تازہ تر ین

پروفیسر حمید کوثر: ایک ولی صفت استاد(1)

حافظ شفیق الرحمن
یہ 1972ءکی بات ہے، جب میں نے میٹرک کے بعد اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں آرٹس کے طالبعلم کی حیثیت سے داخلہ لیا۔ تب اس کالج کے انتظام و انصرام کی تمام تر زمامیں انجمنِ حمایتِ اسلام کے ہاتھوں میں تھیں ۔ علی گڑھ یونیورسٹی کے بعد اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور واحد کالج تھا، جس کے طلباءنے تحریک ِ قیامِ پاکستان اور دوقومی نظریہ کے پیغام کو متحدہ پنجاب کے شہروں ،قصبوں اور دور افتادہ دیہاتوں تک پہنچایا۔میں اس کالج میں4 سال تک زیر تعلیم رہا۔ان چار برسوں میں میری سب سے بڑی کمائی یہ تھی کہ مجھے پروفیسر حمید کوثر سے ارادت و عقیدت کا سلسلہ بڑھانے کے مواقع ارزاں ہوئے۔انہی کی حوصلہ افزائی کی وجہ سے میں نے انٹر کالجییٹ اور انٹر یونیورسٹیز مباحثو ں میں حصہ لیا۔ بیسیوں ٹرافیز اور دسیوں گولڈ میڈلز حاصل کیے۔ یہ سب کرامت تھی پروفیسر صاحب کے فیضان ِ تربیت کی ۔ پروفیسر حمید کوثر ایک مثالی ، مشفق استاد تھے بلکہ یہ کہنا شاید زیادہ مناسب ہو گا کہ وہ ناصح مشفق تھے۔ وہ اپنے ہر شاگرد سے پدرانہ شفقت سے پیش آتے۔ اُن کی سرزنش میں بھی شفقت، خیر خواہی اور نصیحت کا پہلو نمایاں ہوتا۔ جونہی گھنٹا بجتا طالب علم کشاں کشاں اُن کے کمرہ¿ جماعت میں پہنچنے کےلئے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے اور جس کو جہاں جگہ ملتی مثال نقش قدم بیٹھ جاتا۔ کمرہ¿ جماعت اول تا آخر کھچا کھچ بھرا ہوتا۔ حاضری رجسٹری اُن کے ہاتھ میں ہوتا لیکن وہ کمرہ¿ جماعت پر ایک طائرانہ نگاہ ڈال کر کہتے کہ حاضری لگانے کی کیا ضرورت ہے کہ شمع علم کے تمام پروانے موجود ہیں پھر ہلکے پھلکے انداز میں کہتے کہ ”بچو ! آپ نے پرائمری سکول میں علامہ اقبالؒ کی دعا کا جو یہ مصرع پڑھا تھا کہ ’علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب‘ شکر ادا کریں کہ حکیم الامتؒ کی دعا آپ کےلئے قبول ہو چکی ہے۔ اُن کی جماعت میں وہ طالب علم بھی کھنچے چلے آتے جو شاید کوئی دوسرا پیریڈ اٹینڈ نہیں کرتے تھے اور کالج کو محض ایک پکنک پوائنٹ تصور کرتے تھے۔مسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ جونہی وہ کمرہ¿ جماعت میں داخل ہوتے تو احترام، عقیدت اور محبت کا ایک دیدنی منظر دیکھنے میں آتا۔ شاگرد انہی جذبات سے سرشار ہو کر کھڑے ہو جاتے اور اُن کے چہرے بشرے سے ظاہر ہوتا کہ وہ اپنے موسٹ فیورٹ استاد کو خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔ پروفیسر حمید کوثر اُنہیں تشکر آمیز الفاظ میں نشستوں پر بیٹھنے کا کہتے۔ وہ طلباءسے اجتماعی طور پر اُن کا حال چال دریافت کرتے۔ جب وہ کمرہ¿ جماعت میں موجود طلباءسے پرسش احوال کرتے تو طلباءبیک آواز جواب دیتے کہ ”سر آپ کی دعائیں ہیں“۔ وہ یہ جملہ سنتے اور دعا کرتے کہ ”خدائے رحیم وکریم آپ کو، آپ کے گھر والوں اور آپ کے حقیقی گھر پاکستان کو دور تک اور دیر تک اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ہمارے اس حقیقی گھر پاکستان کے تمام شہریوں کو دین و دنیا کی نعمتوں سے مالا مال فرمائے“…. اس ابتدائیے کے بعد وہ تمام طالب علموں کو کتاب کھولنے کا کہتے۔ وہ کسی بھی مضمون، کہانی، نظم یا غزل کے الفاظ، معانی،مفاہیم اور تشریح طلباءکے سامنے اس طرح رکھتے کہ انہیں اپنے ذہنوں کے آنگن میں دودھیاچاندنی نکھرتی اور بکھرتی محسوس ہوتی۔ وہ صرف پڑھاتے نہیں بلکہ اپنے شاگردوں کے بنیادی عقائد ،نظریات اور تصورات کی بھی اصلاح کرتے ۔ وہ بیک وقت معلم،مصلح اور رہبر کا کردار ادا کرتے، یقین جانیے یوں محسوس ہوتا کہ اُن کے لفظ لفظ سے شفقت کا شہد اور محبت کا رس سماعتوں کے راستے دلوں کے آبگینوں میں اتر رہا ہے….میں جب بھی ان کی گفتگو سنتا ، بے ساختہ میر کی یاد آتی:
باتیں ہماری یاد رہیں ،پھر ایسی باتیں نہ سنئیے گا
کرتے کسی کو سنئیے گا،تو دیر تلک سر دُھنئیے گا
لیکچر سنتا تو چالیس منٹ کا پیریڈ آنکھ کی جھپکی میں گزر جاتا….وہ اپنے شاگردوں کے محبوب استاد تھے۔ محبوب کی محفل میں طویل صدیاں بھی بسر ہوجائیں تو چاہنے والوں کے ہونٹوں پر شکوہ¿ اختصار رہتا ہے:
وصل کی شب اور اتنی مختصر
دن گنے جاتے تھے اس دن کے لئے
انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے اردو میں ماسٹر کیا۔ بہ حیثیت استاد اپنے کیریئر کا آغاز 1962ءمیں اسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے لیکچرر کے طور پر کیا۔مئی 1991ءمیں وہ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ شعبہ اردو کے سربراہ پروفیسر کی حیثیت سے ریٹائرڈ ہوئے۔ اسلامیہ کالج صرف ان کا سر چشمہ روزگار ہی نہیں تھا بلکہ وہ اسے اپنی عقیدتوں اور ارادتوں کا مرکز و محور بھی قرار دیتے تھے۔ وہ اس بات پر رب کائنات کا شکر ادا کرتے تھے کہ اس نے اسے اس عظیم تعلیمی ادارے میں بہ حیثیت معلم خدمات انجام دینے کا زریں موقع فراہم کیا، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بعد جس کے طلباءنے تحریک قیام پاکستان میں یادگار اور آب زر سے لکھے جانے کے لائق تاریخی کردار ادا کیا۔ پروفیسر حمید کوثر اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کی گراﺅنڈ میں اپنے عزیز شاگردوں کے ساتھ کسی ایک کونے میں بیٹھ جاتے اور انہیں بتاتے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں 20 ویں صدی کے پہلے اور دوسرے عشرے میں شاعر مشرق علامہ اقبال نے انجمن حمایت اسلام کے جلسوں میں اپنی شہرہ آفاق نظمیں ترنم کے ساتھ سنا کر سامعین کے رگ و پے میں اسلامیت کی بجلیاں دوڑائی تھیں۔ وہ بڑے ذوق و شوق سے بتاتے کہ انجمن حمایت اسلام نے برصغیر کے مسلمانوں کو جدید علم کی روشنی بانٹنے کے لیے 1892ءمیں اسلامیہ کالج کی داغ بیل ڈالی۔ کالج کی ابتدا حویلی منشی ہرسنگھ رائے شیرانوالہ گیٹ لاہور کی دوسری منزل کے دو کمروں سے ہوئی۔ سال اول کی پہلی کلاس میں سات طالب علم تھے۔ رفتہ رفتہ تعداد بڑھی تو جگہ کم پڑ گئی اور 1906ءمیں ریلوے روڈ پہ پچاس کنال اراضی پچاس ہزار کی رقم سے خریدی گئی۔ وہ عالمِ وارفتگی میں بولتے جاتے اور موتی رولتے جاتے۔ وہ انتہائی استغراق و انہماک کی کیفیت میں سرشار لہجے میں بتاتے کہ ’ قائداعظم 1940ءسے 1946 ءتک 15 مرتبہ لاہور تشریف لائے اور اس میں 11 مرتبہ اسلامیہ کالج میں۔ اس کالج کے طلباءان کی توجہات اور الطاف و عنایات کا خصوصی ہدف رہے ۔ ایم ایس ایف کی بنیاد اسی کالج میں رکھی گئی۔کبھی وہ اسلامیہ کالج کے حبیبیہ ہال میں اپنے شاگردوں کو لے جاتے اور انہیں کرسیوں پر بٹھا دیتے ۔ خود کھڑے ہو کر حبیبیہ ہال کے چاروں طرف اور اسٹیج کی طرف اشارہ کرتے۔ انہیں بتاتے کہ یہ ہال افغانستان کے حکمران امیر سر حبیب اللہ خان کی یاد دلاتا ہے، جس نے فروری 1907 ءمیں اِسلامیہ کالج کا سنگِ بنیاد رکھا۔ادھر اسٹیج کی جانب دیکھو، اسے عام اسٹیج نہ سمجھو۔ اس اسیٹج کے ڈائس سے سر سید، نواب بہادر یار جنگ، نواب وقار الملک، نواب محسن الملک، علامہ شبلی نعمانی، علامہ اقبال، قائد اعظم، آغا حشر کاشمیری،مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی اور بیسیوں مسلم اکابرین نے مختلف ادوار میں زندہ دلان لاہور اور اس کالج کے طلباءسے خطاب کیا۔ میں تو آج بھی جب اس ہال میں داخل ہوتا ہوں تو میں ایک اور ہی دنیا میں پہنچ جاتا ہوں۔ اور میری سماعتوں میں محسنین ملت اسلامیہ کے خطابات کی صدائیں شہد گھولنے لگتی ہیں۔ سنو! تم خوش قسمت ہو کہ تمہیں اس قدیم و عظیم درسگاہ میں حصول علم کے مواقع حاصل ہو رہے ہیں۔ اس کالج نے صرف تاریخ پڑھائی نہیں بلکہ ایک ان مٹ تاریخ پاکستان کی شکل میں بنائی بھی ہے۔ (جاری ہے)
(سینئرصحافی اورقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved