تازہ تر ین

جمہوریت کیلئے لازم ہے کہ ….

جمہوریت ایک ایسا نظام ہے جس میں لوگوں کے درمیان آمدنی کی تقسیم انیس‘ اکیس کے برابر ہو یعنی نہ کوئی بہت بڑا ہو اور نہ کوئی بہت چھوٹا۔ جو ملک نوابوں‘ جاگیرداروں‘ سرداروں‘ ملکوں سے بھرا پڑا ہو اور جہاں ایک شخص بمشکل اپنی روٹی کماتا ہو‘ 25 فیصد سے زیادہ لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارتے ہوں‘ جہاں متمول کلاس کے لوگ ایک ایک کھانے پر لاکھوں روپے خرچ کر دیتے ہوں اور کسی کو سوکھی روٹی بھی میسر نہ ہو تو وہاں یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ سب لوگ اپنی مرضی سے امیدوار منتخب کر سکیں۔ جہاں امیدوار اپنے خیالات کی تبلیغ کیلئے اکھاڑے میں نکلتا ہو تو اس کے ساتھ سینکڑوں گاڑیوں کا جھرمٹ ہو‘ شامیانے لگے ہوں‘ کرسیاں بچھی ہوں‘ پلاﺅ اور زردے کی دیگیں کھلی ہوں وہاں یہ کیسے تصور کیا جا سکتا ہے کہ مخالف امیدوار جو اپنے گھر سے بمشکل روٹی کھا کر نکلا ہو‘ ان لوگوں کے مقابلے میں ووٹ حاصل کر سکے گا۔ 70 سال گزرنے کے باوجود اور ملکی آئین میں منہ چڑاتے ہوئے جملے بھی موجود ہوں کہ آپ کسی خاتون کو ووٹ دینے سے نہیں روک سکتے اور جہاں دونوں بڑی سیاسی جماعتیں مل کر فیصلہ کر لیں کہ دونوں طرف سے کوئی عورت ووٹ نہیں ڈالے گی اور آئین منہ تکتا رہ جائے‘ جس جمہوریت میں مالدار مجرم کو پکڑا بھی جائے تو اس کیلئے جیلوں کی بجائے ریسٹ ہاﺅس ہوں‘ جن میں ایئرکنڈیشنر لگے ہوں اور اگر جیل میں رکھنا بھی مقصود ہو تو وہاں بھی ایئرکنڈیشنر کی سہولت حاصل ہو‘ جہاں جیلوں میں مالدار مجرموں کو غریب مجرم بطور مشقتی پیش کیے جائیں اور جہاں ایک پاﺅ چھوٹا گوشت تین انڈے‘ کھلا گھی‘ چاول‘ چینی‘ آٹا‘ بلیڈ‘ شیونگ کریم اور اگر کبھی جیلر رعایت دینا چاہے تو کمرے میں کلر ٹی وی بھی ہو اور دیواروں اور چھت پر قالین بھی تو کیا ایسے میں رسول پاک کا یہ فرمان پورا ہو سکتا ہے کہ تم سے پہلے وہ قومیں تباہ ہو گئیں جنہوں نے اپنے بااثر اور امیر ملزموں کو تو ہاتھ بھی نہ لگایا مگر غریب ملزم پکڑے گئے اور جیلوں میں ڈالے گئے۔ جس ملک کی عدالتوں کے بارے میں مشہور ہو کہ ان کی دیواریں بھی پیسے مانگتی ہیں وہاں انصاف ہو سکتا ہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ جو غریب ہوں وہ جیلوں میں سڑتے ہیں اور جو امیر ہوں وہ سزا پانے کے باوجود بیرون ملک علاج کرواتے ہیں۔
کیا یہ درست نہیں ہمارے نظام عدل میں خامیاں پائی جاتی ہیں‘ جھوٹے سرٹیفکیٹ بنتے ہیں‘ جھوٹی شہادتیں پیش کی جاتی ہیں۔ برسوں پہلے میں ایک مضمون چھاپنے کے الزام میں جیل میں بند تھا اور ایک جھوٹے مقدمے میں ہر ہفتے میری ایک پیشی ہوتی تھی۔ میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ کہتا ہوںکہ ہر بار میں جا کر سو روپے ریڈر کو دیتا اور وہ مجھے اگلی تاریخ دے دیتا تھا۔ ایک بار ریڈر موجود نہیں تھا اور جج صاحب خود بیٹھے ہوئے تھے‘ میں نے ان سے تاریخ مانگی اور 100 روپے کا نوٹ ان کے کاغذوں کے نیچے رکھ دیا‘ نوٹ دیکھنے کے باوجود انہوں نے مجھ سے نہیں پوچھا کہ یہ پیسے کس لیے دے رہے ہو اور مجھے تاریخ مل گئی۔ بعد میں مجھے پتہ چلا کہ اکثر منصف حضرات کے گھروں کے تمام اخراجات ریڈر حضرات پورے کرتے ہیں۔ اللہ معاف کرے کچھ جج حضرات ایسے بھی ہیں جو حرام کی کمائی کو چھوتے بھی نہیں‘ لیکن جو سسٹم چل رہا ہے اس کی تو بنیادیں ہی حرام پر ہیں یہ نظام کسی کو کیا انصاف دے گا۔
کیا آپ کسی تھانے یا چوکی میں رشوت دیئے بغیر کوئی پرچہ درج کروا سکتے ہیں۔ میں ٹیلی ویژن پر ہیومن رائٹس واچ کے نام سے ویکلی ایک پروگرام کرتا ہوں اور سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ غریب ملزموں کو پکڑ کر تھانے میں بند کر دیا جاتا ہے‘ لیکن پرچہ نہیں کاٹا جاتا‘ ایف آئی آر پر کچھ درج نہیں ہوتا‘ تب جوڑ توڑ شروع ہوتا ہے جو پارٹی زیادہ پیسے دے اسے زیادہ سہولتیں‘ لیکن پولیس چھوڑتی کسی کو بھی نہیں۔ جس سے 100 روپے مل جائیں اس سے سو روپے وصول کر لیے جاتے ہیں اور جو 5 لاکھ دے اسے حوالات میں ہر سہولت دی جاتی ہے۔ جیلوں میں نظام یہ کہتا ہے کہ جس کی قید پوری ہو جائے مگر جرمانہ رہتا ہو تو اسے رہا نہیں کیا جاتا۔
بہت سال پہلے کی بات ہے میں اپنے دوست ڈاکٹر خالد رانجھا کو لے کر جیلوں کے دوروں پر نکلا۔ معمولی جرائم کے مرتکب افراد کو رہا کرانا ہمارا مقصد تھا مگر کتنے ہی ملزم برسوں سے جیلوں میں بند تھے کہ جرمانہ ادا نہیں کر سکتے تھے۔ میں نے باہر آ کر چندہ جمع کرنا شروع کیا تاکہ انہیں رہائی دلا سکوں اور میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی کہ بعض نے رہائی سے ہی انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا ہم یہاں دال روٹی تو کھا لیتے ہیں باہر جائیں گے تو پھر دشمن پکڑوا دیں گے اور پھر سے پولیس کی مار پیٹ کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ جب پولیس کی مار پیٹ سے بچ کر ملزم جوڈیشل جاتا ہے یعنی جیل میں داخل ہوتا ہے تو وہ خدا کا شکر ادا کرتا ہے‘ اصل مشکل تو پولیس کی حوالات میں مار پٹائی ہے۔ جیلیں تو اس کی نسبت جنت کی مانند ہیں۔ یہاں کسی بدمعاش کے چمچے بن جاﺅ اس کی خدمت کرنے لگو تو اچھا کھانا بھی مل جاتا ہے اور زندگی بھی اچھی گزر جاتی ہے سچ تو یہ ہے کہ جیلوں میں کیا نہیں ہوتا۔ ملاقات پر پیسے دینے پڑتے ہیں‘ مشہور ہے کہ جیل کے گیٹ پر ایک درجن کینو قیدی کو بھجواﺅ تو راستے میں سے 11 غائب ہو جاتے ہیں 12 واں شاید مل جائے تو حوالاتی کی قسمت نہ ملے تو پھر خیر ہے۔ اسے بتا دیا جاتا ہے کہ تمہارے لیے کینو آئے تھے۔
بہت برس پہلے میرے دوست اور بھٹو صاحب کے او ایس ڈی راجہ انور نے لکھا تھا اور کتاب کا نام تھا ”بڑی جیل سے چھوٹی جیل تک“ جن دنوں ہم عمران خان سے بحثیں کیا کرتے تھے کہ یہ نظام کیسے درست ہو گا تو جیلوں کی بڑی باتیں ہوتی تھیں‘ جیلیں منشیات کی کھلی مارکیٹیں ہیں‘ شراب‘ چرس‘ بھنگ‘ افیون اور مغرب سے آئے ہوئے قسم قسم کے نشے جیل میں کیا نہیں ملتا۔ ایک اور مرتبہ رسالے میں میرا مضمون چھپ گیا۔ مضمون کیا تھا سپریم کورٹ میں رٹ درخواست کا ترجمہ تھا جب کوئی رٹ درخواست سماعت کیلئے منظور ہو جاتی ہے تو اس کو چھاپنا جرم نہیں ہوتا مگر جس میگزین میں یہ ترجمہ چھپا تھا اعلیٰ حضرت جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں جب پنجاب کے چیف سیکرٹری مظفر ملک صاحب ہوتے تھے پرنٹنگ پریس سے ہزاروں میگزین اٹھا لیے گئے۔ میں گھر سے نکل کر اپنی کار میں دفتر پہنچا تو کار ہی میں سے دھر لیا گیا۔ بدبودار کمبل میرے اوپر ڈالا گیا اور مجھے گٹھڑی بنا کر پولیس کی جیپ میں ڈال دیا گیا۔ کم و بیش 8 گھنٹے بعد میں لاہور کے شاہی قلعہ کا دروازہ کراس کر رہا تھا۔ بادشاہوں کی سیرگاہ کے ایک کونے میں کرائم برانچ کا دفتر تھا نہ کوئی کرائم تھی اور نہ کوئی کرائم برانچ‘ ایک ایس پی کرائم وہاں ضرور بیٹھے تھے۔ ان کی لیاقت کا عالم یہ تھا کہ انہوں نے مجھ سے پوچھا لوہے کی وہ چادر کہاں ہے جس پر چھپائی کی پلیٹ بنتی ہے۔ میں نے کہا وہ صاف کر دی جاتی ہے۔ وہ مجھے جیپ میں لوہاری دروازے کے سامنے پریس میں لے گئے اور بولے چھپائی کی وہ پلیٹ کہاں ہے۔ میں نے کہا اب وہ رگڑائی کے بعد ختم ہو چکی ہے اور اس پر نئی چھپائی ہو گئی ہے۔ وہ مجھے 38 ملتان روڈ پر میرے گھر لے گئے اور مُصر ہوئے کہ جو چھپا ہے وہ دکھاﺅ۔ میں نے کہا جو چھپا ہے پریس میں تھا جو آپ نے اٹھا لیا‘ میرے گھر میں کچھ نہیں ہے۔ کہنے لگے اچھا دماغ پر زور ڈالو اور لکھو کیا چھپا تھا۔ میں نے کہا 70‘ 80 صفحے کی رٹ تھی جس کا ترجمہ تھا۔ اصل رٹ دفتر میں ہوگی۔ دنیا اس قدر سائنسی ہو چکی ہے مگر ہمارے ہاں تھپڑ‘ گھونسے‘ لاتیں‘ بید کی چھڑیاں اور پاﺅں کی بیڑیوں کے سوا اور تفتیش کا کوئی ذریعہ نہیں۔ دوسری جنگ عظیم میں جرمنوں نے سچ بلوانے کے انجکشن بنائے تھے جو انسان جھوٹ بول رہا ہو اسے پکڑ لیتے تھے۔ پون صدی گزرنے کے باوجود بھی نظام تفتیش تھپڑ‘ مکوں سے آگے نہیں بڑھا اور نہ شاید بڑھے گا۔ سمن آباد میں میرے ایک پڑوسی پولیس انسپکٹر تھے۔ ہم صبح کی سیر برسوں تک اکٹھے کرتے رہے۔ جب میں شاہی قلعہ سے 14 دن کاٹ کر جیل جانے سے ایک دن پہلے حوالات آیا تو اتفاق سے وہی چودھری صاحب میرے تفتیشی انسپکٹر تھے۔ برسوں کی دوستی کے باوجود پوچھنے لگے کیا نام ہے تمہارا۔ حیرت سے میرا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ میں نے کہا آپ میرا نام نہیں جانتے۔ چودھری صاحب بولے یہاں تم ملزم ہو اور میں انسپکٹر لہٰذا سیدھی اور صاف بات کرو ورنہ مجھے بکوانہ آتا ہے۔ میں نے کہا اچھا پوچھو‘ کہنے لگا کیا کام کرتے ہو‘ کہاں رہتے ہو۔
جھوٹ‘ مکر‘ ریاکاری اس نظام میں رچ بس گئی ہے۔ کون سا سرکاری کاغذ ایسا ہے جس پر جھوٹ نہیں لکھنا پڑتا۔ سو عمران خان پیارے حضور پاک کے سب سے گہرے دوست حضرت ابوبکر صدیقؓ تھے‘ جو سچائی کیلئے مشہور تھے اور ایک اعرابی یعنی بدو جو پڑھا لکھا نہیں تھا حضور پاک کے پاس آیا اور کہنے لگا مجھے لمبی چوڑی نصیحتیں یاد نہیں رہتیں ایک موٹی سی بات بتا دیں جس پر عمل کروں اور کام چل جائے۔ آپ نے فرمایا‘ سچ بولا کرو۔ اب آپ مجھے بتاﺅ عدالت سے فیکٹری اور فیکٹری سے بازار تک سرکاری دفتر سے جیل تک اور سرکاری دفتر سے دوسرے دفاتر تک کیا سچ بول کر کام چل سکتا ہے۔
٭٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved