تازہ تر ین

سرمایہ دارانہ نظام گندہ ہے پردھندہ ہے

عظیم نذیر
حکومتوں کا بجٹ ایوانوں اور اداروں کی ساکھ بچانے کیلئے ایک ناٹک کے سوا کچھ بھی نہیں رہا۔ سرمایہ داری کے عجب فریب ہیں۔ سماجی تضادات کو دبانے کیلئے جعلی تضادات گھڑے جاتے ہیں‘ تحریکوںکے اوپر جعلی تحریکیں مسلط کر دی جاتی ہیں‘ کبھی مقتدر طبقات کے نمائندوں کو مسیحا ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور کبھی جمہوریت کی جھوٹی عملداری دکھانے کیلئے پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں بحثوں کے ڈرامے کئے جاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک تماشے کا اہتمام ہر سال بجٹ کے نام سے بھی کیا جاتا ہے۔ یہ صرف عوام کو باور کرانے کیلئے ہوتا ہے کہ ان پر اثرانداز ہونے والی معیشت کے حوالے سے فیصلے انہی کے منتخب کردہ لوگ کرتے ہیں۔
حکومت قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتی ہے‘ اپوزیشن منافقانہ احتجاج کا ڈھونگ رچا کر معاملہ ٹھپ کر دیتی ہے‘ ماہرین میڈیا پر پیچیدہ معاشی اصلاحات پر طویل اور ناقابل فہم تبصرے کرتے ہیں اور شاید سال بھر میں یہی چند دن ہوتے ہیں جن میں میڈیا پر معیشت کی بھی بات ہوجاتی ہے۔ ادھر اسمبلی میں کھوکھلی بحث کے بعد بجٹ پاس ہوجاتا ہے اور عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اگلا پورا سال معیشت اسی بجٹ کے مطابق چلائی جائے گی لیکن چند ہفتے میں ہی سارا منظر بدل جاتا ہے ہر روز نیا بجٹ ایسے آجاتا ہے جیسے سال بھر کیلئے کبھی بجٹ پیش ہی نہ کیا گیا ہو۔
اس نظام میںعوام پر سب سے بڑا ٹیکس مہنگائی ہوتا ہے جس کی وصولی ہر سطح پر دن رات جاری رہتی ہے لیکن سرمایہ دار ہر ٹیکس سے مستثنیٰ قرار پاتے ہیں‘ موجودہ حکومت اپنے دور کے پہلے دو سال میں سرمایہ داروں کو 2 ہزار ارب سے زائد کا ٹیکس معاف کرچکی ہے جو ایک ریکارڈ ہے دوسرے الفاظ میں یہ پیسہ عوام کی جیبوں سے نکل کر سرمایہ داروں کی تجوریوں میں منتقل ہوگیا۔
ملک میں معاشی بحران گزشتہ دو دہائیوں میںاتنا شدید ہوچکا ہے کہ سالانہ بجٹ بے معنی ہوکر رہ گیا۔ ہے اب اسے محض ایک سیاسی رسم یا فارمیلٹی ہی کہا جاسکتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ معیشت کے معاملات میں ریاستی مداخلت کے باعث کسی قدر استحکام موجود ہوتا تھا اور اگلے ایک ڈیڑھ سال کی معاشی منصوبہ بندی ممکن ہوا کرتی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب بہت سی سرمایہ دار ریاستیں بھی سوویت یونین کی طرز پر پانچ سالہ معاشی منصوبہ بندی کیا کرتی تھیں لیکن 80ءکی دہائی کے بعد معیشتوں میں ریاستوں کا عمل دخل کم ہوتا گیا۔ حکومتیں زیادہ سے زیادہ منڈیوں کے تابع ہوگئیں اور معیشت کی فیصلہ سازی سامراجی اداروںکے سپرد کرکے خودتماشائی بن گئیں۔ پاکستان جیسے ممالک کا تو سارا بجٹ ہی آئی ایم ایف جیسے اداروں کے اشاروں پرمر تب سے ہونے لگا حکومتی نمائندے تو صرف آئی ایم ایف کا تیارکردہ بجٹ پیش کرتے ہیں۔ بجٹ کی بعض شقیں تو ایسی بھی ہوتی ہیں جن پر انگلی اٹھانا تک ممنوع قرار پاتا ہے۔ 2008ءکے بعد سے آنے والے معاشی بحران میں کوئی دوررس منصوبہ بندی ممکن ہی نہیں رہی۔ ایک وقت تھا کہ عوام بجٹ میں انتہائی دلچسپی لیتے تھے۔ یہ ایک تہوار کی طرح ہوتا تھا۔ لوگ گھروں‘ گلیوں اور بازاروں میں ٹی وی سکرین پر نظریں جمائے بجٹ کی خصوصی نشریات سنا کرتے تھے۔ اب تو خال خال ہی کوئی بجٹ تقریر سنتا نظر آتا ہے کیونکہ لوگ جان چکے ہیں کہ حکومتی پالیسیوں میں کوئی دم نہیں اور ایسے بجٹوں سے ان کی زندگی میں کوئی بہتری نہیں آسکتی۔
بجٹ سے ایک دن پہلے جاری ہونیوالے اقتصادی سروے کو ہی دیکھ لیں تو پتہ چل جاتا ہے کہ معاشی بحران پالیسی سازوں کے قابو سے کس قدر باہر ہوچکا ہے۔ اس سال کے اقتصادی سروے کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ بجٹ میں مقرر کیا گیا شاید ہی کوئی حکومتی ہدف پورا ہوا تھا۔ 68 سال میں پہلی بار معیشت 0.38 تک سکڑ گئی ہے جس کا سیدھا مطلب لوگوں کی آمدنی میں کمی اور بیروزگاری میں بے تحاشا اضافہ ہے‘مہنگائی کی شرح گیارہ فیصد ہوگئی جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ گزشتہ ایک سال میں مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 6.5 فیصد سے بڑھ کر9.1 فیصد تک پہنچ گیا کیونکہ سامراجی اداروں اور بینکوں کو سود کی مد میں ہزاروں ارب ادا کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ پچھلے مالی سال کے دوران2.7 ارب روپے قرضوں کی واپسی اور سود کی ادائیگی کی بھینٹ چڑھ گئے جو کل حکومتی آمدنی کا62 فیصد حصہ بنتا ہے۔
قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کے بعد جو کچھ بچتا ہے وہ اوپر سے نیچے تک حکمرانوں اور سرکاری افسروں کے اخراجات پر اٹھ جاتا ہے اور پیچھے صرف خسارے بچتے ہیں جنہیں پورا کرنے کیلئے مزید قرضے لئے جاتے ہیں۔ موجودہ حکومت مجموعی ملکی قرضوں میں گیارہ ہزار ارب روپے کا اضافہ کرچکی ہے۔ ان دو سالوں میں کل ملکی قرضہ 24 ہزار ارب سے بڑھ کر35 ہزار ارب ہوچکا ہے۔ ایسی معاشی صورتحال میں کوئی عوام دوست بجٹ کیسے بن سکتا ہے۔ غور کیا جائے تو اس نظام میں ایک ہی طرز کا بجٹ ہے جسے ہر سال مختلف مشکلوں میں پیش کر دیا جاتا ہے۔ یہ سرمایہ داری کا بجٹ ہوتا ہے جس میں صرف سرمایہ داروں کے مفادات کا خیال رکھا جاتا ہے۔ عوام کی تعلیم‘ علاج اور دوسری بنیادی ضروریات کیلئے رقوم صرف خانہ پری اور دکھانے کیلئے رکھی جاتی ہیں لیکن اس سال حکمرانوں کو بحران کا سارا ملبہ کرونا پر ڈالنے کا موقع مل گیا حالانکہ معیشت پہلے ہی شدید بحران سے دوچار تھی۔
مسئلہ سامراجی مداخلت اور سرمایہ داروں کے انتہائی اثرورسوخ کا ہے جب تک انہیں مضبوط کرنے والا نظام موجود ہے انسانوں کی وسیع اکثریت سے مٹھی بھر سرمایہ داروں کو دولت کی منتقلی جاری رہے گی۔ مہنگائی‘ بیروزگاری اور غربت میں اضافہ ہی ہوگا۔ موجودہ نظام میں محنت کش طبقے کیلئے جبر‘ استحصال اور ذلت ہی بچتی ہے‘ سرمایہ دارانہ نظام اتنا سفاک ہے کہ کارل مارکس نے اس کے متعلق کہا کہ
”اگر آپ سرمایہ داروں کو پھانسی دینے کا فیصلہ کرلو تو ایک سرمایہ دار ہی آپ کو اسے فراہم کرنے کا ذمہ لے لے گا“
سرمایہ دارانہ نظام ختم کرنے سے ہی مضبوط معاشی ڈھانچہ استوار کیاجاسکتا ہے جس میں عوام کی بہتری کیلئے منصوبہ بندی ہو‘ ملکی وسائل عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ کئے جائیں تو عوام کی زندگی سے تنگی اور افلاس کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا اور عوام کو آسودگی اور آسائشیں مہیا ہوسکیں گی۔
(کالم نگارسینئر صحافی اورتجزیہ کار ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved