تازہ تر ین

بھارت کی نو آبادیاتی طرزِ فکر

افتخار گیلانی
بھارت کا رویہ برسوں سے اس خطے میں نوآبادیاتی طرز کا رہا ہے اور 2014ءمیں نریندر مودی کے برسراقتدار میں آنے کے بعد اس میں مزید شدت آگئی ہے۔افریقی ملک ماریشس سمیت جنوبی ایشیا کے دو اہم ممالک کے بڑے میڈیا ادارے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے مرہون منت ہیں۔ ا ن ممالک میں بھارت نے لگاتار طبقہ اشرافیہ، آمرانہ نظام اور میڈیا کے چند اداروں پر مراعات کی بارش کرکے عوامی خواہشات و رجحانات کو نظر انداز کرکے اپنے مفادات کی تکمیل کی ہے جس کی حالیہ مثال نیپال ہے۔ جون 2015ءمیں جب نیپال کی تمام سیاسی جماعتیں متفقہ طور پر آئین کے مسودہ پر رضامند ہوگئیں، تو بھارت نے اس پر سخت اعتراض اٹھایا۔ بھارتی حکومت کا موقف تھا کہ ترائی کے علاقے میں رہنے والے بھارت نژاد مدھیہشی اور تھاروز نسل کے افراد کو پارلیمنٹ میں متناسب نمائندگی دی جائے۔ اب کوئی بھارتی وزارت خارجہ سے پوچھے کہ یہ متناسب نمائندگی کا فارمولہ وہ خود بھارت میں نافذ کیوں نہیں کرتے، جہاں 195ملین کی مسلم آبادی ، جو کل آبادی کا 15فیصد ہیں، کی پارلیمنٹ میں نمائندگی پانچ فیصد سے آگے بڑھ نہیں پارہی ہے؟ با وثوق ذرائع کے مطابق ، دارلحکومت کھٹمنڈو کے جس کمرے میں سیاسی لیڈران آئین کے مسودہ پر غور و خوض کر رہے تھے، سبھی کے موبائل فون ایک ایک کرکے بجنے لگے۔ یہ کال کھٹمنڈو میں بھارتی سفارت خانے سے کی جارہی تھی، جہاں اس آئین کے مسودہ پر سیاسی جماعتوں کی رضامندی کی خبر پہنچ چکی تھی۔ یہ ان لیڈروں کیلئے سبکی تھی کہ بھارتی سفارت خانے کا کوئی افسر میٹنگ کے دوران ہی ان کو فون کرکے ہدایات دینا چاہتا تھا۔ ایک ایک کرکے سبھی نے اپنے فون بند کردیئے۔ اس آئین کو پارلیمنٹ میںمباحثہ کیلئے پیش کرنے سے روکنے کیلئے اگلے دو ماہ تک بھارت نے خوب تگ و دو کی اور ستمبر میں سیکرٹری خارجہ سبرامنیم جے شنکر(موجودہ وزیر خارجہ ) کھٹمنڈو آن پہنچے۔ نیپال کے ایک سینئر سیاسی تجزیہ کار کنک منی ڈکشت کے مطابق جے شنکر کا رویہ خاصا ہتک آمیز اور غیر سفارتی تھا۔ وزیر اعظم مودی کے ایما پر ایک طرح سے وہ نیپالی لیڈروں کیلئے دھمکی بھراپیغام لیکرآئے تھے، جس کو نیپالی کانگریس کے بھارت نواز لیڈروں نے بھی رد کرکے جے شنکر کو بے رنگ لوٹنے پر مجبور کردیا۔ مودی کے حواری اور ہندو قو م پرستوں کی مربی تنظیم آر ایس ایس مدھیہشیوں کے حقوق سے زیادہ اس بات پر ناراض تھی کہ آئین میں نیپال کو سیکولر ملک قرار دیا گیا تھا۔ اس سے قبل راج شاہی دور میں نیپال دنیا کا واحد ملک تھا ، جہاں سرکاری مذہب ہندو مت تھا ۔ بھارت کی خفیہ ایجنسیاں برسوں سے نیپال کے ترائی علاقے کو خود مختار علاقہ بنانے کی تگ و دو کرتی رہی ہیں، تاکہ کھٹمنڈو اور بھارت کے درمیان ایک طرح کا بفر زون بنایا جائے ۔جو خود مختاری یا حق خود اختیاری بھارت مدھیشی عوام کیلئے تو چاہتی ہے ، مگر خود اسی اختیار کو پچھلے سال اگست میں بھارتی پارلیمینٹ نے کشمیر میں کالعدم قرار دیا۔ جے شنکر کی دہلی واپسی کے بس پانچ دن بعد ہی نیپال کی اقتصادی ناکہ بندی کی گئی۔ حتی کہ نیپال نے اقوام متحدہ میں اس کی شکایت کی۔ خشکی سے محصور ملک کیلئے ا س سے بڑی کیا سزا ہوسکتی ہے کہ اس کی ناکہ بندی کردی جائے۔ یہ ایک ایسے ملک کے ساتھ بھارت کا رویہ ہے ، جو پاکستان یا چین کی طرح کسی بھی طرح اسکی سلامتی کیلئے خطرہ نہیں ہے۔ بھارتی فوج کی چھ رجمنٹ گھورکھا اور نیپالی سپاہیوں پر مشتمل ہے۔ ان کی تنخواہیں، پنشن وغیرہ بھارت سے آتی ہیں۔ نیپالی آرمی کا سربراہ بھارتی فوج کا اعزازی جنرل ہوتا ہے۔ اسی طرح بھارتی فوج کا سربراہ بھی نیپالی فوج کا اعزازی جنرل ہوتا ہے۔ اتنے گہرے تعلقات کے باوجود نیپال میں عوامی سطح پر بھارت کے تئیں خاصا غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ خود نیپالی وزیر اعظم کے پی شرما اولی الزام لگا چکے ہیں کہ بھارت میں ان کے تختہ پلٹنے کی تیاریا ںہو رہی ہیں۔نیپال نے جس طرح پارلیمنٹ میں اتفاق رائے سے آئین میں ترمیم کرکے ملک کا نیا نقشہ جاری کرکے متنازعہ سرحدی علاقوں کو اس میں شامل کیا، اس قدم سے بھارت میں سخت ناراضگی ہے۔چند ماہ قبل بھارت نے بھی کچھ اسی طرح کا قدم اٹھا کر جموں و کشمیر کیلئے نیا نقشہ ریلیز کیا تھا۔
2018ءمیں بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کو عوامی غیظ و غضب سے بچانے اور واپس اقتدار میں لانے کیلئے بھارت نے خاصا کردار ادا کیا تھا۔ ان انتخابات میں استعمال ہوئی الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں بھارت کے گجرات صوبہ سے آئی تھیں۔ جن کو خود بھارت میں ہی شک وشبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔بھوٹان کے وزیرا عظم جگمے تھنلے نے 2012 ءمیں جب برازیل میں چینی ہم منصب وین جیابو سے ملاقات کی، تو بھارت نے ایندھن پر دی جانے والی سبسڈی روک دی۔ اگلے سال 2013ءمیں تھنلے کو اقتدار سے بے دخل کروایا۔ اسی طرح سری لنکا میں سنہالا بد ھ قوم پرست گوٹا بایا راج پکشانے بھی چند سال قبل الزام لگایا تھا کہ 2015ءمیں بھارتی خفیہ ایجنسی نے ان کو انتخابات میں ہرانے میں کردار ادا کیا تھا۔ کانگریس پارٹی کے اہم عہدیدار نے چند برس قبل راقم کو بتایا تھا کہ 1984 میں اگر وزیر اعظم اندرا گاندھی کو سکھ باڈی گارڈ ہلاک نہ کرتے تو بنگلہ دیش کی طرز پر سری لنکا کے شمالی علاقہ جافنا پر مشتمل ایک علیحدہ مملکت وجود میں آگئی ہوتی۔ ان کے مطابق مسزگاندھی نے سری لنکا کو1971 ءکی جنگ میں پاکستان کی معاونت کرنے پر کبھی معاف نہیں کیا۔ سر ی لنکا نے پاکستانی فضائیہ اور ڈھاکہ جانے والے سویلین جہازوں کےلئے کولمبو میں ایندھن بھرنے کی سہولت فراہم کی تھی۔ بنگلہ دیش بننے کے فورا بعد آنجہانی مسزگاندھی اور ان کے رفقا نے تامل علیحدگی تحریک کا رخ سری لنکا کی طرف موڑتے ہوئے تامل ناڈوکو مستقر بنا کر تامل انتہا پسندوںکوگوریلا جنگ کے لئے تیارکرنا شروع کردیا تھا۔ پچھلے 70سالوں سے بھارت صرف سری لنکا اور بنگلہ دیش کے ساتھ سمندری اور زمینی حدود کا تعین کرسکا ہے، جو اسکی سفارتی اہلیت پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ حتی کہ بھوٹان کے ساتھ بھی سرحدوں کا حتمی تعین نہیں ہوسکا ہے ۔ دوسری طرف چین نے 14میں سے 12پڑوسی ممالک کے ساتھ سرحدی تنازعات کو حل کرلیا ہے۔ اور ان میں سے اکثر معاہدوں میں چین نے ہی ایک بڑا ملک ہونے کے ناطے دعوی واپس لیکر اور کچھ زمین چھوڑ کر امن کا دامن تھام لیا ہے۔
گو کورونا وائرس سے نمٹنے کے نام پر مودی نے جنوبی ایشیائی تعاون تنظیم سارک کی احیائے نو کی کوشش کی، مگر پچھلے چھ سالوں سے بھارت نے اس تنظیم کی بیج کنی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کے نام پر اس کے مقابل نیپال، بھوٹان، برما ، بنگلہ دیش، تھائی لینڈ اور سری لنکا پر مشتمل بیمسٹیک یعنی BIMSTECتنظیم بنائی گئی۔ اس کے علاوہ سارک کے اندر ہی ایک اور ذیلی تنظیم برما، بنگلہ دیش، بھارت اور نیپال پر مشتمل BBINتنظیم بنائی گئی۔ اسی طرز پر مالدیپ اور سری لنکا پر دباﺅ بڑھایا جا رہا ہے کہ وہ بھی بھارت کو شامل کرکے ایک ذیلی تنظیم بنالیں۔ پاکستان کے مغرب میں ایران کے چاہ بہار پورٹ کو مرکز بنا کر ایران، افغانستان اور چند دیگر وسط ایشیائی ممالک کو باور کرایا جا رہا ہے کہ وہ بھی بھارت کے ساتھ مل کر ایک ذیلی تنظیم بنالیں۔ سارک کے حوالے سے بھارت کو 2014 سے تشویش لاحق ہو گئی ہے، جب کھٹمنڈو سربراہ کانفرنس کے دوران نیپال نے چین کو اس تنظیم میں شامل کرنے کی تجویز دی، جس کی بھارت نے سخت مخالفت کی۔ 1977ء میں جب جنتا پارٹی اقتدار میں آئی تواس وقت کے وزیر خارجہ اٹل بہاری واجپائی نے پڑوسی ممالک کے ساتھ اشتراک کی تجویز رکھی تھی مگر اس حکومت کا جلد ہی خاتمہ ہوگیا۔ اس پالیسی کا اعادہ 1996 میں اندر کمارگجرال نے کیا تھا مگر وہ ایک کمزور حکمران تھے۔ دو سال بعد واجپائی ایٹمی دھماکہ کرکے کشیدگی کو نقطہ انتہا تک لے گئے، چند ماہ بعد ہی انہیں ادراک ہوگیا کہ ایٹم بم اپنی جگہ مگر اشتراک کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔
نئی دہلی میں اکثر حکومتیں خطے میں بھارت کو ایک بارعب پاورکے طور پر منوانے کی کوششوں میں مصروف رہی ہیں مگر یہ بیل کبھی منڈھے نہ چڑھ سکی۔ مودی اسی روش پر چل پڑے ہیں، یعنی پڑوسی ممالک کو خوف کی نفسیات میں مبتلا رکھا جائے اور پاکستان کے اردگرد حصار قائم کیا جائے۔ مگر اب اس گیم میں چین دودھ میں مینگنیاں ڈالنے کا کام کر رہا ہے، چھوٹے پڑوسی ممالک بھارت کی نو آبادیاتی طرز فکر کے خلاف کھڑے ہو رہے ہیں۔
(بشکریہ: دی وائر اردو)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved