تازہ تر ین

کرپشن اور ریاست مدینہ

جاوید کاہلوں
”تصورِریاست ِ مدینہ“ کا جونہی عمران خان کے لبوں سے ذکر نکلا، اس پر ہر طرف سے بھانت بھانت کی بولیاں پڑنے لگیں، پاکستانی عوام کی اکثریت تو اس بات پر ہی نہال تھی کہ جیسا کچھ بھی ہے، وزیراعظم پاکستان کے دل کی ایسی نیک خواہش کی تحسین تو بہر حال ہونی چاہیے، مگر روایتی مذہب بیزار معدودے چند طبقہ کے افراد اپنے اپنے مشکوک شجرہ ہائے نصب کے زیر اثر ایسے خوبصورت خیال پر بھی عمران خان کے لتّے لینے کو بے چین ہوگئے، ان مذہب بیزاروں میں میڈیا کے وہ لوگ بھی شامل ہوگئے جن کا پیشہ ہی لفافہ لیکر پاکستان دشمنی پر کسی بھی بیانیے کو تقویت دینا ہوتی ہے، ان کو اس حقیقت سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ آگے تنقید ریاست مدینہ پر ہورہی ہے اور اس سے کفر و باطل کی قوتوں کو جلا ملتی ہے، ان کو تو غرض اپنے اس وظیفے سے ہوتی ہے جو کہ انہیں پاکستان کے مشرق ، مشرقِ وسطیٰ یا سات سمندر پار موجود ایک خود ساختہ گلوبل ٹھیکیدار دارالحکومت سے ملنے کی امید ہوتی ہے۔ بہر حال یہ کچھ ایسی عجب بات بھی نہیں، ہر ملک اور معاشرے میں ایسے نفوس پائے جاتے ہیں۔ سو پریشانی اور فکر مندی کی چنداں ضرورت نہیں، ہر کسی کا رزق متعین ہے البتہ یہ اسکی فطرت پر ہے کہ وہ اپنا رزق وطن و قوم سے غداری کرکے کماتا ہے یا پھر اپنے ملک و ملت سے وفاداری حتیٰ کہ جان تک قربان کرکے، لیکن ایک بات طے ہے کہ تصورریاست مدینہ ہر اس مسلمان کا خواب ہوتا ہے جس میں کہ رتی بھر بھی ایمان کی حرارت موجود ہو۔
سو ایسا ہی عمران خان نے کہا ۔ بحیثیت مسلمان اور بالخصوص ایک حکمران کے، اس نے بھی پاکستان کے متعلق کچھ نہ کچھ سوچ رکھا ہوگا۔ اس میں کیا شک ہے کہ مسلمان تو ایک طرف رہے غیر مسلموں کیلئے بھی ڈیڑھ ہزار برس قبل قائم ہوئی خلافت راشدہ کے مدینہ منورہ میں قائم ریاست کے تیس برس ایک مینارہ نور ہیں، روئے زمین میں اس جیسی جمہوریت اور اس جیسا انداز حکمرانی نہ کبھی دیکھا گیا نہ سنا گیا۔ پچھلی صدی میں رائج جمہوریت تو ابھی کل کی بات ہے، چودہ سو برس پہلے جو جمہوریت مدینہ منورہ میں رائج ہوئی۔ حالانکہ وہ ایک مکمل جاہل معاشرہ تھا، سخت ترین قبائلی نظام میں جکڑا ہوا، جس کا نہ تو کوئی انداز معیشت تھا اور نہ ہی کوئی انداز معاشرت ، تقریباًتمام دنیا قیصر و کسریٰ کے استبداد تلے قید تھی، انسان انسان کا غلام تھا اور بس۔ ایسے ماحول کے بیچوں بیچ ریاست مدینہ بنی اور اس میں جمہوری خلافت کا نظام رائج ہوا، اس میں منصب خلافت کو عوامی شورائیت کے فلسفے کے ساتھ یوں استوار کیا گیاتھا کہ خلیفہ بغیر مشورے کے قطعاً کوئی حکم نہیں دے سکتا تھا، جبکہ حکم آنے کے بعد تمام امت کے ہر عاقل و بالغ مرد پر خلیفہ کے حکم کا اتباع ایک دینی فریضہ ہوجاتاتھا۔ ریاست مدینہ کا بہترین روشن چہرہ اولین شیخین کا دور تھا، یعنی کہ حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کا دور خلافت ۔ اگرچہ تاریخ میں تیس سالہ دور خلافت کو خلافت راشدہ کا نام دیا جاتا ہے ، عام مسلمانوں کے نزدیک دین اسلام کے ماخذ قرآن و سنت میں جوکہ کتابی شکل میں محفوظ و مامون ہیں، لیکن اگر کوئی کتابی شکل میں محفوظ قرآن و سنت کو مجسم تشکیل میں ملاخطہ کرناچاہے تو وہ شیخین کا دور خلافت ہے۔ ریاست مدینہ میں یہی وہ دور ہے جس میں قرآن و سنت کی عملی تعبیر انسانیت کو دیکھنے کو ملی۔ ایسی اونچائی حاصل کرنا تو درکنار ایسے تصور کے آس پاس تک پہنچنا بھی ایک سخت کار محال ہے۔ لہٰذا جب بھی اب کوئی ریاست مدینہ کی بات کرے تو خواہ وہ عمران خان جیسا حکمران ہو یا کوئی اور، مطلب صرف ایک مقصد و مرتبہ¿ جلیل کا ذکر کرنا ہوتا ہے، جس تک یا اسکے قریب ترین پہنچنے کی کوئی اب فقط نیت اور ارادہ کرسکتا ہے، اور ایسی نیت اور ایسا ارادہ بھی تو اوپر والا صرف خوش نصیبوں کے دل ہی میں ڈالتا ہے۔ کیا عمران خان سے قبل کی سات دہائیوں میں پاکستان کے کسی حکمران نے کبھی بھی ایسا ارادہ ظاہر کیاتھا؟ اسکا جواب یقینا نفی میں ہے۔
اب یہ بھی ایک قابل غور بات ہے کہ ستر برس تک جس منزل کو پانے کی کوئی بھی پاکستانی حکمران تمنا نہ کرسکا، وہ وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالتے ہی عمران خان کو کیسے سوجھ گئی؟ اسکی صرف دو وجوہات نظر آتی ہیں، پہلی یہ کہ ایک ”اعلیٰ ہدف“ کے حصول کی خواہش کوئی اعلیٰ ظرف انسان ہی کرسکتا ہے ، اور عمران خان میں ایسا ظرف موجود ہے کہ وہ اپنے تئیں کسی اعلیٰ ہدف کو تعین کرے اور پھر اسے پانے میں بھی بلند حوصلے سے لگ جائے۔ بحیثیت ایک سپورٹس مین اپنی لیڈر شپ میں پاکستانی ٹیم کو ورلڈ کپ جتوانا اور بحیثیت ایک سماجی کارکن لاہور میں ایک سٹیٹ آف آرٹ کینسر ہسپتال کا اپنی والدہ کے نام سے قیام ۔ دوسری یہ کہ ہر عمل کا لازم ہے کہ ایک رد عمل ہو ،غور کریں تو جو ریاست پاکستان عمران خان کو ملی وہ پچھلی تین چار دہائیوں سے متواتر حکمرانوں کی بے حد و حساب لوٹ مار کی وجہ سے سخت بدحال ہوچکی تھی۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے کرتا دھرتا لیڈروں نے تو اس سلسلے میں انتہاہی کردی تھی، متواتر باریاں باندھ کر قوم کاخون پینے میں مل جل کر مصروف تھے، اب تو وہ عوام پاکستان کی ہڈیاں تک چوس جانے کے درپے ہوچکے تھے کہ حکمرانی عمران خان کو مل گئی، لہٰذا لازم تھا کہ پچھلے حکمرانوں کی ایسی لوٹ مار پر ایک رد عمل آتا، ہمارے خیال میں عمران خان کا ریاست مدینہ کا تصور ایسا ہی رد عمل تھا۔
ویسے تو وہ عہد صدیقی تھا یا عہد فاروقی، ان دونوں میں ریاست مدینہ کا تصور نکھر کر ایسے سامنے آچکاتھا کہ یہ سینکڑوں گوشوں اور زاویوں سے جگمگارہاتھا، مگر اسکا بہت ہی روشن پہلو یہ تھا کہ مدینہ کے حکمران نہ تو کوئی محل بناتے تھے نہ ہی کوئی دولت و جائیداد اکھٹی کرتے تھے، نہ ہی کوئی خادم و حشم رکھتے تھے اور نہ ہی کسی زرومال کی طرف کوئی التفات رکھتے تھے،بلکہ حقیقت میں تو یوں تھا کہ ایک اچھی خاصی آمدن اور آرام دہ زندگی گذارتے گذارتے جونہی یہ خلفاءمنصب خلافت پر بیٹھے یکدم سے عسرت و کٹھن کی راہ پر چل نکلے ۔ حضرت ابوبکرؓ نے اس روشن روایت کو یوں قائم کیا کہ منصب خلافت سنبھالتے ہی اگلے روز جب اپنی کپڑے کی تجارت کیلئے بازار جانے لگے تو مجلس شوریٰ کے اکابرین نے انہیں ہر قسم کی تجارت سے روک دیاکہ کسی حکمران کو تجارت زیبا نہیں دیتی، یومیہ اجرت مقرر کی جانے لگی تو ایک عام مزدور کے برابر مقرر فرمائی،ایسی قلیل اجرت کو بھی ایک دن گھر پر میٹھا پکنے پر اسی مقدار سے کم کروادیا، حد تو یہ ہوئی کہ جب آخری وقت آیاتو وصیت فرمائی کہ انکے مرنے کے بعد انکا ترکہ اکٹھا کرکے بیچ دیا جائے، اور اپنے خلافت کے ایام میں جو مشاہرہ انہوں نے بیت المال سے وصول کیاتھا اس کو واپس بیت المال میں جمع کرا دیا جائے، اور یوں اس دنیا کا حساب اسی دنیا ہی میں چکا کر رخصت ہوگئے۔
سو ریاست مدینہ میں حکمران ارفع و اعلیٰ ذاتی کردار رکھتے تھے، لازمی امر تھا کہ اگر حکمران ایسی شدت سے ایماندار واقع ہونگے تو نیچے کی فوج کوئی باغ کیونکر اجاڑے گی، اور جب حکمران شریفوں اور زرداریوں جیسے ہوں تو پھر کسی ملک میں بچے گا کیا ؟ اور عمران خان کو ملنے والا پاکستان کچھ ایسا ہی تو تھا، ان حالات میں اگر وہ ریاست مدینہ کو آئیڈیلائز کرتا ہے تو اس میں نہ جانے کیا غلط ہے کہ کچھ مادر پدر آزاد نام نہاد پاکستانی اس پر بھی سیخ پا ہوتے رہتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کی دنیا ریاست مدینہ سے ڈیڑھ ہزار برس آگے کی دنیا ہے، گو کہ سائنس اور تعلیم نے ہر شعبے میں تقریباً انقلاب برپا کردیا ہے مگر بنیادی موضوع ریاست تو بہرحال ایک بنی آدم ہی ہے۔ جاری مہ و سال میں وطن عزیز میں اس وقت کرونا کے علاوہ آٹا اور شوگر مافیا کی خبریں بڑی گرم ہیں، کرونا تو ایک آسمانی آفت ہے مگر آٹا اور شوگر مافیا کے پیچھے اب عمران خان پڑ چکا ہے۔ ایسے گورنمنٹ کے رویے سے یہ مافیا اور کارٹل باو¿لے ہورہے ہیں اور سخت پریشان ہیں، ان مافیا کو اب ریاست مدینہ کے عمران خانی تصور کے خیال سے ہی ہول اٹھ رہے ہیں، کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کرنیوالوں سے مدینہ میں کیا ہوتا تھا، اگلی اشاعت میں اس پر نظر کرینگے۔ (جاری ہے )
(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے سابق ناظم ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved