تازہ تر ین

قومی صحت پالیسی کی ضرورت

فیصل مرزا
دنیا کے سب سے پرانے اور نامور بین الاقوامی ہیلتھ جرنل لینسٹ کی ایک گذشتہ سال کی ریسرچ کے مطابق پاکستان صحت کی دیکھ بھال میں 195ممالک میں 154ویں نمبر پر ہے۔ مطلب ہماری شعبہ صحت کی کارکردگی انتہائی نچلی سطح پر ہے۔ ملک کی آزادی سے لیکر آج تک جتنے بھی حکمران آئے اکثریت نا اہلوں کی ہی میسر آئی۔ اگر ہیلتھ کے شعبہ میں آج کچھ ترقی دیکھنے کو ملتی ہے تو وہ صرف ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی مرہون منت یا بین الاقوامی امداد حاصل کرنے ۔جن میں مفاد پرست حکمرانوں کے اپنے فائدے پوشیدہ ہوتے ہیں اس چکر میں ہوئی۔ ہمارے ملک میں شعبہ صحت سمیت تعلیمی اور دیگر شعبوں کے حالات انتہائی مخدوش ہیں، سرکاری ہسپتالوں میں ڈیوٹی اوقات میں بھی ڈاکٹر اکثر میسر نہیں ہوتے اور جتنے وقت ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں اکثریت اپنے کلینک کی مارکیٹنگ کرتے نظر آتے ہیں۔جبکہ نجی ہسپتال کو صرف کارپوریٹ سیکٹر کی طرح چلایا جا رہا ہے، جہاں پیسے کے بدلے صحت یابی دینے کی بجائے، مریض کو مزید بیماریوں کا جھانسہ دیکر پیسہ بنانے کے طریقے ڈھونڈے جاتے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ سارے نجی ہسپتالوں میں ایسا ہوتا ہے لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اکثریت کا یہی طریقہ واردات ہے۔ پاکستان میں نجی ہسپتالوں کی صورتحال بالی وڈ کی فلم ”گبر از بیک“ کی سٹوری سے ملتی جلتی ہے۔
نجی ہسپتالوں میں کیسے مریضوں سے پیسے بٹورے جاتے ہیں یہ تو ہم سب بخوبی جانتے ہیں لیکن پرائیویٹ ہسپتال مافیا کا تو کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔ پرائیویٹ ہسپتال کسی گورنمنٹ کے ایس او پیز کو فالو نہیں کرتے اور اپنی مرضی کے پیسے مریضوں سے وصول کرنے کے باوجود غفلت برتتے ہیں۔
درحقیقت مافیا سے زیادہ قصور ہماری حکومتوں یا سرکاری محکموں کا ہے جو ان کے خلاف ایکشن نہیں لیتے ، اس کی وجہ کے بارے میں جب سوچا تو کچھ دن پہلے جہلم میں ہونے والے مرغی فروش کا واقعہ یاد آگیا جس نے ایک میڈیا پر بیان دیا کہ سرکاری افسران اس سے روزانہ مفت گوشت لیتے ہیں۔ جب ایسی صورتحال ہو تو کسی بھی مجرمانہ غفلت، غیر قانونی سرگرمی یا غیر قانونی طور پر انتہا سے زیادہ فیسیں وصول کرنے والوں یا مریضوں کو زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے کے چکر میں موت کے منہ میں دھکیلنے والوں کے خلاف کوئی سرکاری افسر ایکشن کیسے لے، مفت میں علاج یا جیب میں آتا پیسہ کس کو برا لگتا ہے۔ محکمہ ہیلتھ کے افسران یا تو ستو پی کر سوئے ہوئے ہیں یا پھر ان کی جیب گرم کر دی جاتی ہے، جس کے نتیجہ میں پرائیویٹ ہسپتال ایک مافیا بن چکے ہیںجو قوانین و ضوابط کے نہ تو خود کو پابند سمجھتے ہیں اور نہ ہی ان کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے پیاروں کے بارے میں یہ سوچ کر کہ سرکاری ہسپتالوں میں مریض کی اچھی احتیاط نہیں کی جاتی پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں جبکہ پرائیویٹ ہسپتال سب سے پہلے تو ہر قسم کے لیب ٹیسٹ جو ضروری نہیں بھی ہوتے وہ کرواتے ہیں جس کا بل ہزاروں یا لاکھوں میں چلا جاتا ہے اور تاکید کی جاتی ہے کہ فلاں لیب سے ہی کروانا ہیں ورنہ ٹیسٹ رپورٹ قابل قبول نہیں ہو گی، جبکہ گائنی شعبہ کی مریضوں کے ساتھ بھی انتہائی ظلم کیا جاتا ہے۔ 90 فیصد نارمل ڈیلیوری کیسز کا آپریشن کر دیا جاتا ہے تا کہ زیادہ سے زیادہ بل بنایا جا سکے۔
پرائیویٹ ہسپتال، کلینکس اور لیب وغیرہ کی نگرانی اور انسپکشن کیلئے ہیلتھ کئیر کمیشن کا محکمہ موجود ہے جن کے صرف ریجنل سطح پر دفاتر قائم ہیں، جبکہ ضلعی سطح پر دفاتر موجود نہ ہونے کی وجہ سے پرائیویٹ ہسپتالوں کی نگرانی ٹھیک طرح سے نہیں ہو پارہی اس حوالے سے حکومت وقت کو چاہیے کہ پرائیوٹ ہسپتال کو ریگولیٹ کرنے کیلئے ایک مربوط پالیسی بنائے ۔ شعبہ صحت کی اہمیت کو جانتے ہوئے وفاق کی سطح پرایک ادارہ ہونا چاہیے اور ایک قومی ہیلتھ پالیسی کے ساتھ وفاق کی زیر نگرانی میں ہیلتھ سیکٹر کو مانیٹر کیا جانا چاہیے لیکن اٹھارہویں ترمیم نے اختیارات صوبوں کو دے رکھے ہیں اور نئی قانونی سازی کیلئے موجودہ حکومت کی اہلیت اور دم خم پر سوالیہ نشان ہے۔ پرائیویٹ ہسپتالوں کو ریگولیٹ اور نجی و سرکاری ہسپتالوں کی مانیٹرنگ کی پالیسی کیلئے چند تجاویزذیل میں درج کر رہا ہوں۔
ہیلتھ کئیر کمیشن کے ضلعی سطح پر دفاتر قائم کئے جائیں، اس ادارہ کو ایک اتھارٹی کا درجہ دیا جائے جس میں ایک ویجیلنس ونگ بنایا جائے جو ہیلتھ سیکٹر خصوصی طور پر پرائیویٹ ہسپتالوں کی نگرانی کرے اور مشکوک سرگرمی پرافسران کو رپورٹ کرے، ویجیلنس کا ونگ اسلئے ضروری ہے کہ فیلڈ سٹاف انسپکشن کے دوران ذاتی فائدہ لیکر قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی رپورٹ اعلی افسران تک نہیں کرتے معاملہ کو وہیں دبا دیتے ہیں، پرائیویٹ ہسپتالوں کی درجہ بندی کی جائے، نجی ہسپتالوں کو آپریشن کرنے کیلئے علیحدہ سے اہلیت کے مطابق این او سی جاری کیا جائے، ہسپتالوں کی درجہ بندی کر کے نرخ مقرر کئے جائیں، عوام کی آگاہی کیلئے میڈیا پر مہم چلائی جائے کہ شکایت کیلئے کہاں رابطہ کریں، ہر ہسپتال کو پابند کیا جائے کہ متعلقہ محکمہ جہاں پرائیویٹ ہسپتال کی شکایت کی جائے کی تفصیل پر مبنی نوٹس بورڈ آویزاںکریں، قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی یا مجرمانہ غفلت برتنے پر ڈاکٹروں اور نجی ہسپتالوں کے لائسنس منسوخ کیئے جائیں، ہسپتالوں کو ہر ہفتہ جراثیم کش ادویات کے سپرے کا بابند بنایا جائے تا کہ ہسپتال بیماریوں کے پھیلا¶ کے باعث نہ بن سکیں، ہسپتالوں کے عملہ کو مریضوں کے ساتھ خوش اسلوبی سے پیش آنے کے احکامات جاری کئیے جائیں اور خلاف ورزی پرسزائیں مقرر کی جائیں۔ سرکاری ہسپتالوں کے اندر ہسپتالوں کے اوقات کے بعد سی ایم ایچ کی طرز دوسری شفٹ کی صورت میں کلینک سروسز شروع کی جائیں، سرکاری داکٹروں کے دوران سروس پرائیویٹ کلینک بنانے پر پابندی لگائی جائے، نجی ہسپتالوں کے خلاف شکایات کی صورت میں عوام کی شکایت کا ازالہ بروقت کیا جائے۔
کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے تعلیم اور صحت کے شعبے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں، ان کی ریگولیشن اور احتساب پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔ میرا ایمان ہے کہ اگر سرکاری ملازمین ایمانداری اور ذمہ داری سے اپنے فرائض سر انجام دیں تو وسائل میں اضافہ کیے بغیر شعبہ صحت کو154 سے 100ویں نمبر پر لایا جا سکتا ہے۔
(کالم نگارسماجی اورمعاشرتی امورپر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved