تازہ تر ین

کرشن لعل،خواجہ فریدیونیورسٹی اور جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ

رازش لیاقت پوری
اس سے پہلے کہ میں کچھ لکھنا شروع کروں جناب ضیا شاہد کو مبار کباد پیش کرتا ہوں کہ ان کا ایک اور مشن پورا ہوا کہ اب جنوبی پنجاب صوبے کے سیکرٹریٹ کا قیام بھی عمل میں لایاجاچکا ہے،لیکن دکھ یہ بھی ہے کہ کورونا کے باعث اس بڑی خوشی کا جشن بھی نہیں مناسکتے ۔اب آتا ہوں اپنے اصل مضمون کی جانب، وہ کچھ یوں ہے کہ کرشن لعل کورونا سے پہلے بیمار ہوا ،دوستوں کو بلاتا رہا مگر وباءکے خوف کی وجہ سے کوئی بھی بروقت ان کی مدد کو نہ پہنچ سکا اور چولستان کا یہ خوبصورت فنکار اس جہان فانی سے کوچ کرگیا۔ یکتارے کے ساتھ جلال چانڈیو کے انداز میں مارواڑی اور سرائیکی گانے والا یہ فنکار پاکستانیت کا اتم درشن تھا ،مولا میڈے ملک دی سب توں اچی شان ہووے‘ ان کا ایسا ملی نغمہ ہے جب ان کابیٹا ساتھی فنکاروں کے ساتھ ان کی وفات کے بعد چک 112میں گارہا تھا تو مجھ سمیت سبھی لوگ عجیب کیفیت میں تھے ۔کرشن نے کہاں کہاں اپنے ملک کا سافٹ امیج پیش کیا اس کےلئے پوری کتاب درکار ہے میں یہاں صرف اتنا کہوں گا کہ کرشن نئے اور پرانے پاکستان کا معتبر حوالہ تھا ،وہ ایسے حالات میں ہم سے جدا ہوا کہ ہم انہیں کرینہہ کے پھول تک پیش نہ کرسکے ،یہ تو بھلا ہو وفاقی وزیر شفقت محمود کا کہ رحیم یار خان کے فنکار کے خاندان کےلئے ساڑھے پانچ لاکھ کا چیک جلدی بھجوا دیا ورنہ آج ان کے گھر نوبت فاقوںکی ہوتی۔ یہاں نیشنل کونسل آف آرٹس اسلام آباد کی فوزیہ سعید کی کوششوں کو یاد نہ کرنا کنجوسی ہوگی اور پنجاب آرٹس کونسل سمیت بہاولپور آرٹس کونسل والوںکی خاموشی بھی بہت سارے سوالوں کو جنم دے چکی ہے کہ اب تو وزارت اعلیٰ سمیت وزارت خزانہ بھی ہمارے پاس ہے پھر بھی یہاں کے لوگوں کو کچھ نہ ملے یہ بہت بڑی بدقسمتی والی بات ہے ۔یہاں ڈپٹی کمشنر علی شہزاد کا بھی شکریہ کہ کرشن اور موہن کے نام صدارتی ایوارڈکےلئے بھجوا دیئے بلکہ ایک میٹنگ میں تو
ان دونوں کا کیس ایسے لڑا کہ شاید وہ خود روہی واس ہوں۔ آڈو بھگت بیمار ہے ،قاصر جمالی ایسا معتبر لکھاری ایڑیاں رگڑ رگڑ کر وفات پاچکا ہے ،چلو حکومت کچھ نہیں کرسکتی تو مقامی وڈیروں ،سیاست دانوں ،سماجی اداروں کو توکچھ نہ کچھ کرنا چاہیئے ،دکھ تو یہ ہے کہ سرمایہ داروں کے سینوں سے بھی دل نکلتے جارہے ہیں کہ خدمت خلق کا کام کرنے سے گریزاں ہیں ،کوروناکے آغاز میں لوگوں میں راشن بانٹنے والے اب عروج پر لوگوں کو بے یارومددگار چھوڑ چکے ہیں ،ہمارے علاقے میں پانچ شوگر ملیں اور دوبڑی کھاد فیکٹریاں ،کروڑوں اربوں روپے سمیٹے جارہے ہیں مگر یہاں کے مقامی لوگوں کی ویلفیئر کےلئے ایک دھیلا بھی کوئی خرچ نہیں کررہا ۔ ابھی کچھ دن قبل موجودہ حکومت نے اپنا ایک اور بجٹ بھی پیش کردیا ہے ،پچھلے بجٹ میں شیخ زید فیز ٹو کےلئے پانچ ارب روپے رکھے گئے،اس سے قبل خواجہ فرید کالج کےلئے 32 کروڑ روپے رکھے گئے مگر ان اداروں کے سربراہوں کے مطابق ایک روپیہ بھی نہیں ملا جبکہ موجودہ حکمران کہتے رہے ہیں کہ یہاں کا بجٹ یہاں خرچ ہوگا ،یہاں ہم پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب بجٹ ہی نہیں دوگے تو پھر خرچ کہاں ہوگا ؟یہ بھی اہل وسیب کے نوجوانوں کےلئے بہت بڑا کام ہے جو سابقہ ن لیگ کی حکومت کرگئی ہے کہ خواجہ فرید کے نام سے ایک بڑی انجینئرنگ اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی سندھ ،بلوچستان اور وسیب کے سنگم میں بناگئی ہے ورنہ وسیب کے نوجوان آج بھی دوسرے شہروں میں دھکے کھا رہے ہوتے اس نوزائیدہ یونیورسٹی کےلئے اگرچہ پچاس کروڑ روپے موجودہ حکومت سے بھی جاری ہوئے ہیں مگر اتنے بڑے ادارے کےلئے اتنے تھوڑے پیسے اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہیں ،جس کی وجہ سے اس ادارے کی فیسیں اتنی زیادہ ہیں کہ والدین کی ہر طرف چیخیں ہی چیخیں ہیں ،اس لئے موجودہ وی سی ڈاکٹر طاہر سلیمان ،ڈین ڈاکٹر اصغر ہاشمی اور خزانچی ڈاکٹر جاوید اقبال کو کچھ کڑوے فیصلے بھی کرنے پڑ رہے ہیںتاکہ ادارے کے معاملات بہتر سے بہترین ہوجائیں، یہاں بھی اگراچھی سوچ کے مالک ہمارے پیارے فنانس منسٹر ہاشم جواں بخت تھوڑی سی توجہ کریں تو یونیورسٹی کے معاملات حل ہوسکتے ہیں ،ہاں اگر سابقہ دور میں یونیورسٹی میں کوئی کرپشن یا قواعد وضوابط سے ہٹ کر کوئی کام ہوئے ہیں تو ان کی تحقیقات بھی ضروری ہیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکے ۔
ان تمام پریشان کن باتوں کے باوجودایک اچھی بات یہ ہے کہ حکومت نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کےلئے زاہد زمان کو ایڈیشنل چیف سکریٹری اور انعام غنی کو ایڈیشنل آئی جی تعینات کردیا ہے اگرچہ یہ صوبے کا نعم البدل تو نہیں مگر پھر بھی ایک قدم اور تو صوبے کی جانب بڑھا ،اب ڈپٹی چیف منسٹر بھی کسی کو بنادیا جائے جو جنوبی پنجاب میں بیٹھے تو معاملات کافی بہتر ہوجائیں گے، لوگوں کی باتوں میں موجود خوشی دیدنی ہے کہ اب انہیں چھوٹے چھوٹے کاموں کےلئے لاہور نہیں جانا پڑے گا ۔ ایک بات واضح کردوں کہ وسیب زادوں کو لاہورسے نفرت نہیں ہے، مگر اس شہر پر اب بوجھ کم ہونا چاہئے ،آبادی کا بوجھ ،ذمہ داریوں کا بوجھ ،طعنوں کا بوجھ کہ سب کچھ لاہوری کھا گئے۔ مجھے بھی لاہور رہنے کا موقع ملا ،یہاں بھی عام لوگ ویسے غریب ہیں جیسے میرے وسیب کے ،مگر کچھ لوگ اور کچھ علاقے اتنے امیر ہیں کہ لوگ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ ایسا کیوں ؟اور ہم کیوں نہیں؟ شاید اس کی وجہ ایک لمبے عرصے تک اقتدار اور انتظامی معاملات اہل لاہور کے پاس ہونے کی وجہ سے،اب تونسے وال جب اقتدار کی کرسی پر بیٹھا ہے تو پنجاب بھی توازن میں آرہا ہے ،انتظامی توازن ،معاشی توازن ،سوچ کا توازن وقت کی ضرورت ہے اور یہی توازن اب پوری دنیا کےلئے درکار ہے کہ اب واقعی دنیا گلوبل ویلیج بن چکی ہے کہ چک 112 میں کوئی بھوکا سوئے گا تو واشنگٹن میں بھی اس کی تکلیف پہنچے گی ،سو نیک نیتی اور اپنائیت کے جذبے سے لوگوں کے انسانوں کے دکھ کم کرنے کی ضرورت ہے اس کےلئے ہر کسی کو اپنے تئیں آگے آنے کی کوشش کرنی ہوگی کیونکہ اگر زندہ ہم نہ رہے تو بچیں گے وہ بھی نہیں ۔
(کالم نگار صحافی اور معروف شاعر ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved