تازہ تر ین

عمران خان….اِدھرکنواں اُدھر کھائی

عمران خان کو اپنی زندگی میں اتنی مشکل کبھی پیش نہیں آئی ہو گی جتنی آج کل درپیش ہے میں برسوں سے عمران خان کو جانتا ہوں وہ ایک بہادر آدمی ہے لیکن آیئے اس بہادر آدمی کی مشکلات کا جائزہ لیں۔
پاکستان کی آبادی 22 کروڑ ہے امریکہ برطانیہ فرانس کی طرح ہمارے معاشی حالات اتنے اچھے نہیں اور ہم کرونا کی وجہ سے لاک ڈاﺅن کر کے انکم ٹیکس کے گوشواروں کی مدد سے ہر شخص کو اس کی آمدنی کا 80 فیصد حصہ گھر بیٹھے فراہم نہیں کر سکتے تا کہ وہ دنیا کا کوئی کام نہ کرے اور اسے گزارا الاﺅنس ملتا رہے امریکہ کھربوں ڈالر میں ابھی تک یہ رقم دے چکا ہے اور یہ بجٹ ختم ہو چکا ہے صنعتیں بند کاروبار بند معیشت ٹھپ ملازمتیں ختم مارکیٹیں بند گویا اب حکومت سے ملنے والا گزارا الاﺅنس زندگی گزارنے کا واحد ذریعہ ہے۔
پاکستان میں بمشکل تمام عمران کی حکومت کل 22 کروڑ میں سے ایک کروڑ25 لاکھ بے روزگاروں اور دیہاڑی داروں کے لئے 12 ہزار روپیہ جمع کر سکی ہے جو انہیں پہنچا دیا گیا ہے باقی 20 کروڑ 75 لاکھ افراد کہاں سے کھائیں گے یہ سب سے بڑا سوال ہے۔
امریکہ اور برطانیہ وغیرہ میں لوگوں کو گھروں میں بٹھا کر ہم لاک ڈاﺅن بلکہ کرفیو لگا سکتے ہیں لیکن پاکستان جہاں پہلے ہی 25 فیصد سے زیادہ لوگ خطِ غربت کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ان کا کیا بنے گا لہٰذا عمران خان کوبتدریج لاک ڈاﺅن کھولنا پڑ رہا ہے زراعت تعمیراتی صنعتیں دکانیں کاروبار یہ سب نہ کھولیں تو لوگ کھائیں کہاں سے اور جب لاک ڈاﺅن کھولا جاتا ہے تو جگہ کی تنگی کے باعث 6 فٹ کا سماجی فاصلہ برقرار نہیں رکھا جا سکتا پہلے دن سٹور کھولے تو ایک ایک سٹور میں 4 سو 5 سو بندہ داخل ہو گیا پولیس اتنی ہے نہیں اور جو ہے وہ ناکافی ہے۔ لہٰذا بھیڑ بھاڑ میں جب سماجی فاصلہ برقرار نہ رہ سکا تو کرونا پھیلا بیماروں کی تعداد بڑھی روزانہ ہلاکتوں میں اضافہ ہو اور مزید ہو رہا ہے جگہ اتنی تنگ ہے کہ 6 فٹ کا سماجی فاصلہ رکھا نہیں جا سکتا اور کرونا کو پھیلنا ہی پھیلنا ہے۔
پاکستان کی معیشت یوں بھی ڈانواڈول ہے یہ ایک ایسا ملک ہے جس کے بااثر سیاستدانوں صنعت کاروں، کاروباری لوگوں کے پاس بے اندازہ دولت ہے انہوں نے اس ملک کا کچھ نہیں چھوڑا وہ سب کچھ لوٹ کر لے گئے ہیں اور ان میں سے اکثر کی جائیدادیں گھر کاروبار بینک بیلنس باہر کے بینکوں میں جمع ہے کہا جاتا ہے اگر صرف ایک سوئٹزرلینڈ میں ایک امریکہ ایک برطانیہ ایک فرانس اور ایک متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے حکمران اور مالدار طبقوں کے اثاثے جمع کر لئے جائیں تو پاکستان کا سارا غیر ملکی قرضہ ادا ہو سکتا ہے اور ہم مقروض ملک سے خود کفیل اور خوشحال ملک بن سکتے ہیں۔ مگر بھاری وکیلوں ناقص نظام کے باعث آج وہی عالم ہے جو پیغمبر کائنات حضرت محمد نے کہا تھا کہ تم سے پہلے وہ قومیں تباہ ہو گئیں جو اپنے بااثر اور مالدار طبقوں کو کوئی سزا نہیں دیتیں اور صرف غریب لوگ کسی جرم میں پکڑے جاتے آج ملکی حالات پر غور کریں تو کیا یہی صورت حال نہیں کیا جیلوں میں غریب لوگ نہیں سڑ رہے اور کیا ملک لوٹنے والے سزا پانے کے باوجود عیش و عشرت کی زندگی نہیں گزار رہے۔ یہی عمران خان کا اصل مسئلہ ہے ملک میں ایسا نظام موجود ہے جو امیر آدمی کے لئے سہولتیں ہی سہولتیں فراہم کرتا ہے جس ملک کی جیلیں انکم ٹیکس ادا کرنے والوں کو A کلاس فراہم کرتی ہے جس میں آٹا، چینی، گھی، چاول، دالیں، سبزیاں، گوشت، مکھن، انڈے، شی کا سامان، نہانے کا صابن اور نجانے کیا کیا مفت مہیا کیا جاتا ہے اور ساتھ والی بیرک میں غریب بھوکوں مر رہا ہو جہاں قاتلوں، ڈاکوﺅں اور لٹیروں کو خدمت کے لئے سرکاری خرچے پر خادم فراہم کئے جاتے ہوں وہاں انصاف ہو سکتا ہے، عدل فراہم کیا جا سکتا ہے ہم نے تو انگریز اور ہندو سے لڑ کر ایک مثالی اسلامی ریاست قائم کی تھی جس میں مدینے کی ریاست کی طرز پر ہم ایسا نظام وضع کرنا چاہتے تھے جس میں آپ زکوٰة لے کر پھر رہے ہوں مگر زکوٰة لینے والے نہ ملتا ہو ہم تو ایک ایسی ریاست چاہتے تھے جس کا سربراہ ببانگِ دہل کہے اگر میری سگی بیٹی بھی چوری کرے گی تو اس کے ہاتھ کاٹ دیے جائیں اور آج حکمرانوں کی بیٹیوں کو کیا سہولتیں ملتی ہیں ان سے ہم سب واقف ہیں ہم تو وہ ریاست بنانا چاہتے تھے جس میں رات کو سونے سے پہلے ہم نے سوچنا تھا کہ ہمارے گھر کے سامنے سات گھروں تک پیچھے سات گھروں تک دائیں طرف 7سات گھروں تک اور بائیں طرف سات گھروں تک یہ سوچ کر سونا تھا کہ کیا کوئی بھوکا تو نہیں، کیا کسی کے تن پر کپڑے تو نہیں کوئی بیمار تو نہیں کوئی مقروض تو نہیں جس کی گردن کے گرد قرض خان نے کپڑا ڈالا ہو اور اسے زمین پر گھسیٹ رہا ہو ہم نے تو یہ سوچ کر سونا تھا کہ ان گھروں میں کوئی بیٹی شادی کے قابل تو نہیں بیٹھی جس کے پاس معمولی اخراجات نہ ہوں لیکن کیا آج فائیو سٹار ہوٹلوں اور ریستورانوں پر ہزاروں روپے کا کھانا کھانے والا سوچتا ہے کہ اس رقم سے کتنے گھروں کے چولہے جل سکتے ہیں۔
جی ہاں عمران خان مشکل میں ہے میں ایک مدت سے اسے جانتا ہوں میں نے سیاست میں آمد پر اس کی پہلی تقریر لکھی ہے میں نے اس کے پارٹی منشور پر بحثیں کی ہیں لیکن وہ کس قسم کا حکمران ہے جسے پکڑنا چاہتا ہے کوئی صاف بچا کر لے جاتا ہے جسے سزا دینا چاہتا ہے اس کے راستے میں اتنی رکاوٹیں آتی ہیں کہ عمران خان سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے وہ لاک ڈاﺅن نہیں لگاتا تو کرونا بڑھتا ہے اور ہلاکتیں بڑھتی ہیں اور ہلاکتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ غریب قوم کو لاک ڈاﺅن میں بند کرتا ہے تو وہ بھوک اور غربت سے تڑپنے لگتے ہیں وہ مجرموں کو پکڑنا چاہتا ہے تو پتہ نہیں کون کون سے چور دروازے انہیں رہا کر دیتے ہیں نظام انصاف پر نظر ثانی ہونی چاہئے نظام تفتیش اور نظام عدل بدلنا چاہئے ورنہ یہ تو امیروں کا ملک ہے چند فیصد امیر 95 فیصد غریبوں کا خون پی رہے ہیں۔
سو عمران خان لاک ڈاﺅن لگاﺅ اور کرفیو لگاﺅ اور تاریخی انسانی کے سب سے بڑے ظالم بن جاﺅ جس نے اپنے لوگوں کو بھوکا مار دیا اور لاک ڈاﺅن کھول دو تو ایس او پی پر عمل نہ ہونے سے نہ سماجی فاصلہ گھٹے گا اور نہ کرونا رکے گا انسان کی بنائی ہوئی جمہوریت کے گن گاﺅ جو مالداروں کو سہولتیں دیتی ہے اور جس میں غریبوں کو دھکے ملتے ہیں عمران خان تم تو اس ظالمانہ نظام کے قائل نہیں تھے جس جس کو پکڑتے ہو وہ تمہارے خلاف ہو جاتا ہے جس پر ہاتھ ڈالتے ہو وہ تمہاری حکومت گرانے میں مشغول ہو جاتا ہے کون رہ جائے گا تمہارے ساتھ کیا تم اکیلے ہو؟ تمہیں سوچنا ہے کہ اس مشکل سے کیسے بچنا ہے کرونا بڑھے گا بیماروں کی تعداد میں اضافہ ہو گا ہلاکتوں کے اعداد و شمار بڑھیں گے تو کہا جائے گا تم ناکام ہو گئے مدینے کی ریاست ناکام ہو گئی حالانکہ مدینے کی ریاست کبھی ناکام نہیں ہوتی اسلام کا فلاحی نظام کبھی ناکام نہیں ہوتا ایک بار پھر سوچ لو اس گلے سڑے اور متعفن نظام کے ساتھ تم کبھی نہیں چل سکتے کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے اس نظام انصاف کے ساتھ تم کبھی فلاح نہیں پا سکتے تمہیں تمہاری اپنی بیوروکریسی نے جکڑ رکھا ہے جو تمہیں سوچنے دیتی ہے نہ سمجھنے دیتی ہے دنیا کے بنائے ہوئے یہ نظام کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے کاش تمہیں صحیح راستہ مل سکے۔
٭٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved