تازہ تر ین

امریکہ میں فسادات اور کالے لوگ

رانامحبوب ا ختر
وہ خوب صورت تھے اور انھیں اپنی خوب صورتی پہ ناز تھا۔کولونیل یورپ نے جب مشین اور مشنری کی مدد سے ان کی زمینوں پر قبضہ کیا تو وہ وبائی امراض سے مرنے لگے۔پوسٹ کولمبس امریکہ میں یورپی آدمی یوریشین وبائیں لائے، جن کے خلاف مقامی آدمی میں مزاحمت نہ تھی ۔ان میں ایک چیچک تھی۔مقامی ریڈ انڈین چیچک سے مرتے تھے اور جو بچ جاتے ان کے چہروں پہ سیتلا کے داغ ہوتے۔دلبر لوگ اپنے چہروں پر چیچک کے داغ دیکھنے کی بجائے خودکشی کر لیتے تھے۔ ایسے خودبیں حسن کو یورپ کے سوداگر تہذیب سکھانے آئے تھے۔ قبضہ مکمل ہوا تو اجنبی زمینوں پر مزدوری کے لئے افریقہ سے غلام لائے گئے۔کولونیل آدمی کا عقیدہ تھا کہ کالے آدمی کی کوئی تاریخ ہے نہ روح !!حالانکہ سب جانتے ہیں کہ تاریخ کی ابتدا افریقہ سے ہوئی۔زبان، سماجی حقیقت کی تشکیل کرتی ہے اور شناخت کا اہم ذریعہ ہے لہٰذا مقامی اور مادری زبانوں کو کولونیل پالیسی کے طور پر مٹایا گیا۔دنیا کی تاریخ کی بد ترین انسانی تجارت ہوئی۔لیلیٰ کے رنگ کی تذلیل ہوئی۔ گورے آدمی نے رنگ اور نسل کی سیاست کا اوریجنل گناہ کیا۔کالے اور بھورے لوگوں کی دولت سے گوری کا گاﺅں خوب صورت بنتا گیا اور مقامی لوگ گوری کے گاﺅں کے دیوانے ہوئے!ششی تھرور کا خیال ہے کہ دو سو سال میں صرف انڈیا سے برطانیہ نے 80ٹریلین ڈالر لوٹے جبکہ Utsa Patnaikکے محتاط اندازے کے مطابق 45 ٹریلین ڈالر لوٹے گئے۔اسی طرح افریقہ سے ہزاورں ارب ڈالر لوٹے گئے اور اب بھی افریقہ اور ایشیاءکے نئے نو آبادیاتی حکمران غریبوں کا مال لوٹ کر گورے ملکوں کی تجوریوں میں جا رکھتے ہیں اور باقی کا کام کثیرالقومی کمپنیاں کرتی ہیں کہ یہ ریموٹ کنٹرول سے چلتا کولونیل انتظام ہے ۔فرانز فینن کی کتاب، Black Skin, White Masks میں کالی محبوبہ اپنے گورے محبوب سے whiteness مانگتی رہتی ہے۔رنگ کی بنیاد پر اس طرح کا پیرا ڈائم شفٹ نوآبادیاتی طاقت اور جبر کا کرشمہ ہے۔سفید آدمی نے رنگ اور نسل کی برتری کے لئے شعوری کوشش کی۔
افریقی ادیب ، تھیانگو کہتا ہے کہ کولونیل ازم کی نئی تثلیث ، مشنری کی بائبل، تاجر کے سکے اور بندوق پر قائم ہے۔ غلام ملکوں کی تاریخ distort کرنے کو انسانوں کے سر کاٹ کر انھیں الٹا دفن کیا گیا کہ سفید آدمی مقامیوں کے سر اور حافظے سے ڈرتا ہے ۔صدیوں کے عمل میں طاقت کی سب نشانیاں سفید ہو گئیں اور امریکہ جیسے آزاد اور عالمی جمہوریت کے سرِخیل ملک میں صدارتی محل کا نام ، White House ہے، سفید آدمی کی برتری کا شعوری یا لاشعوری اعلان ہے ۔یہی وجہ ہے کہ خوب صورت انسان اور ٹیلنٹڈ ایکٹر، نور نغمی جو ہمارے امریکی دوست ہیں، وائٹ ہاوس کو پریزیڈنٹ ہاوس لکھنے کا پوچھتے تھے!
غلاموں کی تجارت کے عہد میں انسانوں کی منڈیاں لگیں اور ایک اندازے کے مطابق سترھویں اور انیسویں صدی کے درمیان افریقہ سے ایک کروڑ پچیس لاکھ افریقی غلام امریکا برآمد کئے گئے۔جن میں سے 19 لاکھ جہازوں کے پنجروں میں بھوک، پیاس اور گھٹن سے مر گئے۔ بچے کھچے اوریجنل زمیں زادوں نے بے خودی شعار کی ہے تو افریقی امریکیوں کی اداس نسلیں جارج فلائیڈ کی طرح پولیس کے گھٹنے کے نیچے چیختی ہیں۔مقامی آدمی کی exterminationاور افریقی امریکیوں سے امتیازی سلوک، امریکہ کی تاریخ کی بڑی خطائیں ہیں۔George Floydکی خوفناک موت سے کورونا کی ماری دنیا برہم ہے۔جوزف کانریڈ کے The Heart of Darkness سے The Horror, The Horror کی صدا سرگوشی سے احتجاج بن گئی ہے۔I can’t breathe ، دنیا کے تمام افتادگانِ خاک کی گھٹن کا استعارہ ہے۔
امریکہ میں 1865 ءمیں تیرھویں ترمیم سے غلامی کا خاتمہ ہوا لیکن امریکہ کا ریاستی نظام افریقی امریکیوں سے امتیازی سلوک کرتا ہے۔کالے امریکیوں کے سکولوں میں اچھے استاد اور معیاری سہولتیں نہیں ہیں ۔ ملازمتوں میں گوروں کو ترجیح دی جاتی ہے۔شہروں میں کالے علاقوں کو لال رنگ سے نشان زد کیا جاتا ہے اور انھیں گھر خریدنے کو قرضہ مشکل سے ملتا ہے ۔2010 ءمیں وہ امریکی آبادی کا 13 فی صد تھے جب کہ قومی دولت میں ان کا حصہ تین فی صد سے کم تھا۔وہ موٹے اور سست سمجھے جاتے ہیں۔صحت کمزور ہے ، اس لئے کورونا میں زیادہ مرے ہیں۔جارج فلائیڈ کا قتل ایسے کالے آدمی کا قتل ہے جو کم تر درجے کا انسان تھا۔ جارج کے قتل کے بعد کالے امریکی شعلوں کی زبان بول رہے ہیں اور صدر ٹرمپ ان شعلوں کو اپنے بیانات سے ہوا دیتے ہیں ۔اطمینان کا پہلو یہ ہے کہ بہت سے سفید امریکی احتجاج میں شامل ہیں۔ انور اقبال جیسے روشن خیال صحافی اور ادیب نے لکھا ہے کہ ”سفید فام امریکی پولیس اہلکار کے ہاتھوں ایک سیاہ فام کی ہلاکت پر پورا امریکہ بلا امتیاز رنگ و نسل سراپا احتجاج ہے۔ یہی ایک زندہ قوم کی پہچان ہے“۔میامی میں پولیس نے سڑک پر گھنٹے ٹیک کر احتجاج کرنے والوں کو سلامی دی اور معافی مانگی اور دوسری کئی جگہوں پر پولیس احتجاج میں شامل ہوئی ہے کہ یہی روشن خیال رویے امریکہ کا حسن ہیں۔کیا امریکہ کبھی دانش کی اس سطح پر پہنچے گا جب وہ افریقی امریکیوں اور زمیں زادوں سے معافی مانگے اور زرِتلافی ادا کرے؟ کیا برطانیہ اپنی تاریخی خطاوں کی معافی مانگے گا؟اور فرانس، سپین ، پرتگال اور اٹلی بھی جن کی خوشحالی میں غریبوں کا خون شامل ہے، ظلم پر نادم ہوں گے!انسان کی نیک فطرت کی فتح کے لئے ظلم اور جہالت کے ماضی کو بدلنا ضروری ہو گیا ہے!!
کانریڈ کے ناول ”اندھیرے کے دل “ میں، مسٹر کرٹز یہ سمجھتا تھا کہ وہ مقامی وحشیوں کو تہذیب سکھانے آیا ہے۔جبکہ وہ ایک بے رحم تاجر اور ایک dehumanizedوجود تھا ۔ اور “Exterminate all the brutes”جیسی سوچ رکھتا تھا۔مہذب یورپ کی طرف واپسی پر اس کے دل سے The Horror,The Horror کے الفاظ سرگوشی کی صورت نکلے تھے۔ آج پوری دنیاکےلئے جارج کا جملہ ”میں سانس نہیں لے سکتا“ ،سرگوشی سے شور میں بدل گیا ہے۔جارج کی موت نے کورونا کی ماری دنیا کو غصے کی آگ دکھائی ہے۔اور روزا پارک نے 1955 ءمیں جو چراغ جلایا تھا، جارج کی زندگی گل ہونے سے حریت کے اس چراغ کی لو اونچی ہوئی ہے!
قصہ یہ ہے کہ امریکہ ، ایک نہیں دو ہیں۔ایک امریکہ سامراجی ہے اور دوسرا امریکہ دنیا کا فکری اور سائنسی لیڈر ہے۔صدر ٹرمپ کی صدارت نے امریکہ کے سامراجی کردار کو unwittingly کم کیا ہے تو امریکہ کی thought leadership کو بھی دھچکا لگا ہے۔افریقہ کے چنوااچیبھے،کہانیوں کے توازن کی بات کرتے تھے۔وہ مغرب کی اچھائیوں کے مداح اور خرابیوں کے ناقد تھے۔ان کا ناول Things Fall Apart ، نو آبادیاتی افریقہ کے تضادات کی کہانی ہے۔اگر وہ زندہ ہوتے تو اسی نام کا ایک ناول امریکہ پر لکھتے، جہاں چیزیں بکھر رہی ہیں۔ جارج 8 منٹ 46 سیکنڈ سڑک پر شور کرتا رہا، مرتا رہا۔نئی کولونیل نسل پرستی کو اچیبھے کے ناول سے زیادہ جارج کے can’t breathe نے آشکار کیا ہے۔دکھوں کی کتھا میں قیامت کے دکھ کا اضافہ ہوا ہے۔آج کے آدمی کا دکھ گوتم سے گھمبیر ہے۔ باکمال شاعر، نصیر احمد ناصر نے ایک نظم ”دکھ گوتم سے بڑا ہے “لکھی تھی:
گوتم نے غزہ نہیں دیکھا
وہ عراق، افغانستان اور شام نہیں گیا
اس نے کراچی اور کوئٹہ نہیں دیکھے
بوری بند لاشیں
اور خود کش دھماکوں سے اڑتے ہوئے اعضاءنہیں دیکھے
بحرِمتوسط کے ساحل پر اوندھے پڑے ہوئے ایلان کردی
اور دریائے ناف کے کنارے
کیچڑ میں لت پت شو حیات کو نہیں دیکھا
افریقہ میں دودھ سے عاری ڈھلکی ہوئی چھاتیاں
اور مرتے ہوئے آبنوسی ڈھانچے نہیں دیکھے
گوتم نے عظیم جنگیں
اور آبدوزوں میں مرنے والوں کی آبی قبریں نہیں دیکھیں
جارج فلائیڈ کو مرتے دیکھنے والوں کے جگر فگارہیں کہ اُن کا دکھ گوتم سے بڑا ہے ۔جس دیش میں چہرے پر چیچک کے داغ دیکھ کر زمین زاد خودکشی کرتے تھے۔وہاں جارج کی موت پر احتجاج سے بڑی نیکی اور حب الوطنی کوئی نہیں۔کہ شعلوں کی زبان نسلی تعصب کو چاٹ رہی ہے اور حریت کے چراغوں کی لو اونچی ہو رہی ہے۔ہمارے عہد کا نابغہ، ظفر اقبال دعا اور چراغ ایک ساتھ باندھتا ہے:
یوں تو نادار بہت ہوں مگر اِتنا بھی نہیں
ہیں ابھی تک مرے ہاتھوں میں دعا اور چراغ
(کالم نگارقومی وبین الاقوامی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved