تازہ تر ین

سیاسی تربیت کا فقدان

وزیر احمد جوگیزئی
حکمران جماعت تحریک انصاف کے لیڈران میں سے ایک بھی ایسا آدمی نہیں ہے جس کی کہ سیاسی تربیت ہوئی ہو پڑھ لکھ کر یقیناانسان ایک بڑا آدمی ضرور بن جاتا ہے ۔ہر طرف کی جان کاری رکھتا ہے ،لیکن کسی بھی سیاسی لیڈر کی سیاسی تربیت کسی سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے ہی ہو تی ہے اور سیاسی کارکن نچلی سطح سے سیاست کا آغاز کرکے ہی اوپر تک آتے ہیں ۔چاہے وہ مسلم لیگ ن ہو یا پاکستان پیپلز پا رٹی ہو ،جماعت اسلامی ہو یا پھر جمعیت علمائے اسلام یا پھر عوامی نیشنل پارٹی ان تمام جماعتوں کے اندر ایک سیاسی کلچر موجود ہے اور ہر شخص جو کہ ان جماعتوں میں نچلی سطح سے شروع کرکے اوپر تک آتے وہ اپنی پہچان ساتھ لے کر آتے ہیں ۔ہمارے ملک کی موجودہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف بد قسمتی سے کسی بھی سیاسی کلچر سے عاری ہے ۔یہ جماعت اب تک صرف اور صرف احتجاج کرنا جانتی ہے اور احتجاج کرتے کرتے اقتدار تک پہنچ گئی ہے ۔انھیں عوامی مسائل کا کو ئی ادراک نہیں ہے ۔پاکستان تحریک انصاف میں ہر کو ئی ایجیٹیٹر (agitator) ہے اور ایجیٹیٹر رہنما نہیں ہو ا کرتے ۔ رہنما بننے کے لیے بہت ساری مشکلا ت اور بہت سارے تجربات سے گزرنا پڑتا ہے ۔اور اس کے ساتھ ساتھ اس میدان میں استادوں کی آشیر باد کی بھی ضرورت ہو تی ہے تب جا کر انسان لیڈر بنتا ہے ۔یا پھر دوسرا آپشن یہ ہے کہ انسان کسی سیاسی گھرانے میں پیدا ہو ا ہو اور اس کی تربیت اچھے استادوں سے ہوئی ہو پھر کوئی شخص اچھا لیڈر بن سکتا ہے ۔وزیر اعظم عمران خان جو کہ آج اقتدارکی کرسی پر برا جمان ہیں وہ آج بھی ایک ایجیٹیٹر ہی معلوم ہو تے ہیں ۔وہ خود کو رہنما کہتے ہیں لیکن کردار اس کے بر عکس ادا کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ چاہے ان کی حکومت کے منسٹر ہوں ،ایم این اے ہوں یا صوبائی عہدے داران ہوں وہ سب بھی انھی کے نقش قدم پر چلتے ہیں اور ان میں سے سیاسی ورکرز کی خوشبو نہیں آتی ۔جو ہم آجکل جو گفتگو کابینہ کے ارکان کے درمیان اور کابینہ کے اجلاسوں میں دیکھی ہے وہ کابینہ اجلاسوں میں یا پھر سیاسی جماعتوں میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے ۔سیاسی اختلافات اور نا راضگیاں تو ہر سیاسی جماعت میں دیکھنے کو ملتی ہیں لیکن بات اس حد تک نہیں جاتی کہ کابینہ اجلاس میں چیخ و پکار تک معاملات چلے جا ئیں۔
یہ سارا معاملہ بھی اسی بات کی نشان دہی کرتا ہے جس کہ میں ذکر کر رہا ہوں ،اور وہ ہے سیاسی تربیت کا معاملہ ،جس کا حکمران جماعت کے رہنماﺅں میں شدید فقدان ہے ۔بہرحال پاکستان اور جمہوریت کا ایک لمبا سفر ہے اور اس سفر میں ہم نے یہ تجربہ بھی دیکھنا تھا ۔وزیر اعظم عمران خان صاحب کی کئی حوالوں سے پذیرائی ہوتی رہی ہے ۔اور یقینا عمران خان کو سیاسی رول ادا کرنے میں بہت سے لوگوں نے مدد بھی کی ،لیکن عمران خان صاحب کا طرہ امتیاز ہمیشہ سے سوشل ورک رہا ہے ،اور اس میں بہت کامیاب بھی رہے ہیں انھوں نے تعلیم کے میدان میں بھی بہت کام کیا یو نیورسٹیز بنائی ہیں ،صحت کے میدان میں انھوں نے شوکت خانم ہسپتال جیسا بے مثال منصوبہ بنایا ۔اور پھر اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ فنڈ ریزنگ کے حوالے سے بھی بہت مہارت رکھتے ہیں اور ان تمام کاموں نے ان کی وزیر اعظم بننے میں مدد کی ہے لیکن پھر بات یہ ہے کہ ان کو کنگ میکر بننا چاہیے تھا نہ کہ کنگ ،وہ خود با دشاہ بن بیٹھے ہیں لیکن بادشاہ کی کرسی پر بیٹھنے کے لیے کشادہ دل و دماغ ،فہم و فراست اور دوسروں کی بات سننے کا حوصلہ اور اپنی غلطی تسلیم کرنے کا ظرف بھی بدرجہ اتم موجود ہو نا چاہیے ۔قوت برداشت بھی حکمرانی کی لازم اور ملزوم صفت ہے۔ اگر یہ صفات کسی بھی حکمران میں نہ ہوں تو حکومت کرنا محال ہو جاتا ہے ۔اور آج یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان صاحب کسی کی بات کو سننے کے لیے تیار نہیں ہیں اور کرونا وائرس کے لاک ڈاﺅن کے حوالے سے بضد ہیں کہ یہ ضروری نہیں تھا جبکہ کہ پاکستان اور دنیا بھر کے ڈاکٹرز پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر کرونا پر قابو پانا ہے تو مکمل طور پر لاک ڈا ﺅن کیا جائے یہی اس بیماری کا علاج ہے لیکن بد قسمتی سے ہمارے وزیر اعظم صاحب اس حوالے سے بھی اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں اور کے نتیجے میں ہم دیکھ ہی رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے ۔
پاکستان میں شروع سے ہی صوبائی خود مختاری ایک بڑا مسئلہ اور جیسا کہ انگریزی میں کہتے ہیں کہ bone of contentionرہا ہے اور بالا آخر ہماری قومی قیادت اور سیاسی جماعتوں کے اکابرین نے کئی دہا ئیوں کے تجربات کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ صوبائی مختاری اس ملک کی وحدت اور یگانت کے لیے نہایت ہی ضروری ہے بلکہ ہے کلیدی
حیثیت رکھتی ہے ،اور اس معاملہ کا حل 18ویں آئینی ترمیم کی صورت میں نکالا گیا لیکن اب اس ترمیم میں نقائص نکالے جا رہے ہیں طرح طرح کے بہانے تلاش کیے جا رہے ہیں اس میں تبدیلی کے جواز دیے جا رہے ہیں جوکہ قطعی طور پر غیر مناسب ہیں ۔میں یہ نہیں کہتا کہ آ ئینی ترمیم کرنی ہی نہیں چاہیے ترمیم کریں با لکل کریں لیکن تب کریں جب آپ کے پاس کم از کم اس کام کے لیے نمبر ز پورے ہوں ،بغیر نمبرز پو رے کیے ہو ئے یہ کام کرنا حکومت کی غیر سنجیدگی کا مظہر ہے ۔آئینی ترمیم تب کی جاتی ہے جب اس کی ضرورت ہو ۔جب فیڈریشن کو اس کی ضرورت ہے اس کے علاوہ آئینی ترمیم کی کوئی ضرورت نہیں ہے باقی تمام ریاست امور وزیر اعظم بخوبی نبھا سکتے ہیں ۔اور وزیر اعظم کو اپنا کام بخوبی سرانجام دینے کے لیے اچھے مشیروں اور ساتھیوں کی بھی ضرورت ہوتی جوکہ وزیر اعظم کے شانہ بشانہ چلتے ہو ئے مسا ئل کا حل نکا لتے ہیں ۔جب تک وزیر اعظم وفاقی وزراءصوبائی وزراءاور وزا ئے اعلیٰ ایک ہی کلام ایک ہی بیان اور ایک ہی پیغام قوم کو نہیں دیں گے ہمارے مسائل کم ہو نے کی بجا ئے مزید بڑھتے جا ئیں گے ۔
تمام سیاسی قائدین کے متحد ہونے تک ہم ملک کو ترقی کی راہ پر نہیں ڈال سکیں گے ۔لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کے حکمرانوں میں اس قسم کی اہلیت ہی دیکھنے میں نہیں آرہی ۔اللہ تعالیٰ ان حکمرانوں کو ہدایت دے اور پاکستان کے اصل مسائل کی طرف توجہ دینے کی توفیق عطا فرمائے ۔جب تک عوام کے پاس تعلیم نہیں ہو گی ،آبادی کنٹرول میں نہیں ہو گی تب تک ہما رے محدود وسائل میں ہمارے لا محدود مسا ئل کا کوئی حل نہیں نکل سکے گا ۔
(کالم نگار سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved