تازہ تر ین

عام آدمی کا پاکستان !

عثمان احمد کسانہ
دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ لگا کر حکومت میں آنے والی جماعت کے دو سالہ دور اقتدار کا سرسری جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے نیا پاکستان کھوجتے کھوجتے ہم پرانا بھی گنوا بیٹھے ہیں۔ یہ تو درست ہے کے دنیا امید پہ قائم ہے مگر ” کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک“ کے مصداق اب ہماری تو ہمت بھی جواب دینے لگی ہے ۔اب تو بڑے بڑے بہادر لوگ بھی گھبرانے کی اجازت مانگتے نظر آتے ہیں بلکہ سہمے ہوئے اور خوفزدہ نظر آنے لگے ہیں ۔تبدیلی کے رسیا لوگ یہ جان کر حیران بلکہ پریشان ہونے لگے ہیں کہ چینی ، آٹا اور پیٹرول اگر سچ پوچھیں تو خود حکومت بھی مافیاز کے کنٹرول میں ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ میرے وطن کے کسی ایک باسی کو بھی یہ پوچھنے کا حق ہرگز حاصل نہیں کہ تبدیلی کہاں ہے اور حقیقی تبدیلی کب آئیگی کیونکہ اہل پاکستان جو گذشتہ تیس پینتیس برسوں سے گونگے بہرے بنے ہوئے تھے انکو اب نئے پاکستان کی ضرورت اتنی شدت سے کیونکر محسوس ہونے لگی ہے ۔ جو قوم پچھلے تین چار عشروں سے آنکھیں اور کان بند کئے ہوئے تھی اب محض دو برسوں میں نہ صرف اس کے کان اور آنکھیں کھل گئی ہیں بلکہ زبان بھی دراز ہونے لگی ہے ۔ یہ شور و غوغا حکمرانوں کو اچھانہیں لگتا اور نہ ہی یہ انکے شایان شان ہے کہ انہیں انکا ماضی یاد کروایا جائے ۔ ماضی کے طعنے تو سوال کرنے والے کیلئے ہوتے ہیں کہ جو بولے اسے یہ کہہ کر چُپ کروادیاجائے کہ تمھارا شعور اس وقت کہاں تھا جب ماضی کے حکمران اس قوم کی تباہی میںدن رات ایک کئے
ہوئے تھے ، جب وہ تعمیر و ترقی کے نام پر ملک کا خزانہ خالی کر رہے تھے ، جب وہ اندھیروں کو مٹانے کا جھانسہ دیکرنئی نسلوں کا مستقبل تاریک کرنے کے در پے تھے ، اور تم اس وقت کیوں خاموش تھے جب وہ ملکی معیشت کو مصنوعی طریقے سے چلا رہے تھے ، تمھاری آنکھیں اس وقت کیوں بند تھیں جب وہ محض اپنی ذات کیلئے دوست ممالک سے اربوں ڈالر کے معاہدے کر کے قوم کو خوشحالی کی جعلی تصویر دکھا رہے تھے ، اس ساری بحث کو سمیٹتے ہوئے میںنئے پاکستان کے عظیم معماروں کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ حضور ہمارا کچھ بھی نہیں ، ہمیں تو کچھ بھی نہیں پتہ ہوتا تھا ، یہ سوال کرنے کی طاقت اور برے بھلے کی تمیز کا شعور آپ ہی کا دیا ہوا ہے، جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا ہم اس وقت بھی خواب غفلت میں نہ تھے ہم تو اس وقت بھی آپکی تقریروں کے گرویدہ تھے ، ہم کنٹینر سے بلند ہونے والی ہر آواز کو روشن مستقبل کی نوید سمجھتے ہی نہیں دل و جان سے مانتے بھی تھے ۔ مگر عالی مرتبت خو گر ِ حمد سے مودبانہ گلِہ بھی سُن لیجئے کہ آج بھی ہم اسی پرانے پاکستان کی تنگ و تاریک راہوں میں بھٹکتے پھر رہے ہیں ۔
آج بھی یہاں دو پاکستان ہیں ایک اشرافیہ کا پاکستان اور ایک عام آدمی کا پاکستان،ایک قانون کی دھجیاں اڑانے والوں کا پاکستان اور ایک قانون سے ڈرنے والوں کا پاکستان ،ایک سیاہ و سفید کے مالکان کا پاکستان اور ایک تہی دامنوں کا عدم مساوات کا شکار پاکستان، یہاں کچھ بھی برابر نہیں ،کھانے، پینے ، رہنے ، سہنے ،کمانے کے مواقع سے لیکر باہمی میل جول اور سماجی درجہ بندی تک ہر معاملے میں دوہرا معیار ہے ۔ اور تو اور ریاست جسے ماں کا درجہ حاصل ہوتا ہے وہ بھی اپنے باشندگان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہے جس کی سینکڑوں مثالیں روزمرہ زندگی سے دی جا سکتی ہیں، ایک طرف بااثر طبقات کے قضیوں کا چند دنوں میںفیصلہ کر کے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیا جاتا ہے ، بعض اوقات تو اثر و رسوخ کی شدت کے باعث معاملے کی نوعیت و اہمیت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ نہ دن دیکھا جاتا ہے نہ رات اور ضرورت پڑے تو چھٹی والے دن بھی عدالت لگا لی جاتی ہے ۔ دوسری طرف سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے متلاشیان انصاف چودہ لاشیں ،سینکڑوں زندہ و جاوید گواہیاںاور ثبوت لیکر چھ سال سے در بدر ہیں کوئی پرسان حال نہیں ، پہلے تو ملزمان کی طاقت آڑے آتی تھی اب کیا رکاوٹ ہے کوئی بھی نہیں بتاتا ، شہدا کے ورثاءہنوزمنتظر نگاہوں سے اپنے انصافی کزنز سے ملتجی ہیں کہ اور کسی بات کا نہیں تومظلوموں کو انصاف دلانے کیلئے اپنے کئے ہوئے وعدوں کا ہی پاس کر لیا جائے ۔ موجودہ ملکی سنگین صورتحال میں بھی ہم دو الگ الگ نظاموں کے تحت کرونا جیسی وبا سے نبرد آزما ہیں ۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایس ا و پیز اور لاک ڈاﺅن پر عملدرآمد میں بھی واضح فرق نظر آتا ہے ۔ سیل شدہ پوش ایریاز اور امراءکی ہاﺅسنگ اسکیموں میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ادب و احترام سے حکومتی رٹ منواتے نظر آتے ہیں جبکہ اسی پولیس اور سرکاری اہلکار کے ہاتھوں غریب ریڑھی بان ، چھابڑی فروش اور چھوٹے دکاندار کی آتمہ رُلتی دیکھنی ہو تو شام سات بجے کے قریب کسی کچی آبادی یاقصبے کی مارکیٹ کا رخ کیا جا سکتا ہے ۔ ہٹو بچو کی ایک ہاہا کار مچی ہوتی ہے کہ اگر سات بجے کے بعد کوئی کاروباری سرگرمی کرتا پایا گیا تو سخت ترین ایکشن ہو گا اور اگر کوئی بےچارہ انکے ہتھے چڑھ جائے تو پھر دن بھر کی کمائی کیساتھ مزید کچھ ہدیہ کرے گا تو جان بخشی ہو گی ورنہ حکومتی احکامات کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی تو ہو گی ۔ سات بجے کی پابندی توڑنے والا یہ غریب بے بس مجرم حوالات کی ہوا کھانے سے محض اس لئے ڈرتا ہے کہ اگر صاحب بہادر لے گئے تو ماریں گے بھی اور کل بچے بھی بھوکے رہیں گے لہٰذا یہیں لین دین کر کے جان چھڑواﺅ۔
اب آتے ہیںسماجی فاصلے اختیار کرنے اور اجتماعات کی پابندی کی طرف تو مسجدیں تو کجا ، اپنے گھروں میں بھی اہل خانہ اور رشتہ داروں کو جمع کرنے پر پابندی عائد ہے جو کہ خوش آئند بات ہے ۔ اس امر سے قطعی کوئی اختلاف نہیں کہ یہ سب کچھ ہمارے فائدے اور بھلے کیلئے ہی ہے لیکن ایک ہی ملک اور ایک ہی قانون کے ہوتے ہوئے ایک طرف عام آدمی اس پابندی سے بھی سہما ہوا ہے کہ کسی خوشی غمی کیلئے بھی چار سے زائد رشتے دار اکٹھے نہ ہوں تو دوسری طرف امرا ءاور طاقتوروں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ ابھی پچھلے ہفتے اخبارات میں مظفر گڑھ کے ایک بڑے جاگیردار کی شادی کی تقریب کی تصویر شائع ہوئی ہے جس میں متعدد نامی گرامی شخصیات کے علاوہ سینکڑوں لوگ جمع تھے جن میںسیاسی زعما بھی تھے اور رہنمایان قوم بھی ۔ اس بڑے اکٹھ کو دیکھ کر صاف پتہ چل رہا تھا کہ یہاں کرونا کا کوئی خوف نہیں ۔ جب خوف نہیں تو پھر احتیاطی تدابیر کی بھی ضرورت نہیں اور حکومت کون ہوتی ہے ان کو روکنے والی ۔ جو من میں آئے سرکارو سردار کریں، قوانین کی پابندی تو عام آدمی کرتا ہے اور یہ عام آدمی کا پاکستان نہیں !
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved