تازہ تر ین

کروناکی وبا اورسوشل میڈیا

ڈاکٹر نبیل چودھری
کرونا بڑا موذی مرض ہے ،اس وباءکا مکروہ دور وہ ہے کہ مریض سمجھتا ہے کہ میرے منہ پر کوئی تکیہ رکھ کر بیٹھ گیا ہے اور پھر وہ اللہ کو پیارا ہو جاتا ہے۔میں نے اس ماں کو روتے دیکھا جو کہتی ہے کہ لوگو ‘یہ سچ ہے، اگر یہ سچ نہیں تو میرا سب کچھ لے لو اور میرا بیٹا دے دو۔ شائد اب لوگوں کو پتہ چلنے لگا ہے کہ کرونا ایک حقیقت ہے۔
کرونا وباءکے اس دور میں بھی بھارت اپنی حرکتوں سے باز نہیں آ رہا ہے۔ بھارت ایک ہمسایہ تو ہے ہی لیکن یاد رکھئے برا ہمسایہ ہو تو سمجھ لیجئے آپ کی قسمت خراب ہے۔ایک بار بھارت کے شاعر وزیر اعظم نے کہا تھا کہ آپ بھائی سے دور رہ کر گزارہ کر سکتے ہیں لیکن برا پڑوسی آپ کی زندگی اجیرن کر دیتا ہے لہٰذا پاکستان بھارت کےلئے اور بھارت پاکستان کےلئے برا نہ بنے ۔اسی واجپائی نے پاکستان کے دولخت ہونے پر اندرا گاندھی سے کہا تھا ایک اور اسلامی ملک بنا کے آپ کو کیا ملا۔ یہ ساری باتیں ایک طرف رکھیں جب بابری مسجد شہید کی گئی تو سب سے زیادہ مظاہرے بنگلہ دیش میں ہوئے اور ڈھاکہ میں جب کرکٹ کا ایک میچ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہوا تو اسٹیڈیم میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگے ۔اسی سمے ایک شاعر نے کہا ”کرے دریا نہ پل مسمار میرے، ابھی کچھ لوگ ہیں اس پار میرے“۔ پٹ سن کا دیس دریاﺅں کی دھرتی مسجدوں کا شہر ہم سے چھوٹ گیا ۔ ہمارے بزرگ جنہوں نے پاکستان ٹوٹتے دیکھا ان کی زندگی کا سب سے بڑا صدمہ دسمبر سولہ کا دن ہے ۔
کرونا کی بد مستیاں اپنی جگہ بزدل اور ظالم ہمسائے بھارت نے سوشل میڈیا پر پنجے گاڑ رکھے ہیں ٹویٹر تو اس کے گھر کی لونڈی بن گیا ہے ،اس ادارے کا ایک دفتر بھارت میں ہے دوسرا سنگا پور میں اور ہر دو دفاتر میں انڈین بیٹھے ہوئے ہیں،جو پاکستانیوں کے اکاﺅنٹ معطل کرا دیتے ہیں۔ کشمیر ،ختم نبوت اورانڈیا کا مکروہ چہرہ دکھانے پر اکاﺅنٹ معطل کر دیا جاتا ہے۔وہاں بھی پاکستان فوبیا سے متاثر لوگ بیٹھے ہیں جن کی ہر وقت ان پاکستانی اکاﺅنٹس پر نظر ہوتی ہے جو کشمیر اور بھارت کی خون آشامیوں کو دنیا سے آگاہ کرتے ہیں۔ ٹویٹر ایسی دنیا ہے کہ آپ دنیا کے بڑے سے بڑے بندے کے کان میں جا کر بات سنا سکتے ہیں ۔ جویریہ صدیق کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اس ملک کا سرمایہ ہیں ۔یہ وہ مجاہد ہیں جو پاکستان اور تحریک انصاف کے وہ سپاہی ہیں جن کے بارے میں سوائے قومی سلامتی کے اداروں کو کسی کو علم نہیں ۔خود عمران خان ایسے لوگوں کی گرفت میں ہیں جو رضاکارانہ کام کرنے والوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔
بھارت بہت بڑا ملک ہے ٹیکنالوجی پر کمانڈ اس کی ہے لیکن اللہ کے کرم سے ہم نے اسے بار ہا دھول چٹائی ہے۔یہ لڑائی میڈیا کی لڑائی ہے آپ قوموں کی سوچ کو چند الفاظ کے ہتھیار سے غلام بنا سکتے ہیں اور یہی گر ہمیں آتا ہے ۔ لوگ سمجھتے ہیں پی ٹی آئی کے پاس Paid لوگ ہیں یہ ان کی بھول ہے پی ٹی آئی کے پاس جنون ہے۔ لیکن یہاں ایک بات کروں گا کہ ان لوگوں کے سروں پر ہاتھ رکھنا ضروری ہے۔ یہ حکومت سے کچھ نہیں لیتے لیکن قومی جذبے سے سرشار یہ بھی آپ کی ٹائیگر فورس ہے البتہ یہ پڑھی لکھی نہیں بہت پڑھی لکھی ٹیم ہے۔انہیں ستائش نہیں صرف تھپکی چاہئے۔پی ٹی آئی وہ واحد جماعت ہے جس کو سوشل میڈیا کے فری لانسرز نے اوپر اٹھایا ۔ آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ یہ لوگ تھے جو جس کے ہاتھ جو ہتھیار لگا وہ اسے لے کر میدان میں آ گیا ۔ ٹویٹر اور فیس بک میں کمنٹس کے مورچوں پر یہ لوگ ڈٹ گئے ۔انہوں نے بڑے بڑے میڈیائی طرم خانوں کی ہوا سرکا دی۔ایک وقت تھا پی ٹی آئی کو فیس بک کی پارٹی کہا جاتا تھا اس سے پہلے ٹانگے کی سواری کا لقب دیا گیا لیکن فیس بکی مجاہدین نے اینکر پرسنز کی چیخیں نکال دیں ۔پہلے یہ لوگ یک طرفہ ٹاک شو کا میلہ سجاتے تھے اور کسی کی عزت کسی کی بے عزتی کر کے چلے جایا کرتے تھے لیکن جب سے فیس بک اور ٹویٹر نے میدان سنبھالا کمنٹس میں ان کو ان کی حقیقی پوزیشن دکھائی دی تو یہ لوگ بھی سنبھل گئے۔ اب تو ہر اینکر پرسن یو ٹیوب پر ہوتا ہے اپنا وی بلاگ لگاتا ہے اور کہتا ہے سبسکرائب کریں بیل کا بٹن دبائیں ۔یہ ہر کوئی کہہ رہا ہے جو کسی سے سیدھے ہاتھ ملتے نہیں تھے وی بلاگ کی قبولیت کی درخواست ایسے ہی ہے جیسے آج کل ہر فون پر ٹون لگی ہے کرونا وائرس خطر ناک ہے یہ جان لیوا بھی ہے۔ اب الیکٹرانک میڈیا کے بعض بھولو پہلوان ٹڈا پہلوان بن چکے ہیں۔
سوشل میڈیا ایکٹویسٹ کا خیال ہے کہ پاکستان کو ٹویٹر انتظامیہ اور فیس بک مالکان سے یہ کیس اٹھانا ہو گا کہ آپ ایک جانبدار ملک کے باشندوں کے حوالے کیوں ہو گئے ہیں جس کی پاکستان سے دشمنی واضح ہے ۔وزارت خارجہ یہ معاملہ ان دو اداروں تک لے جائے۔ سچ پوچھئے پاکستان کا مثبت چہرہ دکھانے کےلئے اب روائتی کھیل بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ اب کرکٹ ہاکی سکواش ماضی کی باتیں ہو گئی ہیں۔ کرونائی دور میں اب نیٹ ہی ایک ذریعہ ہے جس کو استعمال کر کے آپ پاکستان کا روشن چہرہ پیش کر سکتے ہیں ۔اتصالاتی اداروں کی چاندی ہو گئی ہے لوگ قرنطینہ میں چلے تو گئے ہیں لیکن ان کے ہاتھوں میں موبائل ہیں اور وہ فراغت کا زیادہ وقت انٹر نیٹ پر ہوتے ہیں ایسے میں سوشل میڈیا کے مجاہدین ہی ایک ایسا ذریعہ ہیں جو پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کو دکھا سکتے ہیں۔ میرے ساتھیوں کا پر زور مطالبہ ہے کہ پاکستانیوں کے اکاﺅنٹس کی حفاظت ضروری ہے ۔اللہ پاک آپ کو آپکے اہل خانہ اور دائیں بائیں کے لوگوں کو کرونا سے بچائے۔ سوشل میڈیا کے مجاہدین اس وباءکے بارے میں لوگوں کو زیادہ سے زیادہ آگہی دیں۔
(مرکزی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات تحریک انصاف ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved