تازہ تر ین

تبدیلی کاسفر

عظیم نذیر
تبدیلی آنہیں رہی تبدیلی آ گئی ہے۔ الیکشن سے پہلے میرے کپتان کا یہ پسندیدہ نعرہ تھا اور کپتان نے جو کہا کرکے دکھایا۔ اب اگر جائزہ لیں تو ہر چیز تبدیل ہوچکی ہے اور تو اور ریاست مدینہ کا تصور بھی تبدیل ہوکر رہ گیاہے۔ کپتان کے مشیروں کو سارا کریڈٹ جاتا ہے جن کی دن رات کوششوں سے ان تبدیلیوں کا راستہ کھلا۔ سلام ان وزیروں کو جو ایک دوسرے کی جانب سے لائی گئی تبدیلیوں سے عوام کو بھی آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ خود وزیراعظم نے یہ کہہ کر میرے سوا کوئی چوائس نہیں ملکی سیاست ہی تبدیل کر دی۔ اپوزیشن کو بجٹ منظوری کے معاملے میں ہی پتہ چل گیا کہ وقت صرف بڑھکیں مار کر ہی گزارنا پڑے گا کیونکہ بجٹ منظوری کے دن سے ایک روز پہلے اپوزیشن کی دھواں دھار پریس کانفرنس سے لگتا تھا کہ پتہ نہیں کیا ہوجائے گا لیکن بجٹ منظوری کا معاملہ شور شرابے اور احتجاج کے دوران ہی حل ہوگیا۔ گوبجٹ اسمبلی نے منظور کرلیا ہے لیکن واقفان حال کئی باتوں کی طرف اشارہ کررہے ہیں جو ان کے خیال میں بجٹ پاس ہونے کے بعد ظہور پذیر ہوں گی۔ جیسے ان کا کہنا ہے صنعتکاروں کو مزید مراعات اور ٹیکس رعایتیں دی جائیں گی‘ سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچانے کیلئے انجینئرنگ سروسز کا انکم ٹیکس 8 فیصد کی بجائے 3 فیصد کردیا جائے گا۔ 3 فیصد رعایتی شرح کا اطلاق ویئر ہاﺅسنگ سروسز‘ اسٹیٹ مینجمنٹ کمپنیز کی خدمات اور ڈیٹا سروس فراہمی پر بھی ہوگا جبکہ میوچل فنڈز پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 25 فیصد کی بجائے 15 فیصد رکھی جائے گی۔ بجٹ کے بعد سرمایہ داروں کو رعایتیں ملیں گی اور غریب‘ تنخواہ دار اور مزدور پرانی اجرت پر ہی کام کریں گے لیکن ہر روز اشیاءکی پچھلے دن سے زیادہ قیمت ادا کریں گے اور ممکن ہے کہ ان کے صرف پیٹ بھرنے میں اتنے پیسے خرچ ہونے لگیں کہ وہ اپنی باقی تمام ضروریات کو پس پشت ڈال دےں اور انہیں دوا دارو‘ کپڑا لتا اور بچوں کی تعلیم تک نظرانداز کرنا پڑے۔
سٹیٹس کو کے حامی‘مافیاز اور اشرافیہ جو حالات کو اس نہج پر پہنچا نے کے ذمہ دار ہوں گے وہ ابھی تک یہ نہیں سوچ رہے کہ اس صورتحال کا ردعمل ان کیخلاف ہوگا حکومت کیخلاف نہیں۔ اس میں زیادہ دیر نہیں لگے گی کیونکہ عوام پر دباﺅ دن بدن بڑھ رہا ہے۔ عوام پر آنے و الے دباﺅ کا رخ ابھی حکومت کی طرف ہے لیکن اب وہ سمجھنے لگے ہیں کہ حکومت بھی اشرافیہ کے سامنے بے بس سی ہے کیونکہ سٹیٹس کو کے حامی ہر تبدیلی کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔ سرمایہ داروں کا مقصد صرف پیسے جمع کرنا ہوتا ہے عوام نچڑ جائیں گے تو سب سے پہلے سرمایہ دار کے گریبان کو آئیں گے۔ بھوک سارے آداب بھلا دے گی اور مجبور مزدور مالکان کی پاکٹ پونینز کو اٹھا کر باہر پھینک دیں گے اور یہیں سے اصل اور حقیقی تبدیلی کا آغاز ہوجائے گا۔ تبدیلی ہمیشہ نیچے سے آتی ہے کیونکہ اس کیلئے عوامی شعور کی ضرورت ہوتی۔ سرمایہ دار بے شعور عوام کو اپنی انگلیوں پر نچاتا ہے مزدور ناچتا چلا جاتا ہے لیکن وہ اپنے ساتھ ہونیوالی نا انصافیوں سے سبق سیکھتا ہے اور ان نا انصافیوں کا سبق نسل درنسل منتقل ہوتا رہا ہے اور عوام کو جاہل رکھنے کیلئے اشرافیہ کی بے پناہ کوششوں کے باوجود وقت کے ہاتھوں وہ باشعور ہوجاتے ہیں اور اشرافیہ کا زور ٹوٹنے لگتا ہے لیکن مکمل تبدیلی کیلئے پھر بھی طویل عرصہ چاہیے کیونکہ تبدیلی کوئی ٹی وی چینل نہیں ہوتی۔
حکومتوں میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے لیکن موجودہ حکومت جب سے برسراقتدار آئی ہے اس کے حصے میں اونچ نہیں آسکی۔ حکومت تھوڑا اوپر چڑھنا شروع کرتی ہے تو اشرافیہ‘ مافیا اور سرمایہ دار خطرہ سمجھتے ہوئے اسے نیچے کھینچنے کیلئے عجیب وغریب شوشے چھوڑ دیتے ہیں۔ماضی کی کئی حکومتوں کے ساتھ بھی یہی کیا گیا کیونکہ مضبوط جمہوریت مضبوط حکومت اور مضبوط لیڈرشپ اشرافیہ کو سوٹ ہی نہیں کرتی۔ ایسا لگتا ہے جیسے اشرافیہ موجودہ حکومت کا متبادل نہ ملنے کی سزا عوام کو دے رہے ہیں‘ متبادل ملے بھی کیسے اشرافیہ کی شرائط پر بدترین معاشی بحران میں کوئی اپنی سیاست ختم کرنے کیلئے تیار نہیں۔ دوسری طرف عوام چکی کے تین پاٹوں(اشرافیہ‘ مافیاز اور حکومت) کے درمیان پس رہے ہیں۔ ابھی تک بےشک عوامی ردعمل حکومت کی طرف ہے۔ اگر اشرافیہ حکومت تبدیل نہ کراسکے تو عوامی ردعمل کا رخ اشرافیہ کی طرف ہوسکتا ہے۔ حکومت بھی اگر سمجھ داری کا مظاہرہ کرے اور عوام کو بتائے کہ اس کے ہاتھ کہاں کہاں بندھے ہوئے ہیں اور جو پیسہ پچھلے دو سال میں جمع ہوا وہ کہاں خرچ ہوا پھر عوام کیلئے فیصلہ کرنا آسان ہو جائے گا کہ ان کا دشمن کون ہے اوراس بات کا قوی امکان ہے کہ عوام سمجھ جائیں گے کہ سالہا سال سے ان کے ساتھ ہاتھ کہاں سے ہو رہا ہے۔ خون چوسنے والی جونکوں کی صرف نشاندہی نہ کریں بلکہ انہیں کھینچ کر ملک سے الگ کریں۔ گو ابھی تک بات صرف نشاندہی تک رکی ہوئی ہے کیونکہ شور مچا ہوا ہے کہ کسی کو سزا ملی نہ کوئی پیسہ ریکور ہوا۔ مقصد صرف حکومت پر اتنا دباﺅ ڈالنا ہے کہ وہ خود ہی بھاگ جائے اور سٹیٹس کو کے حامیوں سے مل کر ایک نیا این آر او تشکیل دے دے اور تبدیلی کی کوششوں کو بھی گڈ بائے کر دے تو پھر سب اچھا ہی اچھا نظر آئے گا۔ موجودہ حکومت اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یہ چاہتے ہیں حکومت میں مائنس ون کر دیا جائے لیکن یہ نہیں جانتے کہ عمران خان مائنس بھی کر دیا جائے تو جو بھی آئے گا وہ بھی انہیں نہیں چھوڑے گا۔ یعنی وہ اس بات پر اڑے ہوئے ہیں کہ سٹیٹس کو توڑ کر رہیں گے۔ جون ایلیا کاایک شعر ہے
اب نہیں کوئی بات خطرے کی
اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے
مشکل ترین حالات میں بھی اپنا وجود برقرار رکھنے والی حکومت کمزور نہیں یہ بات سب کو سمجھ لینی چاہئے‘ یہ بات اشرافیہ‘ سرمایہ دار اور مافیاز کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ آنے والے وقت میں حکومت پر دباﺅ بڑھانے کیلئے کئی منفی حربے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ عوام ان پر یقین بھی کر لیں گے کیونکہ انہیں تبدیلی ابھی کہیں نظر نہیں آ رہی لیکن تبدیلی آہستہ آہستہ آتی ہے اتنی جلدی تو کوئی انقلاب بھی نہیں آ سکتا۔ ممکن ہے اس حکومت کے دور میں ان کے ٹارگٹ کے مطابق کوئی تبدیلی نہ آ سکے لیکن کئی معاملات میں وہ ایسی بنیاد رکھ جائے گی جو حقیقی تبدیلی کی بنیادثابت ہوگی۔
(کالم نگارسینئر صحافی اورتجزیہ کار ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved