تازہ تر ین

زندگی ایک ©©لو سٹوری

علی سخن ور
فلموں ، ڈراموں،ٹی وی چینلز اور موسیقی کے بارے میں بات کی جائے تو لوگ زیادہ شوق اور توجہ سے سنتے ہیں۔گذشتہ دس بارہ پندرہ برس سے پاکستان میں فلموں اور ٹی وی ڈراموں کے حوالے سے ایسا زوال دیکھنے میں آرہا ہے کہ شائقین کی ایک بہت بڑی تعداد ہونے کے باوجود ہماری فلم اور ڈرامہ انڈسٹری تقریباً دم توڑ چکی ہے۔ کبھی کبھار بھولے بھٹکے کوئی ایک آدھ ڈرامہ یا فلم لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ ڈائریکٹرز، پروڈیوسرز، ایکٹرز یا پھر مصنف، اس زبوں حالی کا کون ذمے دار ہے، مختلف لوگوں کی اس بارے میں مختلف رائے ہے۔ تاہم ہر طرف ایک بات پر مکمل اتفاق ہے کہ ہماری انٹرٹینمنٹ انڈسٹری اب ایک خالی خولی کھوکھلے ڈبے سے زیادہ کچھ بھی نہیں رہی۔بات یہیں ختم نہیں ہوتی، ہمارے ہاں اب گانوں کا بھی وہ معیار نہیںرہا جو آج سے پندرہ بیس برس پہلے ہوا کرتا تھا۔ نہ تسلیم فاضلی،احمد عقیل روبی،سعید گیلانی جیسے نغمہ نگار رہے نہ سہیل رانا ، رشید عطرے اور خورشید انورجیسے موسیقار اور نہ ہی مہدی حسن،احمد رشدی اور میڈم نورجہاں جیسے گلوکار۔نغمہ نگاروں، موسیقاروں اور گلوکاروں کی اتنی لمبی فہرست ہے کہ سارے کا سارا اخبار بھر جائے، تب بھی فہرست مکمل نہ ہوسکے۔شاہ نور سے لے کر ایورنیو تک راستے میں آنے والے بڑے بڑے سٹوڈیوز شاپنگ مالز اور پلازوں میں تبدیل ہوگئے،بہت سے کیمرہ مین اور ساﺅنڈ ریکارڈسٹ کام نہ ہونے کے باعث بے روزگاری کا ایسا شکار ہوئے کہ انہیں موت کی آغوش میں ہی پناہ مل سکی۔لکشمی چوک لاہور کا رائل پارک جو کبھی ساﺅتھ ایشیا میں فلمی سرگرمیوں کا سب سے بڑا مرکز ہوا کرتا تھا اب کڑاہی گوشت اور مرغ پیس بیچنے والوں کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بی آر چوپڑہ، پران امرناتھ،اوم پرکاش اور دیوانند جیسے لازوال فنکار رائل پارک کی گلیوں سے گزر کر شہرت کی بلندیوں کو پہنچے۔لیکن ہماری بدقسمتی کہ جیسے ہم اور بہت سے قومی اثاثوں کی حفاظت نہیں کر سکے ہم اپنی اس مرکزیت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔
غیر ممالک سے درآمد کردہ فلموں نے ہماری فلم انڈسٹری سے وابستہ کاروباری افراد کو تھوڑا بہت سہارا دینے کی کوشش کی لیکن یہ سہارا دیرپا ثابت نہیں ہوسکا۔ ہالی وڈ سے جو فلمیں درآمد کی گئیں ان میں موجود بولڈ مناظر کی نمائش کی اجازت نہ تو ہمارا کلچر دیتا تھا نہ ہی ہماری مذہبی حدود ، رہ گئیں انڈین فلمیں تو ان فلموں میں سے اکثر کی کہانی پاکستان دشمنی کے گرد گھومتی تھی، لہٰذا یہ سلسلہ بھی زیادہ دیر نہیں چل سکا۔قصہ مختصر یہ کہ اگر ہمارے مقامی فلم ساز اپنے معیار پر توجہ دیتے تو ہمیں کبھی بھی دوسرے ملکوں سے فلمیں درآمد نہ کرنا پڑتیں۔ہماری فلم انڈسٹری کو اس قدر تیزی سے زوال کا سامنا بھی نہ کرنا پڑتا۔جہاں تک ٹی وی ڈراموں کا سوال ہے، ہمارے ملک میں پی ٹی وی نے ماضی میں بہترین ڈرامے تخلیق کیے ہیں۔ا ٓخری چٹان سے لے کر آنگن ٹیڑھا تک اور امجد اسلام امجد ، اصغر ندیم سید سے لے کر انور مقصود تک کس کس کو یاد رکھیں، ہر تخلیق اور ہر تخلیق کار اپنی جگہ ایک نگینہ تھا۔ مگر اب اس نئے دورمیں اکثر مصنف لفظوں سے نا آشنا، ڈائریکٹر فنی اسرار و رموز سے نابلد اور اداکار اپنے شعبے کی انتہائی بنیادیات سے بے بہرہ۔رہی سہی کثر پی ٹی وی میں ہر دور میں کی جانے والی سیاسی مداخلت نے پوری کردی۔ ایک زمانہ تھا کہ یاور حیات اور اسلم اظہر جیسے نابغہ روزگار لوگ پی ٹی وی کی انتظامیہ کا حصہ تھے مگر پھر انتظامی عہدے اہلیت کی بجائے سیاسی وفاداریوں کی بنیاد پر تقسیم ہونے لگے۔ یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ سرکاری ٹی وی کو جس بے رحمی سے سیاسی خوشنودیوں کے لیے پاکستان میں استعمال کیا گیا ، ممکن ہے اس کی مثال اور کہیں نہ دیکھنے کو ملے۔ پریس اور الیکٹرانک میڈیا کی ورکنگ اور مقبولیت میں ایک چیز نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے، وہ چیز ہے Credibility۔جب ایسا ہو کہ رات کے نو بجے تک آپ جس حکمران کو ملک و ملت کا حقیقی اور واحد نجات دہندہ قرار دے رہے ہوں ، اگلی صبح حکومت بدلنے کے بعد اسی سابقہ حکمران کو سب سے بڑا مجرم اور گنہہ گار ثابت کرنے میں لگ جائیں تو Credibilityنام کی چیز کسی صورت قائم نہیں رہ سکتی۔دراصل رات نو بجے سے پہلے والا عمل بھی بے سروپاتھا اور صبح والا بھی غلط۔ میڈیا سرکاری ہو یا غیر سرکاری، بھرم، بھروسے اور اعتماد کے بغیر اس کا کردار پوسٹ مینی تک محدود ہوجاتا ہے۔
ایک نظر آج کے پاکستانی ڈراموں پر بھی ڈال لیں،موضوعات کے بدترین قحط کا شکار پرائیویٹ پروڈکشن کمپنیوں کے بنائے ہوئے ڈراموں کی حیثیت کیٹ واک شوز سے زیادہ نہیں رہی۔کیٹ واک شوز کے حوالے سے ایک دلچسپ بات یہ کہ بظاہر تو یہ شوز ملبوسات کی نمائش کے لیے منعقد ہوتے ہیں مگر ان میں ملبوسات کا آئیٹم ہی سب سے غیر اہم دکھائی دیتا ہے۔ حاضرین کی توجہ لباس کی بجائے ماڈلز پر مرکوز رہتی ہے۔اور گھر بیٹھ کر ٹی وی سکرین پر یہ شوز دیکھنے والے یہی سوچتے رہ جاتے ہیں کہ جس طرح کے لباس کی نمائش کی جارہی ہے، عام زندگی میں کون کہاں پہن سکتا ہے۔ہمارے ٹی وی ڈراموں کا بھی یہی حال ہے، آج کل جو کچھ دکھایا جارہا ہے، معلوم نہیں ہمارے معاشرے میں کہاں ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر آجکل ایک پوسٹ بہت وائرل نظر آتی ہے جس نے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کو سچ پوچھیں تو چوک میں بے لباس کردیا ہے۔کچھ نام حذف کرنے کے بعد پوسٹ کی عبارت آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔’ ہر طرف شور مچا کہ پاکستانی بنیے، پاکستانی ڈرامے دیکھیے۔ارطغرل غازی ہمارا ڈرامہ نہیں۔ بات بالکل سہی ہے لیکن عام آدمی کرے تو کیا کرے۔ اس وقت پاکستانی چینلوں پر جو ڈرامے دکھائے جارہے ہیں ان میں سے ایک میں بہنوئی سالی پر فدا ہے،ایک میں سسر اپنی بہو کے عشق میں گرفتار، ایک جگہ ایک لڑکی کا بیک وقت چار لڑکوں سے معاشقہ اور ایک جگہ باس اپنے ملازم کی بیوی پر فریفتہ۔ کیا یہ سب ہمارا کلچر ہے۔ کیا اس طرح کے واہیات اور اخلاق سوز موضوعات پر مشتمل ڈراموں کو دیکھنا محض اس لیے لازم اور فرض ہو جاتا ہے کہ انہیں بنانے والے پاکستانی ہیں اور ارطغرل غازی اس لیے نہ دیکھیں کہ اسے بنانے والے پاکستانی نہیں‘۔ یہاں ایک سوال اور بھی پیدا ہوتا ہے کہ پاکستانی بنیے والا خیال صرف ڈراموں کے حوالے سے کیوں پیش کیا جارہا ہے۔پاکستانی مشینری، پاکستانی کراکری، پاکستانی کپڑا، کاسمیٹکس، ادویات، آلات، ان سب کے لیے پاکستانی بننے کا درس کیوں نہیں دیا جاتا۔
بات بہت آسان سی ہے، ہم سے خائف قوتیں کسی صورت بھی نہیں چاہتیں کہ ہماری نئی نسل اپنے اسلاف کی روایات سے آشنا ہوکر ان روایات کی پاسدار بن سکے۔ہمارے نوجوان کے ہاتھ میں دین کے خلاف نفرت سے اٹھنے والی گردن اڑانے کے لیے تلوار نہ آسکے، ہمارا نوجوان ہاتھ میں تھامے اپنے موبائل فون کی چھوٹی سی سکرین کو گھور نے میں اپنی ساری زندگی گنوا دے۔ اس کے پاس تقریر کا فن ہو نہ تحریر کا سلیقہ۔ ہر مقدس رشتے کو ہماری نئی نسلبری نگاہوں سے دیکھنے کی عادی ہوجائے، تعلیم، کاروبار، روزگار سب کچھ جائے بھاڑ میں، زندگی میں بس ایک لوَ سٹوری رہ جائے۔اور لو سٹوری بھی ایسے رشتوں کے بیچ جنہیں سن کر جانور بھی شرما جائیں لیکن یاد رہے کہ ہم نے ارطغرل غازی نہیں دیکھنا، وہ پاکستان کا ڈرامہ نہیں ہے۔
(کالم نگار اردو اور انگریزی اخبارات میں
قومی اور بین الاقوامی امور پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved