تازہ تر ین

ٹڈی دل کا کنٹرول اور ایکواکلچر میں استعمال

ڈاکٹرناہید بانو
پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے جس کوخدا نے بے پناہ قدرتی ،آبی اور معدنی ذخائر سے نوازا ہے۔ مگر مینجمنٹ کے درست نہ ہونے یا بروقت درست اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے بہت سی قیمتی اشیاءجیسا کہ پانی سیلاب کی صورت میں ضائع ہوجاتا ہے۔ اسی طرح کاایک مسئلہ جس کوکنٹرول کرنے کےلئے مختلف لوگ مختلف تدابیر کے مشورے دے رہے ہیں، ٹڈی دل ہے۔ بے شک ٹڈی دل ایگری کلچر کےلئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ خاص طور پر ان حالات میں جبکہ افریقہ کی طرف سے مزید ٹڈی دل آنے کی صورت میں پاکستان کو قحط سالی کےلئے خبردار کردیاگیاہے۔ ٹڈی دل فصلوں کی تباہی کرکے خوراک کے تحفظ پرمنفی اثرات مرتب کرتی ہے ۔ ٹڈی دل کے حملوں کوکنٹرول کرنے کےلئے اس کا ارتقاءجاننا بہت ضروری ہے۔ اس کو مسئلے کے بجائے ایک قدرتی پروٹین سے بھرپور فوج کے طورپر لیا جائے تو یہ عذاب الٰہی سے تحفہ¿ الٰہی میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ٹڈی گلوبل پیسٹ ہیں جو ایگری کلچر انڈسٹری کےلئے بڑا خطرہ ہونے کے ساتھ دنیا کی ایک دہائی آبادی اور 60کے قریب ممالک کو متاثر کرچکے ہیں۔ صحرائی ٹڈی افریقہ اور مڈل ایسٹ کی سب سے نقصان دہ نسل ہیں کیونکہ یہ بہت زیادہ فاصلہ( سفر) طے کرسکتی ہیں۔ ان سے دنیا کاتقریباً 20 فیصد متاثر ہواہے۔ ایک بڑاٹڈی دل 150ملین افراد پرمشتمل ہو سکتا ہے۔ آدھاملین ٹڈی کاوزن تقریباً ایک ٹن ہوسکتا ہے اور ایک ٹن ٹڈی ایک دن میں دس ہاتھیوں، 25اونٹ یا 2500 انسانوں کے برابر خوراک کھاسکتے ہیں۔ صحرائی ٹدی کے علاوہ ٹڈیوں کی ایک درجن سے زیادہ اقسام ہیں جو ہر براعظم کومتاثر کررہی ہیں۔
ٹڈی دل کے کنٹرول اور تدارک کےلئے جو طریقے اختیار کیے جارہے ہیں ان میں ایک کیڑے مار ادویات کااستعمال ہے مگریہ کیمیکل و ادویات ہمارے آب وہوا کےلئے خطرناک ہیں اور دوسرے فائدہ مند حشرات جیساکہ شہد کی مکھیوں کےلئے زہریلے ثابت ہوسکتے ہیں۔ ٹڈی دل کے کنٹرول کےلئے سب سے اہم طریقہ کاراس دل کو بننے سے روکناہے۔ مثال کے طور پر سریٹونن (ہارمون) کوبننے سے روک کریا اہم جینز کوناک آو¿ٹ کرکے جوٹدی دل دن کے بننے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں مگر اس کےلئے بہت زیادہ ریسرچ کی ضرورت ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم ٹڈی دل کوبہترطریقے سے کیسے کنٹرول کرسکتے ہیں؟ یہ سوال بہت اہم ہے اور اسکا کنٹرول بہت مشکل ہے کیونکہ یہ مستقل حرکت میں رہتے ہیں اور کسی ملکی سرحد کی پابندی نہیں کرتے ۔اگر ایک دل کی نشاندہی آپ آج کرتے ہیں تویہ بھی کنٹرول کےلئے بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے کیونکہ کل آپ کے وہاں پہنچنے تک ٹڈی کہیں اورہجرت کرچکی ہوتی ہے۔ خاص طور پر ترقی پذیرممالک کےلئے جن کاکوئی خاص انفراسٹرکچر اور سروے سسٹم نہیں جوان کی حرکت کابغور جائزہ لے کر صحیح مینجمنٹ کرسکیں۔ ٹڈی دل کے کنٹرول کےلئے حملے سے پہلے آگاہی مہم اور مینجمنٹ سسٹم بہت ضروری ہے۔ جواس بات کا بغورجائزہ لے سکے کہ جہاں ٹڈی موجو ہیں وہ ٹڈی دل تونہیں بنارہیں اگر وہ اکٹھے نہیں ہورہے تویہ عام گھاس کاٹڈا ہی رہے جو ایگریکلچر کےلئے نقصان دہ ثابت نہیں ہوگا۔ ٹڈی کوبھگانے کےلئے دھوئیں کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ مزید لہسن کا سپرے گھاس کے ٹڈے اور دوسرے حشرات کو کنٹرول کرنے کےلئے کچھ لوگوں نے مو¿ثر بیان کیاہے۔ اسکے علاوہ قدرتی دشمن جوان کو اپنی خوراک کے طورپر استعمال کرتے ہیں جیساکہ مکڑی، پرندے، چھپکلی اور صحرائی لومڑی کسی حد تک چھوٹے ٹڈی دل کےلئے مو¿ثرثابت ہوسکتے ہیں۔ بڑے دل کو کنٹرول کرنے کےلئے تیزی سے اثرکرنے والے کیمیکل پیسٹی سائیڈ کی ضرورت ہوتی ہے جوہوائی جہاز کے ذریعے سپرے کیے جاسکیں۔ایتھوپیا اور کینیا اس قسم کے سپرے کررہے ہیں ۔ان کیمیکل پیسٹی سائیڈ میں میٹارانزم ایکری ڈم سہور شامل ہیں جو ٹڈی اورگھاس کے ٹڈے کو ماردیتے ہیں۔
اگرہم ان حشرات کے نیوٹریٹمنٹ لیول کاجائزہ لیں تویہ پروٹین کابہترین ذریعہ ہیں۔ انسائیکلوپیڈیا آف سائنس کے مطابق ان میں 62فیصدپروٹین، 17فیصد چکنائی اور دوسرے اہم نمکیات جیساکہ میگنشیم، کیلشیم، پوٹاشیم، مینگانیز، سوڈیم، آئرن اور فاسفورس پایا جاتا ہے۔ افریقہ کے کچھ علاقوں میں لوگ اسے شہد کے ساتھ اپنی خوراک میں استعمال کرتے ہیں اور کچھ افراد ان کوبغیر پکائے بھی کھاتے ہیں۔ ٹڈی کے پروٹین کااگربیف کی پروٹین سے مقابلہ کیاجائے تو ایک بڑی ٹڈی میں 13سے 28گرام جبکہ لاروا میں 14سے 18گرام فی سوگرام پروٹین پائی جاتی ہے جبکہ بیف میں 19سے 26گرام فی 100گرام پروٹین ہے۔پاکستان میں ٹڈی دل کے حملے کاجائزہ لیاجائے تو نومبر 2019ءمیں کراچی نے 1961ءکے بعد پہلی دفعہ ٹڈی دل کا حملہ دیکھا اور یکم فروری 2020ءکوپاکستانی گورنمنٹ کسانوں کومدداور فصلوں کی حفاظت کےلئے نیشنل ایمرجنسی کااعلان کرچکی ہے۔ فشریز اور پولٹری سیکٹر میں فیلڈ انڈسٹری خوراک میں پروٹین کے پروشن کےلئے سویابین میل، سن فلاور، فش میل، بلڈمیل اور دوسرے کئی سورسز استعمال کرتی ہے کیونکہ یہ پروٹین سورسز(سویابین میل اورفش میل) کافی مہنگی ہوتی ہیں۔ اس لیے یہ خوراک کی قیمت کوبڑھادیتی ہے۔ اگرفیڈانڈسٹری سے وابستہ افراد ٹڈی کی پروٹین کوفش میل یا سویابین میل کی جگہ استعمال کریں تو نہ صرف سستی فیڈتیار ہوسکتی ہے بلکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے سستی فیڈتیار کرنے کی کوششوں میں کامیابی ممکن ہے۔ اس کےلئے سب سے اہم کام ٹڈی کوپکڑنا اور خشک کرنا ہے۔ پکڑنے کےلئے مختلف جال مثال کے طور پر مچھلیوں کوپکڑنے والی پٹیاں بھی ٹڈی کو پکڑنے میںاستعمال ہوسکتی ہیں۔ کیونکہ دل ٹڈی دل دن میں سفرکرتااوررات کوآرام کےلئے رک جاتا ہے۔ اس لیے اسکو باآسانی پکڑا جاسکتا ہے یاصبح روشنی پھیلنے سے پہلے کاوقت اسکو پکڑنے کےلئے بہترین ہے اس کے علاوہ جس علاقے میں حملہ متوقع ہے وہاں پہلے جال لگاکر بھی انہیں پکڑاجاسکتا ہے۔ وہاں کے کسانوں یامزدور جوکرونا لاک ڈاو¿ن کی وجہ سے بے روزگار ہیں ان کوشامل کرلیا جائے تو ان کوکچھ رقم وصول ہوسکتی ہے۔ نہ صرف ٹڈی دل کوپکڑنے کے بعد سورج سے خشک کیا جاسکتا ہے بلکہ گڑھے کھود کر دبایا بھی جاسکتا ہے یازیادہ تیز درجہ حرارت پرفیڈ ملز کے اندر جلدخشک/ جلایا جاسکتا ہے۔ پولٹری وفش فیڈ کی تیاری میں استعمال ہونیوالے اجزاءایک لمبے پروسس کے بعد حاصل ہوتے ہیںجبکہ ٹڈی دل کو عطیہ خداوندی سمجھتے ہوئے اگراستعمال میں لے آیا جائے تو نہ صرف ایگریکلچر سیکٹر کو تباہی سے بچایا جاسکتا ہے بلکہ ممکنہ قحط سالی سے بچنے کے ساتھ ساتھ ایکواکلچر سے کثیر زرمبادلہ بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔
(نوازشریف زرعی یونیورسٹی ملتان کی اسسٹنٹ پروفیسر ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved