازشریف کی ایک تصویری جھلک سے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ اضطراب کا شکارہو جاتے ہیں اور کڑی تنقید کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ نوازشریف کے مخالفین ان پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کا نام ای سی ایل سے حکومت نے نکالا اور نوازشریف کی علالت کی سنگینی کا سرٹیفکیٹ بھی حکمران جماعت کے منتخب میڈیکل بورڈ نے جاری کیا تو ان حقائق کو ذہین میں رکھتے ہوئے سوچنا چاہیے کہ نوازشریف کی بیماری واقعی سنگین تھی یا حکومت خود نوازشریف کو ملک سے باہر بھجوانے کی خواہش مند تھی۔ نوازشریف پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کےلئے ایک چیلنج ہیں، ان کی محض ایک تصویر سے وزیراعظم ہاﺅس تھرتھرانے لگتا ہے اس لئے یہ سوچنا درست ہوگا کہ اگر نوازشریف وطن واپس آ جاتے ہیں تو کیا ہوگا۔ مسلم لیگی حلقوں کا اصرار ہے کہ ان کے تاحیات قائد میاں نوازشریف وطن واپس ضرور آئیں گے اور جس دن وہ پاکستان واپس آئیں گے سیاسی منظر نامہ میں تہلکہ خیز تبدیلیاں آئیں گی اور وہ پہلے سے زیادہ بڑے قد کاٹھ کے ساتھ اپنی عوام کے درمیان ہوں گے۔ بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے نوازشریف ڈیل کے تحت ملک سے باہر گئے اور عمران خان یہ ڈیل کرنے پر مجبور تھے کیونکہ ایسا کرنے کا حکم انہی قوتوں کا تھا جو عمران خان کو اقتدار میں لانے کا موجب تھیں۔ نوازشریف کے ہمراہ آج بھی راجہ ظفر الحق، شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق سمیت بہت سے دیگر ساتھی موجود ہیں اور انکی یکجہتی بھی مثالی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمن، اسفند یار ولی اور اختر مینگل جیسے زیرک سیاستدان بھی نوازشریف کی جماعت سے ہاتھ ملانے کےلئے ہمہ وقت تیار ہیں ۔
سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی ایک جھلک نے قومی سیاست میں تہلکہ مچا کر رکھ دیا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے وطن واپسی کیلئے مشاورت شروع کردی ہے، نواز شریف کی جون جولائی میں وطن واپسی متوقع ہے، پارٹی قیادت نے مسلم لیگ ن کو متحرک کرنے کیلئے مریم نواز کو گرین سگنل دیدیا ہے۔ ذرائع مسلم لیگ ن کے مطابق مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے جلد پاکستان واپسی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ان ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم نوازشریف نے شہباز شریف سے فون پر بات کی ،اور انہوں نے اپنی وطن واپسی کے حوالے سے پارٹی کے سینئر رہنماں کا اجلاس بلانے کی ہدایت کی ہے جس میں نوازشریف کی وطن سے متعلق مشاورت کی جائے گی۔ بتایا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے جون میں ڈاکٹرز سے چیک اپ اور آپریشن کیلئے وقت لیا ہے، نوازشریف آپریشن کے بعد اپنی وطن واپسی کی تاریخ کا اعلان کریں گے۔ پارٹی کی اعلی قیادت نے مریم نواز کو گرین سگنل دیا ہے کہ مسلم لیگ ن کو فعال اور متحرک کریں۔ ن لیگ نے شہباز شریف کی گرفتاری پر فرنٹ فٹ پر کھیلنے کا فیصلہ بھی کرلیا ہے۔میاں نواز شریف کی حالیہ وائرل ہونیوالی تصویر دیکھ کر ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے کسی نے چپکے سے بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کردی۔ تصویر پر حکمران جماعت پی ٹی آئی نے شدید تنقید کی جس کے جواب میں نائب صدر ن لیگ مریم نواز نے کہا کہ تصویر کا مقصد تشہیر نہیں تذلیل تھا جو کہ ہر بار کی طرح الٹا ہو گیا۔جو لوگ زبردستی آئی سی یو میں گھس کر میری بیہوش ماں کی تصاویر بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ان کےلئے میاں صاحب کی گھر کی خواتین اور بچیوں سمیت چھپ کر تصویر بنانا کیا مشکل ہے؟ اتنا ہی نیک کام تھا تو بزدلوں کی طرح چھپ کر کیوں کیا؟ انہوں نے کہا کہ اب کرو گے؟ باز تو نہیں آ سکتے کیونکہ تم لوگ خصلت سے مجبور ہو مگر اب دس بار سوچو گے ضرور!اور شیرو بس کر دو،بخش دو بیچاروں کو، اب تو میں ریٹویٹ کرتے کرتے بھی تھک گئی۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved