تازہ تر ین

جب تک کرونا ہے سیاست کا کھیل بند کریں

پیارے پڑھنے والے ہم سارا دن اپنے کسی نہ کسی ملنے والے دوست یا عزیز کی وفات کا سنتے ہیں اور سوائے یہ کہنے کہ اللہ مغفرت کرے اور کچھ نہیں کرسکتے۔ انسان یہی کہہ سکتا ہے کیونکہ زندگی اور موت کا اختیار صرف اللہ کی ذات کو ہے۔ ہمارے دوست‘ ہمارے بزرگ‘ ہمارے علمائ‘ ہمارے سکالرز‘ ہمارے عزیز و اقارب اور آگے ان کے رشتہ دار غرض دن میں 8 دس مرتبہ تو مجھے بھی تعزیت کرنا پڑتی ہے اور اللہ سے دعا بھی مانگتا ہوں کہ جانے والے کی آخرت ٹھیک ہو۔ طوطے کی طرح ہمیں بھی انگریزسرکار اپنی والی جمہوریت کا سبق دے گئے تھے۔ ان ملکوں میں تو عوام آزاد ہے لیکن ہمارے ہاں سو میں سے 70 آدمی کسی نہ کسی انسان‘ تنظیم‘ مذہبی عقیدے‘ پیر صاحب‘ سرداری نظام‘ ذات برادری دولت کی ریل پیل کے سامنے بے بس ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ہمارا ملک ایسا ہے جس میں ایک طرف مغرب زدہ عورتیں ”میرا جسم میری مرضی“ جیسی تحریکیں چلا رہی ہیں اور دوسری طرف اس ملک کے کتنے علاقے ایسے ہیں جہاں سبھی پارٹیاں مل کر فیصلہ کرلیتی ہیں کہ کوئی عورت ووٹ نہیں ڈالے گی۔ ہماری مائیں ‘ بہنیں ‘ بیٹیاں ووٹ کے جس حق تک سے محروم کردی گئی ہیں اس سرمایہ دارانہ جمہوریت میں عوامی نمائندے کیا کرتے ہیں اپنی تنخواہوں‘ مراعات کیلئے انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ ایک ہوجاتے ہیں۔ کیا اپوزیشن اور کیا حکومت ‘ اسمبلیوں کے ارکان پر کیا خرچ آتا ہے اس کی پوری تفصیل انٹرنیٹ سے مل سکتی ہے لیکن میں یہاں مسلم لیگ (ن) کے گورچانی صاحب کی طرف سے بھیجا ہوا ایک میسج آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں کوئی غلطی ہو تو آپ اصلاح کرلیں نیٹ پر تمام تفصیلات موجود ہوتی ہیں۔ ملاحظہ کیجئے۔ ”کیا آپ جانتے ہیں کہ کونسی اسمبلی کے ممبرز کی تعداد کتنی ہے اور فی کس تنخواہ کیا ملتی ہے۔
بلوچستان: 65 تنخواہ ایک لاکھ 25 ہزار
کے پی کے: 145 تنخواہ ایک لاکھ 50 ہزار۔
سندھ: 168 تنخواہ ایک لاکھ 75 ہزار
پنجاب: 371 تنخواہ 2 لاکھ 50 ہزار
قومی اسمبلی کی تعداد 342 تنخواہ 3 لاکھ
سینٹ کی تعداد 104 تنخواہ 4 لاکھ
سب کو جمع کرلیجئے ٹوٹل تنخواہیں ایک ماہ کی 296225000 ایک سال کی تنخواہیں ٹوٹل 3554700000 اس میں ہاﺅس رینٹ ‘ گاڑی اور تیل‘ گھر کے تمام بل اور رہائش کے اخراجات‘ سپیکر ‘ ڈپٹی سپیکر ‘ وزرائ‘ وزیراعلیٰ ‘ گورنر ‘ وزیراعظم اور صدر کی تنخواہیں شامل نہیں ہیں۔ مختلف اجلاسوں کے اخراجات اور بونس ملا کر سالانہ خرچ 85 ارب کے قریب پہنچ جاتا ہے یہ لوگ خود ٹیکس بھی نہیں دیتے۔ یہ معلومات جاننا آپ کا حق ہے کیونکہ یہ سارا پیسہ آپ کا ہی ہے‘ دوسری طرف حکومتی مشینری کو چلانے والے سرکاری ملازمین ہیں اور کریڈٹ سارا حکومتی عہدیدار لے جاتے ہیں۔ اکثر اوقات ملک میں کوئی بھی بحران آتا ہے تو فوراً سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کرلی جاتی ہے اور جب تنخواہ بڑھانے کی باری ہوتی ہے تو حکومتی خزانہ خالی ہوجاتا ہے۔ مجھے بتائیں کیا ملکی بحران سے نکلنے کیلئے ان وزیروں‘ مشیرںنے اپنی تنخواہ کا نذرانہ پیش کیا۔ ریاست مدینہ کے دعوے اور انصاف کرنا سیکھیں۔
پیارے پڑھنے والے ہوسکتا ہے اس خط میں کچھ ہندسے صحیح نہ ہوں انٹرنیٹ آپ کے سامنے ہے آپ خود تصدیق کرلیں لیکن میں ایک بار پھر یہ بات کہوں گا کہ کرونا کے خاتمہ کیلئے کیا تدابیر ہونی چاہئے اس پر تو یار لوگ مل کر بیٹھتے نہیں مسلم لیگ ن کے گورچانی صاحب نے جو خط لکھا ہے یہی وطیرہ پچھلی حکومتوں کا تھا مخالف ارکان اسمبلی ایک دوسرے کیخلاف اتنی تقریریں کرتے ہیںکہ لگتا ہے کبھی سادہ پانی کا گلاس پینے کیلئے بھی ایک جگہ اکٹھے نہیں ہوسکتے مگر تنخواہوں اور مراعات کے سلسلے میں کیسی محبتیں بڑھ جاتی ہیں۔ متعدد اسمبلیوں میں متفقہ طور پر یہ قراردادیں پاس کیں اور پچھلے دنوں میں یہ جان کر حیران رہ گیا کہ پنجاب اسمبلی نے جب تنخواہیں بڑھا لیں تو کسی ذہین آدمی نے اپوزیشن کو خوش کرنے کیلئے یہ الفاظ بھی شامل کردیئے کہ سابق وزیراعظم اور سابق وزیراعلیٰ کو بھی رہائش الاﺅنس اور سیلری ملنی چاہئے۔ اللہ اللہ کرنے کا مقام ہے لوگ بھوک‘ بیکاری سے فاقوں مر رہے ہیں‘ بیروزگاری کا جن سرپر کھڑا ہے اور ہماری کوئی پلاننگ نہیں ‘ عمران خان صاحب نے وعدہ کیا تھا کہ پچاس لاکھ مکان تیار کرکے لوگوں کو دیں گے مگر فارم تقسیم کرنے میں ہی حکومت کروڑوں روپے کما گئی ابھی مکان کی کوئی بنیاد بھی نہیں پڑی۔ عمران خان صاحب نے تو کہا تھا کہ باہر سے اتنی سرمایہ کاری لائیں گے کہ ملک میں کوئی بیروزگار ہی نہ رہے گا۔ سعودی عرب سے ایک مرتبہ اعلان اور ایک مرتبہ اعادہ ضرور ہوا لیکن گراﺅنڈ پر کچھ نظر نہیں آتا۔ عمران خان صاحب کی حکومت کو چاہئے کہ کوئی تو وعدہ پورا کردے۔ انہوںنے کہا تھا کہ سابق حکمرانوں کے پیٹ پھاڑ کر سارا سرمایہ بیرون ملک سے واپس لاﺅں گا اور پاکستان قرضے ادا کرکے خوشحال ہوجائے گا
اے بسا آرزو کہ خاک شدہ
ایک بار تو پنجاب اسمبلی کے ارکان کو عمران خان نے آکر روک دیا تھا مگر ہمارے ہاں رکن اسمبلی ریاست کا والی ہوتا ہے یہ الگ بات ہے کہ ہمارے علاقے کا ایم این اے بھی وزیر بن گیا اور ایم پی اے بھی صوبائی وزیر ہیں چوک میں سو آدمی کھڑے کرکے حلف اٹھوا دیتا ہوں کہ الیکشن کے بعد نہ کبھی ایم این اے نے علاقے کا چکر لگایا اور ایم پی اے تو لاہور ہی میں رہتے ہیں لیکن جتنی بری حالت علاقے کی ہے معلوم نہیں وہ کونسی تعلیم لے چکے ہیں۔ شاید استادوں اور استانیوں کے تبادلے کے علاوہ انہیں کوئی کام نہیں۔
عوام یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ ایم پی اے ‘ ایم این اے ہونا تو بڑی بات ہے ہمارے 80 فیصد کام تو بلدیاتی ادارے کرتے تھے۔ ان اداروں میں کیونکہ سابقہ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی اکثریت تھی اس لئے وہ ختم کردیئے گئے۔ اب ایم این اے ‘ ایم پی اے بیچارہ کیا کرے وہ چاہے بھی تو کیا گلی محلے کی سڑک صحیح کرواسکتا ہے کیا خراب ٹیوب ویل کو درست کرواسکتا ہے۔ اختیارات جن افسروں کے پاس چلے گئے ہیں ان تک پہنچنا کارِ دارد‘ آئے دن اعلانات ہوتے ہیں کہ بلدیاتی انتخاب کیلئے تیاری کریں پھر سنتے ہیں کہ کچھ رکاوٹیں ہیں الیکشن کمیشن تیار نہیں ہے‘ فوجی ڈکٹیٹروں نے بھی مثلاً ایوب خان‘ ضیاءالحق اور پرویزمشرف نے زیادہ زور بلدیاتی اداروں پر دیا تھا۔ پرویز مشرف نے نومنتخب میئر کو عملاً ضلع کا چیف منسٹر بنا دیا تھا ہرشخص کیلئے جو گلی یا محلے میں رہتا ہے اس کیلئے بلدیاتی نمائندے سے ملنا آسان تھا یہ ایک جال تھا جو جمہوریت کو نیچے تک لے گیا تھا۔ شہر میں بلدیہ اورکارپوریشنیں اور دیہات میں ضلعی اور تحصیل کونسلیں یونین کونسل تک جاتیں اور عوام سے رابطہ رکھتی تھیں۔ سینٹ ہو‘ وفاقی اسمبلی ہو یا صوبائی اسمبلیاں وہاں تو بڑے بڑے لوگ ہوتے ہیں جنہیں ہم ووٹ دے کر منتخب کرتے ہیں اور زیادہ تر حالتوں میں وہ ہمیں طلب کرتے ہیں کہ ہمیں ووٹ ڈال جاﺅ۔ پیارے پڑھنے والے کبھی آپ نے سوچا ہے کہ بگٹی صاحب کے علاقے میں ان کے علاوہ کوئی کسی کو ووٹ دے سکتا ہے‘ کیا پیروں کو ہرایا جاسکتا ہے جو زمیندار بھی ہو‘ کیا شوگر مل مالکان کو ہرایا جاسکتا ہے جن کے پاس دیہات کے دیہات ضرورت مند ہوں۔ کیا سرداروں کو‘ وڈیروں کو صنعت کاروں کو‘ پیشہ ور سیاست دانوں کو جنہوں نے دولت بھی جمع کرلی ہو‘ ہرایا جاسکتا ہے۔ حاجی سیف اللہ پاکستان کے معروف ترین پارلیمنٹرین تھے ایک بار انہوں نے قومی بجٹ پیش ہونے سے رکوا دیا تھا کہ قانونی نقطہ یہ ہے کہ ابھی نئی عمارت جس میں ہم بیٹھے ہیں سرکاری نوٹیفکیشن نہیں ہوا کہ یہ اسمبلی ہال ہوگا وہ اپوزیشن کے دھانسو مقرر تھے اور پنجاب اسمبلی سے قومی اسمبلی تک میںنے انہیں بہت دیکھا تھا پھر وہ وزیر مذہبی امور بھی بن گئے مگر مقابلے میں بڑا پیسہ تھا اس لئے دوسری بار ہار گئے اور یوں پاکستان ایک بہترین رکن پارلیمنٹ سے محروم ہوگیا۔ درویش مزاج ملک معراج خالد مجھے ایک دن اپنے گاﺅں ڈیرہ پر لے گئے وہ سپیکر رہے ‘ نگران وزیراعظم بھی بنے لیکن گاﺅں کو جانے والی سڑک پر صرف ٹائرگزارنے کیلئے کچھ اینٹیں لگی ہوئی تھیں۔ میں نے کہا ملک صاحب آپ پنجاب میں بھی وزیر رہے یہ سڑک تو پختہ کروالیتے وہ ہنس پڑے۔ ہال روڈ پر لکشمی بلڈنگ میں فلیٹ میں رہتے تھے اور وزیراعلیٰ پنجاب تھے تو ایک دن گاڑی خراب ہوگئی تو دوسری گاڑی نہ ملی تو رکشہ میں سیکرٹریٹ پہنچ گئے۔ انہوں نے بھی آخری عمر میں مختلف جماعتوں کی طرف سے پیش کش ہونے کے باوجود الیکشن لڑنے سے انکار کردیا تھا کہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔ الیکشن ہورہا تھا وہ تین ماہ کیلئے نگران وزیراعظم تھے تو میں اور محمد علی درانی ان کے پاس بیٹھے تھے میں نے کہا آپ نے ووٹ نہیں ڈالنا کہنے لگے جاﺅں گا پوچھا کس کو ووٹ دو گے انہوں نے سینے پر ہاتھ رکھ کرکہا یہ میرے اور میرے رب کے درمیان امانت ہے جس کو دوں گا اس کا نام کیوں بتاﺅں۔
کوئی پڑھا لکھا شریف آدمی اس نظام میں رکن منتخب ہوسکتا ہے اس کا جواب آپ خود دیجئے پھر بھی آپ اس سرمایہ دارانہ جمہوریت کے گن گانا چاہتے ہیں تو آپ کے جو دل میں کیجئے
میں نے کہہ دی ہے اپنے دل کی بات
اب میرے چیتھڑے اڑا چاہے
٭٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved