تازہ تر ین

زندہ قومیں اور امتحانات

ڈاکٹر عمرانہ مشتا ق
ویسے تو اس وقت پوری دنیا یکساں مصائب و آلام کا شکار ہے مگر پاکستان کی جو صورت حال ہے وہ بہت گھمبیر ہے اور اس کیفیت سے باہر آنے کے لیے مختلف حکمت عملی پر عمل پیرا ہونا پڑتا ہے اور عوام اس بات کو سمجھ نہیں پا رہی ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ دراصل وہ سیاسی کلچر دم توڑ رہا ہے جو چند سپورٹروں کی مدد سے اپنے راہنما کو سب اچھا کی رپورٹ دیتے تھے اور ذاتی مفادات حاصل کرتے تھے ۔ اب وہ سلسلے ختم ہو گئے ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان کئی امتحانوں سے نبرد آزما ہیں ۔ ایسا لگ رہا ہے کہ عالمی وبا کی سزا تو پوری قوم بھگت رہی ہے مگراس کی جزا چند لوگ حاصل کر رہے ہیں ۔ پرائیویٹ ہسپتالوں نے اس قیامت کی گھڑی کو سونے اور چاندی کی گھڑی بنا لیا ہے ۔ اپوزیشن نے اس کو سیاست کے لیے زرخیز زمین سمجھتے ہوئے حکومت کو گرانے اور وطن لوٹ کر دیار غیر میں سہولت اور ضرورت کے اسباب وافر بنا لیے ہیں ان کو واپس لانے کی بھی وکالت کر رہے ہیں۔
اس وقت قومی معاملات کو الجھنوں سے نکال کر پاکستان کی بقا اور سالمیت کے لیئے اختلافات کو بھلا کر عالمی منظر نامے پر ابھرنے والی پاکستانی تصویر کو بھیانک سے اچانک خوبصورت بنانے کے مواقع مل رہے ہیں۔ اس وقت پوری دنیا میں پاکستان کی اہمیت کے حوالے سے جو صورت حال بنی ہوئی ہے اس نے بھارتی سرکار کو انگشت بدنداں کر دیا ہے ۔ لداخ میں جو چھترول بھارت کی ہوئی ہے، وہ پاکستان کی نصرت سے تعبیر کی جا رہی ہے۔ لداخ کا علاقہ چین کے قدموں میں اور بھارتی فوج کی ذلت آمیز شکست کے بعد مودی کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں مل رہی، اس کی بولتی بند اور اس کے بیانات بند ہو گئے ہیں۔ یہ پاکستان کی فتح نہیں تو اور کیا ہے۔ ہماری عسکری حکمت عملی کے سامنے ہندو بنیا کی مکاری اور دجل و فریب کے تار پود بکھر گئے ھیں ۔اس وقت جو کامیابیاں حالات کی نزاکت کی روشنی میں وزیر اعظم کو مل رہی ہیں اس پر اپوزیشن حسد کی آگ میں جل رہی ہے ۔ زندہ قوموں نے ہی تاریخ کا رخ بدلا ہے اور اب بھی انشاءاللہ انقلابی تبدیلیوں کے بطن سے اطمینان افروز سحر نمودار ہو گی ۔ انشاءاللہ جلد ایسا ہو گا۔
لاک ڈاﺅن میں ہم اس ہستی کو زیادہ سے زیادہ یاد کر سکتے ہیں جس کو ہم بھولے ہوئے ہیں اور ہم سب نے اسی کے پاس لوٹ کے جانا ہے ۔ ہم دنیا میں اپنی آمد کی وجہ بھول گئے ہیں اور ہم دنیا بنانے اور لوگوں کا حق کھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالی نے ہمیں یہ موقع دیا ہے کہ ہم اس کا ذکر کریں ،اس کے سامنے سجدہ ریز ہوں وہ ہمارے سارے بگڑے کام درست کر دے گا ۔ کرونا جیسی وبا بھی ختم ہو جائے گی۔ اگر ہم اپنے نفس کی کمزوریاں ، کردار کی کوتاہیاں اور صرف اور صرف اپنی ہی سیرت کی چوریاں پکڑنا شروع کریں ۔ تو حالات بدل سکتے ہیں مگر ہم دن رات دوسروں کی عیب جوئی میں لگے ہوئے ہیں ۔ ہمارے بعض اینکر پرسنز کی تو جھوٹ بولنا عادت ہی بن گئی ہے اور وہ چاہتے ہوئے بھی اپنی اس عادت کو ترک نہیں کر سکتے۔ اللہ ان پر رحم فرمائے اور ہمیں جھوٹ کی عادت سے بچائے ۔ سچ میں آزمائش ضرور ہے مگر آسائش زیادہ ہے ۔ اس وقت دنیا میں جھوٹ کی آندھیاں چلی ہوئی ہیں جس کی سزا کرونا وبا کی صورت میں ہمیں مل رہی ہے۔ اگر ہم جھوٹ کو اجتماعی طور پر ترک کر کے ہمیشہ کے لیئے ایک برائی سے نجات پا لیں تو اس کے دونوں جہانوں میں فائدے ہی فائدے ہیں۔
اس وقت قربانی اور ایثار کا موسم بہار آ گیا ہے ۔ لاک ڈاﺅن میں جو انفرادی اور اجتماعی نقصان ہوئے ہیں اور بدستور ہو رہے ہیں ان کو اگر ہم خوش دلی سے برداشت کریں گے تو اس میں ہمیں فایدہ ہو گا ۔کیوں کہ وطن عزیز کے حصول میں شریک ہمارے اجداد و اسلاف نے جو قربانیاں دی تھی اس کے مقابلے میں آج وطن عزیز کی سلامتی کے لیے یہ کیا ہم سب کچھ بھی قربان کر دیں تو خسارے کا سودا نہیں ہے ،اس لیئے اپنے اسلاف کی قربانیوں کو یاد کرو اور آج کرونا کے ڈر اور خوف سے مالی نقصان کو حکومت کے سر پر نہ تھوپیں بلکہ اس کی بقا اور احیا کے لیئے ریاست مدینہ کے نظام کا تصور پیدا کریں۔ اس وقت ہم بحیثیت قوم بہت بڑے امتحان اور آزمائش سے گزر رہے ہیں ۔ اللہ تعالی ہمیں اس امتحان میں کامیاب فرمائے اور ایک نئی اطمینان افروز صبح طلوع ہو جس کی کبھی بھی شام نہ ہو۔
پوری دنیا وبائی بلائے ناگہانی کی لپیٹ میں ہے اور ایک کروڑ سے زائد لوگ متاثرین میں ہیں اور پچاس لاکھ موت سے بغلگیر ہو چکے ہیں۔ اس افراتفری کی کیفیت اور حالت میں مسلم امہ سو رہی ہے اور اسرائیل جاگ رہا ہے ایک بہت بڑی جنگ مسلمانوں کے دروازے پر دستک دے رہی ہے جس جنگ کا ذکر احادیث میں بھی ملتا ہے ۔اس وقت لداخ میں جو ہندو بنیئے کے ساتھ ذلت آمیز سلوک ہوا ہے وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا ان کی حکمت عملی خاک میں مل گئی ہے چین نے انہیں عبرت ناک شکست دی ہے اور یہ پاکستان کی فتح ہے، اس شکست کا انتقام لینے کے لیئے ہندوستان پھر سے تیاریاں کر رہا ہے اور اسرائیل بھی اس میں شریک ہے ۔ امریکہ میں نسلی فسادات کی آگ بھڑک رہی ہے اور اسلام کی نشاة ثانیہ کے آثار دکھائی دے رہے ہیں ۔ ہمیں بحیثیت مسلمان اور پاکستانی کے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہو گا۔ اپوزیشن کے لیئے اب کوئی گنجائش نہیں رہ گئی ہے کہ وہ بیجا نکتہ چینی پر وقت ضائع کریں ۔اس وقت انتخابات کا وقت نہیں احتساب کا امتحان ہے اس میں جو صد فی صد نمبر لے گا وہی قوم کی نمائندگی کا حق دار ہو گا ۔ اور ایک شخص جس نے عمران خان کو شکست دی تھی وہ پورے نمبر لے کر اس جہان فانی سے کوچ کر گیا اور اپنی جائیداد تک پاکستان کے لیئے وقف کر گیا ،اس نے بڑی شان سے زندگی گزاری اور اپنی موت بھی قابل رشک بنا گیا ۔ آپ سب جانتے ہیں کہ میں طارق عزیز کی بات کر رہی ہوں جو سب کا عزیز تھا اور اس کی تربیت میں ایک محب وطن پاکستانی کی جھلک نظر آتی تھی ۔ وہ ایک سچا کھرا پاکستانی تھا جس سے اینکر پرسن نے سوال کیا تھا کہ پاکستان میں جو تبدیلی لا سکتا ہے اس شخص کے بارے میں بتا سکتے ہیں ۔ تو تھوڑے سے توقف کے بعد گرج دار لہجے میں اس نے کہا ہاں جس کو میں نے ہرایا تھا ۔اب آپ یہ بھی جان گئے ہوں گے کہ عمران خان کو ہرایا تھا ۔
(کالم نگار معروف شاعرہ، سیاسی
وسماجی موضوعات پر لکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved