تازہ تر ین

شکریہ….جنوبی پنجاب کیلئے انتظامی اختیارات کا نظام

پیارے پڑھنے والے! جو حضرات اور خواتین ”خبریں“ کے مسلسل قاری ہیں ان کے ذہن میں یہ بات یقیناً ہو گی کہ میں نے اور ادارہ ”خبریں“ نے جنوبی پنجاب کے مسائل کے حل کے لیے کتنا کام کیا ہے اور وہاں کے لوگوں کی محرومیوں کو ہم ایک مدت سے سامنے لا رہے ہیں۔ اسی لیے جنوبی پنجاب میں ”خبریں“ سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے۔ ہم نے ان لوگوں کو ”اون“ کیا تو سچ یہ ہے کہ جنوبی پنجاب کے لوگوں نے بھی ہمیں ”اون“ کیا۔ میں آج کل لاہور میں رہتا ہوں اور لاہور کے علاوہ کراچی، ملتان، اسلام آباد، مظفر آباد آزاد کشمیر اور پشاور سے اخبار نکالتا ہوں۔ سندھی اخبار خبرون کراچی سے چھپتا ہے اور مجھے اپنی جائے پیدائش گڑھی یاسین ضلع شکار پور کی یاد دلاتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد مشرقی پنجاب کے ضلع جالندھر سے ہجرت کر کے میں بہاولنگر آیا۔ کچھ فاصلے پر ہارون آباد میں میری زمین تھی جو اخبار نکالنے کے باعث فروخت ہو گئی لیکن بہاولنگر میں شہر سے قریب ہی میرے ماموں اور نانا کی زمین اور گھر تھا۔ بہاولنگر میں بھی ہم انہی کے گھر میں رہتے تھے۔ امروکہ سے لے کر سابق ریاست بہاولپور کے آخری سٹیشن تک جا بجا ہمارے عزیز رشتہ دار موجود ہیں بہاولنگر کے بعد میٹرک میں نے ملتان سے کیا۔ آج بھی ان علاقوں سے گہرا رشتہ ہے کیونکہ بچپن اور لڑکپن یہیں گزرا۔ بعد میں پنجاب یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے لاہور آیا اور دوران تعلیم ہی صحافت میں آ گیا۔ یہ مختصر روداد اس لیے سنائی کہ میری پیدائش سندھ کی ہے ،اصل گھر جالندھر مشرقی پنجاب میں تھا لیکن نشوونما اور میٹرک تک تعلیم میں نے جنوبی پنجاب میں پائی۔ مجھے اس علاقے سے پیار ہے۔ یہاں میرا بچپن اور لڑکپن گزرا ہے۔ میں پنجابی بولنے والا ہوں لیکن سرائیکی مجھے بہت اچھی لگتی ہے اور سرائیکی کا مشاعرہ ”خبریں“ ہر سال کرواتا ہے جو 6,6 گھنٹے تک جاری رہتا ہے۔ شاکر شجاع آبادی میرے پسندیدہ شاعر ہیں۔
میں نے لاہور کے بعد ملتان ایڈیشن شروع کیا تھا اوراس علاقے ہی سے مظلوموں اور محروموں کی طرف سے بطور خاص مجھے بہت پذیرائی ملی لیکن میں نے ہمیشہ دیکھا کہ یہاں سے وزیر بنتے تھے ،وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بنتے تھے، گورنر تو اکثر جنوبی پنجاب کا ہوتا تھا مگر لوگوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے درخواستیں لے کر 14,14 گھنٹے سفر کر کے لاہور آنا پڑتا تھا۔ الگ صوبے کی تحریک شروع ہوئی تو پہلے یہ سننے میں آیا کہ نئے صوبے کا دارالحکومت ملتان ہو گا ،پھر بہاولنگر، بہاولپور اور رحیم یار خان کے تین اضلاع یعنی سابق ریاست بہاولپور میں یہ تحریک پھیل گئی کہ ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد مغربی پاکستان میں بہاولپور کو الگ صوبہ بنایا جائے، یہ تحریک ابھی تک چل رہی ہے۔ ادھر ملتان میں بعض لوگ کہتے ہیں کہ بہاولپور بھی ملتان، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان کی طرح ہمارا سرائیکی علاقہ ہے۔ اس لیے جنوبی پنجاب میں ایک ہی صوبہ ہونا چاہیے۔ اب میں لاہور میں ہوں اور یہاں کا ووٹر ہوں اس لیے ملتان یا بہاولپور میں سے کون سا صوبہ ہونا چاہیے، میرا پختہ یقین ہے کہ یہ مسئلہ عوام کی صوابدید پر چھوڑ دیا جائے۔ ایم پی اے، ایم این اے حضرات فیصلہ کریں یا پھر ریفرنڈم کروا لیا جائے۔ یہ پڑھے لکھے اور جمہوری حقوق سے آشنا لوگوں کا ملک ہے ،جو اکثریت چاہے وہی فیصلہ ہونا چاہیے۔
میں یہاں وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا شکریہ ادا کروں گا کہ وہ بھی اس غیر ضروری بحث میں نہیں پڑے اور جنوبی پنجاب کی حکومت سردست انتظامی اختیارات کے حوالے سے انہوں نے ملتان اور بہاولپور میں تقسیم کر دی ،یعنی جنوبی پنجاب کا ایڈیشنل چیف سیکرٹری ایک شہر میں ہو گا اور ایڈیشنل آئی جی پولیس دوسرے شہر میں ،بہر حال عملی طور پر اختیارات اب لاہور سے ملتان اور بہاولپور منتقل ہو گئے ہیں لہٰذا ازراہِ مذاق کہہ رہا ہوں کہ اب ”اساں قیدی تخت لاہور دے“ والی نظم مزید فوٹو سٹیٹ کر کے نہ تقسیم کی جائے ،اگر آپ کے حقوق اور مالیاتی فنڈ واپس لاہور میں منگوا لیے جاتے تھے تو یہ سابق حکمرانوں کا غلط فیصلہ تھا۔
جنوبی پنجاب کے مسئلے کا اصل حل تو یہ ہے کہ نیا صوبہ بنایا جائے یا اگر لوگ اصرار کریں تو دو صوبے بنا دیئے جائیں تا کہ لوگوں کو دور دراز کا سفر طے کر کے لاہور نہ آنا پڑے۔ مثال کے طور پر اگر رحیم یار خان کی تحصیل خان پور میں کسی استانی کا بھی کوئی مسئلہ ہے تو کام اس کا لاہور ہی سے ہو گا، فاصلہ ملاحظہ کریں ۔اسی طرح ڈیرہ غازی خان سے بھی چل کر ضرورت مندوں کو لاہور ہی آنا پڑتا تھا، اب پولیس کے معاملات ہوں تو ایڈیشنل آئی جی ان سارے ضلعوں کا انچارج ہو گا جو جنوبی پنجاب میں آتے ہیں اگر باقی محکموں کے انتظامی معاملات ہیں تو ایڈیشنل چیف سیکرٹری آخری فیصلہ کرے گا، گویا تخت لاہور کی غلامی سے انہیں نجات مل گئی۔ اس آزادی پر میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے مدت سے رُکا ہوا فیصلہ کر کے مستقبل کے لیے راستے صاف کر دیئے۔
جہاں تک نئے صوبے کا تعلق ہے آئین میں اس کے لیے طریقہ کار درج ہے۔ آئین کے آرٹیکل میں واضح ہے کہ پاکستان کے چار صوبے ہوں گے۔ پنجاب ،سندھ ،سرحد (اب خیبرپختونخوا)، بلوچستان ،ظاہر ہے کہ آپ کو اب ایک یا دو صوبے اور بنانے ہیں تو اس کے لیے پہلے پنجاب کی صوبائی اسمبلی یہ قانون منظور کرے گی پھر وفاقی اسمبلی آئین میں ترمیم کا اختیار رکھتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ سینٹ سے اس کی منظوری لینی ہو گی۔ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ آج کل سیاسی محاذ آرائی کا دور ہے جو حکومت کہے گی وہ اپوزیشن نہیں مانے گی۔ قومی اسمبلی میں حکومت کی اکثریت ہے تو سینٹ میں اپوزیشن تگڑی ہے۔ آئین میں ترمیم تو ایسے حالات میں ہو سکتی ہے جب ساری بڑی جماعتیں متفق ہوں یا کم از کم زیادہ کا اتفاق ہو لیکن میں ملتان چھوڑ کر برسوں سے لاہور میں مقیم ہوں مگر بہاولنگر ،ملتان سے میرا گہرا رشتہ ہے۔ معلوم نہیں پرانے سیاستدان جو جنوبی پنجاب سے آئے اور جنہوں نے لاہور ،اسلام آباد میں گھر بنا لیے انہوں نے اس علاقے کے عوام کا کیوں نہیں سوچا؟ جتنی غربت، بیروزگاری، بدانتظامی، لوٹ کھسوٹ جنوبی پنجاب میں ہے، لاہور،گوجرانوالہ، راولپنڈی میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں۔ پینے کو پانی نہ علاج کی معقول سہولت، سکول کم ہیں لہٰذا جگہ جگہ لوگوں نے پرائیویٹ اکیڈمیاں بنائی ہوئی ہیں۔ نشتر ہسپتال ملتان میں وکٹوریہ ہسپتال بہاولپور میں اور ایک بڑا ہسپتال رحیم یار خان میں ہے۔ بہاولپور کی تحصیل احمد پور شرقیہ میں پٹرول کا ٹرالہ الٹ گیا تھا اور پٹرول دور دور تک پھیل گیا تھا۔ قریبی آبادی سے غریب لوگ برتن لے کر پٹرول جمع کرنے آئے تو کسی بدبخت نے سگریٹ سلگانے کے لیے دیا سلائی روشن کی، فضاءمیں پٹرول کی اس قدر بُو تھی کہ پورے علاقے میں آگ لگ گئی ،کتنے ہی لوگ اس آگ میں جل کر ختم ہو گئے اور جو بچ گئے ان کے لئے بہاولپور ہسپتال میں برن یونٹ نہیں تھا، یعنی آتشزدگی کا علاج کرنے کا سیکشن۔ پاک فوج کے ہیلی کاپٹروں نے جلے ہوئے مریضوں کو ملتان اور کچھ کو لاہور پہنچایا ،اسی دور میں معلوم ہوا کہ شہبازشریف کی حکومت میں بہاولپور کے لئے برن یونٹ منظور ہوا تھا لیکن پھر حکومت نے یہ فنڈ واپس منگوا کر کسی اور جگہ خرچ کر دیا۔ لاہور میں میٹروبس بھی ہے جس کے جنگلے بہت مشہور ہیں ،اب تو نامکمل اورینج ٹرین بھی ہے نہ جانے اورنج ٹرین کب مکمل ہو گی کہ منصوبہ ادھورا پڑا ہے لیکن ملتان، مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان، رحیم یار خان، بہاولپور اور بہاولنگر کی تو بہت خستہ حالت ہے۔ خدا کرے کہ نئے نظام میں اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں سے جنوبی پنجاب کے ایک یا دو صوبوں کے لئے علیحدہ رقم مخصوص کی جائے، وہ رقم وسطی یا شمالی پنجاب میں خرچ نہ ہو سکے۔ جنوبی پنجاب میں غربت ہی نہیں، جہالت بھی کافی ہے۔ صنعتیں گنتی کی ہیں، روزگار کے مواقع موجود نہیں، سرکاری نوکریاں ملتی نہیں یا پھر جس کی ہمت ہوتی ہے وہ لاہور سے تقرری کرواتا ہے۔
پاکستان ایک وفاق ہے ،وفاق کی ہر اکائی کو منصفانہ حقوق ملنے چاہئیں۔ آپ صرف اسلام آباد اور لاہور کو چار چاند نہیں لگا سکتے جبکہ باقی علاقوں میں اندھیرا ہی اندھیرا ہو۔ امید کی جاتی ہے کہ پاکستان میں ایک دن نئے صوبے بھی بنیں گے اور ہر صوبے کے اندر بھی فنڈز کی تقسیم ضلع اور تحصیل وار ہو گی یعنی جتنی آبادی جہاں ہے اتنے فنڈز اس وقت تک کے لیے صوبہ نہ سہی ملتان اور بہاولپورکو صوبے کے اختیارات بذریعہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل آئی جی کا تجربہ پیش ہے۔ راقم الحروف اور ادارہ ”خبریں“ نے اس مقصد کے لئے بڑی جدوجہد کی ہے، ہمیں آپ کی دُعاﺅں کی ضرورت ہے اور ہماری دُعائیں آپ کے ساتھ ہیں کہ آپ کے مسائل اب جنوبی پنجاب ہی میں حل ہونے لگیں گے۔ اس نئے تجربے کو کامیاب بنانے کے لئے رشوت، اقربا پروری، دھونس اور دھاندلی سے گریز کرنا ہو گا اگر ایڈیشنل چیف سیکرٹری اورایڈیشنل آئی جی طے کر لیں تو اس علاقے کے لوگوں کو کچھ راحتیں مل سکتی ہیں۔
٭٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved