تازہ تر ین

چائنہ ،بھارت …آمنے سامنے

سلمان احمد چودھری
گذشتہ ماہ چائنہ اور بھارت کی فوج کے درمیان سرحدی تنازعہ کے معاملہ پر ہاتھاپائی ہوئی جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق چائنہ کی فوج نے 10سے 15کلو میٹر بھارت کی طرف قبضہ کرلیا اور بہت سے بھارتی فوجیوں کو جنگی قیدی بھی بنا لیا ہے۔ چائنہ اور بھارت کے درمیان لداخ اور سکم کے علاقوں کا سرحدی تنازعہ نیا مسئلہ نہیں ہے ، لیکن اس بار چائنہ کا بھارت کی طرف واپس نہ آنیوالی نیت سے بڑھنا خاصی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔
بھارت کی طرف سے اس سرحدی تنازعہ کو شروع کرنے کے دو بنیادی مقاصد تھے، پہلا یہ کہ لداخ کے علاقہ میں مستقل قبضہ کرنے کے بعد چائنہ کے بارڈر کیساتھ ساتھ پکی سڑک بناکر اپنے دفاع کو مضبوط بنایاجائیگا تاکہ آئندہ چائنہ سے کسی بھی تناو¿ کی صورت میں بروقت فوج اور جنگی سازوسامان کی ترسیل کو ممکن بنایاجاسکے اور مستقبل میں یہاں سے گلگت بلتستان کو بھی ٹارگٹ کیا جاسکے جس سے سی پیک اور دیا میر بھاشا ڈیم جس کی حال ہی میں تعمیر شروع ہوئی ہے اس کو نقصان پہنچایا جاسکے۔ دوسرا امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنا۔ کیونکہ کرونا وائرس سے ایک لاکھ سے زائد امریکی مرچکے ہیں جبکہ امریکہ کی اکانومی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے جبکہ دوسری طرف چائنہ نے وائرس پر بروقت کنٹرول کرلیاتھا۔ صدر ٹرمپ چائنہ سے سخت ناراض ہیں اور وائرس پھیلنے کی وجہ بھی چائنہ کو ہی قرار دے چکے ہیں، اسکے علاوہ دنیا میں خاص طور پر یورپی ممالک میں ایک نئی بحث بھی شروع ہوگئی ہے کہ کرونا وائرس کے خاتمہ کے بعد دنیا میں سپر پاور کون ہوگا، اس بحث میں امریکہ کے ساتھ ساتھ چائنہ کا نام بھی لیا جارہاہے، اس سال امریکہ میں صدارتی الیکشن بھی ہونے ہیں اور الیکشن جیتنے کیلئے ٹرمپ کچھ بھی کرسکتے ہیں، لہٰذا امریکہ کو بھی چائنہ کے ساتھ الجھنے کیلئے کوئی محاذ چاہیے تھا اس لئے امریکہ نے بھارت کو فرنٹ لائن کے طور پر استعمال کیا۔
جب بھارت نے ان عزائم کے ساتھ لداخ کے محاذ پر چائنہ کی طرف رخ کیا تو چائنہ نے دشمن کے ارادوں کو فوراً بھانپ لیا اور دنیا کے اونچے محاذوں میں سے ایک لداخ اور سکم پر اپنی فوج بھیج کر بھارت کے عزائم کو خاک میں ملادیا۔ چائنہ کے صدر نے مزید پانچ ہزار فوج کو بارڈر پر تعینات کردیا، چائنہ فوج نے دریائے گالوان کے ساتھ ساتھ سوسے زیادہ فوجی کیمپ بھی لگا لئے ہیں، چائنہ کی فوج نے پچھلے ڈیڑھ ماہ سے لوکل سطح کی میٹنگ جسے فلیگ میٹنگ بھی کہا جاتا ہے اس سے بھی انکار کردیا، اس کے ساتھ ساتھ چائنہ نے اپنی کامیاب سفارت کاری کی بدولت نیپال کو بھی ساتھ ملا لیا ہے۔ بھارت اور نیپال کے درمیان ہمیشہ ہی اچھے تعلقات رہے ہیں لیکن جب چند سال پہلے نیپال میں بادشاہت ختم ہوئی اور نیا آئین بنایاگیاتو بھارت نے انکے آئین میں مختلف ترامیم کرانا چاہیں جو نیپال نے نہیں کی، جس سے بھارت نے نیپال کی دنیا سے تجارت جو بھارت کے راستے ہوتی تھی بند کردی کیونکہ نیپال کو ئی سمندر نہیں لگتا، بھارت کے اس عمل کے بعد نیپال نے چائنہ کی طرف دیکھنا شروع کردیا، اب نیپال نے بھی بھارت سے پہلے تو کالا پانی سرزمین جو ان کے درمیان متنازعہ علاقہ ہے اسکا مطالبہ کیا پھر اسکے کچھ دن بعد ہی نیپال نے اپنا نیا نقشہ جاری کرتے ہوئے بھارت اور نیپال کے درمیان متنازعہ علاقوں کو اپنے نقشے میں شامل کرلیا اور ساتھ ہی ان علاقوں میں انفراسٹرکچر بنانے کا بھی اعلان کردیا جس کی ذمہ داری انہوں نے نیپالی فوج کو سونپی ہے۔ نیپال کی طرح بھوٹان سے بھی کبھی بھارت کے گہرے رشتے ہوا کرتے تھے، لیکن موجودہ بھارت چائنہ تنازعہ میں بھوٹان نے بھارت کی طرف ممکنہ جھکاو¿ کی بجائے خاموشی اختیار کر لی ہے۔ بنگلہ دیش کا بھی اس تنازعہ سے کوئی خاص لینا دینا نہیں، لہٰذا چائنہ نے اپنی کامیاب سفارتکاری کی بدولت بھارت کو چاروں شانے چت کردیاہے۔ بھارت کا خیال تھا کہ اس معاملے پر امریکہ بھارت کا بھرپور ساتھ دیگا، وہ نہ صرف پریس ریلیز کے ذریعے چائنہ کو دھمکی دیگا بلکہ جدید جنگی سازوسامان بھی بھارت کو چائنہ سے لڑنے کیلئے دیگا، مگر حقیقت اسکے برعکس رہی کیونکہ امریکہ ان دنوں ایک سیاہ فام جارج فلائیڈ کے قتل کے بعد اپنے اندرونی معاملات میں بری طرح الجھ گیا ہے۔
بھارتی صحافی اور سیاستدان جو ہر وقت اپنی قوم کو اشتعال دلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے چین کے ہاتھوں پسپائی پر خاموش دکھائی دے رہے ہیں۔ بھارتی میڈیا جو صرف ایک پاکستانی کبوتر کا بارڈر کراس کرنے پر دو دو دن تجزیے کرتا تھا چین سے بری طرح مار کھانے کے بعد ساری کوریج کرونا پر شروع کرد ی ہے، لیکن حقائق کو کب تک چھپایا جاسکتا ہے۔ اب آہستہ آہستہ بھارتی فوج اور حکومت کی ناکامی کی بازگشت اب وہاں کے لوگوں میں سنائی دے رہی ہے۔ بھارت کے نامور معتبر دفاعی تجزیہ نگار اجے شکلا نے حال ہی میں بزنس سٹینڈرڈ میں ایک بلاگ لکھ کر بھارتی فوج کی جنگی محاذ پر اور بھارتی حکومت کی سفارتی محاذ پر ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔ اجے شکلا کے اس آرٹیکل سے بھارتی فوج کی دفاعی طاقت اور صلاحیت سب کے سامنے عیاں ہوگئی ہے۔ یہ بھی کہا جارہاہے کہ بھارتی فوجی لیڈر شپ چائنہ سے جنگ نہیں چاہتی کیونکہ چائنہ بھارت سے بڑی فوجی قوت اور معیشت ہے اور نہ ہی بھارتی حکومت اس معاملے کو اقوام متحدہ لے جاسکتی ہے کیونکہ اقوام متحدہ کہے گا کہ پہلے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرو جس کی بھارت ہمیشہ سے نفی کرتا آیا ہے۔
یہ تھی اب تک کی صورتحال جس میں بھارت اب تک ہر محاذ پر بری طرح ناکام ثابت ہوا ہے۔ مستقبل قریب میں کیا ہونیوالاہے ، کیا چائنہ لداخ اور اسکم کے علاقوں پر اپنا قبضہ مستقل کریگا؟ کیا بھارت چائنہ سے جنگ کریگا یا پھر اپنی ناکامی تسلیم کرکے باہمی مذاکرات کیلئے چائنہ کو راضی کریگا؟ کیا امریکہ اپنے اندرونی مسائل سے فارغ ہوکر چائنہ کیخلاف محاذ میں بھارت کو استعمال کریگا؟ اس بارے کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔
(کالم نگار شعبہ وکالت سے منسلک ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved