تازہ تر ین

ایک عالم ربا نی: سید خورشیداحمد گیلانی ؒ(1)

حافظ شفیق الرحمن
کہتے ہیں کہ یہ کلجگ ہے،یہ عصر عصر پذیر ہے،یہ عہد بے چہرہ اور قحط الرجال کا دور ہے۔ شمع بہ کف پگ پگ پروانہ وار گھومیں تو بے چہرہ دو پایوں کے اس تاریک جنگل میں کہیں ایک آدھ روشن چہرہ انسان سے ملاقات ہوتی ہے۔ تاحد نگاہ ویرانے آباد ہیں اور افق افق تاریکیاں خیمہ زن ہیں۔ ماہتاب نوش راتوں اور آفتاب خور دنوں کی حکمرانی ہے۔ دو پایوں کے اس تاریک ہجوم میں ایک آدھ روشن چہرہ انسان ظلمتوں کے نرغے میں گھری صبحِ خنداں کی طرح منفرد اور کوفیوں کے محاصرہ میں کھڑے مسلم بن عقیل کی طرح لائق ِرشک دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں اگر کسی خوش بخت اور خوش طالع شخص کی ملاقات کسی روشن چہرہ انسان سے ہو جاتی ہے تو بلامبالغہ وہ زندگی کی معراج کو پا لیتا ہے۔ یہ ملاقات بلااشتباہ حاصل زندگی قرار پاتی ہے۔زیادہ دن نہیں گزرے کے دو پایوں کے اس تاریک جنگل میں ایک روشن چہرہ انسان علم، فکر ، نظر اور محبت کے اجالے تقسیم کر رہا تھا۔ اس روشن چہرہ انسان کو دنیا صاحبزادہ سید خورشید احمد گیلانی کے نام سے جانتی ہے۔ قدرت نے ان کی شخصیت میں شاعرانہ جمال، ادیبانہ سحر، خطیبانہ تمکنت اور عالمانہ وقار کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ وہ بیک وقت بلند پایہ ادیب بھی تھے اور خوش مقال خطیب بھی۔ وہ بولتے تو الفاظ ان کے سامنے یوں ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے جیسے تخت سلیمان کے سامنے پریاں قطار اندر قطار ایستادہ ہوں۔ وہ قلم اٹھاتے تو ملہمِ غیب کے ساتھ بے تار کا سلسلہ قائم ہو جاتا۔ نو بہ نو مضامین بادلوں کی ٹکڑیوں کی طرح امڈ امڈ کر آتے اور ان کے خلوت خانہِ خیال کا طواف کرتے ۔ وہ غالب کی طرح صریر ِخامہ میں نوائے سروش کو بال کشا دیکھتے۔ ان کا ہر مضمون موتیوں کا گنجینہ اور معرفت کا سفینہ ہوتا۔
وہ ایک جامع الصفات شخصیت تھے، وہ ادیب بھی تھے عالم بھی، صحافی بھی تھے دانشور بھی، مفکر بھی تھے نقاد بھی، خطیب بھی تھے سیاس بھی، صوفی بھی تھے فلسفی بھی، قائد بھی تھے اور مجاہد بھی۔ سب سے بڑھ کر وہ ملت اسلامیہ کے سچے غم خوار بھی تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کی شخصیت ایک ایسا مرقع تھی کہ چشم ناظر کو ورق ورق حیرتوں کا سامنا کرنا پڑتا۔ حیات ِمستعار کے مختصر سے دور میں انہوں نے قدم قدم، سانس سانس، حرف حرف ،لفظ لفظ، سطر سطر اور ورق ورق دوام کے کئی نقوش ثبت کئے۔ چشم ارادت سے جس نے بھی انہیں دیکھا اسے محسوس ہوا کہ خرقہ پوش آستیں میں ید بیضا لئے بیٹھا ہے۔ ان کے دریدہ گریباں کے ہر چاک میں علم و معرفت کے کئی سورج نہاں تھے، وہ اسم بامسمیٰ تھے ۔ نام خورشید تھا اور کام روشنی بانٹنا ۔ علم ، عمل اور محبت کی روشنی۔ ہر کوئی ان سے محبت کرتا۔ ان کی شخصیت کے کئی پہلو تھے۔ وہ تحریرو تقریر میں یکتا تھے۔ وہ صاحب طرز ادیب تھے۔ وہ ملکی سیاست کو بالغ نظری سے دیکھتے، سیاسی تجزیئے میں جذبات کو غالب نہ ہونے دیتے۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کی سیاست کے ناقد تھے۔گیلانی صاحب حقیقت میں عالمِ ربانی تھے، ان کی سوچ اپروچ نقلابی تھی ، وہ جاگیرداری اور سرمایہ داری کے خلاف تھے، وہ جمہوریت کے نام پر آمریت کی بساط بچھانے والوں کے بھی خلاف تھے، وہ اس معاشرہ میں قرآن و سنت کی بالادستی چاہتے تھے۔سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ امت کی یکجہتی کے نقیب تھے۔نامور ادیبہ اور کالم نگار بشریٰ رحمن نے ان کی پہلی برسی کے موقع پر جذبات کی منڈیروں پر الفاظ کے دیپ یوں روشن کئے تھے ”جب کبھی ان کی تحریر پڑھتے اور گفتگو سنتے تو ہمیں احساس ہوتا کہ ان کی ”جاگ“ کسی مرشد کامل نے لگائی ہے، ان کی پرورش کسی ولی کامل باپ کی نگاہ اور تہجد گزار ماں کی آغوش میں ہوئی ہے،وہ کم عمری ہی میں عرفان و آگاہی کی کئی دادیاں قطع کر چکے تھے“۔ ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم نے اس موقع پر خیالات کا اظہا کرتے ہوئے کہاتھا ” خورشید احمد گیلانی لسان صدق کے حامل تھے، ان کی تحریروں میں ملت اسلامیہ کا وہ درد نمایاں ہے جو تحریک خلافت کی قوت محرکہ اور تحریک قیام پاکستان کا رہنما تھا، ان کی فکر ی تگ و تاز کا بنیادی مقصد پاکستان میں مسلم تہذیب کا احیاءاور اسلام کی خالص عربی اصالت کو اجاگر کرنا تھا،وہ برصغیر کی مسلم تہذیب سے گہری دینی وابستگی اور اردو زبان سے بے پناہ محبت رکھتے تھے“۔ مجیب الرحمن شامی نے انہیں بہ ایں الفاظ خراج عقیدت پیش کیا : ”مرحوم نے دائمی شہرت کے آسمان پر پرواز کی، غریبی میں نام پیدا کیا، اس طرح دنیا سے رخصت ہوئے کہ نہ بینک بیلنس، نہ شہری و زرعی اراضی اور نہ بنگلے چھوڑے لیکن حسن ِعمل اور حسن ِکردار کا ناقابل فنا اثاثہ چھوڑ گئے، انہوں نے بندگی سے آراستہ ایسی زندگی گزاری جس میں کہیں شرمندگی نہ تھی“۔
اگر کوئی مجھ سے یہ جاننا چاہے کہ میں اپنے معاصر کالم نگاروں میں سے کن کالم نگاروں کو زبان و بیان اور فکروفن کے حوالے سے فن ِ کالم نگاری میں اتارو اور طاق سمجھتا ہوں تو میں صرف یہ چند نام بتانے پر ہی اکتفا کروں گا۔ ضیا شاہد، ہارون الرشید،صفدر محمود،عطاءالحق قاسمی، جاوید چودھری، حسن نثار اورجمیل احمد عدیل ۔ ان میں سے بالترتیب نظریاتی ہم آہنگی کی وجہ سے میری ذاتی پسند کچھ یوں ہوگی۔ ہارون الرشید، صاحبزادہ سید خورشید احمد گیلانی ، ضیاشاہد، اوریا مقبول جان ، صفدر محمود۔ یوں تو اخبارات میں بیسیوں کالم چھپتے ہیں، لیکن ان حضرات کا کالم جب بھی اور جہاں بھی مجھے دکھائی دیا، میں نے اسے ترجیحاًپڑھا۔ باقی ’خود غلط، برخود غلط، املا غلط اور انشا غلط‘ قسم کے کج مج نقادوں کی تحریریں پڑھنے سے گریز کرتا ہوں۔ ہر خشک و تر تحریر اور رطب و یابس خیالات کو ”کالم“ کے نام پر ”سپرد ِاخبار“ کرنے کی آزادی ”انجوائے“ کرنے والے ان گنت کالم نگاروں کی ” وہی وہانویت“ پڑھنے سے بہتر ہے کہ پنجابی سٹیج ڈرامہ دیکھا جائے اور امان اللہ، ببو برال اور مستانہ کی خوش گفتاری سے محظوظ ہوا جائے۔ زبان و بیان پر قدرت کاملہ اور مہارتِ تامہ کے حوالے سے میں صاحبزادہ سید خورشید احمد گیلانی، ہارون الرشید اوریا مقبول جان کے خوشہ چینی پر نازاں ہوں۔
صاحبزادہ سید خورشید احمد گیلانی 1956 ءمیںشکارپور ضلع راجن پور پیدا ہوئے۔ راجن پور جنوبی پنجاب کا ایک مردم خیز خطہ ہے۔آپ کے والد استاذ العلماءمخدوم سید احمد شاہ گیلانی جید عالم، حافظ قرآن اور زہد و ورع کے سانچے میں ڈھلی ایک عظیم روحانی شخصیت تھے۔ آپ کے والد مرحوم نے2 شادیاں کیں۔ پہلی بیگم کا انتقال ہوا تودوسری شادی کی۔پہلی بیگم سے ارشاد عارف اور خورشید گیلانی پیدا ہوئے۔دوسری بیگم سے 2 بیٹے اور 3 بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ والد صاحب کا انتقال 1988ءکے اوائل میں ہوا۔والد صاحب کی وفات کے بعد صاحبزادہ سید خورشید گیلانی نے اپنے دو یتیم بھائیوں اور تین بہنوں کی کفالت اور تعلیم و تربیت کی تما م تر ذمہ داریاں بہ حسن و خوبی ادا کیں۔ یتیم بہن بھائیوں کو باپ بن کر پالا اور انہیں کبھی احساسِ یتیمی نہ ہونے دیا۔ وہ کمال فیاضی سے انہیں برادرانہ مو¿دت اور پدرانہ شفقت سے نوازتے رہے۔آپ نے ابتدائی دینی تعلیم کے حصول کے لیے زانوئے تلمذ اپنے والد گرامی کے سامنے تہ کیا۔ مزید تعلیم جامعہ شاہ جمالیہ مانہ احمدانی ڈیر غازی خان اور جامعہ سراج العلوم خان پور میں حاصل کی۔ جہاں وقت کے جید اساتذہ مولانا شیخ الحدیث سراج احمد درانی،شیخ الحدیث مفتی عبدالواحد قادری ،مفسر قرآن مفتی مختار احمد درانی اور علامہ محمد اکرم شاہ جمالی کی خصوصی توجہ حاصل رہی۔ درس نظامی کی تکمیل شیخ الحدیث مفتی عبدالقیوم ہزاروی مرحوم کے مدرسے جامعہ نظامیہ لوہاری گیٹ لاہور سے کی۔ کچھ عرصہ علماءاکیڈمی میںمولانا گلزار احمد مظاہری مرحوم کی صحبت میں رہے۔آپ 1979 ءمیںحافظ آباد چلے گئے اور جامع الفتح میں خطابت و درس قرآن کا آغاز کیا ۔یہیں انہوں نے پہلا ادارہ’ ایوان اتحاد‘ قائم کیا ۔اس ادارے کے قیام کابنیادی مقصد فرقہ واریت کے خلاف جہاد تھا۔اب ان کی ادیبانہ خطابت کے چرچے ملکی سرحدیں عبور کرکے دیارِ مغرب تک جاپہنچے تھے۔ وہ سیدعطاءاللہ شاہ بخاری اور خطابت میں ان کے نقشِ ثانی آغا شورش کاشمیری مرحوم کی معجزبیاں خطابت کے مداح تھے۔انہیں 1986ءمیں برطا نیہ سے مسلم پارلیمنٹ کے اجلاس میں بطور مہمان مقرر شرکت کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے مسلم پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کی اور معرکة الآراءخطاب کیا۔1989 میں حافظ آباد کو خیر باد کہا۔ مختصر عرصہ کےلئے دوبارہ خان پور میں دعوت و ارشاد کے گل کدے آباد کیے۔1990ءمیں مستقل قیام کے عزم کے ساتھ داتا کی نگری لاہور میں وارد ہوئے ۔ لاہور میں ورود ِمسعود کے بعد ادارہ مسلم انسٹی ٹیوٹ اور ’تحریک احیائے امت©‘ کی نیو رکھی۔ انہی دنوں رسالہ ’تسخیر‘ کااجراءکیا۔ د یکھتی آنکھوں تحریک کا دفتر علمی و فکری سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔شہر کے گوشے گوشے سے شمعِ علم و فضل کے پروانے تحریک احیائے امت کے مرکز کا رخ کرنے لگے۔ وہ انتہائی وسیع المشرب شخصیت تھے۔ وہ پاکستان کی پہلی شخصیت تھے جنہوں نے بین المذاہب مکا لمے کے لیے’ امہ فورم ‘تشکیل دیا۔(جاری ہے)
(سینئرصحافی اورقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved