تازہ تر ین

فتنہ و انتشار کی ممکنہ دوسری لہر

اکرام سہگل
کراچی میں فتنہ و انتشار کی چاپ ایک بارپھر سنائی دے رہی ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر چار مسلح دہشت گردوں کے حملے میں ایک پولیس افسر اور تین گارڈز کی شہادت ہوئی۔ پولیس اور قانون نافذ کرنےوالے اداروںکی بروقت کارروائی سے دہشت گردوں کے عزائم خاک میں مل گئے اور وہ اسٹاک ایکسچینج کی عمارت میں داخل نہیں ہوسکے۔ آٹھ منٹ کے مختصر وقت میں دہشت گردوں کو ایکسچینج کی عمارت کے باہر ہی روک کر ہلاک کردیا گیا۔ دہشت گردوں سے اے کے 47 رائفلیں اور دستی بم کے ساتھ ساتھ پانی اور خوراک بھی برآمد ہوئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ عمارت میں داخل ہو کر لوگوں کو یرغمال بنانے کے ارادے سے آئے تھے۔ کراچی میں سیکیورٹی فورسز کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنا پڑا ہے جس کے نتیجے میں ایسی کارروائی پر قابو پانے کےلئے ان کی صلاحیتوں میں بے پناہ اضافہ ہوچکا ہے۔ گھنٹوں کے اندر انگلیوں کے نشانات سے دہشت گردوں کی شناخت اور ان کے پس منظر کا سراغ لگا لیا گیا۔ مشکل حالات کے مقابلے نے ہمارے اداروں کی اس صلاحیت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔
بدنام زمانہ کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی ( بی ایل اے) کو بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ کی پشت پناہی حاصل ہے۔ کلبھوشن یادیو بلوچستان میں فتنہ پروری میں مصروف تھا، اسے پاکستان کی حدود سے گرفتار کیا گیا۔ ’را‘ بلوچستان میں انتشار پھیلانے کےلئے دہائیوں سے کام کررہی ہے۔ آج بھی اسلام آباد کے اہل اقتدار سے نالاں کئی بلوچوں کا خیال ہے کہ انہیں نظر انداز کیا گیا ہے۔ یہ بات کسی حد تک درست ہے لیکن بلوچوں کی اکثریت ادراک رکھتی ہے کہ ان کے بعض قبائلی سرداروں نے انہیں دھوکے میں رکھا ہے، ان کے پاس دولت کے ڈھیر ہیں اور وہ کراچی (اور بیرون ملک) اپنے محلوں میں عیش کی زندگی گزار رہے ہیں، ان کے بچے مہنگی گاڑیوں میں گھومتے ہیں اور بہترین تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں۔ وہ اسلام آباد سے سرمایہ بٹورتے ہیں جس سے اسکول اور سڑکوں کی تعمیر بھی ہونی چاہیے تھی لیکن یہ ان کے مفاد میں نہیں کیوں کہ اگر سڑکیں بن گئیں تو دوردراز دیہات میں انتہائی پس ماندہ زندگی گزارنے والے باہر نکل کر بہتر مواقع تلاش کرسکتے ہیں۔ تعلیم بلوچ بچوں کو یہ سوال پوچھنا سکھا دے گی کہ کیوں قبائلی سردار ہماری اور ہمارے خاندان کی موت وحیات کے مالک بنے ہوئے ہیں۔ قبائلی اشرافیہ نے دہائیاں لگا کر لوگوں کو اپنا دست نگر بنایا ہے اور اب سی پیک کے ساتھ آنے والی سڑکیں، ریلوے لائنز، صنعتی پارکس اور گوادر بندرگاہ ان کی اجارہ داری کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔ بندرگاہوں کے ذریعے نئے لوگ، ساز و سامان اور خیالات بھی آتے ہیں جو مقامی معاشروں کو بدل دیتے ہیں۔ مزید یہ کہ مقامی بلوچ آبادی میں تربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی ہے، اس لیے دیگر صوبوں اور چین سے کام کرنے والوں کا ریلہ بلوچستان میں داخل ہوگا جو یہاں کی اشرافیہ کے بنائے گئے نظامِ اقتدار کے لیے خطرہ ہوگا۔ بی ایل اے نے اسٹاک ایکسچینج کو اس لیے نشانہ بنایا کہ یہ پاکستان میں چین کی اقتصادی اور مالیاتی قوت کی ایک علامت ہے اور چین بلوچستان میں اقتدار کے ڈھانچے کو سب سے زیادہ متاثر کرسکتا ہے۔ اسٹاک ایکسچینج میں2016ءسے چین کی سرمایہ کاری کا حجم چالیس فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ شنگھائی اسٹاک ایکسچینج ، شینژین اسٹاک ایکسچینج اور چائنا فنانشل فیوچر ایکسچینج بھی اس کے حصص رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ پانچ فی صد شیئرز جس مقامی کمپنی کے پاس ہے وہ بھی چینی سرمایہ کاری سے منسلک ہے۔ بلوچوں کو خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ وہ کس طرح کی ”آزادی“ چاہتے ہیں۔ کیا وہ ان قبائلی سرداروں سے آزادی نہیں چاہیں گے جو ان کی ترقی، تعلیم اور روزگار کی راہ میں حائل ہیں؟ بی ایل اے کی حمایت کا مطلب ایسے عناصر کے ہاتھ مضبوط کرنا ہے جو بلوچوں کو استعمال کرکے اپنی جیبیں بھر رہے ہیں ، جو پاکستان توڑنے کے لیے بھارت کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔
حالیہ کرونا کی وبا سے جنوبی ایشیا کی جغرافیائی سیاست میں آنے والے تغیرات میں بے پناہ تیزی آچکی ہے۔ وبا سے پیدا ہونے والے معاشی بحران نے جہاں پاکستان کو اپنی گرفت میں لیا ہے وہیں بھارت بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں ہے۔ اس وبا کے اقتصادی اثرات غیر معمولی طورپر دور رس ہیں۔ 2020ءکی چوتھی سہ ماہی میں بھارت کی شرح نمو 3.1 فیصد کم ہوجائے گی۔ بھارتی حکومت کے مرکزی اقتصادی مشیر کے مطابق کورونا وائرس وبا کے باعث ملکی معیشت کی شرح نمو میں واضح کمی آئے گی۔ قابل غور بات یہ ہے کہ عالمی بینک کے مطابق وبا سے قبل ہی بھارتی معیشت سست روی کا شکار ہوچکی تھی، وبا نے صرف پہلے سے موجود خطرات کو مزید سنگین کردیا ہے۔ دوسری جانب مودی سرکار کی جانب سے انتہا پسند ہندو قوم پرستوں کی حمایت نے بھارتی رائے عامہ کو انتشار سے دوچار رکھا ہے۔ اس کی مسلم مخالف پالیسیوں اور نفرت انگیزی صرف مسلمانوں ہی میں نہیں بلکہ پورے سماج میں رفتہ رفتہ ایک مزاحمت کو جنم دے رہی ہے۔ گزشتہ برس جموں و کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی، انتظامی حیثیت کو تبدیل کرکے دو حصوں میں اس کی تقسیم اور ایک حصے کو براہ راست دہلی کے ماتحت کرنے کے اقدامات نے دنیا اور چین کی بھی آنکھیں کھول دی ہیں۔ مودی اور بھارت کی بدقسمتی یہ ہے کہ لداخ کو بھارتی وفاق کے ماتحت علاقہ قرار دیا گیا جو کہ چین و بھارت کے مابین متنازعہ ہے۔ تاریخی اعتبار سے بھی لداخ اور چینی تبت کے مابین بھارت کے مقابلے میں زیاہ مناسبت پائی جاتی ہے۔ 5جون کو بھارت کی اشتعال انگیزی نے چین کے غیض و غضب کو دعوت دی اور یہ مسئلہ پھر تازہ ہوگیا۔ بھارت کی امریکا سے بڑھتی پینگیں بڑھانے سے، جس کا اصل مقصد چین کو قابو میں رکھنا ہے، صورت حال کو ایک اور رُخ ملا ہے۔ ان واقعات نے بھارت میں ایسے حالات پیدا کردیے ہیں جو کسی بھی مرحلے میں بے قابو ہوسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ بھارت نے افغانستان میں بڑی مشکل سے قدم جمائے تھے۔ 80ءکی دہائی میں روسیوں اور افغانیوں اور 2000ءکے بعد امریکیوں اور افغانیوں کے جان و مال کی قیمت پر بھارت نے اس خطے میں پاکستان کے خلاف درپردہ محاذ کھولے رکھا۔ افغانستان میں شروع ہونے والے امن عمل سے بھارت کے پیروں تلے سے یہ زمین بھی کھسک رہی ہے۔ یہ سیاق و سباق پیش نظر رہے تو سمجھنا مشکل نہیں کہ بلوچستان میں بھارتی سرگرمیوں میں تیزی کیوں آرہی ہے۔ اس کے علاوہ بھارت ہمیشہ سے اپنے پڑوسی ممالک پر اپنی چودھراہٹ جمانے کی پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے ۔ مودی اور اجیت دووال سے کیا یہ بعید ہے کہ وہ پاکستان میں بدامنی کی نئی لہر پیدا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانیں دیں یا اس کی فکر میں رہتے ہوں؟ بھارت میں عوام اور میڈیا چینیوں کا خون مانگ رہا ہے ایسے حالات میں مقامی اور بین الاقوامی رائے عامہ کا رُخ موڑنے کے لیے کوئی بھی درپردہ کارروائی عین ممکن ہے۔
اسٹاک ایکسچینج تو آغاز ہے۔ اس کے علاوہ محمد انور کے برطانیہ میں ’را‘ سے رقوم لینے کے اعترافات کے بعد ایم کیو ایم بھی بے نقاب ہوئی ہے۔ ’را‘ سے مشترکہ تعلق ہونے کی وجہ سے بی ایل اے اور بھارت نواز دیگر جماعتوں اور تنظیموں کے کارکن ایک دوسرے کے اتحادی ہیں۔ اس لیے یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں کہ آنے والے دنوں میں کراچی اور پاکستان کے مختلف حصوںمیں حالات کیا رُخ اختیارکرسکتے ہیں۔ براہ راست دہشت گردانہ کارروائی تو محض آغاز ہیں۔ ہائبرڈوارفیئر میں ہماری سالمیت کو ختم کرنے کے لیے فیک نیوز ،فالس فلیگ آپریشن اور سائبر جنگ جیسے کئی محاذ کھولے جائیں گے۔ ہمارے محافظوں کو اس کے لیے پہلے سے تیار رہنا ہوگا۔
( کالم نگار دفاع اور سکیورٹی امور کے تجزیہ کار ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved