تازہ تر ین

چین ،مستقبل کی سپر پاور ؟

امتیاز رفیع بٹ
2020ءپوری دنیاکےلئے تبدیلیوں کا سال رہا۔کورونا تمام براعظموں میں تباہی پھیلارہا ہے ، کچھ ممالک اس وائرس سے دوسروں کے مقابلے میںبہتر طریقے سے نمٹ رہے ہیں۔ چین، جرمنی، نیوزی لینڈ اور جاپان ان ممالک میں سے ہیں جنھوں نے اس وباپر قابو پانے میں انتہائی مستعدی دکھائی ۔ دوسری طرف امریکہ برطانیہ، اٹلی اور اسپین جیسے یورپی ممالک تباہی سے دوچار ہیں۔ کوویڈ وبائی مرض ایک مخمصہ بن چکا ہے ایک طرف انسانوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہے جس سے لاک ڈا¶ن کے ذریعے بچایا جاسکتا ہے لیکن دوسری طرف معیشت اس لاک ڈا¶ن کی زد میں ہے۔ امریکہ دونوں کی حفاظت میں ناکام رہا ہے۔ اس مرض سے چین اور امریکہ کے مابین سرد جنگ کا پردہ بھی پوری طرح فاش ہو چکا ہے۔ بیجنگ عالمی قیادت اور تیز ترین ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔ بہت سے ممالک چڑھنے والے سورج کے منتظر ہیںتاکہ وہ اس کے پجاری بن سکیں۔ عالمی رہنما¶ں کے دل و دماغ جنگ کی سی کیفیت میں مبتلاہیں۔ ون بیلٹ ون روڈ کو امریکہ، بھارت اور نیٹو ممالک کی طرف سے خطرہ سمجھا جا رہاہے، چین کا اثر و رسوخ کم کرنے کےلئے جنوبی چین سمندری تنازعہ، ہانگ کانگ اور تائیوان کو سرخ روشنی سے رنگا جارہا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس سب کے باوجود حالات بیجنگ کے حق میں سازگار ہیں۔
امریکی حکومت اور ری پبلیکن کا تھنک ٹینک ایشیائ، یورپ اور افریقہ کو منسلک کرنےوالے ون بیلٹ ون روڈ کو ٹریلین ڈالر کی بیوقوفی قرار دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اوبور کے منصوبوں کی ادائیگی کبھی نہیں ہوگی۔ یہ منصوبے چینی حکومت کےلئے صرف اور صرف بدترین قرضوں میں اضافہ کریں گے۔ او بور کےلئے سمندری اور ریلوے نیٹ ورک بہت مہنگے ہوں گے ،ان منصوبوں میں سرمایہ کاری بے سود ہو گی۔ واشنگٹن کے ذرائع ابلاغ او بور کو محض ایک سیاسی چال قرار دیتے ہیں جس کی کوئی معاشی افادیت نہیں ہو گی۔امریکی ذرائع ابلاغ ایک اور اعتراض یہ اٹھا رہے ہیںکہ چین ایک متوسط آمدنی کا حامل ملک ہے جو اپنے سرمائے کے خطیر ذخائر ایسے منصوبوں پر ضائع کر رہا ہے جن کی تکمیل حقیقت میں ممکن نظر نہیں آتی، یہ چین کی معاشی بدحالی کا سبب ہوں گے۔ امریکہ اور بھارت کے جارحانہ موقف نے بیجنگ پر دبا¶ بنانے کی کوشش کی تاکہ وہ ان منصوبوں کے حوالے سے اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کر ے ۔ او بورکے خلاف اِن نکات کا بغور محتاط انداز میں تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ چین کی OBOR میں کامیابی کا اندازہ صرف مالی یا سیاسی لحاظ سے نہیں لگایا جاسکتا اس کے علاقائی بھی دوررس نتائج ہوں گے۔ چین سرمایہ کاری نہیں کررہا ہے بلکہ جغرافیائی رابطوں کو وسعت دے رہا ہے۔صرف مالی فوائد کے تناظر میں اسے دیکھنا مضحکہ خیز ہوگا اوبور وسیع المقاصد منصوبہ ہے۔
چینی ارادوں کو ناکام بنانے کےلئے امریکہ اور ہندوستان جیسے ممالک نے متعدد سفارتی تخریب کاری مشنز انجام دیئے ۔ ان میں سب سے پہلے ہانگ کانگ میںفسادات کو بڑھاوا دیا گیا لیکن بیجنگ مضبوط گرفت قائم رکھنے کے لیے پر عزم نظر آتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی تجارتی پالیسیوں سے چین پر بار بار حملہ کرچکے ہیں۔ امریکہ میں چینی برآمدات پر پابندی عائد کردی گئی ہے یا ٹیکسوںمیں کئی گنا اضافہ کردیا گیا ہے۔ چین نے بھی ایسا ہی کیا ہے لیکن اس بات کو بھی دھیان میں رکھنا چاہئے کہ امریکہ چین کا ایک ٹریلین ڈالرز سے زائد کا مقروض ہے۔ بھارت نے معاندانہ رویہ اپناتے ہوئے عالمی برادری کو اعتماد میں لیے بغیر مقبوضہ کشمیر اور لداخ کی حیثیت تبدیل کرنے کی حماقت کی۔ چین نے بھارت کے اس عمل کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے لائن آف ایکچوول کنٹرول پر فوجی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ جون میںاس فوجی تنازعے کے باعث ایک ہندوستانی کرنل ہلاک اور 20 سے زیادہ فوجی ہلاک ہوگئے۔
پاکستان او بور اور سی پیک کے حوالے سے درست سمت میں پیش قدمی کر رہا ہے ۔اس منصوبے کے دوسرے مرحلے پر کام شروع ہو چکا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کو سی پیک اتھارٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔جنگی بنیادوں پر سی پیک کی ٹائم لائنز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کےلئے عمران خان حکومت تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ گوادر کو او بور کے زمینی روٹ میں کلیدی حیثیت حاصل ہے۔
2020 بحران اور تبدیلیوں کا سال ہے۔ ہر بحران میں ایک نادر موقع ہوتا ہے۔ دنیا بھر کی اقوام کو کورونا وبائی مرض نے جھنجھوڑ کے ان کے پردے چاک کر دیے ہیں۔ امریکہ جس وبائی مرض کا مقابلہ کرنے میںبری طرح ناکام رہا ہے چین نے 3 ماہ سے بھی کم عرصے میں اس پر قابو پا لیا۔ چین کی معیشت ٹھیک ہورہی ہے وہ وقت زیادہ دور نہیں جب چین سپر پاور کے طور پر عالمی رہنما کا کردار سنبھالے گا، تقریبا تمام ممالک اس حقیقت کو محسوس کرچکے ہیں کہ اب تمام راستے بیجنگ کی طرف جا رہے ہیں۔
( جناح رفیع فاﺅنڈیشن کے چیئرمین ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved