تازہ تر ین

”بھوکے بنگالی ہم سے آگے کیوں نکل گئے؟“

پیارے پڑھنے والے یہ سطریں لکھتے وقت میرے سامنے بنگلہ دیش کے کچھ اعداد و شمار ہیں اور اس بات نے مجھے شدید حیران کر دیا ہے کہ پاکستان میں ڈالر کا ریٹ 160 روپے اور بنگلہ دیش میں صرف 85 روپے ہے گو یا ہم سے نصف ۔اسی طرح ان کے بجٹ کے اعداد و شمار ہیں اور انسان پڑھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ یہ وہی بنگلہ دیش ہے جہاں مشرقی پاکستان ہوتا تھا اور مغربی پاکستان کے یعنی یہاں کے سیاستدان یہ کہا کرتے تھے کہ ان بنگالیوں کی بھوک تو کبھی ختم نہیں ہو گی۔ یونیورسٹی میں بھی ہماری¿ے ساتھ کچھ بنگالی طالب علم تھے ۔بہت محنتی اور ذہین اور اپنے حق کی خاطر لڑنے والے۔ انہی دنوں امتحانوں کے بعد چھٹیاں تھیں تو مجھے یونیورسٹی سے پارٹ ٹائم ملازمت مل گئی یہ امتحانی نگران کی ذمہ داری تھی جو بڑے بڑے امتحانوں میں سپرنٹنڈنٹ کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ میں فارغ تھا اس لئے خوشی خوشی فارم پر کر دیا۔ میری ڈیوٹی فاطمہ جناح میڈیکل کالج یعنی گنگا رام ہسپتال میں لگی۔ خیال تھا لیڈی ڈاکٹر بننے والی لڑکیاں امتحانی پرچہ حل کریں گی تو مجھے ان کے درمیان نگرانی کے لئے پھرنا ہو گا۔مجھے انہوں نے ڈھاکہ سے آئے ہوئے ایک بنگالی پروفیسر کے ساتھ لگا دیا جو سرجن تھے اور جنہوں نے طالبات کا سرجری کا ٹیسٹ لینا تھا شروع میں تو میں کافی ڈرا کیونکہ ایک بڑے ہال میں بیڈ لگے ہوئے تھے جن میں سے بعض پر انسانی لاشیں پڑی تھیں اس زمانے میں لاوارث افراد کی لاشیں عام طور پر سرجری کی پڑھائی کے لئے استعمال ہوتی تھیں۔ لڑکیاں سفید گاﺅن پہنے ہوئے آتیں اور بڑی مہارت سے پروفیسر صاحب کے کہنے کے مطابق مردے کی انگلی بازو پیٹ گھٹنہ یا جو وہ سوال کرتے اسے تیز چھریوں سے کاٹتی کبھی ہاتھوں کی باری آ جاتی تو انگلیوں میں سے باریک ریشے نکال کر پروفیسر صاحب کے سوالات کا جواب دیتیں۔ سچی بات یہ ہے کہ میں نے سوچا نہیں تھا کہ میری ڈیوٹی سرجری میں لگ جائے گی۔ بہرحال دو تین دن میں، میں عادی ہو گیا میری اپنی بڑی بہن بھی فاطمہ جناح میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کر چکی تھیں وہ آج کل اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ امریکہ میں ہے تاہم انہوں نے بھی مجھے کافی تسلی دی۔
پروفیسر صاحب ڈھاکہ یونیورسٹی سے آئے تھے اور بڑے بھلے آدمی تھے۔ ٹوٹی پھوٹی اُردو بول لیتے تھے۔ ایسی ہی انگریزی مجھے آتی تھی، صبح سے شام تک ہم آپس میں باتیں کرتے اور جب میں نے یہ بتایا کہ میں اُردو ڈائجسٹ میں ملازمت بھی کرتا ہوں تو بڑے خوش ہوئے۔ انہوں نے کہا میں نے خود دوسرے ممالک میں پڑھا ہے وہاں طلبہ کو ہفتہ میں دوران تعلیم بھی پارٹ ٹائم ملازمت مل جاتی ہے اور وہ اپنے اخراجات برداشت کر لیتے ہیں لیکن ایسٹ پاکستان میں (اس وقت بنگلہ دیش نہیں بنا تھا) جابز نہیں ملتیں ہماری لڑکیاں اور لڑکے بہت سادہ رہتے ہیں مالی حالات بھی اتنے اچھے نہیں۔ آپ کے ہاں تو بڑی جاگیریں ہیں زمینیں ہیںصنعتیں ہیں ،تجارت زوروں پر ہے، وہ کہا کرتے جب کبھی ڈھاکہ آﺅ ذرا فرق دیکھنا۔
پروفیسر صاحب نے بتایا ہمارے ہاں عام طور پر لڑکی کے پاس دو ساڑھیاں ہوتی ہیں وہ بھی سوتی اور سادہ سی لڑکی ایک دن ایک ساڑھی پہن لیتی ہے اور رات کو آ کر اسے دھو لیتی ہے۔ صبح سویرے خود استری کرتی ہے اور اس طرح 80 فیصد لڑکیوں کے پاﺅں میں کوئی شوز نہیں ہوتے۔ چمڑے کی سادہ دو پٹیوں والی چپل پہنتی ہیں اور سردیوں میں جراب استعمال کرنے والی لڑکیاں بھی کم کم نظر آتی ہیں۔ ٹک شاپ میں ان کے پاس خرچ کرنے کے لئے پیسے نہیں ہوتے لہٰذا اکثر لڑکیاں کھانا ساتھ لاتی ہیں یا پھر دوپہر کو کھاتی ہی نہیں۔ پھر وہ ہنسے اور بولے اسی لئے ہماری لڑکیاں کبھی موٹی نہیں ہوتیں، بس دبلی پتلی رہتی ہیں جسے آپ سمارٹ کہتے ہیں۔
مغربی پاکستان کی لڑکیوں کو دیکھ کر بالخصوص ان کے لباس جوتے اور پرس وغیرہ سے پروفیسر صاحب بہت متاثر تھے۔ انہوں نے کہا بابا تمہارے ہاں تو بہت دولت ہے میں نے کہا جناب ایم بی بی ایس تک پہنچنا مشکل کام ہے۔ اپر مڈل کلاس اور اپر کلاس ہی پہنچ سکتی ہے۔ غریب لوگ اتنے تعلیمی اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ وہ بولے بابا تمہارے پاس دولت مند زیادہ ہیں زمینوں والے، جاگیروں والے، صنعتوں والے، کاروباری، تجارت کرنے والے ہم تو آپ لوگوں کی مارکیٹ یعنی منڈی ہیں جہاں آپ سودا بیچتے ہو۔ پھر انہوں نے تبت سنو جو ان دنوں بہت مشہور تھی کا نام لیا اور کہا ہماری عورتیں تبت سنو کہاں استعمال کرتی ہیں۔ یہ چھوٹے چھوٹے شہروں میں آپ کے ہاں جو دو نمبر مال بنتا ہے وہ سارے کا سارا مشرقی پاکستان ہی جاتا ہے بدلے میں ہم پٹ سن دیتے ہیں یا کھنباکانیوز پرنٹ کیونکہ ہمارے پاس جنگل زیادہ ہے ان دنوں امریکہ کی سرپرستی میں کام کرنے والی ایشیاءفاﺅنڈیشن اپنی مہم کا آغاز کر چکی تھی۔ پروفیسر صاحب نے کچھ پمفلٹ دکھائے اور کہا یہ دیکھیں مغربی اور مشرقی پاکستان میں تجارت کا توازن آپ دیکھیں کہ ہمیں ملتا کیا ہے اور ہم دیتے کیا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بننے کے فوراً بعد اگر زمینیں، جاگیریں، وڈیرہ شاہی، سرداری نظام ختم ہو جاتا تو آپ کے ہاں بھی جمہوریت آ سکتی تھی ہمارے ہاں نہ کوئی زمیندار نہ جاگیردار نہ نواب نہ وڈیرہ نہ لوگوں کی زندگیوں کا حاکم، نہ کوئی پیر نہ کوئی گدی نشین۔ پروفیسر بولنے پر آتے تو مسلسل اپنی گلابی اُردو میں بولتے چلے جاتے۔
”جمہوریت لینی ہے تو انسان کو انسان کے برابر کرو کوئی کسی کا غلام کسی کا مزارع کسی کی رعایا نہ ہو وہ پھر ہنسے اور بولے یہ سب نہیں چلے گا نہ تمہاری جمہوریت نہ تمہارے الیکشن سب پیسے والے کھا جائیں گے اور تم ہاتھ ملتے رہ جاﺅ گے۔“
پھر انہوں نے کہا میں کئی لڑکیوں کو دیکھتا ہوں اوورآل کے نیچے بھی ان کا لباس اتنا قیمتی ہوتا ہے کہ ایسا لباس تو ہمارے ہاں شادی میں ہی پہنا جا سکتا ہے۔ اپنے شہر کی عمارتیں دیکھو، سڑکیں دیکھو، پل دیکھو، سڑکوں پر چلتی پھرتی کاریں دیکھو…. نہیں بابا آپ کے پاس بہت روپیہ ہے کبھی ڈھاکہ ضرور آنا اور چھوٹے شہروں اور دیہات کا چکر ضرور لگانا۔ دیکھنا لوگ کیسے رہتے ہیں۔ کیا کھاتے ہیں۔ کیا پیتے ہیں۔ وہ دیر تک بولتے رہتے اور میں خاموشی سے ان کی باتیں سنتا تھا۔ میرے بڑے بھائی مزمل صاحب کے بہترین دوست بھی بنگالی تھے اور میرے ایک کلاس فیلو ارشاد حسین تھے وہ بھی بنگال سے آئے تھے اور یہیں شادی کی۔ شاعر بھی تھے میاں بیوی نے سمن آباد میں ایک سکول بھی بنوایا۔
اور پھر وہ سب کچھ ہوا جس کی تفصیلات سے آپ واقف ہیں۔ قائداعظم نے ڈھاکہ میں اُردو زبان کو قومی زبان قرار دیا تھا۔ کاش ہم اس وقت اُردو اور بنگلہ دونوں کو قومی زبانیں بنا دیتے۔ اُردو مشرقی پاکستان پڑھاتے اور بنگلہ مغربی پاکستان میں۔ زبان ہی کے خلاف تحریک نے شہید منار بنایا اس وقت حسین شہید سہروردی جیسے سینئر سیاستدان موجود تھے جنہوں نے پاکستان میں پہلی اپوزیشن بنائی لیکن بعد میں گیم شیخ مجیب الرحمن کے ہاتھ میں آ گئی۔ ان کا اپنا ایجنڈہ تھا انڈیا نے وہاں موجود احساس محرومی کا فائدہ اٹھایا۔ میں اپنے کالموں میں لکھ چکا ہوں کہ ایوب خان سے آخری ملاقات میں میرا ایک ہی سوال تھا جس کا وہ اڑھائی تین گھنٹے کی گفتگو میں جواب نہیں دے سکے وہ سوال یہ تھا کہ 10 سال تک آپ پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک رہے ۔اسی دوران میں 6 نکات سامنے آئے اور شیخ مجیب الرحمن نے صوبائی خود مختاری سے آگے جا کر اختیارات مانگے لیکن اگر ہم انہیں وزارت عظمیٰ دے دیتے تو کیا پاکستان بچ سکتا تھا؟ ہم مشرقی پاکستان کے سلسلے میں فیئر نہیں رہے یہاں کہا جاتا تھا کہ ہماری آبادی سے زیادہ آبادی کا حصہ جو مغربی پاکستان کے 4 صوبوں سے زیادہ آبادی ہے وہ تو ہمارے بغیر ایک دن نہیں چل سکتے وہ بھوکے مر جائیں گے۔ آج بنگلہ دیش کے زرمبادلہ کے ذخائر ہم سے کہیں زیادہ ہیں۔ آج وہاں ڈالر 85 روپے (ٹکے)کا ہے وہاں کپاس نہیں اُگتی مگر ریڈی میڈ گارمنٹس میں بنگلہ دیش دنیا میں چھایا ہوا ہے۔ ہم جنہیں چھوٹے قد کے اور نسبتاً کالے سمجھا کرتے تھے وہ ہم سے ہر میدان میں آگے ہیں۔ وجہ وہی ہے یہاں وڈیرہ شاہی، سرداری، قبائلی نظام اور آمدنی میں اونچ نیچ جبکہ وہاں کم و بیش ایک جیسے لوگ آباد ہیں اور مغربی جمہوریت تو یہی تقاضا کرتی ہے۔ آج بھی ہمیں سوچنا پڑے گا کہ ہم نے اس وڈیرہ شاہی کو چلانا ہے یا حقیقی جمہوریت کا نظام بھی یہاں آ سکتا ہے۔
٭٭٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved