تازہ تر ین

اسلام آباد میں مندر کی تعمیر کا مسئلہ

پیارے پڑھنے والے کچھ دنوں سے یہ خبر گرم ہے کہ حکومت مندر کی تعمیر کیلئے اسلام آباد میں جگہ دے گی۔ ایک لحاظ سے یہ علامتی فیصلہ ہو گا کہ اگرچہ وفاقی دارالحکومت میں ہندوﺅں کی تعداد دو سو سے زیادہ نہیں لیکن ان کے لئے بھی مندر کی سہولت خود حکومت نے زمین دے کر اور تعمیر کے اخراجات ادا کر کے پوری کی ہے۔ موجودہ حکومت نے جس طرح سکھوں کیلئے کرتار پور میں راہداری قائم کی ہے کہ چار دیواری کے اندر سفر کرتے ہوئے وہ اپنے نزدیک مقدس جگہ پر آ سکتے ہیں اور انہیں کوئی پاسپورٹ یا ویزہ کی ضرورت نہیں اس سے لگتا ہے کہ شاید حکمرانوں کے ذہن میں یہ خیال آیا ہو کہ ہندوﺅں کیلئے خود مندر بنا کر تحفہ میں پیش کرنا خیرسگالی کو جنم دے گا اور انتہا پسند ہندوﺅں کیلئے خاص طور پر اطمینان کا باعث ہو گا اس سے پہلے کہ ہم شرعی طور پر اس مسئلہ کو دیکھیں، ضروری معلوم ہوتا ہے کہ زمینی حقائق کیا ہیں؟
ہندوستان میں بہت برسوں تک مسلمانوں کی حکومت رہی ہے۔ مسلم فن تعمیر وہاں جا بجا دکھائی دیتا ہے۔ ممتاز محل کا مقبرہ یعنی تاج محل آگرہ میں، قطب مینار، لال قلعہ اور جامع مسجد دہلی میں غرض اس طرح کی سینکڑوں عمارتیں مسلمانوں کے دور حکومت کی یادگار ہیں۔ پاکستان میں سب سے زیادہ ہندو سندھ میں آباد ہیں اسمبلی میں ان کے ارکان بھی ہیں اور اگر فیصل مسجد کی طرح یہاں ایک مندر بھی بن جائے تو ہمیں شرعی طور پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے لیکن اس سے پہلے کہ میں بات کو آگے بڑھاﺅں ضروری معلوم ہوتا ہے علامہ یوسف بنوری (مرحوم) کے دارالافتاءسے اس مسئلے پر فتویٰ جو ابھی سوشل میڈیا پر آیا ہے اسے پڑھ لیجئے فتویٰ کے الفاظ یہ ہیں۔
سوال: کیا دارالسلام میں مندر یا کلیسا بنانا درست ہے؟
مدلل جواب: مندر یا کلیسا کی تعمیر کے سلسلے میں فقہاءکی تحریروں کا خلاصہ یہ ہے کہ دارالسلام میں تین قسم کے علاقے ہوتے ہیں:
-1 ایک وہ شہر جسے مسلمانوں ہی نے آباد کیا ہو اس لئے وہاں مسلمان ہی قیام پذیر ہوتے ہیں وہاں غیر مسلموں کو عبادت گاہیں تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
-2 دوسرے جو علاقے مسلمانوں نے بزور طاقت فتح کئے ہوں اور وہ مسلمانوں میں تقسیم ہو گئے ہوں وہ مسلمانوں کا شہر بن گیا ہو وہاں بھی غیر مسلموں کو نئی عبادت گاہیں تعمیر کرنا ممنوع ہو گا اگرلیکن اور وہاں غیر مسلموں کی کافی آبادی ہو جائے اور ان لوگوں کو وہاں کی شہریت بھی حاصل ہو جائے تو پھر انہیں نئی عبادت گاہ بنانے سے روکا نہیں جائے گا۔
-3 تیسرے وہ علاقے جو صلح کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں اور معاہدے کے تحت وہاں کی اراضی کو قدیم آبادی کی ملکیت کا تصور کیا جاتا ہو وہاں انہیں نئی عبادت گاہیں بنانے کا حق حاصل ہو گا۔ نیز جو عبادت گاہیں پہلے سے موجود ہوں وہ نہ صرف باقی رہیں گی بلکہ وہ گر جائیں یا مرمت طلب ہو جائیں تو ان کے لئے دوبارہ تعمیر بھی جائز ہو گی۔
پیارے پڑھنے والے میں نے جامعہ بنوریہ کا فتویٰ درج کر دیا ہے۔ اس سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اسلام آباد کا مسئلہ کیسے حل ہو گا۔ اسلام آباد میں اول تو ہندوﺅں کی زیادہ آبادی نہیں ہے۔ یہ شہر ایوب خان کے دور میں یحییٰ خان کی نگرانی میں بنا تھا ۔یہاں زمانہ قدیم سے رہنے والے ہندو موجود نہیں۔ ہاں وفاقی دارالحکومت ہونے کی وجہ سے اور غیر ملکی سفارتی دفاتر اور ان کے عملے کے سبب اب کچھ ہندو بھی آ گئے ہیں۔ میں نے اوپر 200 لکھا تھا لیکن اصل اطلاع شاید یہ ہے کہ کل 160 ہندو اسلام آباد میں موجود ہیں ان کی تعداد کم یا زیادہ بھی ہو سکتی ہے لیکن ان کے لئے پہلے سے کوئی مندر نہیں لہٰذا ہندو آبادی کا ایسا کوئی مطالبہ بھی سامنے نہیں آیا۔ ہندو دھرم کے شیدائی اپنے گھروں میں بھی بت وغیرہ رکھ لیتے ہیں اور ان کی پوجا پاٹ کر لی جاتی ہے۔ میں اسلام آباد میں مندر کے خلاف نہیں ہوں لیکن دیکھنا یہ ہو گا کہ بھارت جہاں 20 کروڑ مسلمان موجود ہیں وہاں تو سپریم کورٹ آف انڈیا میں یہ درخواست دائر کر دی گئی ہے اور کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے آر ایس ایس کے انتہا پسند اور متعصب ہندوﺅں کا ہاتھ ہے۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ مسلمانوں میں کیونکہ دہشت گرد زیادہ ہیں اس لئے ہر مسجد کو کنٹرول کرنے کے لئے جو انتظامی کمیٹی بنائی جائے اس میں آر ایس ایس کے بندے بھی رکھے جائیں جو ظاہر ہے کہ ہندو ہوں گے اور وہ بھی کٹر متعصب اس درخواست کی نقل اخبارات میں چھپ چکی ہے۔
ایک بحث یہ بھی ہے کہ پاکستانی حکومت بلامعاوضہ زمین کیوں دے اور تعمیر کے اخراجات پاکستانی مسلمانوں کے ٹیکس سے کیوں حاصل کریں۔ میرے خیال میں اگر حکومت خیر سگالی کے طور پر یہ کام کرنا چاہتی ہے تو اس کے لئے بھی صحیح طریقہ اختیار کرے۔ رمیش کمار صاحب تحریک انصاف کے ایم این اے ہیں انہیں یہ پراجیکٹ دیں دوسری پارٹیوں کے ہندو ایم این اے یا سنیٹر بھی اگر ہیں تو ساتھ شامل کر دیا جائے۔ یہ کمیٹی اسی طرح چندہ جمع کرے جس طرح شہروں اور محلوں میں مسجدیں بنتی ہیں یعنی سرمایہ کا انتظام خود وہ کرے اور اس کی نگرانی میں مندر کی تعمیر مکمل ہو جائے۔ پاکستان سب کا ملک ہے ہر مذہب کے پاکستانیوں کا اس پر پورا حق ہے لہٰذا ہندو کمیونٹی مندر بنانا چاہتی ہے تو شوق سے بنائے حکومت سرکاری ریٹ پر جو بہت کم ہوتا ہے انہیں زمین دے وہ اپنے بت وغیرہ لاکر وہاں سجا لیں ۔اس کے برعکس اگر حکومت نے زمین دی اور حکومت نے سرکاری خزانے سے تعمیر کے اخراجات برداشت کئے تو مجھے یہاں تک ڈر ہے کہ ہائی کورٹ میں رٹ نہ ہو جائے کیونکہ ٹیکس گزاروں کی رقم سے آپ ان کے دینی اعتقادات کے یکسر برعکس خرچہ نہیں کر سکتے ہاں اگر کوئی مندر پہلے سے موجود ہو اور کسی مظاہرے میں مسلمان اسے توڑ دیں تو حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس کی مرمت اور دیکھ بھال کروائے یا اگر صفحہ ہستی سے غائب ہو گیا ہے تو اس کی جگہ اتنا ہی بڑا مندر تعمیر کر کے دے۔
اسلام میںاقلیتوں کے بڑے حقوق ہیں۔ آپ ان کی عبادت گاہیں گرا نہیں سکتے ان پر حملے نہیں کر سکتے لیکن آپ وفاقی دارالحکومت میں عوام کے اخراجات سے انہیں مندر نہیں بنا کر دے سکتے۔ جامعہ بنوریہ کے فتویٰ کے علاوہ بھی میں نے لاہور میں چند علماءسے بھی بات کی ہے ان کی گفتگو کا خلاصہ بھی یہی ہے کہ سرکاری زمین مفت دے کر اور عوامی ٹیکسوں سے حاصل کردہ رقم کو مندر بنانے پر خرچ نہیں کیا جا سکتا۔ اسلامی نظریاتی کونسل بھی اس پر فیصلہ دے سکتی ہے ان سے رائے لی جائے بالخصوص کراچی میں بعض ہندو خاندان بہت مالدار بھی ہیں زرعی ادویات بیچنے والے چاولہ صاحب سرفہرست ہیں۔ وہ خود تو فوت ہو گئے لیکن ان کے بیٹے سندھ میں کوئی بڑا پراجیکٹ چلا رہے ہیں۔ چاولہ صاحب سے میری بھی ملاقات ہو چکی ہے۔ جب وہ زندہ تھے انڈیا کی معروف فلم سٹار جوہی چاولہ جو شاہ رخ خان کے ساتھ اکثر فلموں میں آ چکی ہیں ۔اس خاندان سے ملنے کراچی آتی رہی ہے کیونکہ وہ غالباً بڑے چاولہ صاحب کی بھانجی یا بھتیجی ہے۔ یوں بھی جب بھارت میں مسلمانوں پر ظلم و ستم اور کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کشی کی مہم شروع ہے ہمیں خوامخواہ میں اتنا لبرل نہیں بننا چاہئے لوگوں کی اکثریت اسے ناپسند کر رہی ہے۔
٭٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved