تازہ تر ین

گستاخِ رسول یوسف کذاب‘ تاریخی عدالتی فیصلہ(5)

میاںغفاراحمد
یوسف کذاب کو جیل بھجوا کر سیشن کورٹ کے احاطے کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا۔ ہائی کورٹ سے ٹائپ رائٹر اور ماہر کلرک بلوالئے گئے۔ جج صاحب نے 4 اگست کو شام 4 بجے فیصلہ لکھنا شروع کیا۔ انہوں نے اس رات اپنی اور اپنے عملے کی چھٹی منسوخ کرتے ہوئے عدالت میں ہی رہنے کا حکم دیا۔ سہ پہر 4 بجے سے لے کر 5 اگست کی صبح 3 بج کر 30 منٹ پر فیصلہ لکھا جاتا رہا اور جج صاحب نے ملزم کی سزائے موت کے پروانے پر دستخط کر کے اپنے عملے سے پوچھا کہ وقت کیا ہوا ہے، ریڈر نے وقت بتایا تو جج صاحب آبدیدہ ہو کر کہنے لگے کہ یہ وقت نماز تہجد کا ہے اور یہ اللہ کا محبوب ترین وقت ہے ۔پھر دیر تک میاں جہانگیر پرویز سجدے میں سر رکھ کر روتے رہے پھر نماز تہجد پڑھی اور بعد ازاں نماز فجر ادا کی اور ایک لمحہ بھی آرام کیے بغیر تیار ہو کر بیٹھ گئے۔ کوٹ لکھپت جیل والوں کو الرٹ کیا کہ ملزم کو ہر صورت میں ساڑھے 6 بجے تک پولیس کے حوالے کر دیا جائے۔ پھر ایس ایس پی لاہور کو حکم دیا گیا کہ کم از کم ایس پی کی سطح کا آفیسر مکمل سکیورٹی میں کوٹ لکھپت جیل سے ملزم کو سیشن کورٹ میں لے کر آئے۔ 5اگست2000ءبروز ہفتہ نماز فجر کے فوری بعد پولیس نے سیشن کورٹ کو مکمل گھیرے میں لے لیا۔ سیشن جج لاہور میاں جہانگیر پرویز نے اپنے عملے کے ہمراہ ناشتہ کیا۔ ریٹائرنگ روم میں جا کر تلاوت قرآن مجید کی اور عملے کے مطابق انہوں نے سورہ یٰسین اور سورہ مزمل کی تلاوت کی تھی۔ 8 بجنے میں 2 منٹ باقی تھے کہ پولیس یوسف کذاب کو لے کر عدالت کے احاطے میں پہنچ گئی۔ ملزم کو ہتھکڑی لگی ہوئی تھی۔ 8 بجے عدالت کا وقت شروع ہوا۔ قانون کے مطابق 8 بج کر تین منٹ پر اردلی نے آواز بلند کی اور ملزم کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا۔ سیشن جج نے فیصلہ سنانا شروع کیا اور ملزم کے خلاف توہین رسالت کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت اور دیگر الزامات کے تحت مجموعی طور پر 35 سال قید و جرمانے کی سزا سنا کر واپس کوٹ لکھپت جیل بھیج دیا اور اس طرح ایک گستاخِ رسول تمام تر قانونی سہولت کاریوں کے باوجود حکمت ایزدی سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچ گیا۔
جن دنوں یہ کیس چل رہا تھا میں چیف ایڈیٹر خبریں جناب ضیا شاہد کی ہدایت پر کراچی گیا تو وہاں لوگ مجھے ایک چھوٹی سی مسجد کے ضعیف العمر مو¿ذن کے پاس لے گئے جو 60 سال سے مو¿ذن کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ اللہ کا گمنام ولی ہے اور اکثر اوقات حالات کی درست نشاندہی کردیتا ہے۔ ان سے یوسف کذاب بارے سوال کیا۔ وہ مسجد کے صحن میں صف پر بیٹھے ہوئے تھے اور عصر کا وقت تھا۔ یوسف کذاب بارے سوال سن کر وہ کچھ پڑھتے ہوئے مسجد کے فرش پر صف کے ایک تنکے کے ساتھ الٹی سیدھی لکیریں کھینچنے لگے پھر آنکھیں اٹھا کر ہماری طرف دیکھا اور کہا یہ تو گستاخِ رسول ہے ،اول درجے کا منافق اور ظالم ہے، یہ تو مجھے جیل میں مرا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ میں نے سوال کیا کہ کیا اسے سزائے موت ہو گی کیونکہ اس وقت کیس ابھی شروع بھی نہیں ہوا تھا اور یوسف کذاب زیر حراست بھی نہ تھا بلکہ ضمانت پر تھا۔ انہوں نے جواب دیا ،نہیں ،نہیں۔ وہ پھانسی نہیں پائے گا۔ جیل میں ہی مر جائے گا۔ یہ مجھے جیل میں مرا ہوا دکھائی دیا ہے۔ یوسف کذاب کو سیشن کورٹ کی طرف سے سزائے موت دیئے جانے کے بعد اس تمام واقعہ اور عدالتی کارروائی پر مشتمل ایک کتاب لکھی جس کے صفحہ نمبر 105 پر کراچی کے اس مو¿ذن کے حوالے سے انتہائی محتاط طریقے سے یہ بات لکھ دی کہ ”یوسف کذاب کی موت جیل میں ہوگی۔ مجھے یہ سلاخوں کے پیچھے مرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ وہ گستاخِ رسول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی رسوائی کا سامان پیدا کر دیا ہے۔“ جب اسی طرح ہوا اور یوسف کذاب کو کسی ایک عاشق رسول نے کوٹ لکھپت جیل میں جہنم واصل کر دیا تو میں خصوصی طور پر کراچی گیا کہ میں ان مو¿ذن سے دوبارہ ملوں مگر مسجد پہنچنے پر مجھے بتایاگیا کہ ان کا انتقال ہو چکا ہے اور یوں میں ایک مرد قلندر سے ملاقات سے محروم رہ گیا۔ یوسف کذاب کے خلاف جو بیانات اور مواد ہم نے اکٹھا کیا اس میں یوسف کذاب کے مختلف لڑکیوں کے نام بیہودہ خط بھی تھے چونکہ اس دور میں ابھی موبائل اتنا عام نہیں ہوا تھا اور واٹس ایپ ، فیس بک اور میسنجر کا تو تصور بھی نہ تھا۔
پولیس کی تفتیش کے دوران جب ایس پی میجر ریٹائرڈ مبشر اللہ مرحوم نے مختلف علماءکی موجودگی میں مسجد بیت الرضا میں کی جانے والی تقریر اور پھر 2 افراد کا بطور صحابی تعارف کے بارے میں سوال کیا تو یوسف کذاب مکر گیا کہ اس نے یہ باتیں جذب کی کیفیت میں کہی تھیں اور آپ کیا جانیں جذب کی کیفیت کیا ہوتی ہے۔ کراچی کی ایک خاتون جو کچھ عرصہ تک اس ملعون کو نبی مانتی رہی بعد میں حقیقت سے آگاہ ہونے پر وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی تھی کہ ایک بار یہ ملعون میرے سامنے آئے تو میں اپنے ہاتھوں سے اس کی زبان ، ناک اور ٹانگیں کاٹوں اور اس کی بوٹی بوٹی کروں تب بھی مجھے چین نہیں آئے گا۔ اس نے الزام عائد کیا کہ اسے یوسف کذاب کے گرداب میں پھنسانے والے 2 افراد سہیل اور زید حامد عرف زید زمان تھے۔ حیران کن طور پر کراچی کی خاتون نے یہ بھی بتایا کہ اس نے فائل بنا رکھی ہے جس میں ڈاکٹروں کی رائے شامل ہے کہ اس میں جسمانی قوتیں ختم ہیں اور وہ روحانی قوت پر زندہ ہے۔ یہ وہی فائل تھی جو یوسف کذاب نے اپنے گھر 218کیو بلاک ڈیفنس لاہور میں مجھے بھی دکھائی تھی۔ وہ اس طرح خواتین کو بے آبرو کرتا تھا۔ کراچی جم خانہ میں یوسف کذاب کی طرف سے نعوذ باللہ اپنا صحابی قرار دیئے جانے والے عبدالواحد خان سے ملاقات کی تو عبدالواحد خان نے اچھی خاصی خرافات بکیں اور کہا پاکستان کے علماءکو چیلنج کرتا ہوں، انہوں نے قرآن حفظ تو کر رکھا ہے مگر انہیں علم نہیں اور میرے حضرت جی میرے مرشد تو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ جاہل مولویوں کی وجہ سے ہمیں جیل جانا پڑے گا۔
عدالت میں دی جانے والی گواہیاں اور عدالت کے روبرو فراہم کیا جانے والا مواد اتنا مضبوط تھا کہ یوسف کذاب تیزی سے سزا کی طرف جارہا تھا۔ اس دوران پہلے تو اس نے گواہ نمبر 9 میاں غفار احمد کے اس بیان کی تردید کی کہ اس نے میاں غفار احمد سے ملاقات کے دوران خلافت عظمیٰ کا دعویٰ کیا ہے مگر بعد میں چند ہی دن کے وقفے کے بعد عدالت کے روبرو اپنے ہاتھوں سے خلافت عظمیٰ کا سرٹیفکیٹ دے کر گواہ نمبر 9 میاں غفار احمد کے بیان کی تصدیق کر دی۔ چیف ایڈیٹر ”خبریں“ جناب ضیاشاہد اس مقدمے میں اتنی دلچسپی لیا کرتے تھے کہ ہر روز کارروائی سے مکمل آگاہی حاصل کیے بغیر رات کو سوتے بھی نہ تھے۔
جس طرح گستاخ رسول راج پال کے خلاف لوگ مظاہرے کرتے رہے ، تقریریں ہوتی رہیں مگر غازی علم دین نے اسے جہنم واصل کر دیا اسی طرح کوٹ لکھپت جیل میں گوالمنڈی کے ایک نوجوان حافظ محمد طارق نے جو خود بھی دو قتلوں کے الزام میں عمر قید کاٹ رہا تھا جیل میں اندھا دھند فائرنگ کر کے یوسف کذاب کو بھی جہنم واصل کر دیا۔ حیران کن طور پر دو قتل کے مقدمات میں ملوث حافظ طارق کو اللہ نے چند ہی ماہ میں باعزت بری کر دیا۔ (جاری ہے)
(کالم نگار سیاسی و سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved